کاغذی کارروائی


سن 2016 میں مجھے ابوظہبی نیشنل ایگزیبیشن سینٹر (ADNEC) میں ورلڈ فیوچر انرجی کانفرنس (WFES 2016 ) میں شرکت کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ میری ملاقات اٹلی کی فیگولاتی پمپس کمپنی کے سیلز ڈیپارٹمنٹ کے ایک گھاگ قسم کے نمائندے سے ہوئی، رسمی تعارف کے بعد ہم اٹلی اور پاکستان کے باہمی تعلقات پر تبادلہ خیال کر ہی رہے تھے کہ ان صاحب کی نظر اپنے سادہ سے نوکیا فون کی اسکرین پر پڑی۔ کچھ لمحے گزرنے کے بعد اچانک موصوف نے مجھ سے استفہام کیا ”واٹ از باچا خان؟“ (باچا خان کیا ہے؟ ) میں نے سانس لئے بغیر جناب کو خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان کے بارے میں اپنا مشاہدہ پیش کیا کہ تاریخ ان کو سرحدی گاندھی کے نام سے یاد کرتی ہے اور وہ عدم تشدد کے داعی تھے، ان کا زیادہ تر عرصہِ حیات ریاستی پالیسیوں سے اختلاف کی وجہ سے اکثر قید و بند کی صعوبتوں میں گزرا وغیرہ وغیرہ۔ اطالوی دوست نے ٹوکتے ہوئے کہا کہ وہ باچا خان شخصیت نہیں بلکہ تعلیمی ادارے کی بابت پوچھ رہے ہیں کیونکہ ”موبائل ہر موصول، ایک بریکنگ نیوز کے مطابق باچا خان یونیورسٹی میں طلباء پر ایک انتہائی ظالمانہ حملہ کیا گیا ہے اور بیس سے زیادہ لوگ قتل ہوئے ہیں“ ۔

میرے گمان میں بھی نہیں تھا کہ ملکِ پاکستان کے متعلق انگریزی زبان کا نیوز الرٹ ایک اطالوی باشندے کے لیے متحدہ عرب امارات کی ایک ائر کنڈیشنڈ عمارت میں اتنا اہم کیسے ہو سکتا ہے؟ یہاں پہلی بار خبر کے تیز رفتاری سے پھیلنے اور معلومات کے سرعت سے ہوتے تبادلہ اور اشاعت کے ایک مربوط نظام کا اندازہ ہوا۔ کہ خبر بے معنی نہیں ہوتی۔ جی ہاں! یہ بیس جنوری 2016 میں ہونے والا ایک حملہ تھا جو قوم کے مستقبل کے معماروں پر کیا گیا اور اس وقت ریاستی مشنری اسی پارٹی کے اختیار میں تھی جو امسال 2024 کے الیکشن کے بعد سے حکومت میں ہے۔

اور یہ اس وقت کی بات ہے جب آرمی پبلک سکول کے سانحہ کو دو سال بھی نہیں ہوئے تھے اور ریاست نے نیشنل ایکشن پلان کی شکل میں ایک کاغذی کارروائی مکمل کی تھی۔ جس پر عمل درآمد کس درجہ تک ہوا، اس کی شفافیت اور کیا کوئی وزیر مستعفی ہوا؟ کیا ریاست نے تسلیم کیا کہ وہ اپنے طلباء کی حفاظت کی ذمہ داری میں ناکام ہوئی ہے؟ تو اس کا جواب بعد ازاں ہونے والے واقعات، سانحات اور حادثات کا جو ایک تسلسل ہے جو گزشتہ روز پارا چنار کے اندوہناک واقعہ کی تازہ ترین شکل میں ریاست کا منہ چڑائے کھڑا ہے۔ میڈیا کے نمائندے دن رات حکومت کی مدح سرائی میں ریاست کے موقف کہ بھارت ہمیں جواب نہیں دے رہا، لچک کا مظاہرہ نہیں کر رہا، کی تائید تو کر رہا ہے مگر کسی دوسری نیوز ایجنسی کی خبر کا تجزیہ نہیں دے رہا اور کسی اور بین الاقوامی تجزیہ نگار کی خبر کی نبض پر ہاتھ نہیں رکھ رہا، جس کے سبب شہری معلومات کی بجائے ایک خاص زاویے کا چشمہ پہنے سیاہ و سپید میں فرق نہیں کر سکے گا۔ خصوصاً جب کہ ایسے واقعات روانی اور تواتر سے ہو رہے ہوں تو دنیا یہی سمجھتی ہے کہ شاہ کے استقبال کے واسطے سُرخ قالین شہریوں کے خون سے تیار کیا گیا ہے۔

جو ریاستی مشنری کے مکینک ہیں انُ سے کاغذی کارروائی کروا لیں اس میں وہ طاق ہیں لیکن جو وائرس ریاست کے اعصاب میں گھس کر اس کا ڈی این اے بدل رہا ہے اس کا تریاق کیا ہے؟ کوئی واضح حل نظر نہیں آ رہا اور پالیسی ہے تو عمل درآمد نہیں۔ ایک اہم ریاستی ادارے کے انتہائی اہم عہدیدار نے کچھ عرصہ قبل ان نوجوانوں کو جن کی زندگیوں کی حفاظت کے ضمن میں کوئی بھی خفیہ رپورٹ دینے میں وہ ناکام رہے ہیں ان کے ایک مذہبی ٹچ سے مزین کلپ میں شنید تھی کہ ”(نوجوانو! ) آپ کو آزمایا جائے گا، ٹیسٹ کیا جائے گا“ وہ اب یہ بھی بتا دیں کہ آزمائش ختم ہونے کا وعدہ تو رب عظیم کا ہے لیکن اس کو ٹالنے کے لئے ریاستی کاوش سے تیار کردہ ایس او پی موجود ہیں یا نہیں؟ کیونکہ خاکم بدہن، یہ حادثات ہوتے رہیں گے اور یہ سمجھ لیں کہ دنیا ایسے ہی نہیں دیکھتی رہے گی، ڈیٹا جمع ہوتا رہے گا، اور دنیا پاکستان کو ایک غیر محفوظ ملک سمجھ کر ہمارے پاسپورٹ کو اسفل مقامات سے روشناس کراتی رہے گی۔ اب وزیر داخلہ اپنی کرکٹ بورڈ اور وزارتی امور کی جاب ڈسکرپشن میں فرق سمجھنا شروع کر دیں ورنہ تاریخ کی کتابوں میں ایک غیر اہم حاشیہ تو بنیں گے ہی مگر کتنوں کی زندگی پر اس سے منفی اثر پڑے گا یہ وقت ہی بتائے گا۔ آپ لوگوں کے پاسپورٹ یا شناختی کارڈ تو ضبط کروا لیں گے، انٹرنیٹ پر تالا لگا لیں گے، وی پی این حرام قرار دے دیں گے لیکن دنیا کے کسی کونے میں بیٹھا، کوئی انجان سی زبان بولنے والا ہمارے ملک کے بارے میں جیسے تیسے جان رہا ہو گا اور من چاہا عکس بُن رہا ہو گا۔ جو ریاست شہری کی آزادی، حفاظت، عزت، معاش، تعلیم، سرپرستی اور حقوق کی ذمہ داری نہیں لیتی، زیادہ دیر قائم نہیں رہتی چاہے اس کے نصاب میں اس کے الوہی، انمٹ، اٹوٹ، اچھوتا، اور ابدی ہونے کی لاکھوں دلیلیں اور تاویلیں دی گئی ہوں۔ راحت اندوری مرحوم کے چند اشعار کے ساتھ اختتام کروں گا،

جو آج صاحبِ مسند ہیں کل نہیں ہوں گے
کرائے دار ہیں ذاتی مکان تھوڑی ہے
لگے گی آگ تو آئیں گے کئی مکان زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

Facebook Comments HS

One thought on “کاغذی کارروائی

  • 25/11/2024 at 9:38 صبح
    Permalink

    ہم ایک کنفیوز قوم کے لوگ ہیں۔
    2010 کے بعد سے امن و امان قائم کرنا، صحت اور تعلیم کی سہولت دینا۔ ٹرانسپورٹ اور بلدیاتی سہولتیں دینا مکمل طور پر صوبے کا کام ہے۔ وفاق میں عمران کی حکومت ہو، زرداری کی یا کسی شریف کی۔
    پختوں خواہ صوبہ ہو یا بلوچستان امن قائم کرنا اور آبادی کو امن اور سہولتیں دینا صوبائی حکومت کا کام ہے۔ یہ اور بات کہ وہ اس سلسلے میں کہیں پھنس جائیں یا خود کو ناکام پائیں تو وفاق سے مدد کی اپیل کریں۔
    جنوری 2016 میں باچا خان چارسدہ کا سانحہ ہو یا آرمی پبلک اسکول کا ۔۔۔ پہلا قصور صوبائی حکومت کا ہوگا چاہے جس کی بھی حکومت ہو یہی آرمی پبلک کے سانحے کے وقت معاملہ تھا۔
    اینٹلی جنس اداروں کا کام صرف آگاہی کرنا ہوتا ہے وہ خود اس پوزیشن میں نہیں ہوتے کہ کسی سانحے کو ہونے سے روک سکیں یہ اسی وقت ممکن ہے جب معاملات ان کے ہاتھ میں دے دیئے جائیں
    ابھی بھی عمومی طور پر بلوچستان اور بنوں ساتھ پارا چنار میں جو حالات ہیں ان کا ذمہ دار براہ راست صوبائی حکومتیں ہیں۔ ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ سیاست دانوں کا کام صرف قانون سازی تک محدود ہونا چائے۔ ریاستی یا صوبائی اداروں میں پروموشن، ٹرانسفر اور بھرتی سے ان کا دور دور تک سرو کار نہیں ہونا چائے۔ اگر ہوگا تو ایسی ہی کھچڑی پکے گی کہ ایک میٹرک انٹر پاس معمولی تعلیم اور عقل رکھنے والا وزیر 21 بائیس گریڈ کے افسران کو کنٹرول کررہا ہوگا۔

Comments are closed.