ویل چیئر


 

صبح کے دس بج رہے تھے۔ گھر کی فضا بہت بھاری اور بوجھل تھی۔ دانیال اور اس کی بیوی ایک دوسرے کے وجود سے انکار کرتے ہوئے خاموشی میں ڈوبے ہوئے تھے۔

دانیال نے جیکٹ پہنی، ایک لفافہ پکڑا اور پیدل رفیع کے گھر کی طرف چل پڑا۔ بادل چھائے ہوئے تھے اور ٹھنڈی ہوا کے تھپیڑے اس کے جسم میں سنسناہٹ پیدا کر رہے تھے۔ دس منٹ بعد وہ ایک دروازے کے باہر کھڑا تھا اور گھنٹی دے رہا تھا۔ کافی دیر بعد دروازہ کھلا۔

”اوہ، میں سو رہا تھا۔ اندر آؤ۔“
دانیال نے جوتے اتارتے ہوئے کہا۔ ”سوری، تم نے کہا تھا کہ اس وقت آ جاؤں۔“
”در اصل، تم سے بات کر کے میری دوبارہ آنکھ لگ گئی تھی۔“
دانیال نے رفیع کی طرف لفافہ بڑھایا، ”ناصر نے یہ دیا تھا، تمہارے لئے۔“
رفیع نے جمائی لیتے ہوئے کہا، ”ہاں ہاں، اندر آنا ہے تو آ جاؤ۔“
دانیال نے جوتے پہنے، ”پھر ملیں گے، ابھی چلتا ہوں۔“
”خدا حافظ، پھر ملیں گے۔“

باہر نکل کر دانیال نے بے مقصد ایک سمت میں چلنا شروع کر دیا۔ اس کی آنکھیں نم ہو گئیں اور سردی کی یخ ہوائیں اس کے وجود کو جیسے نڈھال سا کرنے لگیں۔
دانیال چلتے چلتے رک گیا اور اقبال کو فون کیا۔
”ہیلو، اسلام علیکم۔“
”وعلیکم السلام، کیا کر رہے ہو؟“
”سڑکوں پہ آوارہ پھر رہا ہوں۔ تم کیا گھر پہ ہو؟“
”ہاں، لیکن میرا اسپتال میں اپوائنٹمنٹ ہے، ابھی نکل رہا ہوں۔“
”کچھ مدد چاہیے؟“
”نہیں، آنے جانے کا انتظام کر لیا ہے۔“
”کس چیز کا اپوائنٹمنٹ ہے؟“ دانیال نے ایک جھرجھری لی۔
”یار، کوئی ایک بات ہوتی تو بتاتا۔“
”چلو، تم جاؤ۔ میں پھر کبھی آؤں گا۔“
”ضرور، اللہ تمہاری حالت پر رحم کرے!“
دانیال کی آنکھیں پھر نم ہو گئیں اور اس نے چلنا شروع کر دیا۔

کچھ دیر چلنے کے بعد اسے ایک جانا پہچانا کیفے نظر آیا۔ اس نے قدم تیز کرنا چاہے مگر وہ بھاری محسوس ہونے لگے۔ کیفے میں داخل ہو کر اس نے کافی لی اور کھڑکی کے پاس بیٹھ گیا۔ کافی کی گرماہٹ نے جیسے اسے سوتے سے جگا دیا۔ وہ پتوں کے بدلتے ہوئے رنگوں سے محظوظ ہونے لگا۔ یکایک اسے پریا کا خیال آیا جو ہمیشہ ان بدلتے رنگوں سے اداس ہو جایا کرتی ہے کیونکہ یہ موسم سرما کی آمد کی علامت ہوتے ہیں۔ اس نے فون نکالا اور پیغام لکھنے لگا:

”سلام، شاید تمہیں بتایا نہیں کہ میں ایران ابھی نہیں جا رہا۔ کچھ ماہ بعد پروگرام بناؤں گا۔ تم اس موسم سے اداس نہ ہونا، ہر موسم کا اپنا حسن ہوتا ہے، اس کی خوبصورتی کو محسوس کرو۔ تمہارا دوست، جگمیت۔“

دانیال نے سوچا کہ کچھ دیر اور اسی کیفے میں گزارے گا۔ اس دوران، فون کی ٹون نے اسے چونکا دیا۔ پریا کا میسیج تھا۔ ”آج تم پھر جگمیت بن گئے ہو۔ آج کم چلنا کیونکہ باہر سرد ہوا چل رہی ہے۔ میں نے تمہیں پہلے بھی مشورہ دیا تھا کہ کوئی رضاکارانہ کام شروع کر لو تاکہ تمہیں گھر میں کم وقت گزارنا پڑے۔ اپنا خیال رکھنا اور اس موسم میں خود کو گرم رکھنا۔“

دانیال کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔ اس نے میسیج دوبارہ پڑھا اور فون بند کر دیا۔ کچھ دیر خلا میں گھورتا رہا، پھر ایک دم اٹھ کر باتھ روم گیا، آنسو بہائے، جلدی سے آنکھیں خشک کیں اور واپس کرسی پر آ کر بیٹھ گیا۔ اسے لگا جیسے سب لوگ اسے دیکھ رہے ہیں۔ کچھ دیر بعد اس نے ایک لمبا سانس لیا اور صدا انبالوی کے شعر کے ساتھ پریا کو ایک نیا پیغام لکھا

”اب کہاں دوست ملیں ساتھ نبھانے والے
سب نے سیکھے ہیں اب آداب زمانے والے

پریا، تمہارے مشورے کا شکریہ۔ جانتا ہوں کہ تمہیں مجھ سے ہمدردی ہے، مگر کیا تم میرا دکھ بانٹنے کے لئے فون نہیں کر سکتیں جب کہ میں اتنی یاسیت کا شکار ہوں؟ کیا میں تمہاری توجہ کا مستحق نہیں؟ ”پیغام کو دوبارہ پڑھ کر دانیال نے فون بند کر دیا۔ کیفے سے باہر نکلا اور بائیں جانب چلنے لگا۔ کچھ دیر بعد ٹھنڈ سے اس کے قدم کانپنے لگے، اس نے جلدی سے جیکٹ کی زپ بند کی اور ایک بس میں سوار ہو گیا۔

ٹرین اسٹیشن سے وہ ٹرین میں بیٹھ کر بلور اسٹیشن پر اترا۔ راہداری میں چلتے ہوئے وہ ایک ویل چیئر والے شخص سے ٹکرا گیا۔

”بہت معذرت، آپ کا لنچ گر گیا۔ میں آپ کو لنچ خرید کر دیتا ہوں۔“

خوبرو جوان نے گردن موڑ کر دانیال کی طرف دیکھا اور مسکرایا۔ ”کوئی بات نہیں۔ ایسا کبھی ہو جاتا ہے، میں خود ہی لنچ خرید لوں گا۔“

دانیال وہیں کھڑا رہا، اسے بھیڑ میں گم ہوتے دیکھتا رہا۔

تین گھنٹے لائبریری میں گزارنے کے بعد ، شام ہونے کو تھی، سردی بڑھ رہی تھی۔ اس نے فون دیکھا، شاید رفیع یا پریا کا کوئی پیغام آیا ہو مگر سب خاموش تھا۔

تھکاوٹ اور بخار کے ساتھ دانیال گھر واپس آیا۔ گھر اس وقت ایک آسیب زدہ مکان کی مانند لگ رہا تھا۔ اس نے چائے بنائی اور صوفے پر بیٹھ کر موسیقی سننے لگا۔

بارہ بجے دانیال دوسرے کمرے میں بستر پہ لیٹا تو بخار سے ٹوٹتے ہوئے جسم نے سونے سے انکار کر دیا۔ آخر تنگ آ کر وہ دو بجے اٹھا، برانڈی کے دو گھونٹ لئے، اور جلد ہی نیند کی آغوش میں چلا گیا۔

صبح جب آنکھ کھلی تو اس کے ذہن میں ویل چیئر والے نوجوان کی مسکراہٹ کا عکس ابھر آیا۔ ایک حقیقی مسکراہٹ جو اس کے دل میں جگہ بنا چکی تھی۔ دانیال نے فون اٹھا کر پریا کے لئے لکھا ہوا پیغام پڑھا اور پھر اسے بھیجنے کے بجائے مٹا دیا۔

چند لمحوں بعد دانیال بستر سے مسکراتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔

Facebook Comments HS