صلیبیں اپنی اپنی (27)
”لیکن جو خداوند کا انتظار کرتے ہیں وہ نئی قوت پائیں گے ؛ وہ عقابوں کی مانند پرواز کریں گے، وہ دوڑیں گے اور تھکیں گے نہیں، وہ چلیں گے اور کمزور نہیں ہوں گے۔ “ یسعیاہ 40 : 31
سرجری سے ایک ہفتہ پہلے ڈاکٹر نور محمد نے نیلوفر اور کیتھرین سے ملاقات کی تاکہ اگر دونوں کے کچھ سوالات ہوں تو جواب دے سکیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ ممکن ہے کہ کینسر زدہ حصے کو نکالنے کے بعد کینسر کے کچھ خلیات باقی رہ جائیں جو آگے چل کر جسم کے دوسرے حصوں میں پھیل جائیں لہٰذا احتیاطا سرجری کے چار سے چھ ہفتے کے بعد جب زخم مکمل طور پر ٹھیک ہو جائے تو ریڈی ایشن تھیراپی کرانی چاہیے جس میں ریڈیاٗئی شعاؤں کے ذریعے اس مقام کو ایک طرح سے جلایا جاتا ہے تاکہ اگر وہاں کینسر کے کچھ خلیات باقی رہ گئے ہوں تو وہ بھی ختم ہوجائیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ نئی تکنیک ہے جو چند سال پہلے ہی شروع کی گئی ہے اور کافی موثر ہے۔
واپسی میں نیلوفر اور کیتھی کو کلینک کے باہر ہی خالی رکشہ مل گیا۔
” ابھی تک ڈاکٹر نور محمد نے یہ نہیں بتایا کہ میرے علاج پر کتنا خرچ آئے گا،“ نیلوفر نے کہا، ”مجھے فکر ہے کہ پیسوں کا بندوبست کیسے ہو گا۔“
”تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ شریف نے ڈاکٹر سے طے کر لیا ہے،“ کیتھی نے جواب دیا۔
”کیا مطلب؟ تم سمجھتی ہو کہ میں شریف بھائی پر یہ بوجھ ڈالوں گی؟“
”تو پھر فیملی کس لیے ہوتی ہے؟ اگر کل کلاں کو ہم پر ایسا وقت پڑے تو کیا تم مدد نہیں کرو گی؟“
”پھر بھی، مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم کہ کتنا خرچ آئے گا۔“
”یہ تمہارا مسئلہ نہیں ہے۔ شریف کی شاہد بھائی سے بھی بات ہو گئی ہے۔ وہ بھی کچھ پیسے بھیجنے کا بندوبست کر رہے ہیں۔“
”میں کیسے تم لوگوں کا شکریہ ادا کروں؟“ نیلوفر نے کچھ توقف کے بعد کہا۔
”شُکریے وُکریے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بس تم جلدی جلدی ٹھیک ہو جاؤ،“ کیتھی نے نیلوفر کا ہاتھ دباکر کہا۔
سرجری کے دن بچوں کے اسکول جانے کے بعد شریف اور کیتھرین نیلوفر کو لے کر کلینک پہنچ گئے۔ ہدایات کے مطابق نیلوفر نے پچھلی رات کو بارہ بجے کے بعد نہ کچھ کھایا اور نہ پیا۔ اسے سرجری کے لیے تیار کرنے کے لیے ایک کمرے میں لے جایا گیا جہاں ایک نرس اُس کا انتظار کر رہی تھی۔
”میرا نام نورین ہے،“ نرس نے مسکرا کر کہا اور کھڑی ہو گئی۔
”تھینک یو، سسٹر،“ نیلوفر نے جواب دیا۔
نورین نے اسے کپڑے اتار کر اسپتال کا گاؤن پہننے میں مدد دی اور ایک پلاسٹک کی تھیلی دے کر کہا کہ ہر قسم کا زیور، انگوٹھی، گھڑی، بالوں میں لگے ہوئے پِن وغیرہ اتار کر اُس تھیلی میں رکھ دے۔ نیلوفر نرس کی ہدایات پر اس طرح عمل کر رہی تھی جیسے سو رہی ہو۔
”نیلوفر بی بی، میں آپ کے ہاتھ میں آئی وی لگاؤں گی۔ آپ یہاں اسٹریچر پر لیٹ جائیں،“ نورین نے کہا۔
نیلوفر نے بغیر کچھ کہے تعمیل کی۔ وہ جذبات سے عاری تھی اور پورے عمل کو ایک تماش بین کی طرح دیکھ رہی تھی۔ نورین نے اس کا ایک ہاتھ پکڑا اور اس کی پشت تھپتھپا کر رگوں کو دیکھا۔ نیلوفر کی رگیں پہلے ہی کافی ابھری ہوئی تھیں مگر نرس نے اس کے بازو پر ایک ربڑ کا پٹھا کس دیا جس سے خون کا دباؤ بڑھنے کی بنا پر رگیں مزید ابھر آئیں۔ نرس نے اپنی دو انگلیوں سے اسے دوبارہ تھپتھپا کر ایک واضح اور مضبوط رگ کا انتخاب کیا اور اس پر الکحُل میں بھیگے ہوئے پیڈ کومَل کر جِلد کو جراثیم سے پاک کیا۔
”آپ کو معمولی چبھن محسوس ہوگی،“ نرس نے جِلد کو ذرا سا کھینچ کر ایک سوئی رگ میں داخل کردی۔ نیلوفر کے چہرے پر تکلیف کے آثار پیدا ہوئے اور وہ دانت بھینچ کر رہ گئی۔ سوئی کے اندر پلاسٹک کا ایک پتلا سا ٹیوب تھا۔ جب اس نے سوئی آہستہ سے باہر نکالی تو ٹیوب رگ میں ہی رہ گئی۔ ٹیوب کا جو سرا باہر تھا اس کے ساتھ ایک پلاسٹک کی نلکی جُڑی ہوئی تھی جس کے سرے پر ایک ڈاٹ تھی۔
”اب آپ کو جو دوائیں انجکشن کے ذریعے دینی ہوں گی وہ اسی ٹیوب سے دے دی جائیں گی اور بار بار انجکشن نہیں لگانا پڑے گا،“ نورین نے پلاسٹک کی ٹیوب پر کئی ٹیپ چپکا دیے تاکہ وہ اپنی جگہ سے نہ ہلے اور پلاسٹک کی نلی کو آئی وی کی بوتل کے ٹیوب کے ساتھ منسلک کر دیا۔
”اب ہم آپریشن تھیٹر چل رہے ہیں۔ آپ آرام سے تو ہیں نا؟“ نورین نے نیلوفر کا ہاتھ دباتے ہوئے کہا۔
”جی۔“
نورین اسٹریچر کو دھکیلتی ہوئی برآمدے سے گزری۔ آپریشن تھیٹر سامنے ہی تھا جس کا خودکار دروازہ کھل گیا۔ اندر داخل ہوتے ہی نیلوفر کو احساس ہوا کہ وہ ایک نئی دنیا میں داخل ہو گئی ہے۔ اگرچہ اُس کی نظریں چھت کی طرف تھیں مگر پھر بھی سر کو تھوڑا سا اٹھا کر وہاں کا ماحول دیکھ سکتی تھی۔ دو نرسوں نے اسے اسٹریچر سے آپریشن ٹیبل پر منتقل ہونے میں مدد دی۔
”آپ کو سردی تو نہیں لگ رہی؟“ ایک نرس نے اس کا ہاتھ دباکر پوچھا۔
”نہیں، میں ٹھیک ہوں،“ نیلوفر نے کہا۔
اگرچہ کمرے میں ہلکی سی خنکی تھی اور فضا میں کسی جراثیم کُش دوا کی میٹھی میٹھی سی بو بھی تھی، مگر آپریشن ٹیبل کے اوپر چھت سے لٹکتی ہوئی تیز روشنی کے لیمپ خنکی کو دور کر رہے تھے۔ نیلوفر اس ماحول سے مسحور ہو گئی تھی۔ پورے کمرے میں تیز، سفید روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ بے داغ سفید گاؤن، سرجیکل ماسک اور ہاتھوں میں پلاسٹک کے باریک دستانے پہنے نرسیں اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھیں۔ سسٹر ثمینہ آلات کی میز پر سرجری کے بلیڈ، چِمٹیاں، قینچیاں، اسپنج، سوئیوں کی ٹرے، اور دیگر ضروری اوزاروں کو ترتیب دے رہی تھی۔
وہ ایک سینئر نرس تھی جس کا کام آپریشن کے دوران سرجن کو آلات دینا تھا۔ اس نے سینکڑوں آپریشنوں میں سرجنوں کی مدد کی تھی اور اب اسے اتنا تجربہ ہو گیا تھا کہ اسے معلوم تھا کہ کب کس اوزار کی ضرورت ہوگی۔ ڈاکٹر نور محمد بغیر کچھ کہے اس کی طرف ہاتھ بڑھاتے اور وہ ہمیشہ انہیں صحیح اوزار دیتی۔ دوسری نرس نے نیلوفر کو مختلف مشینوں سے منسلک کرنا شروع کر دیا جن کا مقصد آپریشن کے دوران دل کی دھڑکن، خون میں آکسیجن کی سطح، خون کا دباؤ، جسمانی درجہ حرارت، سانس کی رفتار اور جسم میں مختلف سیّالوں کے توازن کی مستقل نگرانی کرنا تھا۔
”نیلوفر، میں ڈاکٹر نعیمہ خان ہوں، میں آپ کو سلانے کی دوا دوں گی،“ نیلوفر نے سر موڑ کر دیکھا تو ڈاکٹر سامنے ہی سفید گاؤن میں ملبوس، فیس ماسک پہنے کھڑی تھی، ”میں آپریشن کے دوران آپ کے ساتھ ہی رہوں گی جب تک آپریشن کے بعد آپ ہوش میں نہ آجائیں۔“
”شکریہ،“ نیلوفر نے دھیمی آواز میں کہا اور ڈاکٹر نعیمہ ایک نرس کو ہدایات دینے کے لیے مڑ گئی۔
آپریشن تھیٹر میں چار نرسیں موجود تھیں جن میں سے ایک ڈاکٹر نعیمہ کی مدد کے لیے موجود تھی اور باقی کا کام ڈاکٹر نور محمد کی مدد کرنا تھا۔ اِرد گِرد کی گہما گہمی میں نیلوفر کو قطعاً پتا نہیں چلا کہ کب اس کی آئی وی میں بے ہوشی کی دوا ڈالی گئی۔ بہر حال اس پر بے خبری طاری ہو گئی تھی۔ ایک نرس نے اُس کے سینے کو جراثیم کش محلول سے صاف کیا اور اس پر جراثیم سے پاک کپڑا ڈال دیا، صرف وہ حصہ کھلا رہنے دیا تھا جہاں سے آپریشن ہونا تھا۔
ڈاکٹر نور محمد نے گہرا سانس لے کر اپنے اسٹاف پر ایک نظر ڈالی اور بولے، ”اب ہم شروع کر رہے ہیں۔“ سسٹر ثمینہ نے ان کے ہاتھ میں سرجیکل بلیڈ دے دیا اور انہوں نے بسم اللہ پڑھ کر پہلا کٹ نہایت مہارت سے لگایا۔ آپریشن تھیٹر میں مکمل خاموشی تھی۔ صرف مشینوں کی بیپ بیپ اور اوزاروں کی ہلکی آواز سنائی دے رہی تھی۔ جیسے ہی خون نکلا، ایک نرس نے فوراً اسپنج سے صاف کیا۔ اس کے دوسرے ہاتھ میں قلم کی شکل کا ایک الیکٹروڈ تھا جو تار کے ذریعے ایک مشین سے منسلک تھا۔ جب اُس نے وہ الیکٹروڈ ان مقامات پر پھیرا جہاں سے خون رِس رہا تھا تو فوراً خون بند ہو گیا۔ سسٹر ثمینہ بڑی مستعدی سے ڈاکٹر نور محمد کو ضرورت کے مطابق اوزار فراہم کرتی رہی اور انہوں نے چھاتی کے گرد موجود تمام متاثرہ ٹشوز کو آہستہ آہستہ علیحدہ کر دیا۔
کئی گھنٹوں کی محنت کے بعد ، چھاتی کو مکمل طور پر نکال لیا گیا۔ یہ ایک جذباتی لمحہ تھا، کیونکہ نیلوفر کی نسوانیت کا ایک اہم حصہ اس سے جدا ہو رہا تھا۔ مگر سب جانتے تھے کہ یہ اس کی زندگی بچانے کے لیے ضروری تھا۔ ڈاکٹر نور محمد نے احتیاط سے باقی ٹشوز کو صاف کیا اور زخم کو جراثیم سے پاک کر کے ٹانکے لگانا شروع کیے۔ سسٹر ثمینہ نے ڈاکٹر کے اشارے پر بار بار اسپنج فراہم کیے اور سِلائی کے لیے دھاگے کی درست مقدار مہیا کی۔ سِلائی مکمل ہونے کے بعد نرس نے متاثرہ حصے پر صاف پٹی باندھی اور اسے محفوظ طریقے سے ٹیپ کر دیا۔
تقریباً تین گھنٹے کی محنت کے بعد ، ڈاکٹر نور محمد نے سرجری مکمل ہونے کا اعلان کیا۔ ”یہ مرحلہ مکمل ہو گیا ہے۔ اب ہم نیلوفر کو ریکوری روم میں لے جا سکتے ہیں۔“
آپریشن تھیٹر کی گہما گہمی ختم ہو چکی تھی، مگر اسٹاف کے چہرے پر ایک اطمینان کی جھلک تھی۔ نیلوفر کے جسم سے کینسر کو نکال دیا گیا تھا، اور سب کو امید تھی کہ یہ سرجری اس کی زندگی کی ایک نئی شروعات ہوگی۔
باہر مہمانوں کے لاؤنج میں شریف اور کیتھی بے چینی سے آپریشن ختم ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔ اتنے میں دروازہ کھلا اور ڈاکٹر نور محمد داخل ہوئے۔ شریف اور کیتھی کھڑے ہو گئے۔
” آپریشن خیریت سے ہو گیا،“ ڈاکٹر نور محمد نے مسکراتے ہوئے کہا۔
”خدا کا شکر ہے،“ کیتھی نے جواب دیا۔
”بس، جب تک اس کی ریڈی ایشن تھیراپی مکمل نہ ہو جائے، تب تک دعا کرتے رہیں کہ کینسر جسم کے دیگر حصوں میں نہ پھیلا ہو۔“
”دعا کے سوا اور کر بھی کیا سکتے ہیں؟“ شریف نے کہا۔
”ڈاکٹر صاحب، نیلوفر کو کب تک چھٹی مل جائے گی؟“ کیتھی نے پوچھا۔
”اگر کوئی پیچیدگی پیدا نہ ہو تو کل پرسوں تک لے جائیں،“ ڈاکٹر نور محمد نے جواب دیا۔
”شکریہ۔“
ڈاکٹر نور محمد شریف اور کیتھی کو خدا حافظ کہہ کر کمرے سے نکل گئے۔
نوٹ: آپریشن کی منظر نگاری کے لیے مصنوعی ذہانت سے مدد لی گئی۔

