کما کر کیوں تھک جاتی ہے ماں

مختلف خاندانوں میں مختلف رجحانات پائے جاتے ہیں مثلاً:
اول:
کچھ خاندان اس نظریے پر عمل پیرا ہوتے ہیں کہ تعلیم کا مقصد ہی خومختاری کا ذریعہ ہے، نوکری تو لازمی کرنی ہے اور پھر پڑھی لکھی خواتین کو تو یہ لقب دے دیا جاتا ہے کہ ان کو تو کمانے کا شوق ہے، آخر اتنی تعلیم جو حاصل کی ہے تو کیا آگ لگانی ہے، چولہا ہانڈی کر کے، اچھی بات ہے کماتی ہیں، مستحکم ہیں، کسی پر بوجھ نہیں۔
دوئم:
نوکری بے حیا خواتین کیا کرتی ہیں جو شوہر سے برابری کرنا چاہتی ہیں اس کو ذلیل کرنا چاہتی ہیں، اس کی محنت کو سراہتی نہیں، پیسے کی ہوس سوار رہتی ہے تو گھر میں دل کیوں لگے گا بھلا؟ نہ بچے پالنا نہ کھانا بنانا، بس کمانے جانا، میک اپ کرکے غیر مردوں کو جلوے دکھانا۔
سوئم:
ہم تو نہیں چاہتے کمائیں، مگر خود کمانا چاہتی ہیں تو ہم کیا کرسکتے ہیں، اپنی مرضی کی مالک ہیں، ہم بولیں گے تو برے بنیں گے ، میاں بیوی کا ذاتی معاملہ ہے۔
چہارم:
کماتی ہیں تو کون سا احسان کرتی ہیں، خود کھاتی ہیں، ہمیں کیا دیتی ہیں، یہ نخرے تھکاوٹ کے کسی اور کو دکھائیں، ہم پر احسان نہ جتائیں، اپنے لئے کمارہی ہیں ہمارے لئے نہیں۔
پنجم:
بے چاری تھک جاتی ہے، گھر کا کام بھی کرتی ہے،نوکری بھی کرتی ہے، بچے بھی دیکھتی ہے، اللہ سلامت رکھے اسے ،پورا گھر سنبھال رکھا ہے، ایک لفظ شکایت کا نہیں کہتی۔
بہو ہو یا بیٹی، تعلیم یافتہ ہو یا غیر تعلیم یافتہ کماتی دونوں ہی ہیں، چاہے خوش ہوکر چاہے پریشان ہوکر، کچھ خوشی دکھا کر، کچھ غم چھپا کر!
نوکری کوئی بری بات نہیں ہوتی، مگر یہ کسی عورت کی مجبوری ہرگز نہیں ہونی چاہئے، چاہے باپ ہو یا بیٹا گھر کو کما کر دینا مرد کی ذمہ داری ہے، عورت کی نہیں اگر عورت کمارہی ہے تو اس کا احسان مند ہونا چاہئے نہ کہ اس کو آپ طعنے دیں، کام میں بھی کوئی سہولت نہ دیں اور زبان سے بھی پیار نہ دیں، کمانا بہت مشکل کام ہوتا ہے جو خواتین کبھی گھروں سے نہیں نکلتیں ان کو کبھی اس بات کا علم ہی نہیں ہوتا کہ کمانا کتنا مشکل کام ہے۔
کچھ گھرانوں میں وہ خواتین گھر چلانے اور بچوں کو پالنے کا درس دے رہی ہوتی ہیں جنہوں نے خود کبھی بچے کو اٹھ کر پانی نہیں دیا ہوتا، سب ملازمائیں کر رہی ہوتی ہیں اور جو خود کبھی جوائنٹ فیملی میں رہی ہی نہیں ہوتیں، نہ ساس کو برتا ہوتا ہے نہ سسر کو اور نہ ہی سسرال کو اور سبق پڑھاتی ہیں، سگھڑاپے کا، گھر کو بنانے کا اور بچوں کو پالنے کا۔
بیٹی کا درد تو برداشت نہیں ہوتا اور بہو کا درد بیان کرنے سے قاصر ہوتی ہیں، بیٹی تو سب کی ایک ہی جیسی ہوتی ہے، ہاں شاید آپ کا دل دھڑکنے سے پہلے رشتوں کا تعین کرنے میں مصروف ہوجاتا ہے، اس لئے درد بھی اپنی مرضی کا محسوس کرتے ہیں آپ۔
عورت تین صورتوں میں کماتی ہے:
1۔ اس کے گھر میں کوئی کمانے والا ہو تاہی نہیں۔
2۔ کمانے والے کی کمائی اتنی نہ ہو کہ وہ گھر کے اخراجات کو برداشت کر سکے۔
3 ۔عورت خودمختار طبیعت کی مالک ہو۔
ہمارے معاشرے میں سب سے زیادہ تعداد ایسی خواتین اور ماو¿ں کی ہے جو خود واحد کفیل ہوتی ہیں اپنے خاندان کی یا تو شوہر کی یکدم موت ہونے کی وجہ سے، یا پھر اولاد کے الگ ہوجانے اور خرچہ نہ دینے کی وجہ سے۔
دوسرے نمبر پر وہ مائیں اور خواتین ہیں جو اس لئے کماتی ہیں کیوں کہ گھر میں آنے والی آمدنی اتنی وافر مقدار میں نہیں ہوتی کہ پورا گھر چلایا جاسکے اور بچوں کا پیٹ پالا جا سکے۔
تیسرے نمبر پر وہ خواتین ہیں جو اپنی مرضی سے کمارہی ہوتی ہیں ، خود کو مصروف رکھنے اور وقت کو گزارنے کے لئے، ایسی خواتین کا تعلق زیادہ تر اچھے طبقے سے ہوتا ہے جن کو مالی پریشانی کا کوئی سامنا نہیں ہوتا اور وہ اپنے کیرئیر کو بنانے اور زندگی کو پرلطف اور سماجی بنانے کے لئے نوکری کرتی ہیں۔
لیکن سوال ہے کہ غریب کی کمائی اور امیر کی کمائی میں کیا فرق ہوتا ہے؟ کما کما کر بوڑھی کس کی ماں ہوتی ہے؟ جس کی اولاد تو جوان ہو جاتی ہے لیکن اس کی ملازمت ضعیف نہیں ہو پاتی؟ پیسے کی کمی نہیں ہوتی لیکن پیسے تک دسترس حاصل نہیں ہوتی، کھانا پینا، اوڑھنا بچھونا سب اولاد یا شوہر کے پاس گروی رکھوادیا گیا ہوتا ہے، چھوٹی سی چھت کے لئے جو رات کو چند لمحوں کی نیند تو دے دیتی ہے مگر پرسکون موت نہیں!
ہاتھوں کی جھریاں، کمزور پیر، آنکھوں کی بے نوری ،ٹوٹی چپل اور ایک صحیح سلامت تسبیح جو آپ کی مائیں ہر وقت پھٹے ہوئے پرس میں رکھ کر اپنی کمزور انگلیوں سے پڑھ رہی ہوتی ہیں، کبھی نظر پڑی آپ کی اپنی ماں کی جھکتی کمر پر ؟ جو آپ کا سہارا چاہتی ہے؟ آنکھیں جو آپ کے چہرے کی جھلک کے لئے بے نور ہورہی ہیں؟ مگر آپ کے پاس نہ تو وقت ہے اور نہ ہی چھت، نہ پیار ہے نہ احساس، کیوںکہ آپ اب بڑے ہوگئے اور آپ کی ماں بوڑھی ، وہ درد میں کماسکتی ہے اور آپ جوانی میں کھلا نہیں سکتے! یہ ہے وہ اولاد جس کو جوان ماں باپ کرتے ہیں، اور بدلے میں وہ ماں باپ کو ضعیف کردیتی ہے۔

