نا اُمیدی ہے بری چیز مگر
یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میری تعیناتی بینک کی شہر سے دور ایک دیہات کی برانچ میں تھی۔ بینک کے کاروبار کے لیے یہ بڑا زرخیز علاقہ تھا کیونکہ اس علاقہ کے بیشتر دیہات کے سیکڑوں خاندان برطانیہ میں آباد تھے۔ ہر گاؤں میں درجنوں کمروں پر مشتمل ایک سے بڑھ کر ایک بڑی کوٹھی بنی ہوئی تھی۔ 70 / 80 کی دہائی میں برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی بڑی تعداد اپنے بچوں کی شادیاں پاکستان میں اپنے قریبی عزیزوں میں کرتے تھے۔ بہت سے خاندان اپنی کوٹھیوں کی دیکھ بھال کے لیے اکثر پاکستان آتے رہتے تھے۔ برطانیہ سے آئے ہوئے ان تارکین وطن سے ملنے ہم اکثر گاؤں میں ان کے گھروں میں جاتے رہتے تھے۔ شادی غمی میں بھی ہماری شرکت لازمی ہوتی تھی۔
ملک حیات محمد ہمارے بہت اچھے کھاتہ دار تھے۔ وہ دو تین ماہ پہلے ہی برطانیہ سے واپس آئے تھے۔ ان کا گاؤں ہماری برانچ سے تھوڑے سے فاصلے پر واقع تھا۔ وہ اپنے پرانے آبائی گھر کو گرا کر ایک بڑی کوٹھی کی تعمیر میں مصروف تھے۔ ان سے شناسائی ہوئی جو بڑھ کر اچھے تعلقات میں بدل گئی تھی۔ اُن وقتوں میں دیہات میں بینک منیجر کی بڑی وقعت ہوتی تھی۔ مثبت باہمی تعلق کی وجہ سے اکثر کھاتہ دار اپنے گھریلو معاملات میں بینک منیجر سے صلاح لیتے تھے۔ ملک حیات محمد کو بھی کوٹھی کی تعمیر کے لیے میں نے اپنے ایک آرکیٹیکٹ دوست سے مکمل پلان بنوا کر دیا تھا۔ کوٹھی کی تعمیر کے لیے رقوم نکلوانے ان کا بینک میں اکثر آنا جانا لگا رہتا تھا۔
80 کی دہائی میں بینک کی برانچوں میں رقم کا لین دین دو بجے بند ہوجاتا تھا اور چار بجے بینک بند ہو جاتا تھا۔ دیہات کی زیادہ تر برانچیں دو سے تین بجے تک بند ہو جایا کرتی تھیں۔ ایک دن ہم رقم کا لین دین بند کرنے کے بعد بینک کے کام میں مصروف تھے کہ ملک حیات محمد تشریف لائے۔ خلافِ معمول ان کے ساتھ دو خواتین تھیں۔ خواتین میں ایک بیس بائیس سال کی نوجوان لڑکی تھی جو خاصی شرمائی اور گھبرائی سی تھی۔ دوسری ادھیڑ عمر خاتون تھیں جو باتوں سے کافی چالاک لگ رہی تھیں۔ ملک صاحب دونوں خواتین کے ساتھ میری میز کے سامنے بیٹھ گئے۔
پہلے ادھیڑ عمر کی خاتون بولی۔
”منیجر صاحب میری لڑکی کا بینک اکاؤنٹ کھولیں۔ “
میں نے سوالیہ نظروں سے ملک صاحب کی طرف دیکھا تو وہ بولے۔
” شاہ جی! آپ اس کا اکاؤنٹ کھولیں۔ “
میں نے انھیں بتایا کہ آج تو بینک بند ہو گیا ہے۔ اکاؤنٹ اب کل ہی کھل سکے کا۔ اس پر وہ خاتون پھر بولی۔
” باؤجی! آپ اکاؤنٹ آج ہی کھولیں۔ یہ بہت ضروری ہے۔“
میں نے اپنے ماتحت افسر سے بات کی تو اس نے مشورہ دیا۔
”سر جی! اکاؤنٹ کھولنے کی کارروائی ہم آج مکمل کر لیتے ہیں اور اکاؤنٹ کل صبح کھول لیں گے۔ اکاؤنٹ کی چیک بک اور بینک پاس بک ہم کل اِن کو بنا کر دے دیں گے۔ “
ان دنوں بینک کا سارا کام مینول ہی ہوتا تھا۔ لڑکی اس ساری گفتگو کے درمیان چپ چاپ بیٹھی اپنے دوپٹے کا کونا مروڑ رہی تھی۔ کبھی کبھی کنکھیوں سے وہ میری طرف دیکھ لیتی۔
افسر نے اکاؤنٹ اوپنگ فارم میں لڑکی کے کوائف درج کرنے کے لیے لڑکی کا نام اور ولدیت پوچھی۔ خاتون جو اس لڑکی کی والدہ تھی نے لڑکی کا نام سفینہ بی بی بتایا اور ملک صاحب کی طرف دیکھ کر کہا کہ باپ کی جگہ شوہر کا نام لکھیں۔ اس پر ملک صاحب میری طرف دیکھ کو بولے۔
”شاہ جی! یہ میری بیوی ہے۔ “
مجھے بڑی حیرت ہوئی کیونکہ میری معلومات کے مطابق ملک حیات محمد شادی شدہ تھے اور جوان بچوں کے باپ تھے۔ ان کی اہلیہ بچوں کے ساتھ انگلینڈ میں رہتی تھی۔
اکاؤنٹ کھولنے کی کارروائی مکمل ہوئی۔ ملک صاحب کی نئی اہلیہ سفینہ بی بی نے ناخواندہ ہونے کی وجہ سے بینک کے فارم اور کارڈ پر انگوٹھا لگایا تھا جس وجہ سے اُس کے فوٹو درکار تھے۔ افسر نے انھیں دوسرے دن فوٹو دینے اور چیک بک وصول کرنے کے لیے دوبارہ بینک میں آنے کو کہا تو خاتون جو ملک حیات محمد کی ساس تھیں، فوراً بولی کہ وہ اپنی بیٹی کے ساتھ آ جائیں گی۔
ملک حیات محمد نے دو لاکھ کا چیک کاٹ کر اپنی نئی بیوی کے اکاؤنٹ میں جمع کرنے کے لیے افسر کے حوالہ کیا۔ بینک سے رخصت ہونے کے تھوڑی دیر بعد ملک صاحب دوبارہ بینک میں آئے اور مجھے کہنے لگے۔
” شاہ جی! براۂ مہربانی اس بات کو صیغہ راز میں رکھنا، کسی کو پتہ نہ چلے۔ “ اپنے عملے کو بھی سمجھا دیں۔
میں نے انھیں جواب دیا کہ بینک اپنے کھاتہ داروں کی سکریسی کا خاص خیال رکھتا ہے آپ بے فکر رہیں۔ ہم کسی کو کچھ نہیں بتائیں گے۔
اگلے دن دونوں ماں بیٹی دوبارہ برانچ میں آئیں۔ لڑکی کے فوٹو لے کر میں نے چیک بک اُس کے حوالہ کی تو خاتون استفسار کرنے لگی۔
” باؤ جی! دو لاکھ کی رقم واقعی سفینہ کے اکاؤنٹ میں جمع ہو گئی ہے ناں اور وہ جب چاہے یہ رقم بینک سے نکال سکتی ہے۔“
میری یقین دہانی پر دونوں ماں بیٹی بینک سے چلی گئیں۔ لڑکی کی ماں مجھے خاصی چالاک اور ہوشیار خاتون نظر آئیں۔ اس کے بعد ملک حیات محمد کوٹھی کی تعمیر کے لیے اکثر رقم نکلوانے بینک میں آتے رہے۔ نہ کبھی انھوں نے اپنی دوسری شادی کے بارے میں بات کی اور نہ ہی میں نے ان سے اس بارے میں کچھ پوچھا۔ ایک دو دفعہ میرا دل چاہا کہ ملک صاحب سے پوچھوں کہ یہ کیسے ہوا لیکن اُن کی سنجیدگی دیکھ کر پوچھنے کا ارادہ ترک کر دیا۔ ہم اپنے کاموں میں مشغول ہو کر یہ بات بھول گئے۔
ایک یا ڈیڑھ ماہ کا عرصہ گزرا ہو گا کہ ایک دن دس بجے ایک ویگن ہماری برانچ کے سامنے آ کر رکی۔ گارڈ نے فوراً اندر آ کر مجھے بتایا کہ انگلینڈ سے کوئی فیملی آئی ہے۔ اتنے میں ایک خاتون اندر داخل ہوئیں اور پوچھا کہ منیجر کون ہے۔ میری میز برانچ کے ایک کونے میں تھی۔ میری میز کے سامنے کرسی پر بیٹھتے ہوئے سخت لہجے میں بولیں۔
” ملک حیات دا اکاؤنٹ ایسے برانچ وچ اے ناں۔
(ملک حیات کا اکاؤنٹ اسی برانچ میں ہے ) ۔ ”
میں نے پوچھا۔ ”کون سے ملک حیات؟“ اس پر وہ سیخ پا ہو کر بولیں۔
”کاکا! تُوں ملک حیات نوں نہیں جانڑدا۔ لغنڑا اے توں وی اوناں نال ملیا ہویا ایں۔ “
(لڑکے۔ تم ملک حیات کو نہیں جانتے۔ لگتا ہے تم بھی اُن کے ساتھ ملے ہوئے ہو)
میں نے آرام سے انھیں جواب دیا۔
” خالہ جی! ہمیں کچھ نہیں پتہ۔ براہ مہربانی آپ ملک حیات سے ملیں اور اُن سے پوچھ لیں۔“
اس پر وہ غصہ سے لال پیلی ہو کر کہنے لگیں۔
” وے کاکا۔ منیوں تے لغدا اے ملک نو ویاہ وی توں ہی کرایا اے“
(لڑکے۔ مجھے تو لگتا ہے کہ ملک کو شادی تم نے کرائی ہے )
میں نے حیران ہو کر ان سے کہا۔
” یقین کریں خالہ جی! ہمیں کسی بات کا کچھ پتہ نہیں ہے اور نہ ہی ہم نے کچھ کیا ہے۔ “
ان کے ساتھ آئے ہوئے جوان لڑکے نے ان سے کہا۔ اماں جی۔ پہلے گھر چلیں۔ ان سے پھر بات کریں گے۔
اس پر وہ خاتون اٹھ گئیں اور غصے سے پھر بولیں۔
”میں ملک حیات نی بیوی آں۔ اس ناں اکاؤنٹ تساں نے بینک وچ اے۔ میں ملکے کی لے کے اونڑیں بینک وچ آونی آں، تے میرے آنے تک ملک نوں کوئی پیسہ نہیں دینڑا۔“
( میں ملک حیات کی بیوی ہوں۔ اس کا اکاؤنٹ آپ کی برانچ میں ہے۔ میں ابھی ملک کو لے کر بینک میں آتی ہوں۔ میرے آنے تک اسے کوئی رقم نہیں دینی ) ۔ یہ کہہ کر وہ بینک سے چلی گئیں۔
بینک کا گارڈ راج محمد اسی علاقہ کا رہنے والا تھا۔ لیکن جس دن ملک حیات محمد نے دوسری بیوی کا اکاؤنٹ کھلوایا تھا، وہ رات کی ڈیوٹی پر مامور تھا اس لئے اسے کسی بات کا پتہ نہیں تھا۔ اگلے دن ملک حیات انگلینڈ سے آئی بیگم اور بیٹے کے ہمراہ بینک میں آئے۔ اُنھوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں مجھے دوسری بیوی کے اکاؤنٹ والی بات نہ بتانے کی التجا کی۔ بیگم صاحبہ نے ملک حیات محمد کے اکاؤنٹ سے ساری رقم نکلوا کر اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کروائی۔ بینک کے عملہ کے سامنے ملک صاحب کے ساتھ بہت بدتمیزی کی۔ ملک حیات دم سادھے سب باتیں سنتے رہے اور کچھ نہیں بولے۔ اکاؤنٹ سے رقم کی منتقلی کی کارروائی مکمل ہونے پر وہ بیگم کے ہمراہ بینک سے چلے گئے۔ اس کے چند دن بعد راج محمد گارڈ کی زبانی پتہ چلا کہ ملک حیات کو برطانیہ واپس بھجوا دیا گیا ہے۔ ملک حیات کی بیگم بڑی سخت مزاج اور ہٹ دھرم خاتون لگتی تھیں۔
چند دن بعد میں نے برانچ کے کیشیئر کو ملک حیات کے بارے میں پتہ کروانے کو کہا۔ تین چار دن بعد کیشیئر نے بتایا کہ ملک حیات پرانا مکان گرا کر اس جگہ پر نئی کوٹھی کی تعمیر کے لیے برطانیہ سے آئے تھے۔ گھر میں وہ اکیلے رہتے تھے۔ کھانا پکانے اور دوسرے کاموں کے لیے جہلم کے کسی دیہات سے تعلق رکھنے والی سفینہ اور اس کی امی کو گھر میں رکھا تھا۔ سفینہ کی اماں بڑی چالاک اور حریص خاتون ہے۔ اس نے تھوڑے ہی دنوں میں ملک صاحب کو اپنے جال میں پھنسا کر اپنی بیٹی سفینہ کی شادی ملک حیات سے کروا دی۔ نکاح بڑی خاموشی سے ہوا تھا۔ لیکن جیسے ہی ملک حیات کے خاندان کے کسی فرد کو اس کی بھنک پڑی، اس نے ملک حیات کی بیگم کو خط لکھ کر صورت حال سے آگاہ کیا۔ جس پر ان کی بیگم برطانیہ سے واپس آئی ہیں۔ دونوں ماں بیٹی کو انھوں نے گھر سے نکال دیا ہے اور ملک حیات کو عجلت میں برطانیہ واپس بھجوا دیا ہے۔ کیشیئر نے مزید بتایا کہ اس کی معلومات کے مطابق ابھی تک ملک حیات نے سفینہ کو طلاق نہیں دی ہے۔
نو دس ماہ تک ملک حیات کی بیگم کوٹھی کی تعمیر کے لیے رقوم نکلوانے بینک میں آتی رہیں۔ ہم سے وہ بڑی مشکل سے راضی ہوئیں تھیں۔ کوٹھی کی تعمیر مکمل ہونے پر وہ کوٹھی اپنے کسی رشتہ دار کے حوالہ کر کے بیٹے کے ہمراہ برطانیہ واپس چلی گئیں۔
ملک حیات کے برطانیہ جانے کے تین چار ماہ بعد اُن کی دوسری بیوی سفینہ اپنی ماں کے ساتھ بینک میں آئی۔ دونوں ماں بیٹی نے برقعہ اوڑھ کر نقاب کر رکھا تھا۔ انھوں نے اپنے اکاؤنٹ میں پڑی رقم کی تصدیق کی اور دس ہزار روپیہ نکلوایا۔ لڑکی نے بڑی التجائی لہجے میں مجھے کہا کہ میری بینک میں جمع رقم کا کسی کو پتہ نہ چلے۔ میں نے دونوں ماں بیٹی کو تسلی دی کہ وہ بے فکر رہیں، کسی کو پتہ نہیں چلے گا۔ یہ بینک کی پالیسی ہے۔ اس سے ایک ماہ بعد میری ٹرانسفر شہر کی برانچ میں ہو گئی۔ شہر کی مصروفیات میں مَیں سب کچھ بھول گیا۔
پچھلے سال برطانیہ میں اپنے قیام کے دوران میں اپنے ایک قریبی رشتہ دار سے ملنے بریڈفورڈ ان کے گھر گیا۔ اس وقت ان کے گھر پڑوس سے آئی ہوئی ایک خاتون بیٹھی ہوئی تھیں۔ برطانیہ میں زیادہ تر گھر چھوٹے ہوتے ہیں جن کا ایک ہی فرنٹ روم ہوتا ہے۔ ہمارا اس خاتون سے بھی آمنا سامنا ہو گیا۔ ہماری آمد کے بعد وہ خاتون اٹھ کر باورچی خانے میں ہماری بھابھی کے پاس گئیں اور اُن سے تھوڑی دیر بات چیت کر کے اپنے گھر چلی گئیں۔ شام کو کھانے کی میز پر بھابھی نے مجھ سے پوچھا کہ بھائی بینک میں آپ کی تعیناتی فلاں علاقہ میں رہی ہے۔
میں نے ہاں میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ کیوں پوچھ رہی ہیں۔ ؟
بھابھی نے جواب دیا کہ ابھی جو پڑوسن مجھ سے ملنے آئی ہوئی تھی۔ وہ آپ کے بارے میں پوچھ رہی تھی۔ وہ شاید آپ کو جانتی ہے۔ کہہ رہی تھی کہ وہ کل صبح آپ سے ملنے آئے گی۔ میں نے کہا شاید اسے کوئی غلط فہمی ہوئی ہو گی۔
اگلے دن دس بجے وہ خاتون آ گئی۔ ہم سب فرنٹ روم میں بیٹھے ہوئے تھے۔ بھابھی نے تعارف کروایا کہ یہ ہمارے پڑوس میں اپنی بیٹی کے ساتھ رہتی ہیں۔ خاتون نے مجھے پوچھا کہ آپ نے مجھے پہچانا ہے۔ میرے انکار پر وہ بولی،
” میں ملک حیات محمد کی بیوی سفینہ ہوں“ ۔ میرے ذہن میں فوراً جھماکا ہوا اور ذہن کے نہاں خانوں سے برانچ میں بیٹھی شرمائی سی لڑکی کی تصویر میری آنکھوں کے سامنے آ گئی۔
میں اسے پہچان کر بڑا حیران ہوا اور پوچھا کہ وہ یہاں کیسے۔ ؟ کہنے لگی، میں نے آپ کو دیکھتے ہی پہچان لیا تھا۔
میں نے پھر پوچھا کہ آپ انگلینڈ کیسے آ گئیں۔ باؤ جی! اللہ کی ذات بڑی مسبب الاسباب ہے۔ بڑی لمبی کہانی ہے۔ کیا کریں گے جان کر۔ میں نے اسے کہا کہ میں ضرور جاننا چاہوں گا۔
اس پر اس نے بتایا۔ ملک صاحب نے شادی کو بہت خفیہ رکھا ہوا تھا۔ شادی کے کچھ عرصہ بعد میری ماں نے ملک صاحب سے کوئی فرمائش کی جو انھوں نے پوری کرنے سے انکار کر دیا۔ گھر میں ماں نے غصے میں ملک صاحب سے ہماری شادی کی کوئی بات کی جو ملک صاحب کے بھتیجے نے سن لی اور اپنی چچی کو برطانیہ اطلاع دی۔ بڑی بیگم صاحبہ فوراً پاکستان آ گئیں۔ جب وہ برطانیہ سے آئی تھیں تو سب سے پہلے اُنھوں نے ملک حیات کو برطانیہ واپس بھیج دیا۔ ہم دونوں ماں بیٹی کو مار پیٹ کر گھر سے نکال دیا۔
میں ملک حیات سے شادی کے لیے تیار نہیں تھی اور اُن سے شادی کر کے خوش بھی نہیں تھی۔ ہماری عمروں میں بھی بہت زیادہ فرق تھا۔ میں ملک صاحب کی بیٹیوں کے برابر تھی۔ لیکن میری ماں لالچ میں آ گئی تھی۔ ملک صاحب مال دار تھے۔ ماں کا خیال تھا کہ وہ میرے نام اچھی خاصی رقم یا پلاٹ وغیرہ لکھ دیں گے اور ان کی زندگی آرام سے گزرے گی۔ اس لالچ میں ماں نے میری شادی کرا دی تھی۔
میں بڑی توجہ سے اس کی باتیں سن رہا تھا۔ بھابھی بھی یہ سب باتیں سن کر حیران ہو رہی تھیں۔ سفینہ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہنے لگی۔
”ہمارا تعلق کاریگر برادری سے ہے جس وجہ سے ملک صاحب کے سارے رشتہ دار ہماری شادی سے ناراض اور ناخوش تھے۔ اس لئے ان سب نے بیگم صاحبہ کا ساتھ دیا۔ گاؤں والوں نے بھی ہمارا ساتھ نہیں دیا۔ ہم دونوں ماں بیٹی بہت خوف زدہ ہو گئیں۔ میری والدہ مجھے ساتھ لے کر اپنے گاؤں چلی گئی۔ ملک صاحب کے برطانیہ چلے جانے کے چھ ماہ بعد میری بیٹی پیدا ہوئی۔ ہمارے پاس ملک صاحب کا کوئی پتہ نہیں تھا اور نہ ہی ان کا فون نمبر معلوم تھا۔ ہم دونوں ماں بیٹی ملک صاحب کے گاؤں جانے سے بھی ڈرتے تھے۔ ملک صاحب کی دی ہوئی رقم بھی ختم ہو گئی تھی۔ بیٹی چار سال کی ہو گئی تھی۔ اپنا اور بیٹی کا پیٹ پالنے کے لیے ماں اور میں دونوں اب لوگوں کے گھروں میں کام کرتے تھے۔
گزارہ مشکل سے ہو رہا تھا۔ میں اکثر سوچتی تھی کہ میرے ساتھ کیا ہوا ہے اور اب زندگی کیسے گزرے گی۔ شاید میرے نصیب میں یہی کچھ لکھا ہوا ہے۔ میں ان دنوں شدید مایوسی کا شکار تھی گرمیوں کے دن تھے، میں اور ماں ایک دن اپنے صحن میں بیٹھے ہوئے تھے کہ باہر سے میری ماں کا نام لے کر کسی نے آواز دی کہ کیا وہ گھر میں ہیں۔ ماں نے دروازہ کھولا تو ایک جوان آدمی باہر کھڑا تھا۔ ماں نے اسے اندر آنے کو کہا تو اندر آ گیا۔ اس نے امی سے میرے بارے میں پوچھا۔ ماں نے اس بندے کو چارپائی پر بٹھایا۔ بندے نے میرے بارے میں بات کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا ملک حیات محمد نے مجھے طلاق دی تھی۔ میں نے اس سے پوچھا کہ آپ کیوں یہ باتیں پوچھ رہے ہیں۔
اس پر اس نے بتایا کہ وہ ملک حیات محمد کا سب سے بڑا بیٹا اشرف ہے۔ اسے والد کی شادی کا پتہ بہت دیر بعد چلا تھا اور میری بیٹی کے بارے میں بھی وہ انجان تھا۔ اتنے میں کمرے سے بیٹی باہر آ گئی۔ جب اس کو اپنی بہن کے بارے میں پتہ چلا تو اس نے بیٹی کو گلے لگا کر بہت پیار کیا۔ پھر کہنے لگا کہ آپ میری ماں ہیں۔ آپ ہمارے ساتھ چل کر رہیں۔ اس نے بتایا کو اس کی امی کا پچھلے سال کینسر کی وجہ سے انتقال ہو گیا تھا اور والد اب اس کے ساتھ رہتے ہیں۔
میں اور ماں اب بھی ڈر رہے تھے کہ پتہ نہیں یہ ہمارے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔ لیکن اشرف نے مجھے اور میری ماں کو بڑی تسلی دی۔ پھر برادری اور قریبی رشتہ داروں کی مخالفت کے باوجود اشرف نے مجھے اور بیٹی کو اپنے گھر لے گیا۔ اگلے دو مہینوں میں اس نے میرا پاسپورٹ بنوایا۔ ویزہ کے لیے برطانوی ایمبیسی میں کیس داخل کروایا۔ برطانیہ کی ایمبیسی نے بیٹی کا ڈی این اے کروا کر ہمیں ویزہ دے دیا تو ہم دونوں ماں بیٹی برطانیہ آ گئے۔
اشرف نے برطانیہ والا اپنا آبائی گھر ہمیں رہنے کے لیے دیا۔ ساری سہولتیں بہم پہنچائیں۔ دو تین سال ملک حیات بڑے شرمندہ شرمندہ سے رہے۔ پھر ابھی زندگی معمول پر آئی ہی تھی کہ ملک حیات صاحب کا انتقال ہو گیا تھا۔ ملک صاحب کی زندگی میں بھی اشرف اور اس کی بیوی ہمارا بہت خیال رکھتے تھے۔ انھوں نے کسی رشتہ دار کو ہمارے بارے میں کوئی غلط بات نہیں کرنے دی۔ ملک صاحب کے انتقال کے بعد بھی انھوں نے ہمارا بہت خیال رکھا۔ میری بیٹی کو تو اشرف اپنی دوسری بہنوں سے بھی زیادہ چاہتا ہے۔ اشرف مجھ سے عمر میں پانچ چھ سال ہی بڑا ہو گا لیکن ایک حقیقی ماں سے بڑھ کر وہ میری عزت و احترام کرتا ہے۔ میری ماں کا بھی انتقال ہو چکا ہے۔ پچھلے سال میری بیٹی کی شادی اشرف نے اپنے خاندان میں ہی کرا دی ہے۔ اب میں یہاں اپنی بیٹی اور داماد کے ساتھ ہی رہتی ہوں۔ اشرف بیٹا اب بھی ہماری ہر ضرورت کا خیال رکھتا ہے۔ میں اشرف بیٹے کی انتہائی شکرگزار ہوں جس نے ہمیں ہمارا حق دلایا اور جس کی بدولت ہم دونوں ماں بیٹی اس دنیا میں خوار ہونے سے بچ گئیں۔ میں نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ میں برطانیہ میں آؤں گی۔
میں اس کی باتیں سن کر سوچنے لگا کہ قدرت کا کیسا نظام ہے جہاں بندے کی مایوسی انتہا کو پہنچتی ہے وہاں اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آتی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو وہ کچھ عطا کرتا ہے جس کے بارے میں اس نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوتا۔


