فرقہ واریت میں سلگتا پاکستان اور ہمارا کردار


ایک بار پھر ملک میں فرقہ واریت کی آگ لگائی گئی ہے۔ شیعہ فرقہ کے بعد اب سنی افراد پر حملوں کا نیا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ علاقے کے لاکھوں لوگوں کے جانی و مالی نقصان کے ساتھ ساتھ اس وقت پورے ملک کے فرقہ ورایت کے آسیب میں جانے کے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ اس تمام تر صورتحال میں قابل افسوس ہم سب کا کردار ہے، نہ تو اس صورتحال میں خود کوئی مثبت کردار کر رہے ہیں، نہ کرنے کی سوچ رکھتے ہیں اور ”جیسے کو تیسا“ کے مصداق ہماری حکومت بھی ہماری طرح ہے، یعنی مکمل طور پر سوئی ہوئی با الفاظ دیگر سوشل میڈیائی حکومت ہے۔ جس کی تمام تر کارکردگی سوشل میڈیا کے لئے ہے، جو صرف وہیں دکھائی جا سکتی ہے۔

دوسری طرف علماء کرام اور دونوں بڑے فرقوں کے اکابرین بھی ابھی تک نہیں جاگے۔ شاید وہ ابھی اپنے اپنے ماہ مقدس کا انتظار کر رہے ہیں جب وہ سامنے آتے اور وعظ دیتے ہیں، گویا ان کا کردار صرف مخصوص مذہبی معاملات تک ہے۔ ان کے بیانات بھی چند مذہبی معاملات تک ہی ہوتے ہیں۔ آخر ملکی مسائل، معاشرتی ناہمواریوں، بگڑتی اخلاقی قدروں، گرتی معیشت، سیاسی بحران، مذہبی تعصب، فرقہ ورانہ بڑھتا نفرت کا لاوا جو روز بروز کشیدگی کا سبب ہے، سے متعلق بولنا اور کردار ادا کرنا کیوں ممنوع ہے۔ کیوں مذہبی یک جہتی اور مسلکی رواداری اور قوت برداشت کے لئے ہمارے علماء اپنا کردار ادا نہیں کرتے۔

تیسری طرف ہمارا ملکی میڈیا ہے، جو صرف اور صرف خبر دینے کا آلہ بن گیا ہے۔ جو اس مسئلے پر اب تک کوئی مثبت کردار ادا نہیں کر سکا، نہ فرقہ ورانہ ہم آہنگی کے لئے کوئی کوششیں دکھا سکا ہے۔ حالانکہ دنیا اپنے اپنے میڈیا سے پوری قوم کو متحد رکھنے کے ساتھ ساتھ ان میں یکجہتی پیدا کرنے اور ان سے قومی مقاصد کے حصول کا کام لے رہی ہے۔ مگر ہم سیاسی بحران ہو یا کوئی دیگر سماجی مسئلہ درپیش ہو، ریاست کے اس اہم ترین ستون سے آگ کو مزید بھڑکانے کا کام تو لیتے ہیں مگر بجھانے کا کام نہیں لیتے۔

گزشتہ تین چار روز کی صورتحال نے پوری قوم، ریاست اداروں، حکومت اور مذہبی قیادت کو چیلنج دیا ہے کہ جاگو اور بچا لو اپنے ملک کو، ورنہ ”نام بھی نہ ہو گا داستانوں میں“ ۔ لہذا اب ضروری ہے کہ پارا چنار کی صورتحال میں قرار واقعی سنجیدہ اقدامات اٹھائے جائیں اور ملک دشمن عناصر جنھوں نے یہ آگ لگائی ہے ان کو ختم کیا جائے۔ مزید طویل مدتی پالیسی وضع کرتے ہوئے مستقبل کے لئے فرقہ ورانہ ہم آہنگی کے لئے کام کیا جائے۔ تاکہ یہ مسئلہ دوبارہ سر نہ اٹھائے۔

Facebook Comments HS