صوفیہ بیدار: لیلیٰ کی سہیلی
صوفیہ بیدار بنیادی طور پر شاعرہ ہیں اور شاعرہ بھی ایسی کہ عالم خواب میں بھی ہوں تو لوگ انہیں ”بیدار“ کہتے ہیں۔ سو، ایسی بیدار ذہن خاتون کے بارے میں سخن گستر ہونا، میرے جیسے گراں خواب کے کے لیے ایک دشوار مرحلہ ہے لیکن میری مردانہ انا مجھ سے کہتی ہے کہ اے روسیاہ! اگر تجھ سے یہ نہ ہو سکا تو صوفیہ بیدار ایک ایسا افسانہ لکھ کر تیرے منہ پر ماریں گی جس کا مرکزی کردار ذہین خواتین کی قابلیت کے اعتراف میں بخل سے کام لیتا ہو گا اور صوفیہ بیدار سے کوئی بعید نہیں کہ افسانے میں اس ’حریفِ حوا‘ کا نام وہی تجویز کریں جو اے خامہ خراب! تیرا حقیقی نام ہے۔ آخر ”جمال احسانی“ نے ان کا کیا بگاڑا تھا کہ ایک افسانے میں ان کا جو نقشہ کھینچا ہے، وہ کسی جمال کا نہیں، جمل کا محسوس ہوتا ہے۔ نقشہ ملاحظہ فرمایئے :
”سرخ ویلوٹ کا کوٹ، سیاہ شائننگ پینٹ شرٹ، بھاری بھرکم جثے پر منڈھے ہوئے تھے۔ بمشکل تمام وجود کو ائرویز کے کنگ سائز جہاز کی مختصر سیٹ میں لادے جمال احسانی پہلو بدلنے کی کوشش میں ہلکان ہو ہو جاتا۔ سامنے کا منظر جو جمال احسانی کے گھر کی لپکتی پکارتی دولت کا منہ بولتا ثبوت بنا ہوا تھا، کسی صورت اپنی کشش کم نہ ہونے دے رہا تھا۔ معاً جمال، جس کا شاید کوٹ یا پھر موٹاپے کی وجہ سے سانس دشوار تھا، وہ ایک آدھ فقرہ ادا کر کے منہ ادھ کھلا چھوڑ دیتا۔ جمال اسی اثنا میں محض دائیں بائیں موٹی گردن گھماتا ارے، ارے ہی کہہ پا رہا تھا۔“
تو صاحبو، عافیت اسی میں ہے کہ سمنداِنا سے اترا جائے، کان سے قلم اتارا جائے اور اسے صفحۂ قرطاس پر چلایا جائے اور دل ہی دل میں وہ مصرع پڑھا جائے : وہ طفل کیا گرے جو گھٹنوں کے بل چلے۔ یا پھر وہ مصرع: چل میرے خامے! بسم اللہ!
صوفیہ بیدار ایک پختہ کار شاعرہ اور ایک نووارد افسانہ نگار ہیں۔ ان کی افسانہ نگاری کے بارے میں کچھ عرض کرنے سے پہلے بیخود دہلوی کا ایک شعر پیش کرتا ہوں :
سودائے عشق اور ہے، وحشت کچھ اور شے
مجنوں کا کوئی دوست فسانہ نگار تھا
مجنوں کو خدا جائے عشق کا سودا تھا یا وہ وحشت کے زیر اثر تھا لیکن اسے جو دوست میسر آیا، وہ ایک افسانہ نگار تھا جس نے زیبِ داستان کی خاطر بڑھا چڑھا کر مجنوں کو اس انداز میں پیش کیا کہ آج بھی اسے سردارِ جنوں تصور کیا جاتا ہے :
غمِ مجنوں کا آوازہ بہت ہے
یہ سکہ آج بھی چلتا بہت ہے
لیکن وہ جو لیلیٰ تھی، اسے کوئی پوچھتا نہیں۔ کس نمی پر سد کہ ”لیلیٰ“ کون ہو؟ لیلیٰ کا اگر ذکر ہوتا بھی ہے تو وہ ذکرِ خیر نہیں ہوتا بلکہ اسے ایک سیاہ فام دوشیزہ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جسے مجنوں کے حسنِ نظر نے حسین بنا دیا تھا۔ لیکن اب لیلیٰ کو مژدہ ہو کہ شہرِ لاہور میں اس کی سہیلی نے جنم لے لیا ہے، نام جس کا صوفیہ بیدار ہے اور جو ایک افسانہ نگار ہے اور افسانہ نگار بھی ایسی کہ عالمِ خواب میں بھی ہوں تو لوگ انہیں ”بیدار“ کہتے ہیں۔
صُوفیہ بیدار ”ہر فن لیلیٰ“ قسم کی خاتون ہیں۔ فکرِ سخن میں سر کھپاتی ہیں، اچھی موسیقی پر سر دھنتی ہیں۔ کوچۂ صحافت میں ایک بہانے سے آنا جانا رہتا ہے، کالم نگاری کرتی ہیں۔ طوطیٔ شیریں مقال ہیں اور ایک زمانے میں ٹی وی پر ان کا طوطی بولتا تھا۔ افسری بھی کی ہے اور فقیری بھی۔ صوفیانہ کلام شوق سے سنتی ہیں۔ یہ شاید نام کا اثر ہے لیکن یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ بعض مریدین انہیں ”صوفیا بیدار“ کے نام سے کیوں لکھتے اور پکارتے ہیں۔ یہ تو خیریت گزری کہ وہ انہیں ”صوفیا کرام“ نہیں کہتے۔ بہرحال مجھے تو یہاں یہ اعتراف کرنا ہے کہ اس خاتون کی شخصیت میں رنگا رنگ ”کثرتِ نمائیاں“ ہیں اور اب اس رنگینی بہار میں ایک اور رنگ کا اضافہ ہوا ہے اور یہ ہے افسانہ نگاری کا رنگ۔
”رنگریز“ صوفیہ بیدار کا اولین افسانوی مجموعہ ہے اور اس میں انھوں نے لیلیٰ کا افسانہ سنایا ہے۔ میں نے یہ افسانہ بہت دل چسپی سے سنا ہے اور میں یہ کہہ سکتا ہوں :
سنتا ہوں بڑے شوق سے ”افسان لیلیٰ
کچھ اصل ہے، کچھ خواب ہے، کچھ طرز ادا ہے
صوفیہ بیدار نے بہت شوق سے لیلیٰ کی محبت کا افسانہ پیش کیا ہے، ہمیں لیلیٰ کے احساسات سے آشنا کیا ہے اور لیلیٰ کے جذبات کو زباں دی ہے۔ وہ ہمیں بتاتی ہیں کہ ہجر میں لیلیٰ پر کیا صدمے گزرتے ہیں اور وصل میں کیسے کیسے اندیشے ستاتے ہیں۔ صوفیہ نے کان لگا کر لیلیٰ کے دل کی دھڑکنوں کو سنا ہے اور اس صدائے دل کو ہمیں بھی سنایا ہے۔ کبھی کسی کردار کی زبانی اور کبھی اپنی زبانی! ایک جگہ حالِ دل بتاتی ہیں :
”محبت کی عدم موجودگی میں اس کی حفاظت کس قدر دل فریب فریضہ ہے۔ مجھے ایسے لگتا ہے جیسے میں نے محبت کو کھو دینے کے بعد دریافت کیا ہو، جیسے کوئی عمر رفتہ سے خوش کن منظر اٹھا کر باقی ماندہ آرام سے آزاد ہو گیا ہو۔ تو یہ تھی محبت؟ سب کچھ صاف صاف، سب کچھ و اضح۔ آئینے کی طرح روبرو۔ کچی یادوں میں پٹ سن کی رچی بسی خوشبو جیسی۔ کسی سچے عاشق کی پیشانی جیسی۔“
ایک اور مقام پر ’محبت‘ کے بارے میں لکھتی ہیں :
”نہ بتاشے بٹے، نہ ڈھولکی کی تھاپ، نہ سہاگ کے گیت اور میں اس کی ہو گئی۔ کہاں دنیا؟ کون روکے گا مجھے؟ میرے دل کو یہ عشق ہے، کاروبار نہیں جو سوچ سمجھ کر کیا جائے جس میں دو پارٹیاں بٹھائی جائیں، فیصلے ہوں، تاریخیں رکھی جائیں۔ عشق میں تاریخیں نہیں رکھی جاتیں، وہ تو اپنی تاریخ خود رقم کرتا ہے“ ۔
صُوفیہ بیدار نے ہمیں اپنے افسانوں میں جس لیلیٰ کی کہانی سنائی ہے، وہ محض داستان کا کردار نہیں، وہ محض محبوبہ نہیں، وہ خاتونِ خانہ بھی ہے، مادرِ مہربان بھی ہے، دفتر میں مصروفِ کار بھی ہے، رونقِ بازار بھی ہے۔ وہ پاک باز ہے، وہ سہاگن ہے اور کہیں تنہا ہے۔ مختصر یہ کہ صوفیہ بیدار کی افسانوی کائنات میں و جودِ زن کی کئی صورتیں ہیں اور ان تمام صورتوں کو مردانہ استحصال کا سامنا ہے۔ صوفیہ بیدار نے اس استحصال کے خلاف بغاوت کا علم اٹھایا ہے، وہ کبھی زیرِ لب احتجاج کرتی ہیں اور کہیں باآواز بلند نعرہ زن ہوتی ہیں۔ وہ کہیں شعلہ ہیں، کہیں شبنم ہیں۔
صوفیہ بیدار لیلیٰ کی سچی سہیلی ہیں اور انہوں نے لیلیٰ کا افسانہ ہی نہیں، مقدمہ بھی پیش کیا ہے اور اس انداز میں پیش کیا ہے کہ گمان گزرتا ہے کہ وہ لیلیٰ کی سہیلی ہیں یا خود لیلیٰ ہیں۔

