زچگی کا سفر : مسافر، راستہ اور درد
( پہلا حصہ )
ہمارے ہاں زچگی کے عمل کو سمجھے بغیر ڈھیروں بچے پیدا کیے جاتے ہیں اور جہاں کوئی پیچیدگی ہوتی ہے وہاں کسی کو کچھ سمجھ نہیں آتا کہ ہوا کیا؟
لوگ باگ ڈاکٹرز سے گلہ کرتے ہیں کہ بتاتے اور سمجھاتے نہیں۔ بات یہ ہے کہ کچھ بتانے اور سمجھانے کے لیے آپ کے پاس الف ب پ تک کا علم ہونا چاہیے تب ہی کوئی آپ کو بتا سکے گا نا کہ س ش کیا ہے؟
زچگی کا عمل سمجھنا ہو تو تین چیزیں یاد رکھنا ہوں گی۔
passage۔ راستہ یعنی کہ ویجائنا اور بچے دانی۔
Passenger۔ بچہ
powers۔ درد زہ
پیسج / راستہ :
پیسج / راستہ دو قسم کا ہے۔
1۔ بچے دانی اور ویجائنا۔
2۔ کولہے کی ہڈی اور ریڑھ کی ہڈی کے آخری پانچ مہرے۔
جب حمل بچے دانی میں ٹھہرتا ہے تب وہ ناشپاتی کے سائز کی ہوتی ہے لیکن پھر بچے کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ بچے دانی پھیلتی جاتی ہے اور اس میں گردش کرنے والے خون کی مقدار بھی بڑھتی جاتی ہے۔
بچے دانی کا منہ سروکس cervix کہلاتا ہے جو ویجائنا میں کھلتا ہے۔ درد زہ شروع ہونے کے بعد سروکس آہستہ آہستہ کھلنا شروع ہو جاتا ہے۔ بچہ باہر نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ سروکس دس سینٹی میٹر یعنی چار انچ تک کھل جائے۔ ایسا ہونے کے بعد بچے دانی اور ویجائنا ایک سرنگ بن جاتے ہیں جس سے ٹکراتے ہوئے بچے کو باہر آنا ہے۔ اس سرنگ کی لمبائی دس سینٹی میٹر یا چار انچ ہے۔ کہنے کو یہ چار انچ ہیں مگر ان چار انچوں کو بچہ خود پار نہیں کر سکتا جب تک ماں زور نہ لگائے۔ تین چار کلو کے بچے کو اس سرنگ سے نکالنے کے لیے ماں اس قدر زور لگاتی ہے کہ اس کے گلے کی نسیں پھٹنے لگتی ہیں۔
اس زور کو یوں سمجھیے جیسے کسی کو قبض ہوئی ہو اور قبض سے فراغت حاصل کرنے کے لیے زور لگایا جاتا ہے۔ جسم سے فضلہ باہر دھکیلنے اور بچہ دھکیلنے کا تقابل نہیں کیا جا سکتا کہ آخر الذکر میں جس قوت کا استعمال ضروری ہے وہ اندازہ لگانا مشکل ہے۔
چار انچ کا یہ فاصلہ دو سے تین گھنٹے میں طے ہوتا ہے۔ اگر بچے کا چھوٹے فٹ بال جتنا سر ویجائنا کے سوراخ تک پہنچ جائے جہاں سے سر نے باہر نکلنا ہے، تو ویجائنا کی ایک دیوار کاٹی جاتی ہے۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ کٹ صرف باہر جلد پہ دیا جاتا ہے جو کہ غلط ہے۔ اس کٹ کے ذریعے جلد، جلد کے نیچے مسلز اور ویجائنا کی اندرونی دیوار بھی کاٹی جاتی ہے۔ اگر کسی مرد کو سمجھنے کا مسئلہ ہو تو یوں سمجھیے کہ اگر مرد میں اس کے برابر کا کٹ لگانا ہو تو مقعد یعنی پاخانے والی نالی کی ایک دیوار کاٹنے کا تصور کر لیجیے۔
اس راستے پہ سفر آسان سے دشوار ترین ہو سکتا ہے کیونکہ زچگی کے دوران مریضہ اور بچے کی کیفیت ہر لحظہ بدلتی ہے۔ اس لیے جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ایک دم سیزیرین کا فیصلہ کیوں کرتے ہیں ڈاکٹر؟ اس کے جواب میں جان لیجیے کہ راستے، بچے یا درد زہ میں سے کسی ایک میں کوئی گڑبڑ ہو گئی ہے اور ڈاکٹر اس گڑبڑ کو بھانپ کر مریضہ کو محفوظ راستے کی طرف لے جانا چاہتی ہے۔
لیکن یہ بھی سمجھ لیجیے کہ سب ڈاکٹرز ایک سی اہلیت کے حامل نہیں ہوتے۔ سو ان کے حساب کتاب کی درستی ان کے تجربے، قابلیت اور موقعے پہ موجود سہولیات پہ منحصر ہے۔
کولہے کی ہڈی / مہرے :
عورت کی کولہے کی ہڈی اور ریڑھ کی ہڈی کے آخری پانچ مہرے اس راستے کا آغاز ہیں جس سے گزر کر بچے کو دنیا میں آنا ہے۔ حمل کے دوران بچے کا سر کولہے کی ہڈی سے اوپر رہتا ہے لیکن آخری ایک دو ہفتوں میں بچے کا سر اس ہڈی میں یوں داخل ہونے کی ابتدا کرتا ہے کہ گردن موڑ کر منہ ایک طرف اور سر کا پچھلا حصہ دوسری طرف۔ ایسا کرنا اس لیے لازم ہے کہ کولہے کی شکل ایک انڈے کی سی ہے اور اس میں صرف اسی زاویے سے داخل ہوا جاسکتا ہے۔
آپ نے اکثر سنا ہو گا کہ کولہے کی ہڈی چھوٹی ہے اس لیے بچہ ویجائنا کے راستے پیدا نہیں کروایا جا سکتا۔ بات تو درست ہے لیکن نئی سائنسی تحقیق نے اس بات کو طے کرنے کا وقت بدل دیا ہے۔
جب ہم ٹرینی ڈاکٹر تھے تب حمل کے آخری دنوں میں ڈاکٹر مریضہ کی ویجائنا میں ہاتھ ڈال کر کولہے کی ہڈی کے مختلف حصے اور ریڑھ کی ہڈی کے آخری مہرے ٹٹول کر اندازہ لگاتا تھا کہ بچہ یہ راستہ طے کر سکے گا کہ نہیں۔ ایک اور طریقہ یہ تھا کہ ایکس رے کے ذریعے ہڈیوں کا حجم اور شکل دیکھی جائے۔ اس عمل کو pelvimetry کہتے تھے۔ لیکن بعد میں ریسرچرز نے تحقیق کر کے بتایا کہ حمل میں یہ سب کرنا ضروری نہیں۔ ہڈی چھوٹی بڑی ہے یا نارمل، اس کا فیصلہ بچہ خود کرے گا اور وہ بھی درد زہ کے دوران۔ درد زہ کی قوت بچے کو نیچے کی طرف دھکیلے گی اور بچہ اس ہڈی سے گزر کر نیچے آئے گا کہ نہیں، یہ سب لیبر روم میں ڈلیوری کے وقت ہو گا۔
پیسج یعنی راستے کی مشکلات کے بارے میں ہم بعد میں لکھیں گے۔ اس وقت تک آپ ان معلومات کو ہضم کرنے کی کوشش کیجیے


Felt indebted