صوفی فوبیا اور جدید علوم
آج ہمارے ایک دیرینہ دوست جو کہ تصوف کے ایک سلسلے سے وابستہ ہیں، ان سے گفتگو ہو رہی تھی اور میں نے ان کو غوث پاک کی چٹکلوں بھری کرامات کی ایک ویڈیو دکھا دی۔ موصوف کہنے لگے کہ تمہیں ”صوفی فوبیا“ ہو گیا ہے۔ یہ اصطلاح میں نے زندگی میں پہلی دفعہ سنی ہے۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو کہ آج کل فوبیا کی اصطلاح مغرب میں عام ہے اور ہمارے لوگ بھی اس کو برابر استعمال کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ مجھے صوفی فوبیا کہنے کی وجہ شاید میرے چند مضامین ہیں جو میں نے تصوف کے نظریات کی تنقید میں لکھے۔ چونکہ یہ دوست اقبال پرستی کا بھی شکار ہیں اور اقبال کے روحانی علوم کو سائنس بنانے کی بیکار کوشش کے بھی کسی حد تک قائل ہیں تو میرے گزشتہ مضمون ”فکر اقبال اور جدید سائنس“ کو لے کر ان سے یہ گفتگو ہوئی۔ بہرحال، اس دلچسپ گفتگو سے کچھ نکات تاریخ کا حصہ بنانے کے لیے یہاں درج کیے جا رہے ہیں۔
پیری مریدی پر لکھی جانے والی کتابوں کو دیکھ کر لگتا ہے جیسے اہل تصوف فرد کی آزادی، حریت فکر اور برابری کے قائل نہیں ہیں۔ انسانوں کو عام، خاص اور خاص الخاص میں تقسیم کرنا ایک عدم مساوات کو جنم دیتا ہے۔ انسان کی فطرت ہے کہ عقل و ہوش میں رہتے ہوئے کسی دوسرے انسان کی غلامی قبول نہ کرنا، اس لئے مرشد کی غلامی قبول کرنے کے لئے عقل کو رخصت پر بھیجنا لازمی ہے۔ ہاں، آئیڈیاز کو عقل سے تسلیم کرنے کا نام غلامی نہیں ہے۔ اگر آپ آزاد رہ کر خود اپنی مرضی سے کسی خیال یا سوچ کو اپنا لیں تو اسے غلامی نہیں بلکہ ذہنی ہم آہنگی کہا جائے گا اور اس میں دونوں جانب برابری اور باہمی عزت قائم رہنا لازم ہے وگرنہ عقل کو تالا لگا کر کسی نظریے کی پیروی کرتے رہنا درست نہیں۔ اور یونہی ایک نظریے پر تنقید کرنا اور مزید بہتر نظریے یا خیال کے لئے عقل کے دروازے کھلے رکھنا، انسانی سماج کی صحت کے لئے ضروری ہے۔
یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ایک غلط سوچ سے نکلنے کا علاج تقلید پرستی اور پیری مریدی نہیں ہے۔ انسان کوئی بھی کامل نہیں۔ وقت لگتا ہے۔ انسان سیکھتا ہے۔ ایک سے دوسرے بہتر خیال کی طرف سفر کا مطلب یہ نہیں لینا چاہیے کہ عقل ہمیشہ کسی کی غلام رہتی ہے۔ میرے خیال میں عقل کو غلام نہیں بنایا جاتا، بلکہ تعصبات غلامی میں لے جاتے ہیں۔ عقل اور تعصب مخالف قوتیں ہیں۔ آپ کسی استاد یا مرشد سے سیکھیں اس میں کوئی دقت نہیں لیکن عقل کا ساتھ نہ چھوڑا جائے۔ سامنے سچ دیکھ کر آنکھوں پر پردہ نہ ڈالا جائے۔ مرشد کی اطاعت کے خوف سے کلمہ حق نہ چھپایا جائے۔ تعصبات سے عقل پر پردہ پڑ جاتا ہے۔ انسان سوڈو سائنس کی طرف نکل جاتا ہے۔ مشاہدہ چھوڑ دیتا ہے۔ اور مردہ نظریات اپنا لیتا ہے۔
تصوف کو سوڈو سائنس کہنے سے مراد یہ ہے کہ اس سے گمان ہوتا ہے کہ یہ کوئی علم ہے۔ جبکہ دراصل یہ علم نہیں ہے۔ سوڈو سائنس ہر وہ شے ہے جس سے یہ دھوکہ پیدا ہو کہ وہ شے علم ہے مگر وہ علم نہ ہو۔ جیسے ابن عربی کا نظریہ۔ ابن عربی کو سمجھنا ہو تو اپنیشدوں کا مطالعہ اکسیر ہے۔ مسئلہ یہی ہے کہ صوفیا نے کبھی علمیات میں کوئی اضافہ نہیں کیا۔ یونانی مابعد الطبیعیات کو ہی روحانی علم کہتے رہے۔ مسلمانوں کا تصوف، فلوطین کا چوری شدہ مال ہے۔ روحانیت یا تصوف کو علم کہنا اسے سوڈو سائنس بناتا ہے۔ کسی وقت سوڈو سائنس کی اصطلاح پر لکھوں گا اور موقف واضح کروں گا کہ کیوں تصوف یا روحانیت ایک سوڈو سائنس ہے۔ کیونکہ علم انسانی ذہن کا کام ہے۔ روح کا نہیں۔ نہ کشف و الہام کا۔ روح کیا ہے کیسے کام کرتی ہے، کوئی نہیں جانتا۔ غزالی نے روح پر کتاب لکھی تو اس سے انسانی علم میں کیا اضافہ ہوا؟ پیمبر اسلام سے جب روح کی بابت پوچھا گیا تو انہوں نے فقط اتنا کہا کہ روح ایک امر ہے جس کو صرف خدا جانتا ہے۔ اہل تصوف کا دعویٰ ہے کہ وہ روح کے اسرار سے واقف ہو سکتے ہیں۔ جو کہ میری سمجھ سے بالا ہے۔
یہ درست ہے کہ تاریخی اعتبار سے بارہ سو سال مسلمان علماء کو معلوم نہ ہوا کہ یہ سوڈو سائنس ہے۔ حتیٰ کہ ابن تیمیہ نے بھی تصوف کا انکار نہیں کیا۔ اور یہی اصل مسئلہ ہے کہ یہ اتنا پرانا مرض ہے کہ انکار مشکل ہے۔ بڑے بڑے الجھے پڑے ہیں۔ اول، علمی معاملات میں کیا علم ہے اور کیا نہیں، اس کا فیصلہ اہل علم کرتے ہیں یا وہ لوگ جو نیا علم پیدا کرتے ہیں اور وقت کے ساتھ علمی طریقہ کار میں بہتری آتی ہے تو جدید دور کے مطابق علم کی تعریف کرنا ہوتی ہے۔ اس لئے صدیوں پہلے کے مباحث اور خیالات کو آج کے علم کے مقابل پیش نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی یہ کہنا کوئی معنی رکھتا ہے کہ چونکہ تاریخی اعتبار سے اکثریت نے اس پر اتفاق کیا ہے تو یہ درست ہے۔ دوم، مسلم اہل کلام اور علماء کا تعلق دین کا پیغام پہنچانے اور اسے عام کرنے اور دینی و شرعی مسائل پر مشتمل ہے۔ ان کا کام نیا علم پیدا کرنا یا دنیا کی وضاحت کرنا نہیں ہے۔ اسی لئے جب وہ علمیات میں کچھ کہتے ہیں تو اس کی وہ حیثیت نہیں ہوتی جو ایک سائنسدان کی ہوتی ہے۔
وہ قرآن کی آیات یا احادیث جن میں اہل ایمان اور متقی لوگوں پر فرشتے نازل ہونے اور خدا کی قربت نصیب ہونے کی باتیں ہیں اس میں کہاں آیا ہے کہ فرشتے علم بھی پکڑا کے جاتے ہیں؟ مادی کائنات کا علم انسان مادی ذرائع سے لیتا ہے۔ روح کا علم قرآن میں نہیں ہے۔ ایک آیت تک موجود نہیں ہے جو وضاحت کرے کہ روحانی علوم کیا ہیں یا کیسے ملتے ہیں۔ کہاں لکھا ہے کہ پیمبر نے بتایا ہو کہ روح کیسی ہے یا کشف سے علم کس طرح ملتا ہے یا روحانی دنیا کے کتنے مراتب ہیں؟ یہ بھی دسویں صدی کے بعد کے صوفیوں ابن عربی و غزالی وغیرہ کی طرف سے روح پر لکھنے کا آغاز ہوا جب ہندی و یونانی علوم مسلم دنیا تک پہنچے۔ ان معاملات سے پرہیز کرنا چاہیے اور خدا پر ڈال دینا چاہیے۔
رہی یہ بات کہ میں کیوں ان موضوعات میں الجھ رہا ہوں؟ یا یہ اعتراض کہ ایک عام انسان دینی معاملات میں کوئی رائے نہیں رکھتا؟ تو عرض یہ ہے کہ میں دینی علوم کا براہ راست طالب علم نہیں اور نہ مجھے اجماع کی حیثیت کا زیادہ پتا ہے کہ کیسے اور کن چیزوں پر اجماع ہوتا ہے اور قرآن و حدیث کے مقابلے میں اس کی کیا حیثیت ہے۔ لیکن میں تو مسلم فلسفیوں اور صوفیوں کی کتابوں میں جو لکھا ہے وہ پڑھتا ہوں۔ اور اس پر تنقید کرتا ہوں۔ میرے خیال میں قرآن و گزشتہ نبیوں پر اتری الہامی کتابوں کے علاوہ کسی انسان کی لکھی کتاب پر ایمان لانا اور اس کی اندھی تقلید فرض نہیں ہے۔ قرآن پر ایمان لانا ہوتا ہے۔ اور یہ ایمان کا معاملہ ہے، عقل سے تسلیم نہیں کروانا ہوتا۔ ایمان اور علم میں فرق ہے۔ ایمان کے لئے علم لازم نہیں۔ وگرنہ پیمبر کی ضرورت نہیں رہتی اگر انسانی علم سے یا عقل سے خدا سے رابطہ ہو جائے۔ ایمان کو علم اور جہالت کی کیٹگری میں نہیں رکھا جا سکتا۔ اس لئے ایمان لانے کو جہالت نہیں کہہ سکتے۔ ایمان کا الٹ بے ایمانی ہو گا جیسے علم کا الٹ جہالت ہے۔
لیکن علمی موضوعات میں مجھ پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ اس لئے اسی پر بات کروں گا۔ میری سائنس کی تعلیم اور سیکھنے کی جستجو مجھے علمی موضوعات پر سوچنے اور بات کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ اگر میں سیاسی تجزیہ کار ہوتا تو ان موضوعات پر زیادہ توجہ کرتا۔ مجھے صوفیاء سے کوئی مسئلہ نہیں ہے کہ وہ زہد و تقویٰ کی تلقین کرتے ہیں۔ مجھے سلاسل تصوف سے بھی اتنا مسئلہ نہیں ہے۔ نہ میں کلامی بحثوں میں تصوف کے مقام کو لے کر کوئی موقف اپنائے بیٹھا ہوں۔ میں اسلاف کے بزرگوں کا احترام کرتا ہوں۔ ان کو نیک لوگ سمجھتا ہوں۔ مجھے فقط تصوف کے ”نظری“ پہلو یا مابعد الطبیعیات سے مسئلہ ہے کیونکہ اسے وہ علمیات کے دائرے میں لے آتے ہیں۔ مجھے مابعد الطبیعیات میں ان کی ہر بات قبول کرنے کا کوئی حکم نہیں اور نہ میں روایت و اجماع کے زیر اثر ان باتوں کو ماننے کا پابند ہوں۔
ایک اعتراض یہ بھی اٹھتا ہے کہ تصوف تو نام ہی عمل کا ہے۔ اور یہ کہ ”نظری تصوف کوئی اصطلاح نہیں ہے اور عمل کے لئے صوفیاء نے زندگیاں وقف کیں۔ لیکن ظاہر ہے سوالات کا جواب ایمان کو بھی دینا پڑتا ہے۔ وگرنہ علم الکلام وجود میں نہ آتا۔ ایسے ہی صوفیاء کو بھی جواب دینا پڑا۔ جو وہ مشاہدہ کرتے ہیں، اسے بیان کرنے کوشش کی ہے۔“ یہ ایک انتہائی لاعلمی پر مبنی اعتراض ہے۔ غزالی و ابن عربی اور ملا صدرا نے جو کچھ لکھا ہے وہ کیا ہے؟ وحدت الوجود کو لے کر تو جدید دور تک شاہ ولی اللہ اور دیوبند سے لے کے دنیا بھر کے سنی و شیعہ مسالک کے نصاب میں تصوّف اور متصوفانہ نظریات سرایت کیے ہوئے ہیں۔ عام لوگ شاید ان بحثوں سے واقف نہیں ہیں۔ لوگوں نے کتابیں اور مقالے لکھے ہیں جنہیں انٹرنیٹ پر باآسانی ڈھونڈ سکتے ہیں۔ خاص طور سے ملا صدرا کو لے کر تو بڑا شور برپا ہے۔ ملا صدرا ہی کی کتابیں سنی مدارس تک پہنچی ہیں۔ سنی مدارس کی تعلیم الحکمت پڑھیں یا شیعہ مدارس کی بدیہ الحکمہ پڑھیں، دونوں میں ایک جیسی باتیں لکھی ہیں۔ ملا صدرا کی اسفار کا اردو ترجمہ دیوبندی عالم مناظر احسن گیلانی اور مولانا مودودی نے کر رکھا ہے۔ شاہ ولی اللہ کیا وحدت الوجود کے قائل نہیں تھے؟ ان کی کتاب حجۃ اللہ البالغہ کا پہلا باب دیکھئے تو وہی نو افلاطونی باتیں ملتی ہیں۔ علم اسرار دین کے نام جو کچھ پڑھایا جاتا ہے وہ کیا چیز ہے؟
اسے علم کلام کی طرح نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ علم کلام درست منطقی رویہ ہے۔ اس سے کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن صوفیوں نے جو بیان کیا ہے وہ شاعری ہے، تخیل ہے۔ ادب ہے۔ علم نہیں۔ ان کی فکر عقلی یا ریاضیاتی نہیں ہے۔ وہ ان ملفوظات کو مشاہدات کا بیان کہیں، سرود و مستی کہیں لیکن اس کو فلسفے یا علمیات کے دائرے میں نہ لائیں۔ کیونکہ وہ علمی باتیں نہیں ہیں اور اسی لئے اہل تصوف کو نت نئی دقیق اصطلاحات کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ علم اس قدر مشکل و پیچیدہ اصطلاحات سے نہیں بنتا بلکہ علم تو ذہن کو سہولت دیتا ہے کہ دنیا کی آسان تفہیم ممکن ہو سکے۔
میں خود صوفیاء کا احترام کرتا ہوں۔ عمل پر زور دیتا ہوں۔ تبھی تو ایسے مالدار صوفیا سے نفرت ہوتی ہے جن کے مرید بھوک و افلاس کی زندگی گزار رہے ہوں۔ لیکن کردار کی باتیں اخلاق کے زمرے میں ہوں گی۔ دنیا کو سمجھنا، جاننا کہ کیسے کام کرتی ہے یہ علم ہے۔ علوم کے بغیر اور جدید علوم کے بغیر ہم پسماندہ رہیں گے۔ جدید علوم سے پہلے کچھ بنیادی چیزیں سیدھی کرنا پڑیں گی۔ روایت کو کھنگالنے کی ضرورت ہے۔ غلطی کہاں کہاں ہوئی۔ کس کس نے کی۔ صرف لبرلز اور ملحدین کے خلاف لٹھ اٹھا کر بھاگنے سے کیا ملے گا۔ دنیا بھر میں جن قوموں نے نئی تاریخ رقم کی ہے یا نیا علم پیدا کیا ہے، انہوں نے پہلے اپنی تہذیبی بنیادوں پر تنقید کی اور اپنے پرانے فرسودہ نظریات کو بغور دیکھا اور جانچا اور تب جا کر اس سے علم کی نئی راہیں دریافت کیں۔ میں پوری مسلم فکر کی بات کر رہا ہوں۔ کسی ایک سلسلہ تصوف کی بات نہیں کر رہا۔ بلکہ علم پوری انسانیت کی بات کرتا ہے۔ یہ متعصب رویہ ہوتا ہے کہ آپ بس اپنے سلسلہ یا اپنے اساتذہ اور اپنے مکتبہ فکر کا ہی دفاع کرتے رہیں۔ اور یہ دفاع بھی ایسا ہو کہ جس میں مطالعہ کی شدید کمی کے ساتھ ساتھ تنقید ناپید ہو بلکہ تنقید یا سوال کرنے کو گستاخی یا بے ادبی قرار دے دیا جائے۔ اس سے صرف مالدار صوفی طبقہ فائدہ اٹھاتا ہے اور طاغوت کا ساتھی بنتا ہے۔ ہمیں اپنے تعصبات پر نظر ثانی کی اشد ضرورت ہے۔


