بانی پی ٹی آئی کی فائنل کال
ویسے تو پی ٹی آئی اپنے قیام کے دن سے ہی ”حالت جنگ“ میں ہے اس کے قائد عمران خان نے اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف مختلف محاذ کھول رکھے ہیں اگر یہ کہا جائے تو مبالغہ آرائی نہیں ہو گی وہ اقتدار میں ہوں یا اپوزیشن میں ”جیل یاترا“ کر رہے ہوں وہ ”چومکھی لڑائی“ لڑ رہے ہوتے ہیں وہ پچھلے تین عشروں سے میدان سیاست میں سرگرم عمل ہیں سیاست میں ان کا کوئی دوست نہیں ان کے سیاسی عزائم کی تکمیل کی راہ میں حائل ہونے والا ہر شخص ان کا دشمن ہے 90 ء کے عشرے میں جن قوتوں نے ان کو ”مخصوص سیاسی مقاصد“ کے لئے لانچ کیا تھا ان میں سے شاید اب کوئی بھی ان کے ساتھ نہیں وہ اب اس مقام پر جا کھڑا ہوا ہے جہاں وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ ”قائد اعظم ثانی“ ہے اس کا کوئی مقابل نہیں اب تو پی ٹی آئی دعویٰ کرتی ہے کہ عمران خان ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف کو بھی پیچھے چھوڑ گیا ہے اس نے یہ سب کچھ 8 فروری کے انتخابات میں ثابت کر دکھایا ہے پاکستان کا 24 سال سے کم عمر جوان اس کا شیدائی ہے وہ لیڈر جو اپنے پونے چار سال کی حکومت میں مقبولیت کی نچلی سطح پر چلا گیا تھا پچھلے دو اڑھائی سال میں بر سر اقتدار آنے والی حکومتوں کی نالائقیوں کی وجہ سے ایک بار مقبولیت کی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔
لیکن عمران خان کا المیہ یہ ہے ان کے شیدائیوں کی بڑی تعداد کا تعلق سوشل میڈیا پر جنگ لڑنے والوں سے ہے جو سڑکوں پر آنسو گیس، لاٹھی چارج اور گولی کے سامنے کھڑے ہونے والی نہیں وہ ”نک دا کوکا“ اور ”مرشد“ کے گیتوں پر جھوم تو سکتی ہے جیل نہیں کاٹ سکتی یہی وجہ ہے کہ عمران خان کی کال بار بار ناکام ہو رہی ہے عمران خان کی فائنل کال 24 نومبر سے قبل ہی شکوک و شبہات کا شکار ہو گئی اور پی ٹی آئی کی جانب سے حکومت سے اعلیٰ سطح پر رابطوں کا راگ الاپنا شروع کر دیا گیا مذاکرات کی میز سجانے کی اجازت دینے کی خبروں نے فائنل کال کا ”ٹیمپو“ نہیں بننے دیا۔ 24 فروری سے قبل خان کے جیل سے باہر آنے کا خواب خواب ہی رہا۔ 10 اپریل 2022 ء کو پارلیمنٹ کے ہاتھوں شکست کو قبول نہ کرنے والا لیڈر مسلسل حالت جنگ میں ہے اپنی مقبولیت کے سحر میں مبتلا ہے پچھلے ایک سال سے زائد عرصہ سے اڈیالہ جیل میں ”سرکاری مہمان“ کے طور پر اپنے شب و روز گزار رہا ہے عمران خان کے خلاف 190 ملین پاؤنڈز کا کیس زیر سماعت ہے 25 نومبر کو سانحہ 9 مئی کی فرد جرم عائد ہونی ہے جیل سے آنے والی مختلف افواہیں ملک میں گردش کر رہی ہیں کبھی یہ افواہ گردش کرتی ہے جیل میں عمران خان کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا جا رہا ہے کبھی ان کے ساتھ تشدد کا پراپیگنڈا کیا جاتا ہے لہذا ان کے کئی بار میڈیکل چیک اپ بھی ہو چکے ہیں ان کے صحت مند ہونے کے بارے میں رپورٹس کو پی ٹی آئی کے جیالے قبول کرنے کے لئے تیار نہیں عمران خان سے علی امین گنڈاپور اور بیرسٹر گوہر کی ملاقاتیں ہوئی ہیں لیکن ان کی با اختیار لوگوں سے ہونے والی پس پردہ ہونے والی ملاقاتوں کی کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی حکومت نے بھی قانون کا مذاق اڑانے کی انتہا کر دی ہے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے لئے جانے والے 5 پارٹی رہنماؤں کو دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے والوں پولیس نے دھر لیا۔ اسی روز عمران خان سے ان کی بہن علیمہ خان اور عظیمہ خان کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے ملاقات کے بعد عمران خان کی جانب سے 24 نومبر کو احتجاج کے لئے نکلنے کے لئے عوام کو ”فائنل“ کال دے دی۔
اگرچہ علی امین گنڈا پور نے ماہ رواں کے اواخر میں سڑکوں پر نکلنے، مطالبات منوائے بغیر واپس نہ آنے اور جنازے پڑھ لینے کا اعلان کیا تھا علی امین گنڈاپور ہماری سیاست کا ایسا کردار ہیں جو بڑکیں تو بہت مارتے ہیں لیکن عملی طور پر وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ نہیں کرتے اس لئے وفاقی حکومت ان کی کسی بات کو سیریس نہیں لیتی البتہ وہ پی ٹی آئی کے واحد لیڈر ہیں جو مقتدر حلقوں سے رابطے میں ہیں حکومت نے عمران سسٹرز کی طرف سے ”فائنل کال“ کو سیریس لیا ہے اس پر طرفہ تماشا یہ کہ سابق خاتون اول بشریٰ بی بی بی میدان عمل میں اتر آئی ہیں جس انداز میں انہوں نے پی ٹی آئی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کو احکامات جاری کیے ہیں اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے غیر علانیہ طور پرپارٹی کی قیادت سنبھال لی ہے انہوں نے اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے پی ٹی آئی کے ارکان کو 24 نومبر کو عوام سڑکوں پر لانے کی ذمہ داری سونپی ہے 24 نومبر سے قبل گرفتار ہونے والے ارکان اسمبلی کو یہ بھی کہہ دیا ہے کہ اگر کسی رکن اسمبلی نے 24 نومبر سے قبل گرفتاری دی تو اس کو پی ٹی آئی سے فارغ کر دیا جائے گا۔ عمران خان کا یہ دھمکی آمیز بیان پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کو کس حد تک متحرک کرتا ہے فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ پی ٹی آئی کی طرف سے دی گئی فائنل کال کے دوران ہی بشریٰ بی بی کی عمران خان کے دورہ سعودی عرب کے بارے میں وڈیو نے طوفان برپا کر دیا اگرچہ جنرل باجوہ نے بشریٰ بی بی کے دعوے کی تردید کی ہے لیکن انہوں نے اس حوالے سے معنی خیز بات کی ہے کہ انہوں نے اس وڈیو میں کیے پر پانی پھیر دیا ہے اپیکس کمیٹی کے اجلاس سے قبل اڈیالہ جیل میں علی امین گنڈا پور اور گوہر خان کی ملاقات کرائی گئی اس اجلاس میں سپہ سالار جنرل سید عاصم منیر نے بھی شرکت کی وزیر دفاع خواجہ آصف کے مطابق اجلاس میں علی امین گنڈا پور کی 99 فیصد تقریر کے پی کے میں امن و امان کی صورت حال کے بارے میں تھی البتہ انہوں نے اپنی قیادت کی گرفتاریوں کا تبرکاً ذکر کیا عمران خان نے قانون کی حکمرانی، مینڈیٹ کی واپسی اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لئے فائنل کال دے رکھی ہے وفاقی دار الحکومت اسلام آباد میں ڈی چوک کے راستوں سمیت اسلام آباد آنے والی شاہراہوں کو بند کر دیا گیا ہے مذاکرات کی بات آگے نہیں بڑھی توشہ خانہ 2 میں ضمانت کے باوجود عمران خان کی رہائی کا کوئی امکان نہیں۔
8 فروری کے انتخابات کے بعد محمود خان اچکزئی کی سربراہی میں پی ٹی آئی سپانسرڈ تحریک تحفظ آئین قائم کی گئی اس تحریک میں جمعیت علما اسلام شامل ہوئی اور نہ ہی جماعت اسلامی اس کا حصہ بننے پر آمادہ ہوئی اس لئے تحریک تحفظ آئین ٹائیں ٹائیں فش ہو گئی اب محمود خان کوئٹہ میں جا کر بیٹھ گئے ہیں اب تک عمران خان کے حکم پر 11 احتجاجی کالز دی جا چکی ہیں جو تاحال سب ناکام ہوئی ہیں۔

