کنجر اور طوائف کے بیچ کیا سمبھند ہوتا ہے؟


آرٹسٹ، فنکار اور سنگرز انسانوں کی حس لطافت کو مہمیز دینے میں خاصا اہم کردار ادا کرتے ہیں، یہ انسانوں کو زندگی سے پیار کرنا سکھاتے ہیں، انسانی حیات انتہائی گنجلک اور پچیدہ قسم کا مظہر ہے اور نوع انسانی کے ذہن و جذبات کی بہت ساری پہلیاں ابھی حل طلب ہیں اور دماغ کا خاصا پورشن ایسا ہے جس پر ابھی تحقیق جاری ہے۔ اس لیے انسانی اعمال اور پیچیدگیوں کو کسی خاص پیمانے پر پرکھا نہیں جا سکتا اور نا ہی ثواب و گناہ کی بنیاد پر کوئی حتمی فرمان جاری کیا جا سکتا ہے۔

سماجی ٹیڑھ بہت سارے مسائل کو جنم دیتی ہے، جب بنیادوں میں ہی ٹیڑھ پن ہو تو عمارت کی تعمیر بھلا درست کیسے ہو سکتی ہے؟ ہم ایک ایسے سماجی بندوبست کا حصہ ہیں جنہیں نہیں معلوم کہ ان کا سماجی قبلہ کس طرف کو ہے اور شروع دن سے بھول بھلیوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ بے سمتی کے فوری اثرات سب سے پہلے انسانی دماغ پر پڑتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہماری انٹیلی جینشیا جن میں فنکار، ادیب، دانشور، صحافی اور سماجی تجزیہ نگار شامل ہوتے ہیں سبھی اخلاقی پہریدار بنے ہوئے ہیں۔

پروفیشنل حدود کیا ہوتی ہیں اور اس کے اصول و قواعد کیا ہوتے ہیں یہ ان سے بالکل ہی نابلد ہیں، ٹی وی اسکرین پر پروفیشنل گفتگو کی بجائے بھاشن بازی کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ حالانکہ ایک مبلغ اور پروفیشنل کی حدود بالکل ہی مختلف ہوتی ہیں، مذہب انسان کا انتہائی نجی اور پوشیدہ سا معاملہ ہوتا ہے جسے تزکیہ اور اخلاقی بالیدگی کے لیے عمل میں لایا جاتا ہے۔ جبکہ پروفیشن سماجی نوع کہلاتی ہے جس کے تانے بانے دنیاوی تقاضوں سے جڑے ہوتے ہیں۔ پروفیشن کا تعلق روزگار سے ہوتا ہے، یہ انسانوں کے اعمال کو پرکھنے کا کوئی معیار یا پیمانہ نہیں ہوتا۔

گزشتہ دنوں معروف اداکار فردوس جمال نے ایک انکشاف کیا ہے جو کہ خاصا قابل غور ہے اور سماجی منافقتوں کی بخوبی نشاندہی کرتا ہے، اسی منافقت اور دوغلا پن کے پس منظر میں انہوں نے اپنی شریک حیات سے علیحدگی بھی اختیار کر لی ہے۔ علیحدگی کوئی برا عمل نہیں لیکن اگر باہمی رضامندی سے طے پائے اور اکٹھے بیتے ہوئے شب و روز کا احترام کرتے ہوئے اس پر لب کشائی نہ کی جائے۔

”فردوس جمال نے ایک پوڈ کاسٹ میں علیحدگی کی بنیادی وجہ بتاتے ہوئے کہا
میرے گھر کی ایک خاتون نے ڈراموں میں کام کرنا شروع کر دیا اور میری اہلیہ نے اس معاملے کو مجھ سے پوشیدہ رکھا، جب میں نے سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ میری اجازت کے بغیر یہ قدم کیوں اٹھایا گیا تو میری اہلیہ نے کہا کہ آپ سے اجازت کی کیا ضرورت تھی، جس پر میں نے علیحدگی اختیار کر لی۔ کیونکہ میں ایک پشتون ہوں اور میں خود کو ”کنجر“ کہلوانا پسند نہیں کروں گا ”۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ گیان انہیں 70 سال بیت جانے کے بعد حاصل ہوا ہے، جن معزز خواتین نے ان کی بھرپور جوانی میں ان ساتھ کام کیا ہے کیا ان کے والدین بھی کنجر تھے؟ تھوڑی وضاحت فرما دیں۔ مشرقی والدین کی انا بہت بڑی ہوتی ہے۔ یہ بچوں کو دنیا میں لانے کا پورا تاوان وصول کرتے ہیں۔ روٹی پانی، کپڑا اور مکان کی صورت میں کی گئی سرمایہ کاری کو اپنی من مانیوں اور حد سے زیادہ جی حضوری کے روپ میں واپس وصول کرتے ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر گھر کی خاتون ڈراموں میں کام کرتی ہے تو آپ پر کنجر ہونے کا ٹیگ لگ جاتا ہے، تو پھر سوال یہ ہے کہ بھرپور جوانی میں جن خواتین کے ساتھ آ پ نے ڈراموں میں کام کیا ہے کیا وہ سب جائز تھا؟ دوران سکرپٹ دوسروں کی بچیوں کو چھونا یا بوسہ لینا اخلاقی فعل ہوتا ہے یا غیر اخلاقی؟ کیا اس وقت وہ سب جائز تھا جو آج آپ کو برا لگ رہا ہے؟ کیا صرف گھریلو خاتون کی عزت ہوتی ہے؟ کیا دوسروں کی خواتین من بہلانے کے لیے ہوتی ہیں؟ منافقانہ روش انسانی عقل و نظر کو محدود کر دیتی ہے، سوال پیدا ہوتا ہے کہ کنجر کا ٹیگ صرف اس وقت لگتا ہے جب آپ کے گھر کی کوئی خاتون ڈراموں یا فلموں میں کام کرنے لگے اور جب کوئی مرد من بہلانے یا جنسی تسکین کے لیے کسی سیکس ورکر کا دروازہ کٹھکٹھاتا ہے تو اس لمحے اسے کیا کہا جانا چاہیے؟

جو اپنے جیون ساتھی کے ساتھ تو گھریلو ملازمہ کی مانند پیسو ٹائپ سیکس کرتا ہے جبکہ من بہلانے اور رنگ رنگینیوں کے لیے باہر منہ مارتا ہے تو اس مرد پر کون سا ٹیگ چسپاں کیا جائے گا؟ اگر ایک مرد اپنی بیوی کے ساتھ تو وقت گزاری کرے جبکہ باہر مختلف خواتین کے ساتھ بستر سانجھا کرے تو کیا وہ مرد کہلانے کے لائق ہے؟ طوائف تو مجبوری میں اپنا جسم پیش کرتی ہے تو طوائف کہلاتی ہے اور جو مرد اپنے جیون ساتھی کو دھوکا دے کر ایک طوائف کے بستر میں راحت ڈھونڈتا ہے وہ کیا کہلائے گا یا سماج میں اس کی پہچان کیا ہوگی؟

طوائف کا کوٹھا آ باد کرنے والے بھی تو اسی سماج کے مرد ہوتے ہیں نا؟ تو پھر اتنی بلند آواز کے ساتھ پارسائی کا دعویٰ کیسا؟ خاتون جسم بیچے تو سیکس ورکر کہلاتی ہے اور جو مرد یہ دھندا کرتے ہیں ان کو پھر دلال کہا جائے؟ ان سماجی دلالوں کا کیا کریں جنہیں خواتین کی غلاظت تو دکھ جاتی ہے لیکن اپنے کرتوتوں کو مردانگی کی اوٹ میں چھپا لیتے ہیں؟

Facebook Comments HS