سینتیس ہزار تنخواہ کا پوسٹ مارٹم
پنجاب حکومت کی جانب سے مزدور کی کم سے کم ماہانہ اجرت 37000 کرنے کا نوٹیفکیشن جاری ہوا تھا نوٹیفکیشن کے مطابق مزدور کی یومیہ اجرت 1423 ہوگی۔ حکومت کی جانب سے تو مزدور کے پورے مہینے کی محنت کے عوض 37000 تنخواہ دینے کا اعلان کر دیا گیا تھا اب اس حکومتی فیصلے پر مالکان عمل درآمد کرتے ہوئے ورکرز کو تنخواہ دے بھی رہے ہیں یا نہیں ہم اس بات پر بحث نہیں کریں گے ہم 37000 تنخواہ کا حساب لگانے کی کوشش کریں گے کہ آیا کیا اس مہنگائی کے دور میں 37000 تنخواہ ایک خاندان کے پورے مہینے کا خرچ چلانے کے لئے کافی ہے یا نہیں۔
اس حساب کتاب میں ہم کوشش یہ ہی کریں گے کہ کم سے کم اخراجات فہرست میں شامل کیے جائیں تا کہ کسی نہ کسی طرح ہم 37000 پورے مہینے کا خرچ اٹھانے کے لئے ایک مناسب رقم قرار دے سکیں۔ کیونکہ اگر حکومت نے اس مہنگائی کے دور میں 37000 تنخواہ مقرر کی ہے تو کچھ سوچ سمجھ کر ہی کی ہوگی نا۔
سب سے پہلے جس مزدور کی تنخواہ ہے اس کے اخراجات سے ہی شروع کر لیتے ہیں۔ پورا مہینہ کام کرنے کے بعد تنخواہ ملتی ہے اور پورا مہینہ فیکٹری یا دفتر آنے جانے کے لئے کرایہ بھی لگتا ہے اور اگر غریب مزدور کی قسطوں پر لی ہوئی موٹر سائیکل چوری نہیں ہوئی تو وہ موٹرسائیکل پر دفتر جائے گا پیٹرول ویسے تو تقریباً 250 روپے لیٹر ہے لیکن ہم حکومت کے 37000 والے فیصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے فرض کر لیتے ہیں کہ مزدور کی فیکٹری نزدیک ہی ہے اور آنے جانے میں ایک لیٹر پیٹرول ہی صرف ہوتا ہے اتوار کی چھٹی نکال دی جائے تو 6500 بنتے ہیں ایک مہینے دفتر جانے آنے کا خرچ۔ ظاہر ہے دفتر جائیں گے تو ہی تنخواہ ملے گی نہ۔ اب جیسے موٹر سائیکل 250 روپے لیٹر والے پیٹرول کے بغیر نہیں چلتی تو پھر اس مزدور کو بھی چلنے پھرنے کام کرنے کے لئے خوراک کی ضرورت ہے۔ اس حساب میں ہم اتوار کی چھٹی نہیں کریں گے کیونکہ بدقسمتی سے مزدور کو اتوار کے روز بھی کھانا ہوتا ہے اب اگر 30 دن ایک مزدور 200 روپے کا بھی کھانا کھائے تو مہینے کا 6000 بنتا ہے مطلب 37000 میں سے 12500 نکل گئے باقی بچے 24500۔
ویسے تو وطن عزیز اچھی خاصی آبادی والا ملک ہے لیکن ہم فرض کرتے ہیں کہ اس مزدور کا ایک ہی بچہ ہے۔ اگر ایک بچہ چھوٹا ہے اس کے مہینے کے دودھ اور پیمپرز کے خرچ کا حساب لگائیں تو اگر ایک دن میں بچہ 100 روپے کا بھی دودھ پیتا ہے تو 3000 مہینے کا اور پیمپرز کا مہینے کا خرچ 1500 لگا لیں تو ہمارے 24500 میں سے اب ہمارے پاس بچتے ہیں 20000 روپے صرف۔ ویسے یہ بات واضح کرتا چلوں نہ ہی دودھ اتنا سستا ہے کہ 100 روپے کے دودھ سے بچہ پالا جا سکے اور آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے سوچیں تو ایک بچہ ہونا بھی بات ماننے میں نہیں آتی لیکن جیسے حکومت عوام کو ریلیف دیتی ہے ہم بھی اپنے حساب میں حکومت کو ہر ممکن ریلیف دینے کی کوشش کریں گے۔
روزانہ گھر روکھا سوکھا کھانا بنانے میں اگر 300 روپے بھی خرچ ہوتے ہیں تو 9000 روزانہ کے کھانے پر گیا۔ باقی بچ گیا 11000۔
ایک ہزار موبائل کے خرچے میں ڈال دیتے ہیں یہاں انٹرنیٹ کی بات نہیں کرتے ایک مزدور کا کیا تعلق ہے انٹرنیٹ چلانے سے وہ اور بات ہے آج کل ہر انسان آپ کو سوشل میڈیا استعمال کرتا دکھائی دے گا مگر فرض کر لیں کے 1000 روپے بیلنس یا پیکج لگانے میں ایک مہینے میں ایک عام انسان استعمال کر لیتا ہے تاکہ اپنے عزیزوں اور پیاروں کی خیریت دریافت کی جا سکے۔
باقی بچے 10000 میں سے اگر بجلی اور گیس کے بل دونوں ملا کر 5000 بلوں کے حصے میں ڈال دیے جائیں تو باقی بچ جائیں کے 5000۔ آپ یہ نہ سمجھیں کے تمام حساب کتاب ہو گیا اور ابھی بھی 5000 بچ گئے۔ ارے ابھی تو یہ شروعات ہے اگر انسان کا کرایہ کا مکان ہو تو کیا آج کے دور میں کوئی اسے ان 5000 میں پورا مہینہ رہنے کے لئے رہائش دے گا؟ اگر 37000 تنخواہ لینے والے مزدور کے والدین حیات ہیں اور جیسے آج کل ہر دوسرا شخص کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا ہے اگر اس کے والدین بھی بیمار ہیں تو کیا تو ان کی ادویات کے اخراجات ان 5000 میں پورے کر لے گا۔ مہینے بھر میں اور بھی بہت سے اخراجات ہوتے رہتے ہیں ایک عام آدمی وہ سب کیسے پورے کرے گا؟ اگر بچے بڑے ہیں ان کے سکول کی فیس اور باقی کے اخراجات کیسے پورے ہوں گے؟ کسی عزیز رشتہ دار وغیرہ کے ہاں کسی خوشی غمی میں شامل ہونے جانا پڑ سکتا ہے۔ مزدور خود بھی بیمار پڑ سکتا ہے اگر خود بیمار ہو گیا اور دو چار دن کام پر نہیں گیا اور 37 ہزار میں 3 سے 4 ہزار چھٹیوں کی مد میں کٹوتی ہو جائے گی
اس کے علاوہ سو طرح کے اور اخراجات ہیں لیکن حکومت نے تو 37000 تنخواہ کر کے اپنا فرض پورا کر دیا ہے باقی اب عوام کو چاہیے یا تو اپنے اخراجات کم کر لے بیمار ہونا چھوڑ دے عزیز و اقارب سے میل جول کم کردے کھانا پینا کم کردے یا پھر حکومت مہنگائی میں کمی کرے اور اگر مہنگائی کم نہیں ہو سکتی تو کم سے کم مزدور کی تنخواہ اتنی ضرور کردی جائے جس سے وہ باآسانی اپنے اور اپنے خاندان کے اخراجات برداشت کر سکے۔


