سیاست میں بونوں کا راج
صیّاد تو اِمکانِ سفر کاٹ رہا ہے
اندر سے بھی کوئی مِرے پر کاٹ رہا ہے
اے چادرِ منصب! تِرا شوقِ گلِ تازہ
شاعر کا تِرے دستِ ہنر کاٹ رہا ہے
جس دن سے شمار اپنا پناہ گیروں میں ٹھہرا
اُس دن سے تو لگتا ہے کہ گھر کاٹ رہا ہے
کس شخص کا دل میں نے دکھایا تھا، کہ اب تک
وہ میری دعاؤں کا اَثر کاٹ رہا ہے
قاتل کو کوئی قتل کے آداب سکھائے
دستار کے ہوتے ہوئے سر کاٹ رہا ہے
پروین شاکر کے یہ اشعار اس منظر کی عکاسی کر رہے ہیں جو اس وقت میرے دیس کا مقدر بنا ہوا ہے۔
غالباً حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ’انسان اپنی زبان کے نیچے چھپا ہوا ہے۔ (انسان کی قدر و قیمت کا اندازہ اس کی گفتگو سے ہو جاتا ہے۔ ) ہر شخص کی گفتگو اس کی ذہنی و اخلاقی حالت کی آئینہ دار ہوتی ہے جس سے اس کے خیالات و جذبات کا آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ جب تک وہ خاموش رہے اس کا عیب و ہنر پوشیدہ رہتا ہے، زبان کھلنے پر اس کی اصلیت نمایاں ہو جاتی ہے
اسے بدقسمتی ہی کہا جائے گا کہ قائد اعظم، نوابزادہ لیاقت علی خان، چودھری محمد علی، مولانا مودودی، مولانا مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی، خان عبد الولی خان، نواب زادہ نصر اللہ خان، شیر باز خان مزاری اور ذوالفقار علی بھٹو جیسے سیاست دانوں کی وراثت بشریٰ بی بی جیسے بونے کرداروں کے پاس آ گئی ہے، جن کا قد و کاٹھ بھی انعام الحق جاوید کی زبان میں پوچھنا پڑتا ہے۔
ذرا اٹھ کے کھلو بلیے
اساں تیرا قد ویکھنا
عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کا حالیہ بیان بم شیل کی مانند ان کے ہاتھوں میں ہی پھٹ گیا۔ سب حیران ہیں کہ بشریٰ بی بی نے بھلا کیسے پہلے سیاسی خطاب میں سعودی عرب کے حوالے سے ایسی باتیں کر دیں۔ اصل میں بشریٰ اسلامی کارڈ کھیل کر لوگوں کے جذبات بھڑکانے کی خواہاں تھیں۔ ان کا خیال تھا کہ اس موقع پر مذہبی ٹچ سے بڑی تعداد میں لوگ باہر نکلیں گے۔ لہٰذا انہوں نے یہ بیان داغا جو الٹا گلے پڑ گیا۔ مذہبی ٹچ میں امور خارجہ کو مشق ستم بنانا تباہ کن ہے۔ مذہب کے نام پر عوامی حمایت کے حصول کے لیے نیم خواندہ معاشرے میں اور بہت سے راستے ہیں۔ بشریٰ بی بی کے حالیہ بیان کے سبب تحریک انصاف بھی سخت مشکل میں گرفتار ہے۔ سابق خاتون اوّل نے اپنے ویڈیو خطاب میں فرمایا ’جب عمران خان عمرہ پر ننگے پاؤں گئے، ان کی واپسی پر باجوہ کو کال آئی کہ آپ کس کو اٹھا کر لائے ہیں، ہم تو ملک سے شریعت ختم کرنا چاہتے تھے اور تم شریعت کے ٹھیکیداروں کو لے آئے ہو۔
” ننگے پاؤں مدینہ شریف کی سرزمین پر چلنے کی سزا دی جا رہی ہے“ ۔ یعنی بات امریکہ سے چلی تھی اور اب ننگے پاؤں مدینہ جانے تک پہنچا دی گئی ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات غیر معمولی ہیں۔ ایسے ملک کے بارے میں، اتنا غیر ذمہ دارانہ بیان دینا قومی مفاد سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ مذہبی ٹچ کی زد میں امور خارجہ بھی آ نے لگے تو یہ تباہ کن ہو گا۔ سعودیہ میں 30 لاکھ پاکستانی بر سر روزگار ہیں۔ یو اے ای میں اسی سیاست زدہ رویے سے پاکستانیوں کا ناطقہ بند ہو چکا ہے۔ شاید سعودی عرب سے بھی پاکستانیوں کا بوریا بستر گول کرانے کا ارادہ ہے۔ ویسے تحریک انصاف اوورسیز کے حقوق کی چمپیئن بنتی پھرتی ہے تو کیا اوورسیز صرف وہ ہیں جو یورپ میں مقیم ہیں۔ کیا سعودی عرب میں رہنے والے پاکستانی اوورسیز نہیں ہیں۔ حقیقی جمہوریت کی طرح حقیقی اوورسیز صرف وہ ہیں جو گوروں کے دیس میں رہتے ہیں۔ ان کے سوا اگر کسی ملک میں لیبر کلاس روزگار کما رہی ہے تو وہ اوورسیز نہیں ہے۔
دوست ممالک کو ناراض کر کے پاکستان سے دور کرنا بانی پی ٹی آئی کی سیاست کا حصہ ہے، ’خان نہیں تو پاکستان نہیں‘ کا نعرہ سائفر والے امریکہ سے ہوتا ہوا مکہ و مدینہ کی مقدس سرزمین تک آ پہنچا ہے۔ مقصد سب کچھ سبو تاژ کرنا ہے۔
شعلہ رو، شعلہ سخن، شعلہ بدن، شعلہ مزاج
آ گئے گھر میں میرے آگ لگانے والے
تحریک انصاف کی دانستہ پالیسی ہے کہ
•حکومت کو دباؤ میں لانے کے لیے ہر اس جگہ پر وار کیا جائے جہاں سے حکومت پریشان ہو۔
•جب کوئی غیر ملکی سربراہ یا اہم وفد آ رہا ہو یا کوئی بڑی کانفرنس ہو رہی ہو، تحریک انصاف سڑکوں پر ہوتی ہے۔
• آئی ایم ایف سے معاملہ ہو تو خط لکھا جاتا ہے کہ پاکستان کو کچھ نہ دینا۔
• زر مبادلہ کی ضرورت ہو تو یہ اوورسیز سے کہتی ہے پیسے نہیں بھیجنا۔
• عمران گرفتار ہوئے تو ہم سب کچھ جلا دیں گے، •عمران نہیں تو ہماری بلا سے ملک پر ایٹم بم مار دو۔
•۔ عمران کی حکومت نہیں تو ہمیں اس ملک میں رہنا گوارا نہیں، وغیرہ وغیرہ۔ یہ سیاسی جذبات کا اظہار نہیں ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے کہ حکومتی مخالفت میں ریاست اور حکومت کا فرق ملحوظ خاطر نہیں رکھنا۔ حالت یہ ہے کہ صوبے میں لاشوں کا انبار پڑا ہے اور وزیر اعلیٰ گنڈاپور صاحب احتجاج میں مصروف ہیں۔
سعودی عرب اور پاکستان کے باہمی تعلقات اس قدر مثالی ہیں کہ دنیا میں ایسی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ ایسے میں اگر کوئی سعودی عرب پر بہتان باندھے گا، وہ عمران خان کو چاہے جتنا بھی عزیز ہو، پاکستانی قوم کو عزیز نہیں ہو سکتا۔ اگر سعودی حکمرانوں کی طرف سے ایسا کوئی پیغام بھیجا بھی گیا تھا تو پھر آپ لوگ اُنہی سعودی حکمرانوں سے ہیرے جواہرات اور گھڑیوں کے تحائف کیوں قبول کر رہے تھے؟ کروڑوں کی گھڑی لے کر اسے کیسے دبئی میں بیچ دیا؟ اگر آپ کو پہلے دورے کے بعد احساس ہو گیا تھا کہ سب کچھ ٹھیک نہیں تو پھر مزید 8 دورے کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ بشریٰ بی بی کو سعودی عرب سے ملنے والے مہنگے تحائف کی فہرست پڑھ لیں تو چودہ طبق روشن ہو جائیں۔
جنرل باجوہ نے سختی سے اس کی تردید کی ہے کہ انہیں ایسا کوئی پیغام نہیں ملا تھا۔ بشریٰ بی بی نے سراسر جھوٹ بولا ہے۔ جنرل باجوہ کی تردید سے قطع نظر یہ بیان بذات خود اس قدر احمقانہ ہے کہ ایک طفل مکتب بھی اسے جھوٹا قرار دینے میں لمحہ بھر تامل نہیں کرے گا۔ ہر بحران میں پاکستان کا بہترین ساتھ دینے والے سعودی عرب کے خلاف یہ بیان چاند پر تھوکنے کے مترادف تھا جو خود بیان باز کے چہرے پر آ گرا۔
بعض رہنماؤں کا خیال ہے کہ بشریٰ بی بی کو واقعتاً پارٹی معاملات بلکہ سیاست سے بھی دور رہنا چاہیے۔ انھیں حقیقی معنوں میں گھریلو خاتون ہی رہنا چاہیے۔ تاہم ایسا نہیں ہو گا۔ سیاست کی چاٹ ہی ایسی ہے، لگ جائے تو جاتی نہیں۔
اے ذوقؔ دیکھ دختر رز کو نہ منہ لگا
چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی
اسی لیے درج ذیل سطور لکھتے ہوئے وہ فائنل کال میں اپنا حصہ ڈال رہی ہیں۔
انہوں نے ایک سوال اور بھی اٹھایا ہے کہ ”خان عوام کی خاطر جیل میں ہے، تو کیا اب وکیلوں اور ججوں کا فرض نہیں بنتا کہ وہ بھی احتجاج میں شامل ہوں، کیا ساری قربانیاں صرف خان نے دینی ہیں“ ۔ وکیل تو سیاست کرتے ہی رہتے ہیں۔ غالباً پارلیمانی جمہوریت کی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے کہ ججوں سے سیاسی احتجاج میں شامل ہونے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ کیا تحریک انصاف کے ہاں آزاد عدلیہ کا تصور یہ ہے کہ کپتان احتجاج کی کال دیں تو جج صاحبان عدالتوں سے اٹھ کر سڑکوں پر پہنچ جائیں۔


