شہباز ساحر: ایک ہمہ جہت شخصیت
میری زندگی میں ہمیشہ وہ لوگ اور تعلق قیمتی سرمایہ ثابت ہوئے ہیں جن سے میرا تعلق علم و ادب اور تخلیق و خلوص کی بنیاد پر قائم ہوا ہے۔ بزرگوں سے سنتے تھے کے قلم کے رشتے کبھی کبھی خون کے رشتوں سے گہرے ہو جاتے ہیں۔ اس بات کا تجربہ اور احساس اب ہوتا ہے۔ جناب شہباز ساحر سے بھی میرا تعلق اور رابطہ علم دوستی کی وجہ سے ہی ہوا۔
شہباز ساحر سے رابطہ یوں ہوا کہ اُنہوں نے گزشتہ برس ایکسپریس نیوز سنڈے میگزین میں میرے ایک کالم ”پاکستان کا مثبت چہرہ، جیمز شیرا“ کو پڑھ کر مجھے فیس بک پر تلاش کیا اور میسنجر پر میسج بھیجا اور رابطہ نمبر حاصل کیا۔ چند دنوں بعد ہماری طویل گفتگو ہوئی اور اُنہوں نے اپنے شہر گوجرانوالہ کی عظیم ہستی ڈاکٹر جیمز شیرا پر لکھے میرے آرٹیکل کو خوب سراہا اور ڈاکٹر جیمز شیرا صاحب کا رابطہ نمبر مانگا، جو میں نے اُن کی اجازت سے شہباز ساحر کو دے دیا۔ یوں ہماری ادبی دوستی اور گفت و شنید کا آغاز ہوا اور ان سے پہلی ملاقات اس 2023 مارچ کے مہینے میں گوجرانوالہ میں ہوئی اور مجھے اُن سے مل کر بے حد خوشی ہوئی جس طرح اُنہوں نے فون پر عزت اور خلوص کا اظہار کیا اس سے بڑھ کر محبت کا اظہار روبرو مل کر کیا۔ مجھے اُن کے خلوص اور جذبے نے بے حد متاثر کیا۔ مجھے ان کے گھر اور الفانوس لائبریری میں بھی جانے کا اتفاق ہوا۔ میں اُن کی کتابوں اور ادیبوں سے دوستی سے حیران ہوا۔
15 نومبر 1978 کو کوٹلی محمد صدیق، ضلع نارووال میں پیدا ہونے والے شہباز ساحر نے اپنی زندگی میں وہ اعلیٰ مقاصد حاصل کیے جن کا خواب اکثر لوگ دیکھتے تو ہیں لیکن حقیقت میں پورا نہیں کر پاتے ہیں۔ ان کی زندگی کی کہانی محض ایک فرد کی کامیابیوں کی داستان نہیں بلکہ ایک مشعلِ راہ ہے جو مثبت سوچ، عزم اور محنت کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
شہباز ساحر نے ابتدائی تعلیم 1992 میں گورنمنٹ مڈل اسکول کوٹلی محمد صدیق سے مکمل کی۔ اسی سال انہوں نے بائبل کوریسپانڈنس اسکول فیصل آباد سے گواہی برائے انبیاء و زبور کا ڈپلومہ بھی حاصل کیا۔ انہوں نے 1995 میں گورنمنٹ اسلامیہ ہائی اسکول نونار سے میٹرک مکمل کیا اور پھر انجینئرنگ کے میدان میں قدم رکھا۔ انہوں نے لاہور کے انجینئرز ایگزامننگ بورڈ سے 6 سالہ بوائلر انجینئرنگ کا ڈپلومہ مکمل کیا، جس کے ذریعے انہوں نے پیشہ ورانہ زندگی میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔
شہباز ساحر کا ادبی سفر نہایت منفرد اور بھرپور ہے۔ وہ نہ صرف ایک ممتاز شاعر ہیں بلکہ کالم نگار، مصنف، اور مدیر کے طور پر بھی پہچانے جاتے ہیں۔ ان کی شاعری کا مجموعہ ”بنیاد“ اور مضامین اور کالمز پر مبنی کتاب ”میرے ہمدم“ ان کے ادبی سفر کی نمایاں جھلک پیش کرتی ہیں۔ بطور مدیر، وہ گوجرانوالہ سے شائع ہونے والے سہ ماہی جریدے ”الفانوس“ کے منتظم اعلیٰ ہیں۔ یہ جریدہ ادب، ثقافت، اور علمی موضوعات پر مبنی ایک قابل ذکر اشاعت ہے جو ادبی حلقوں میں مقبول ہے۔
شہباز ساحر کی شخصیت کا ایک اور اہم پہلو ان کی سماجی خدمات ہیں۔ وہ عالمی ادبی تنظیم ”الفانوس پاکستان“ کے بانی اور چیئرمین ہیں اور ”قندیل فاؤنڈیشن پاکستان“ کے صدر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان تنظیموں کے ذریعے وہ ادب، تعلیم، اور انسانیت کی خدمت کو فروغ دینے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ انہوں نے اپنے آبائی علاقے کوٹلی محمد صدیق کی ترقی کے لیے کئی منصوبے شروع کیے، جن میں KMS ایوارڈ، KMS ریسرچ سینٹر گوجرانوالہ، اور KMS راشن سروس جیسے منصوبے شامل ہیں۔ ان اقدامات کے ذریعے وہ نہ صرف ضرورت مند خاندانوں کی مدد کر رہے ہیں بلکہ تعلیم اور تحقیق کو بھی فروغ دے رہے ہیں۔ گوجرانوالہ کی دھرتی پر پہلی بار سالانہ کی بنیاد پر مقابلہ کتب کا اہتمام اور ”ڈاکٹر جیمز شیرا ایوارڈ“ کا اہتمام کیا۔
شہباز ساحر کی غیر معمولی خدمات اور کارکردگی کے اعتراف میں انہیں کئی قومی اور بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا ہے، جن میں شامل ہیں۔ ساگر صدیقی ایوارڈ ( 2012 اور 2013 ) ، مشرق ایوارڈ ( 2014 ) ، نشانِ ادب ایوارڈ ( 2019 ) ، امن گولڈ میڈل ( 2020 ) ، بانی پاکستان ایوارڈ ( 2020 ) ، ابراہم لنکن پریذیڈینشل لائبریری گولڈ میڈل ( 2020 ) اور تمغۂ ادب گولڈ میڈل ( 2023 ) ۔ یہ تمام اعزازات اس بات کا ثبوت ہیں کہ شہباز ساحر کی خدمات کو نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا ہے۔
شہباز ساحر کی شاعری اور تحریروں میں گہرائی اور دانائی کا امتزاج پایا جاتا ہے۔ ان کے الفاظ دل میں اترنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور قاری کے جذبات کو چھو جاتے ہیں۔ یہ کوئی عام خوبی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا ایک خاص انعام ہے۔
حاکم کا نہیں جب تک کردار سلامت
تب تک نہیں اس کی بھی دستار سلامت
رہبر کے ہاتھوں میں ہیں بس خار سلامت
اب گل ہی سلامت ہے نہ گلزار سلامت
ماں جائے کی قربت میں اب خوف ہوا طاری
لہجہ ہی سلامت ہے نہ گفتار سلامت
عشق نہیں ہارا پر اس روز ہوا یوں تھا
کوئی تیر سلامت تھا نہ تلوار سلامت
گر دنیا میں تم کو بھی کچھ نام کمانا ہے
رکھ پہلے تو ساحر کردار سلامت
ان کی تحریریں انسانیت کے اعلیٰ اصولوں کو فروغ دیتی ہیں اور معاشرے کو بہتر بنانے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کی شخصیت کا اثر صرف ان کے الفاظ تک محدود نہیں بلکہ ان کے عملی اقدامات میں بھی جھلکتا ہے۔
شہباز ساحر نے گوجرانوالہ میں الفانوس لائبریری قائم کی، جو علم و ادب کے فروغ کے لیے ایک منفرد ادارہ ہے۔ یہ لائبریری کتابوں کے شوقین افراد کے لیے ایک نعمت سے کم نہیں اور معاشرے میں مطالعے کی عادت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
شہباز ساحر کی زندگی ان لوگوں کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے جو محدود وسائل کے باوجود اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ انہوں نے نہ صرف اپنے لیے ایک منفرد مقام حاصل کیا بلکہ اپنے ارد گرد کے لوگوں کو بھی متاثر کیا۔ شہباز ساحر کی خدمات اور کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر انسان مثبت سوچ اور مستقل مزاجی کے ساتھ کام کرے تو وہ کسی بھی میدان میں نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔ ان کی شخصیت ہم سب کے لیے ایک مثال ہے کہ ہم بھی اپنی زندگی میں علم، ادب، اور انسانیت کی خدمت کے ذریعے دوسروں کے لیے روشنی کا مینار بن سکتے ہیں۔ ہم دُعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ شہباز ساحر کو مزید کامیابیاں عطا کرے اور وہ اپنے علم و ادب اور سماجی خدمات کے ذریعے معاشرے کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالتے رہیں۔



