ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ جونیئر: مساوی شہری حقوق کا عظیم علمبردار


مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کے انتقال کو نصف صدی ( 56 سال) بیت چکی ہے لیکن اس کا نام تاریخ میں آج بھی زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔ وہ صرف 39 سال زندہ رہے تھے، اگر تعلیم کا عرصہ بھی نکال دیا جائے تو باقی عرصہ بہت مختصر بچتا ہے لیکن اس قلیل مدت میں بھی انہوں نے امریکہ کو بدل کر رکھ دیا تھا۔ ان کی وجہ شہرت مساوی انسانی و شہری حقوق اور نسلی مساوات کے میدان میں غیرمعمولی جدوجہد ہے۔ مارٹن لوتھر کنگ نے جس امریکی معاشرے میں آنکھ کھولی تھی وہاں ان دنوں نسلی امتیاز اور تعصب عروج پر تھا اور سفید فام امریکیوں کی اجارہ داری تھی اور سیاہ فام امریکیوں کو معاشرے میں نفرت کا سامنا تھا۔ سکولوں، تعلیمی اداروں میں سیاہ فاموں کے خلاف نفرت موجود تھی، کارخانوں، فیکٹریوں میں بدترین نسلی تعصب اور ظلم کا دور دورہ تھا۔ حالات اس قدر خطرناک تھے کہ سفر کے دوران بسوں میں بیٹھنے پر یا تو پابندی تھی یا پھر پچھلی نشستوں پر بیٹھنا پڑتا تھا اور سیٹ نہ ہونے کی صورت میں ان کو اپنی سیٹ سفید فام مسافر کے لئے خالی کرنا ہوتی تھی۔ ایک مرتبہ ایک سفر کے دوران سیٹ پر بیٹھی سیاہ فام خاتون روزا پاکس ایک درزن نے سفید فام شہری کے لئے سیٹ خالی نہیں کی، جس پر اس کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہی واقعہ عظیم لوتھر کی نسلی تعصب اور مساوی شہری حقوق کی جدوجہد کا سب بنا۔ اس غیر انسانی سلوک نے لوتھر کنگ کو میدان میں نکلنے اور تحریک چلانے پر مجبور کیا جو بعد میں ایک بڑی تحریک اور جنون میں تبدیل ہوتی گئی۔

مارٹن لوتھر تقریر کرنے اور مناسب لفظوں کے ساتھ ضرورت کے مطابق جملے بولنے کی صلاحیت سے مالا مال تھا اور اس کا بہت مثبت استعمال کرتے ہوئے امریکہ کی اس نسلی عذاب سے جان چھڑائی جس کی بدولت امریکہ آج چوہدری ممالک کے اوپر وڈا چوہدری بنا بیٹھا ہے۔ یہ مارٹن لوتھر کی مساوی شہری حقوق کی جدوجہد کا ہی نتیجہ ہے کہ بعد میں ایک سیاہ فام شہری بھی امریکی صدر منتخب ہوا۔ وہ ایک امریکی پادری تھے جو 15 جنوری 1929 کو اٹلانٹا میں پیدا ہوئے تھے اور 4 اپریل 1968 کو قتل کر دیے گئے تھے اس وقت ان کی عمر صرف 39 سال کی تھی۔ لیکن اس وقت تک مارٹن لوتھر کنگ جونیئر اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کرچکے تھے۔ مارٹن لوتھر کنگ نے پی ایچ ڈی کر رکھی تھی اور وہ بیک وقت ایک واعظ، مصنف، پاسٹر، انسان دوست، دانشور، امن اور انسانی حقوق کے علمبردار اور مثبت سیاست دان تھے 1955 سے 1968 کے دوران اپنے قتل ہونے تک وہ اپنی سوچ، کام اور تقاریر سے امریکی معاشرے میں مساوی برابری اور مساوی شہری حقوق کے راہنما کے طور پر شہرت پا چکے تھے۔ انہوں نے زندگی بھر جو جدوجہد کی اس کے نتیجہ میں دنیا کے بہترین اعزازات کے مستحق ٹھہرے تھے اور بعد از مرگ بھی ان کو اعزازات ملتے رہے، جو اعزازت ان کو ملے تھے ان میں ”انسانیت پسندی“ ، انسانی حقوق کا اقوام متحدہ کا ایوارڈ، صدارتی تمغہ آزادی، جواہر لعل نہرو ایوارڈ، گاندھی امن انعام، نوبل انعام ( 1964 ) ، ٹائم سال کی شخصیت ( 1963 ) ، اینسفیلڈ وولف بک ایوارڈز اور فیلو آف امریکن اکیڈمی آف آرٹ اینڈ سائنسز شامل ہیں۔

Martin Luther King, Jr.

مارٹن لوتھر کنگ نے تعصب سے بھرے امریکی معاشرے میں سیاہ فام امریکی شہریوں کے امریکہ میں یکساں حقوق اور نسلی مساوات کی حمایت میں جو لازوال جدوجہد کی تھی، اسی جدوجہد کے نتیجہ میں آج سیاہ فام نسل کے افراد امریکی صدر کے عہدہ سمیت دیگر اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے لگے ہیں جس کی ایک مثال بارک اوباما ہیں۔ آج امریکہ میں یکساں شہری حقوق کی موجودگی کا کریڈٹ مارٹن لوتھر کو جاتا ہے۔ 1963 میں انہوں نے واشنگٹن کی جانب ایک تاریخی عوامی مارچ کیا تھا جہاں انہوں نے لنکن میموریل کے سامنے ڈھائی لاکھ کے جم غفیر کے سامنے ایک لازوال اور تاریخی تقریر کی تھی جس کا عنوان (I have a dream) ”میرا ایک خواب ہے“ تھا جس نے ان کو ہمیشہ کے لئے زندہ و جاوید کر دیا اس تقریر میں انہوں نے شہری و اقتصادی حقوق کا مطالبہ کرتے ہوئے تعلیمی اداروں اور دیگر اداروں میں ہر قسم کے تعصب کے خاتمہ اور کم سے کم اجرت 2 ڈالر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ جس کے نتیجہ میں ریاستی اور حکومتی پالیسیوں میں انقلابی اور مثبت تبدیلیاں رونما شروع ہوئیں اور اکتوبر 1964 میں ان کو نوبل پرائز دیا گیا تھا اسی سال امریکی صدر لنڈن جانسن نے سیاہ فاموں کے خلاف ہر قسم کے امتیازات کے خلاف قوانین کے خاتمہ کا اعلان کرنے کی دستاویزات پر دستخط کیے۔ اس قانون کے تحت ملازمتوں، عوامی رہائش اور زندگی کے دیگر شعبوں میں ہر قسم کا امتیازی سلوک روا رکھنے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ یہ مارٹن لوتھر کی فتح کا دن تھا اور اس کی طویل جدوجہد کا شیریں ثمر بھی۔

مارٹن لوتھر نے زندگی بھر امریکہ میں انسانی حقوق کی بالادستی اور یکساں شہری حقوق کے لئے آواز اٹھائی اور کامیاب مہم چلائی مارٹن لوتھر کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے اور اس کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر بھی تسلیم کیا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ اس کے یوم پیدائش پر ہر سال جنوری کے تیسرے سوموار کو امریکہ میں قومی تعطیل ہوتی ہے اور جوش و خروش سے یہ دن منایا جاتا ہے۔ مارٹن لوتھر کے اقوال زریں مختلف زبانوں میں اقوام کی نئی نسل کی ذہنی آبیاری کر رہے ہیں ان کے مشہور اقوال میں کچھ درج ذیل ہیں۔ ”جھوٹ زندہ نہیں رہ سکتا“ ۔ ”محبت ہی وہ واحد قوت ہے جو دشمن کو دوست میں تبدیل کر سکتی ہے“ ۔ ”کہیں بھی نا انصافی ہر جگہ انصاف کے لئے خطرہ ہے“ ۔ ”صرف تاریکی ہی میں آپ تارے دیکھ سکتے ہیں“ ۔ ”عدم تشدد کا مطلب نہ صرف بیرونی جسمانی تشدد بلکہ روحانی اندرونی تشدد سے بھی گریز کرنا ہے“ ۔

اپنی زندگی کے آخری سالوں میں انہوں نے ویت نام جنگ اور غربت کے خلاف جدوجہد بھی شروع کر رکھی تھی۔ مارٹن لوتھر کے احترام کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آج امریکہ کی سینکڑوں سڑکیں اس کے نام سے منسوب ہیں، بڑے بڑے ادارے، عمارتوں کو اس کے نام سے لکھا، پکارا جاتا ہے اور اس کی یاد میں تقریبات منعقد کی جاتی ہیں، ریلیاں نکالی جاتی ہیں جن میں اس کی جدوجہد کو سلام پیش کیا جاتا ہے۔ اقوام عالم اس کو ”نسلی مساوات“ کے حوالے سے ایک عالمی لیڈر اور دانشور کے طور پر تسلیم کرتی ہے۔ ماضی اور آج کی امریکی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ اگر امریکہ نسلی اور امتیازی شہری تعصبات کی زنجیروں میں جکڑا رہتا تو شاید سپر طاقت بننے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوتا۔

مساوی شہری حقوق کی جدوجہد کی ایک اور مثال جنوبی افریقہ کی بھی موجود ہے وہاں نیلسن منڈیلا نے ملک کو امتیازی قوانین، اور تعصب سے نجات دلا کر جنوبی افریقہ کو آج ایک باعزت مقام دلوایا۔ تاریخ یہی سبق پڑھاتی ہے کہ اکیسویں صدی کی جدید ترین ٹیکنالوجی کے دور میں عقیدہ و مذہبی، نسلی بنیاد پر امتیازی قوانین کے ساتھ کوئی ملک نہ ترقی کر سکتا ہے اور نہ ہی اندرونی معاشی و سیاسی اور سماجی استحکام حاصل کر سکتا ہے۔

Facebook Comments HS