پاکستان میں ڈپریشن کی بگڑتی صورتحال!


ملک میں ہونے والی زیادہ تر خودکشیوں کے پیچھے ایک بہت بڑی وجہ ”ڈپریشن“ ہے۔ مولانا طارق جمیل کے بیٹے عاصم جمیل نے خود کو گولی اس لئے ماری کہ ڈپریشن اب ان کے لئے ناقابل برداشت زخم بن چکا تھا۔ 14 مئی کو دی نیوز میں شائع ہونے والے ایک آرٹیکل میں اس بات کا انکشاف کیا گیا کہ پاکستان میں ہر ہر روز 50۔ 55 افراد خودکشی کرتے ہیں۔ اسی آرٹیکل میں اس بات کا بھی انکشاف کیا گیا کہ 2019 میں خودکشیوں کے 19331 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں 14771 میل اور 4560 فی میل تھیں اور خودکشی کر نے والوں میں 70 ٪ تعداد 15۔29 سال کے نوجوانوں کی تھی۔ خودکشی کا نفسیاتی صحت کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ ان لوگوں کی خود سوزی کے تہہ میں بھی نفسیاتی صدموں کا نہ ختم ہونے والا درد تھا۔ لاورل کے ہملٹن نے کہا تھا ”جسم پر کچھ گھاؤ ( ڈپریشن، اینگزائٹی) ایسے گہرے ہوتے ہیں کہ نظر نہیں آتے تاہم ان زخموں کی تکلیف ان زخموں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے جو خون نکلنے پر ہوتی ہے“ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ ڈپریشن پوری دنیا میں وبا کی شکل اختیار کر چکا ہے اور اب آپ یقین کریں یا نہ کریں لیکن پاکستان میں بسنے والی نوجوان نسل اور یہاں کی عورتیں خاص طور پر ڈپریشن کی وبا کا شکار ہیں۔

پاکستان کی آبادی کا 6 ٪ حصہ ڈپریشن اور موڈ ڈس آرڈرز کا شکار ہے۔ 2017 میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ پاکستان میں 4 کروڑ افراد کسی نہ کسی نفسیاتی مسئلے کا شکار ہیں اور ڈپریشن اور تمام مسائل میں سر فہرست ہے۔ تین بڑے شہروں کراچی، کوئٹہ اور لاہور میں ہونے والے سروے بھی ملک میں ڈپریشن اور اینگزائیٹی ڈس آرڈرز کی بگڑتی صورتحال کی جانب واضح اشارے کرتے نظر آتے ہیں۔ کراچی میں 29 ٪، کوئٹہ میں 24 ٪ اور لاہور شہر میں سب زیادہ 46.8 افراد ڈپریشن میں مبتلا ہیں۔

اگر ہم تینوں شہروں کی کل آبادی کو ملا کر اوسط نکالیں تو یہ 46 ٪ بنتی ہے جو کہ بہرحال خوفناک ہے۔ پورے ملک میں لوگوں کے رویوں میں پیدا ہوتا عدم استحکام، نوجوانوں میں بڑھتی تنہائی، مایوسی اور بے چینی کی کیفیات، لوگوں کی آپسی تعلقات میں سرد مہری اور رشتوں کی بگڑتی صورتحال اسی ذہنی اور نفسیاتی خلفشار کا نتیجہ ہے۔ پاکستان میں خواتین اور 18۔ 30 سال کی عمر کے درمیان کی آبادی ڈپریشن سے سب زیادہ متاثر ہو رہی ہے۔

ڈولتی معیشت اور مخصوص افکار کے گرد ٹکا معاشرہ لوگوں کی ذہنی صحت اور فکری صلاحیتوں کو زک پہنچا رہا ہے۔ کیمبرج یونیورسٹی کے توسط سے ہونے والی چند تحقیقات میں پاکستان میں 1990 سے لے کر 2019 تک ملک میں نفسیاتی مسائل کی صورتحال کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی تھی۔ ان تحقیقات سے پتا چلا کہ پچھلی تین دہائیوں میں ملک میں اینگزائٹی اور ڈپریشن میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح ملک پھر میں سکزوفرینیا، بائی پولر اور انٹلیکچوئل ڈس ابیلیٹی ڈس آرڈرز کے مریضوں کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے۔

ملک میں نفسیاتی مسائل اس حد تک تشویشناک صورتحال اختیار کر چکے ہیں کہ اگر ہم نے ان پر خصوصی توجہ نہ دی تو عین ممکن ہے آنے والے چند سالوں میں ہم ایک ’ابنارمل معاشرہ‘ قرار پائیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر ہمیں آج بھی نفسیاتی پیمانوں کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو ہم غیر صحتمند معاشرہ ہی قرار پائیں گے۔ پارا چنار میں وحشت اور بربریت کے نظارے، سماج میں بڑھتی نا امیدی، معاشی سانحے، سیاسی دھڑے بازیاں، مذہبی منافرت اور تشدد کا بڑھتا رجحان، آخر ہمارے سماج کا ایسا کون سا روشن پہلو ہے جو کالک سے پاک ہو؟

پاکستان کی عورتیں اور پاکستان کے نوجوان سب سے زیادہ ڈپریشن سے متاثر ہو رہے ہیں۔ والدین سمجھتے ہیں کہ بجے باغی اور بدتمیز ہو رہے ہیں۔ بزرگوں کو لگتا ہے کہ آج کی نسل تو بگڑتی جا رہی ہے تاہم انھیں کون سمجھائے کہ یہ لوگ ڈپریشن اور اینگزائٹی کے روگ کا شکار ہیں۔ ہمارے بزرگوں نے موجودہ نسل کے لئے آخر ایسے کون سے اسباب چھوڑے ہیں کہ یہ اپنی نفسیاتی تسکین کا انتظام کرسکیں؟ ان داناؤں نے ہم پر یہ مہربانی ضرور کی کہ ڈولتی جمہوریت، ڈوبتی اور سسکتی معیشت اور آسیبوں سے گھرا یہ ملک نوجوانوں پر تھوپ دیا ہے۔

جہاں ہر امید مرجھائی مرجھائی اور آخری سانسوں پر اٹکی ہوئی ہے۔ ملک کی عورتیں جنھیں کبھی اپنی فطری صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا موقع ہی نہیں مل سکا۔ جن کی شخصیت تقدس کے فریب میں چار دیواری کی زینت بن کر زنگ کھاتی رہی وہ آخر ڈپریشن کا شکار نہ ہوں تو اور کیا ہوں؟ اور اب ان عورتوں کا ڈپریشن نسلوں کا مستقبل بن گیا ہے۔

ذہنی بیماریوں کو لے کر ہمارا رویہ ہمیشہ سے نان سیریس رہا ہے۔ ہمارے علماء ہوں، دانشور ہو یا میڈیا کے نمائندگان ہوں، ان میں سے کوئی بھی نفسیاتی مسائل کی اہمیت پر بات نہیں کرتا۔ دوسری جانب ہمارے پڑوس میں ہی لوگ کھل کر ذہنی بیماریوں پر بات کرنے لگے ہیں۔ چند دن پہلے عامر خان نے نیٹ فلیکس کے ساتھ ذہنی بیماریوں اور ذہنی صحت کی اہمیت پر اپنا انٹرویو ریکارڈ کروایا۔ دپیکا پڈوکون ہو، ویرات کوہلی ہوں، کپل شرما ہوں، یہ تمام لوگ ان مسائل پر بات کرتے ہیں تاکہ لوگ اپنی نفسیاتی صحت پر توجہ دے سکیں جبکہ یہاں چند ماہ قبل اداکارہ ریشم کا فرمانا تھا کہ ڈپریشن جیسی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی۔

یہ صرف ہمارے منہ کی باتیں ہیں۔ اگر سچ یہ ہے تو پھر یہ بات مولانا طارق جمیل کو بھی عاصم جمیل کے حوالے سے دہرانی چاہیے تھی۔ ہمارے یہاں ہی چند صاحبان ٹی وی پر بیٹھ کر ڈپریشن سے نجات کے وظائف بھی تقسیم کرتے ہیں۔ عرض کرنے کا مقصد یہ کہ ڈپریشن ایک حقیقی نفسیاتی مسئلہ ہے اور یہ اس قدر خوفناک ہے کہ آپ کو اندر سے توڑ کر رکھ دیتا ہے اور اگر بروقت ڈپریشن کا علاج نہ کروایا جائے عین ممکن ہے اس کا نتیجہ سوشانت سنگھ راجپوت یا عاصم جمیل کی صورت میں نکلے۔ یہ مت بھولیں کہ ملک میں ڈپریشن سے متاثر ہونے والوں میں سب سے زیادہ تعداد آج کے نوجوان بچوں کی ہے۔ یہ بچے آپ کے اور ہمارے بچے ہیں۔

آخر میں ڈپریشن کی وجہ سے مجبور ہو کر خودکشی کرنے والی ورجینیا وولف کے آخری الفاظ:

”مجھے پورا یقین ہے کہ مجھ پر پاگل پن کا ایک بار پھر دورہ پڑ رہا ہے۔ میں ایسے اذیت ناک دور سے ایک دفعہ پھر نہیں گزرنا چاہتی۔ میں اس حقیقت سے باخبر ہوں کہ اس دفعہ میں اس دورے سے صحتیاب نہیں ہوں گی۔ مجھے پھر غیبی آوازیں آنی شروع ہو گئی ہیں۔ اس لیے میں وہ قدم اٹھانے جا رہی ہوں جو میری نگاہ میں بہترین قدم ہے لیکن رخصت ہونے سے پہلے میں تمہیں بتانا چاہتی ہوں کہ تم نے مجھے زندگی کی بہترین خوشیاں دی ہیں۔ میری اس بیماری سے پہلے ہم کتنے خوش تھے۔

میں اب اس بیماری سے مزید نہیں لڑ سکتی۔ میری وجہ سے تمہاری زندگی بھی دردناک ہو رہی ہے۔ میں چلی جاؤں گی تو تم کام کرنے کے قابل ہو سکو گے۔ مجھے یقین ہے کہ پھر تم ضرور کام کرو گے۔ میں یہ خط بھی اچھے طریقے سے نہ لکھ پا رہی ہوں نہ پڑھ پا رہی ہوں۔ میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ میری زندگی میں خوشیاں صرف تمہاری وجہ سے تھیں۔ تم نے میرے ساتھ کتنے صبر اور خوش دلی کا مظاہرہ کیا ہے۔ میں اس کا اعتراف کرنا چاہتی ہوں۔ اگر کوئی مجھے یہ قدم اٹھانے سے روک سکتا تھا تو وہ تم تھے۔ اب میں نے ہر چیز میں اعتماد اور ایمان کھو دیا ہے سوائے تمہاری محبت اور نیک دلی کے۔ میں تمہاری زندگی کو مزید خراب نہیں کرنا چاہتی۔ ہم دونوں سے زیادہ اس دنیا میں کوئی اور جوڑا خوش نہیں رہا ہو گا۔“

Facebook Comments HS