فلسطین اور اسرائیل کی جنگ کی دردناک کہانی۔ دوسری قسط
ٹونی بلنکن کی اسرائیلی رہنماؤں سے ملاقات
۔
جنگ شروع ہونے کے پانچ دن بعد بارہ اکتوبر کو امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ ٹونی بلنکن اسرائیل پہنچ گیا اور سیدھا نیتن یاہو سے ملنے چلا گیا۔ نیتن یاہو بلنکن سے اکیلے ملنے کی بجائے بلنکن کو اپنے فوجی مشیروں سے ملوانے لے گیا۔
نیتن یاہو نے میٹنگ کا آغاز کرتے ہوئے پہلے بلنکن کا تعارف کروایا اور پھر کہا
ہمیں امریکہ سے تین چیزیں چاہییں۔ اسلحہ۔ اسلحہ۔ اسلحہ
بلنکن نے کہا۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ اسلحے کی منتقلی پہلے سے ہی شروع ہو چکی ہے۔
سب جانتے ہیں کہ امریکہ اسرائیل کو ہر سال تین بلین ڈالرز کی عسکری مدد کرتا ہے۔
اسلحہ و بارود کا وعدہ کرنے کے بعد بلنکن نے پوچھا
’اسرائیل جو غزہ پر فوجی حملے کر رہا ہے۔ ان حملوں میں فلسطینی معصوم شہریوں کی جانیں بچانے کی کیا حفاظتی تدابیر کی گئی ہیں؟‘
بلنکن باخبر تھا کہ غزہ ایک گنجان آباد علاقہ ہے۔ اس کے اٹھارہ مربع میل علاقے میں تئیس لاکھ فلسطینی بستے ہیں۔
بلنکن کو اس حقیقت کا بھی اندازہ تھا کہ حماس کے ہزیمت زدہ حملے کے بعد نیتن یاہو کے مشیر یووال گالانٹ اور ہرزی ہلیوی غصیلے زخمی شیر بن چکے تھے۔
بلنکن کے سوال کے جواب میں نیتن یاہو نے کہا
’تم اسرائیل اور مصر کے درمیان کی راہداری کھلوا دو تا کہ سب فلسطینی مصر چلے جائیں‘
بلنکن نیتن یاہو کا مشورہ سن کر ہکا بکا رہ گیا۔ اس نے کہا میں اس موضوع پر عرب رہنماؤں سے مشورے کروں گا۔
نیتن یاہو کے مشیر ڈرمر نے کہا
’غزہ میں فلسطینی شہری نہ رہے تو ان شہریوں کا بحران بھی نہ رہے گا۔ اور ہم اس حل میں مصر کے رہنما سی سی کو رکاوٹ نہیں بننے دیں گے‘
مصری سی سی جانتا تھا کہ انیس سو اڑتالیس اور انیس سو سڑسٹھ میں اسرائیل نے لاکھوں فلسطینیوں کو مصر بھیجا تھا اور پھر انہیں فلسطین واپس آنے کی اجازت نہیں دی تھی۔
بلنکن نے کہا
’ہمیں فلسطینی شہریوں کے لیے کھانے پینے کی چیزیں بھیجنے کا بھی انتظام کرنا ہو گا تا کہ وہ بھوک پیاس سے نہ مر جائیں‘
ڈرمر نے کہا
’ہم فلسطینیوں کی اس وقت تک کوئی مدد نہیں کر سکتے جب تک حماس ہمارے قیدی واپس نہیں کر دیتے‘
بلنکن نے کہا
’لیکن ہم اس وقت تک عام شہریوں کا کھانا پینا تو بند نہیں کر سکتے‘
ڈرمر نے اپنا موقف دہرایا
’ جب تک قیدی واپس نہیں آ جاتے ہم فلسطینیوں کی کوئی مدد نہیں کریں گے‘
نیتن یاہو نے ڈرمر کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا
’ حماس نے بھی ہمارے معصوم شہریوں پر بہت سے مظالم ڈھائے ہیں۔ حماس کے دہشت گردوں نے ہمارے معصوم بچوں اور عورتوں کو قتل کیا ہے‘
بلنکن نے بھی اپنا موقف دہرایا
’فلسطینی عوام کو زندہ رکھنے کے لیے انہیں خوراک اور پانی بھیجنا اشد ضروری ہے۔ یہ ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے اگر تم لوگ اسے اخلاقی ذمہ داری نہیں بھی سمجھتے انہیں بھوکا مارنا کوئی سیاسی دانشمندی بھی نہیں ہے۔ ‘
چونکہ حماس اسرائیل پر متواتر راکٹ برسا رہے تھے اس لیے بلنکن نے اسرائیل میں رات گزارنا غیر محفوظ سمجھا۔ اس نے پینتالیس منٹ کی پرواز لی اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ اردن کے شہر امان میں امان لی۔
۔ ۔
ٹونی بلنکن کی عرب رہنماؤں سے ملاقاتیں
۔ ۔
تیرہ اکتوبر کی صبح ٹونی بلنکن اردن کے شاہ عبداللہ سے ملنے گیا۔ عبداللہ نے اردن میں حماس کے داخلے کی پابندی لگا رکھی تھی اور ان کے دفتر کو مقفل کر دیا تھا۔ اردن کو وہ وقت یاد تھا جب اس نے بیس لاکھ فلسطینیوں کو پناہ دی تھی۔
شاہ عبداللہ نے بلنکن سے کہا
’ہم نے اسرائیل کو تنبیہ کی تھی کہ وہ حماس سے دوستی کی پینگیں نہ بڑھائے۔ ہم نے انہیں بتایا تھا کہ یہ اخوان المسلمین کے ساتھی ہیں‘
شاہ عبداللہ نے مزید کہا
’ ہمیں حماس سے کوئی ہمدردی نہیں۔ اسرائیل کو فلسطینی اتھارٹی سے مکالمہ کرنا چاہیے تھا لیکن اسرائیل کئی برسوں سے حماس کی مالی مدد کرتا رہا ہے۔ اب اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا ہے۔ ‘
اردن کے شاہ عبداللہ کی ملاقات کے بعد بلنکن قطر کے رہنما امیر تمیم بن حماد التھانی سے ملنے دوہا گیا۔ امیر نے بلنکن سے کہا
’ ہم نے حماس کو بتا دیا ہے کہ ان کے حملے کی کوئی بھی حمایت نہیں کرے گا۔‘
قطر کے امیر نے پھر بلنکن کی ملاقات اپنے وزیر اعظم عبدالرحمان التھانی سے کروائی۔
جب بلنکن نے ان سے سات اکتوبر کے حملے کا پس منظر جاننا چاہا تو انہوں نے کہا کہ اس حملے کے بارے میں حماس کے بہت سے لیڈروں کو خود بھی پتہ نہ تھا۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ حملہ صرف یحییٰ سنوار کا منصوبہ تھا جسے باقی رہنماؤں سے بھی خفیہ رکھا گیا تھا۔
یحییٰ سنوار فلسطینیوں کا ایسا سردار تھا جو بائیس برس اسرائیلی قید میں رہ چکا تھا اور دو ہزار گیارہ میں قیدیوں کے تبادلے میں رہا ہوا تھا۔
بلنکن نے قطر کے رہنماؤں کو صدر بائیڈن کا پیغام دیا کہ قیدیوں کی رہائی اور جنگ بندی کے بعد ہم نہیں چاہتے کہ قطر حماس سے کوئی رابطہ رکھے۔ قطر کے رہنماؤں نے بلنکن سے وعدہ کیا کہ وہ مستقبل میں حماس سے اپنے تعلقات منقطع کر دیں گے۔ بلنکن کو ان کی باتیں سن کر حیرانی ہوئی کیونکہ وہ نہیں سمجھتا تھا کہ وہ اس کا مشورہ اتنی جلد مان جائیں گے۔
امیر نے کہا
’حماس نے وعدہ کیا ہے کہ وہ چند قیدیوں کو رہا کر دیں گے لیکن اس کے لیے اسرائیل کو چند گھنٹوں کے لیے جنگ بندی کرنی ہوگی اور کچھ محفوظ راہداریاں کھولنی ہوں گی‘
بلنکن نے قطر کے امیر سے وعدہ کیا کہ وہ اسرائیل سے بات کر کے چند گھنٹوں کے لیے جنگ رکوا دے گا تا کہ قیدیوں کا تبادلہ ہو سکے۔
بلنکن نے امریکہ فون کر کے بائیڈن اور سالیوان کو بتایا کہ اس کے مذاکرات کامیاب ہو رہے ہیں اور حماس چند قیدیوں کو رہا کرنے کے لیے تیار ہو گیا ہے۔
قطر سے فارغ ہو کر بلنکن اپنے ساتھیوں کو لے کر سعودی عرب چلا گیا۔
چودہ اکتوبر کو بلنکن سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فرہان السعود سے ملا۔ شہزادہ فرہان نے بلنکن سے کہا
’بی بی نیتن یاہو کو پتہ ہونا چاہیے تھا کہ حماس کے زیادہ قریب نہ جائے کیونکہ حماس اخوان المسلمین کی طرح ہیں۔ ‘
بلنکن کو اندازہ ہو گیا کہ اردن قطر اور سعودی عرب کے رہنما حماس کے دلدادہ نہیں ہیں کیونکہ انہیں خطرہ ہے کہ حماس اسرائیل پر حملے کے بعد کہیں ان پر بھی حملہ نہ کر دے۔
بلنکن نے سعودی شہزادے سے کہا
’جنگ کے بعد کیا آپ غزہ کی تعمیر نو میں ہماری مدد کریں گے؟‘
سعودی شہزادے نے کہا
’نہیں ہم کوئی مدد نہیں کریں گے۔ غزہ کو اسرائیل نے تباہ و برباد کیا ہے۔ اسے ہی غزہ کی تعمیر نو کرنی ہوگی۔ اگر ہم نے تعمیر نو کی تو کیا خبر وہ دوبارہ اسے تباہ نہ کر دیں۔ ہم اسرائیلیوں پر کوئی اعتماد نہیں کر سکتے۔ ‘
سعودی عرب سے بلنکن متحدہ عرب عمارات گیا جہاں اس کی ملاقات شیخ زائد النحیان سے ہوئی۔ شیخ نے بلنکن سے کہا
’ہم حماس کو ختم کرنے میں اسرائیل کی مدد کر سکتے ہیں لیکن اس مدد سے پہلے اسرائیل کو ہمیں یہ یقین دہانی کروانی ہوگی کہ وہ معصوم فلسطینیوں کو قتل نہیں کریں گے۔ ‘
شیخ زائد النحیان نے بھی بلنکن کو بتایا کہ ماضی میں اسرائیل حماس کی مالی مدد کرتا رہا ہے اور اپنے دشمن کو پالتا رہا ہے۔ اسی لیے وہ اب پچھتا رہا ہے۔
شیخ نے بلنکن کو ابراہیمک فیمیلی کا وسیع المشرب گھر دکھایا جہاں مسلمانوں عیسائیوں اور یہودیوں کی باہمی دوستی کے لیے مسجد گرجا اور سناناگ بنائے گئے ہیں۔
بلنکن دوبارہ سعودی عرب گیا کیونکہ اس اثنا میں سعودی شہزادہ سلمان نے بلنکن سے ملنے کا وعدہ کر لیا تھا۔
شہزادہ سلمان نے بلنکن سے کہا
’ہم تو اسرائیل کے ساتھ امن کا معاہدہ کرنے کو تیار تھے جب غزہ کی جنگ شروع ہو گئی۔ اب جب تک اس جنگ کا فیصلہ نہیں ہو جاتا ہم اس معاہدے کی طرف نہیں لوٹ سکتے۔ ‘
مشرق وسطیٰ کے سفارتی دورے کا آخری پڑاؤ مصر تھا۔ مصر کے صدر سی سی نے بلنکن کا اپنے وزیر خارجہ سامع شکری اور انٹیلی جنس کے چیف عباس کمال سے تعارف کروایا۔ کمال نے بلنکن کو بتایا کہ اسرائیل حماس کو تباہ نہیں کر سکتا کیونکہ حماس نے غزہ میں زیر زمین سرنگوں کا ایک پیچیدہ جال بچھا رکھا ہے جہاں تک اسرائیلیوں کی رسائی بہت مشکل ہے۔
بلنکن اور امریکہ کے اصحاب بست و کشاد کو غزہ کی جنگ میں حماس کی زیر زمین سرنگوں کی اہمیت اور معنویت کا بڑی دیر سے اندازہ ہوا۔
۔ ۔
بلنکن کی دوبارہ اسرائیل میں آمد
۔ ۔ ۔
بلنکن دوبارہ اسرائیل گیا تو اس نے نیتن یاہو سے پوچھا کہ اسرائیلی حکام نے غزہ کے معصوم فلسطینی شہریوں کے کھانے پینے کی چیزوں کا کیا انتظام کیا ہے۔
اس سوال کا نیتن یاہو نے یہ جواب دیا
’حماس نازیوں کی طرح ہیں۔ جب تک ہم حماس کو پوری طرح تباہ و برباد نہیں کر دیتے تب تک ہم فلسطینیوں کی کوئی مدد نہیں کر سکتے۔ ہم انہیں خوراک اور پانی نہیں بھیج سکتے‘
بلنکن نے کہا
’تم جانتے ہو کہ ہزاروں معصوم شہری بھوک اور پیاس سے مر جائیں گے۔ میں عرب ممالک کے رہنماؤں سے مل کر آیا ہوں۔ وہ اسرائیل کی مدد کرنے کو تیار ہیں۔ وہ حماس کی تباہی میں تمہاری مدد کرنے کو تیار ہیں لیکن اس مدد کی صرف ایک شرط ہے کہ اسرائیل معصوم فلسطینی شہریوں کو قتل نہ کرے‘
نیتن یاہو نے بڑی دیدہ دلیری اور ہٹ دھرمی سے کہا
’ایسا کرنا ناممکن ہے‘
یہ جواب سن کر بلنکن نے برہم ہو کر کہا
’صدر بائیڈن اسرائیل کا دورہ کرنا چاہتا ہے لیکن وہ اس وقت تک دورہ نہیں کر سکتا جب تک فلسطینی شہریوں کی بھوک پیاس کا معقول انتظام نہ کیا جائے‘
بلنکن کی دھمکی سن کر نیتن یاہو بھی غصے میں آ گیا اور اس نے کہا
’صدر بائیڈن ہماری مدد کرنے آ رہا ہے یا فلسطینیوں کی مدد کرنے‘
بلنکن کو اندازہ ہو گیا کہ اس کی نیتن یاہو سے ملاقات بے معنی ہوتی جا رہی ہے اس لیے اس نے اجازت چاہی۔
نیتن یاہو سے غیر تسلی بخش ملاقات کے بعد بلنکن اسرائیلی وزیر دفاع یوو گالانٹ سے ملا۔ گالانٹ نے ہی چند روز پیشتر یہ حکم دیا تھا کہ غزہ کے لوگوں کے لیے خوراک پانی اور بجلی بند کر دی جائے کیونکہ وہ انسان نہیں حیوان ہیں۔
بلنکن نے گالانٹ سے پوچھا کہ یہ جو تم غزہ میں جنگ لڑ رہے ہو کیا تم نے سوچا ہے کہ اس جنگ کی کیا قیمت ہوگی۔
اس جنگ میں کتنے لوگ مریں گے؟
یہ جنگ کب تک جاری رہے گی؟
گالانٹ نے بڑی بے دردی سے کہا
’ ہمیں اپنے مقاصد حاصل کرنے ہیں۔ ان مقاصد کے لیے ہمیں چاہے کتنی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑے۔ اپنی طرف سے بھی اس ان کی طرف سے بھی‘
گالانٹ کی بات سن کر بلنکن پر جھرجھری طاری ہو گئی۔ اسے اندازہ ہو گیا کہ گالانٹ کو انسانی جانوں کے ضائع ہونے کا کوئی خیال نہیں کوئی فکر نہیں کوئی غم نہیں۔ بلنکن کو اندازہ ہو گیا کہ حماس کو تباہ کرنے کی کوشش میں گالانٹ ہزاروں معصوم فلسطینیوں کو قتل کرنے کے لیے تیار ہے۔
بلنکن نے نیتن یاہو سے دوسری ملاقات میں اپنا مشورہ دہرایا کہ معصوم شہریوں کو کھانے پینے کی چیزیں ملنی چاہییں تا کہ وہ بھوک پیاس سے مر نہ جائیں لیکن نیتن یاہو مصر رہا کہ غزہ میں نہ کھانا جائے گا نہ پانی۔
بلنکن کی نیتن یاہو کی ملاقات کے دوران سائرن بجنے شروع ہو گئے اور وہ زیر زمین محفوظ بنکر کی طرف بھاگے اس طرح یہ بے مقصد میٹنگ اختتام کو پہنچی۔
۔ ۔
صدر بائیڈن کی اسرائیل آمد
۔ ۔
واشنگٹن میں صدر بائیڈن پریشان تھا۔ اس نے اپنے مشیر بریٹ میکگرک سے کہا
’اسرائیلی حکام کی سوچ غلط اور تخریبی ہے۔ مجھے وہاں جانا چاہیے تا کہ ان کے رویے کو بدل سکوں‘
ابھی بائیڈن اسرائیل جانے کی تیاریاں ہی کر رہا تھا کہ خبر آئی کی غزہ کے ایک ہسپتال ہر حملہ ہوا ہے جس میں پانچ سو شہری مر گئے ہیں۔
سب جانتے تھے کہ یہ حملہ اسرائیل نے کیا ہے۔
اس حملے کے بعد بائیڈن اسرائیل کے دورے کو ملتوی کرنے کے بارے میں سوچنے لگا۔
بائیڈن نے نیتن یاہو کو فون کر کے پوچھا کہ اس نے ہسپتال پر حملے کر کے معصوم شہریوں کی ہلاکت کا کیوں حکم دیا ہے تو نیتن یاہو نے اس حملے کی ذمہ داری لینے سے بالکل انکار کر دیا۔ اس نے کہا کہ حماس نے خود یہ حملہ کیا ہے تا کہ ہمیں بدنام کیا جا سکے۔
پھر نیتن یاہو نے بائیڈن سے کہا کہ تم جلد از جلد اسرائیل آؤ کیونکہ ہم تمہارا شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔
بائیڈن نے کہا اچھا میں اپنے مشیروں سے مشورہ کرتا ہوں۔
بائیڈن کے مشیروں نے مشورہ دیا کہ وہ اپنا سفر ملتوی کر دے لیکن بائیڈن نے کہا میں اسرائیل جانا چاہتا ہوں تا کہ نیتن یاہو کو تباہی سے بچا سکوں اور اسے کچھ کڑوے سچ بتا سکوں۔
جب بائیڈن اسرائیل پہنچا تو پہلے نیتن یاہو نے اسے بڑھ کر گلے لگایا اور پھر اسے ایک پریس کانفرنس میں لے گیا جہاں اس نے کہا
صاحب صدر! اسرائیل عوام کے لیے یہ بہت اہم بات ہے کہ آپ ان کی مدد کے لیے امریکہ سے آئے ہیں۔ آپ ان کے دوست ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ حالت جنگ میں کوئی امریکی صدر اسرائیل آیا ہو۔ ’
بائیڈن نے نیتن یاہو کو جواب دیتے ہوئے کہا
’ میں ساری دنیا کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہم اسرائیل کے ساتھ ہیں۔ یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ حماس کے جنگجو سب فلسطینیوں کی نمائندگی نہیں کرتے۔ حماس نے فلسطینیوں کو بھی بہت نقصان پہنچایا ہے‘
پریس کانفرنس کے بعد نیتن یاہو بائیڈن بلنکن اور میکگرک کو زیر زمین ایک کانفرنس کے کمرے میں لے گیا جہاں ایک خصوصی میٹنگ کا اہتمام کیا گیا تھا۔
اس میٹنگ میں بائیڈن نے بی بی سے پوچھا
’تم حماس کو کیسے تباہ کرو گے؟
ہمیں اندازہ ہو گیا ہے کہ سات اکتوبر کے حماس کے حملے کے بعد تم غصے میں آ گئے ہو اور بدلہ لینا چاہتے ہو۔ میں تمہیں امریکہ کے گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے تجربے کی بنیاد پر کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ ہم نے بدلہ لینے کی کوشش میں افغانستان میں کچھ غلطیاں کیں ہم نہیں چاہتے کہ تم بھی وہی غلطیاں غزہ میں دہراؤ۔ ہم نہیں چاہتے کہ تم غصے میں دیوانے ہو جاؤ۔
بائیڈن نے نیتن یاہو سے وعدہ لیا کہ وہ مصر سے رافا کی راہداری کھولیں گے تا کہ خوراک کے ٹرک اندر آ سکیں اور بھوکے پیاسے فلسطینی کچھ کھا پی سکیں اور نسل کشی سے بچ سکیں۔
بائیڈن نے مصری صدر سی سی سے بھی وعدہ کیا کہ رافا بارڈر کھولنے کا یہ ہرگز مطلب نہیں نہ فلسطینی سرحد پار کر کے صحرائے سینا میں اپنے رفیوجی کیمپ لگائیں۔ سی سی جانتا تھا کہ اگر ایک دفعہ فلسطینی مصر میں آ گئے تو اسرائیل انہیں کبھی واپس نہیں جانے دے گا۔
بائیڈن کے اصرار پر رافا بارڈر کھول دیا گیا۔
بائیڈن کے دورے کے تین دن بعد اور جنگ شروع ہونے کے چودہ دن بعد کھانے کے بیس ٹرک پہلی بار بھوکے فلسطینیوں کے لیے غزہ میں داخل ہوئے تھے۔
۔ ۔
دبئی کی کانفرنس
۔ ۔
دو دسمبر دو ہزار تئیس کو دبئی کی کانفرنس میں امریکی نائب صدر کمالا ہیرس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو غزہ میں معصوم فلسطینیوں کے تحفظ کے لیے ضروری انتظامات کرنے چاہییں۔
بائیڈن اسرائیل پر کھل کر تنقید کرنے سے کتراتا تھا لیکن ہیرس بائیڈن سے زیادہ کھل کر تنقید کرتی تھی۔
ہیرس نے کانفرنس میں کہا
اسرائیل نے بہت زیادہ معصوم شہریوں کو قتل کر دیا ہے۔ غزہ سے جو تصویریں اور وڈیوز ہم تک پہنچ رہی ہیں وہ بہت گھناؤنی ہیں۔ انہیں دیکھ کر ہم سب کا دل دکھی ہو جاتا ہے۔
ہیرس جب نیتن یاہو سے ملی تو اس نے کہا
امریکہ تمہیں کبھی اجازت نہیں دے گا کہ تم فلسطینیوں کو ہمسائے ممالک میں رفیوجی بنا کر بھیجو۔ فلسطین ان کا اپنا گھر ہے۔ انہیں بے گھر نہ کرو۔ وہ اپنی زمین پر ہی رہیں گے۔
بلنکن اس کانفرنس میں جب عرب ممالک کے وزرا خارجہ سے ملا تو اس نے جنگ کے بعد کے امکانات پر تبادلہِ خیال کرنے کی کوشش کی۔ ان وزرا نے بلنکن کو بتایا کہ یہ اسرائیل کی خام خیالی ہے کہ وہ اپنی عسکری طاقت سے حماس کو تباہ و برباد کر دیں گے۔ ایسا ممکن نہیں کیونکہ حماس ایک نظریہ ہے ایک آدرش ہے ایک خواب ہے۔ ایسا خواب جسے بموں اور بندوقوں سے تباہ نہیں کیا جا سکتا۔
بلنکن نے جب مصری وزیر خارجہ سامع شکری اور اردن کے وزیر خارجہ ایمن سعدی سے کہا کہ ہمیں سنجیدگی سے سوچنا ہو گا کہ جنگ کے بعد غزہ پر کون حکمرانی کرے گا تو انہوں نے بلنکن سے کہا کہ ہم جنگ کے بعد کے حالات پر اس وقت تک گفتگو نہیں کر سکتے جب تک اس بات کو یقینی نہ بنایا جائے کہ فلسطینیوں کو ایک آزاد ریاست ملے گی۔
بلنکن نے جب مصری صدر سی سی سے غزہ کے مستقبل اور امن کی فوج کی تقرری کی بات کی تو سی سی نے کہا کہ میں اپنی فوج کو امن کی فوج بنا کر صرف اس شرط پر غزہ بھیج سکتا ہوں کہ اس فوج میں امریکی سپاہی بھی شامل ہوں۔
جب بلنکن نے سی سی کا مشورہ بائیڈن کے سامنے پیش کیا تو بائیڈن نے کہا ہم اپنے فوجی غزہ نہیں بھیج سکتے۔ اگر عرب ممالک اپنی امن کی فوج تیار کریں تو ہم مصر میں ایک دفتر کھول سکتے ہیں جہاں سے ہم اس امن کی فوج کی قیادت کر سکتے ہیں۔
جب بلنکن نے اسرائیل کی فوجی قیادت کو بتایا کہ حماس ایک ایسا نظریہ ہے جسے بموں اور بندوقوں سے تباہ نہیں کیا جا سکتا تو اسرائیلیوں کو بلنکن کی بات ایک آنکھ نہ بھائی۔
جب بلنکن نے اسرائیلی رہنماؤں سے ایک آزاد فلسطینی ریاست کی بات کی تو وہ سیخ پا ہو گئے اور نیتن یاہو کے مشیر ڈرمر نے غصے میں کہا
کیا تم سات اکتوبر کو فلسطینیوں کا یوم آزادی بنانا چاہتے ہو۔ کیا تم حماس کے دہشت گردوں کو یہودیوں پر ہولوکاسٹ کے بعد سب سے زیادہ مہلک حملے کا انعام دینا چاہتے ہو۔ ایسا نہیں ہو سکتا۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔
اس موقع پر بلنکن پر یہ منکشف ہو گیا کہ وہ اسرائیلی رہنماؤں سے کوئی حقیقت پسندانہ اور بامعنی مکالمہ نہیں کر سکتا۔
۔ ۔ ۔
چند تاثرات
بوب وڈورڈ کی کتاب میں اسرائیل اور فلسطین کی جنگ کی تفصیلات پڑھ کر میرے ذہن میں جو تاثرات ابھرے وہ حاضر خدمت ہیں
پہلا تاثر یہ تھا کہ اسرائیل نے جو دعویٰ کر رکھا تھا کہ وہ ساری دنیا کے یہودیوں کے لیے محفوظ ترین ملک ہے وہ دعویٰ غلط نکلا۔ حماس کے سات اکتوبر دو ہزار تئیس کے حملے نے اسرائیل کے دہائیوں کے غرور اور تکبر کو خاک میں ملا دیا۔
دوسرا تاثر یہ تھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بی بی نیتن یاہو ایک چالاک ہی نہیں ایک مکار سیاسی رہنما ہے جس نے جنگ کے شروع سے ہی امریکی حکام کو استعمال کرنے کی پوری پوری کوشش کی۔ اس نے جو بائیڈن سے کہا کہ وہ حزب اللہ سے کہے کہ وہ جنگ سے دور رہیں اور جیک سالیوان سے کہا کہ حزب اللہ کو بتاؤ کہ ان کا اسرائیل پر حملہ امریکہ پر حملہ سمجھا جائے گا۔
تیسرا تاثر یہ تھا کہ اسرائیلی فوج کے دباؤ میں آ کر نیتن یاہو حزب اللہ پر بڑے پیمانے پر حملہ کرنے کے لیے تیار تھا اور اس حملے کے لیے یہ جواز پیش کر رہا تھا کہ حزب اللہ نے ہم پر حملہ کر دیا ہے۔ وہ تو امریکی حکومت نے اسے بتایا کہ جنہیں وہ پیراگلائڈر کہہ رہا ہے وہ دراصل پرندے ہیں۔ اگر امریکہ اس کا جھوٹ نہ پکڑتا تو وہ حملہ کر کے مزید تباہی و بربادی پھیلاتا۔
چوتھا تاثر یہ تھا کہ حماس کے حملے کے بعد نیتن یاہو اور گالانٹ زخمی شیروں کی طرح اتنا غصے میں آ گئے اور اتنے منتقم مزاج ہو گئے کہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ غزہ کو خالی کروانے کے لیے سب فلسطینیوں کو رفیوجی بنا کر مصر بھیج دیں گے۔ جب مصر راضی نہ ہوا تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہزاروں فلسطینیوں کو بہیمانہ طریقے سے قتل کر دیا جائے۔ انہوں نے نسل کشی کے لیے بھوک اور پیاس کو جنگی ہتھیاروں کے طور پر استعمال کیا۔ وہ امریکہ کی پشت پناہی کی وجہ سے اپنے آپ کو ہر اخلاقی قدر اور انسانی حقوق کے تحفظ کی روایت سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ انہیں بالکل فکر نہیں ہے کہ وہ اخلاقی ’قانونی‘ سیاسی اور عسکری جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔
پانچواں تاثر یہ تھا کہ ٹونی بلنکن کے سب مذاکرات بے مقصد بے معنی اور
لاحاصل تھے۔ اگر بلنکن ایک باضمیر انسان ہوتا تو اپنی ناکامی دیکھ کر خود ہی اپنے عہدے سے مستعفی ہو جاتا۔
۔ ۔ ۔
دوست کا شکریہ میں اپنے عزیز دوست پرویز صلاح الدین کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے جنگ کے آغاز سے اب تک مجھے نہ صرف باخبر رکھا بلکہ یہ کتاب خریدنے ’پڑھنے اور پھر اس کا ترجمہ کرنے کا مشورہ بھی دیا۔ پچھلے چند ماہ میں میرے بہت سے دوست جنگ کی خبریں سن سن کر تھک چکے ہیں اور اپنی روزمرہ کی زندگی میں مصروف ہو گئے ہیں۔ بعض مصلحت کی وجہ سے خاموش بھی ہو گئے ہیں۔ جبکہ پرویز صلاح الدین آج تک مشرق وسطیٰ کے تلخ حقائق اور کڑوے سچ سے قطع تعلق نہیں ہوئے۔ وہ آج بھی جنگ کے بارے میں تواتر سے تبادلہ خیال کرتے ہیں اور بوب وڈورڈ جیسے نڈر صحافیوں کی طرح بے لاگ تبصرہ بھی کرتے ہیں۔ اسرائیل اور غزہ کی جنگ مجھے اور پرویز صلاح الدین کو اور بھی قریب لے آئی ہے۔ اس جنگ نے ہماری دوستی کو تقویت بخشی۔
۔ ۔
اگلی قسط۔ حماس کا سپہ سالار۔ یحییٰ سنوار


