ظالمو! نہتے عوام پر گولی چلانا کہاں کا انصاف ہے؟
یاد رہے کہ نہتے عوام پر گولی چلانا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے جو نہ صرف انسانی حقوق کی پامالی ہے بلکہ اس کے دور رس منفی اثرات بھی ہوتے ہیں۔ ایسے واقعات سے معاشرے میں عدم اعتماد بڑھتا ہے، ریاست اور عوام کے درمیان گہرا خلیج پیدا ہوتا ہے اور ملک میں مزید تشدد اور افراتفری پھیل جاتی ہے۔ 24 نومبر کو تحریک انصاف کی جماعت نے اپنے جمہوری حق کا استعمال کیا، اس جماعت کے با اثر افراد نے اسلام آباد کی طرف اپنے لیڈر عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرنے کی غرض سے ریلی نکالی، جس میں عوام کے جم غفیر نے شرکت کی۔ بے شک عوامی شرکت دیدنی تھی۔ پاکستان کی تاریخ میں اس طرح کی جمعیت شاید دیکھنے کو ملی ہو۔ اس عوامی سمندر میں سارے لوگ نہتے تھے۔ اس کے باوجود طاقتور طاقتوں کے ہاتھوں ریلی میں موجود عوام کو ایسے مظالم کا سامنا پڑا جس کی توقع کسی کو بھی نہیں تھی۔
سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے طاقتور ادارے عمران خان کی جماعت سے اس قدر خوفزدہ کیوں رہتے ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ تحریک انصاف پاکستان کی سب سے بڑی عوامی مقبول سیاسی جماعت ہے۔ اس کے لیڈر نے نہ صرف پاکستان کے سیاسی منظرنامے کو بدل دیا، بلکہ عوام کے سامنے عرصہ دراز سے چلی آنے والی موروثی سیاست کے علم برداروں کی شیطنت، قومی خزانے لوٹنے والے چوروں اور پاکستانی قوم کو کنگال کرنے میں ان کے ادا کیے ہوئے سیاہ کرداروں سے بھی پردہ اٹھایا نیز زرداری اور نواز شریف کی باری باری سیاست میں انٹری مار کر کی جانے والی عیاشیوں سے قوم کو آگاہ کیا۔ یوں یہ جماعت طاقتور اداروں اور سیاسی مافیا کے لئے قومی خزانہ لوٹنے کے راستے کا کانٹا ثابت ہوئی۔
2022 میں عمران خان کی حکومت کا خاتمہ اور بعد ازاں تحریک انصاف کے رہنماؤں کے خلاف وسیع پیمانے پر کی جانے والی کارروائیاں اور سختیاں ان باتوں کی عکاسی کرتی ہیں کہ یہ پارٹی، پیپلز پارٹی اور نواز جماعت کی سیاست کے لئے موت کا کنواں ثابت ہو چکی ہے۔ جب عمران خان نے سیاست میں قدم رکھا تو وہ ایک نئی تبدیلی کے علم بردار بن کر سامنے آئے تھے۔ ان کی کوشش یہ تھی کہ پاکستان میں ایک ایسی حکومت قائم کی جائے جو کرپشن سے پاک ہو، عوامی فلاح و بہبود کی طرف توجہ دے اور مافیاز کے خلاف کھڑی ہو۔ ان کی یہ جدوجہد اور بیانیہ طاقتور حلقوں کے لیے خطرہ بن گیا۔ عوام میں عمران خان کی بڑھتی مقبولیت اور سیاسی مافیا حلقوں کے خلاف تحریک انصاف کی اپنائے جانے والی سخت پالیسیز سے خوفزدہ ہو کر پاکستان کی طاقتور جماعتیں عمران خلاف اور ان کی جماعت کے مقابلے میں متحد ہوئیں جن میں سرفہرست بشمول سیاسی جماعتوں کے دیگر ادارے شامل ہیں۔
عمران خان کی حکومت کا خاتمہ 2022 ء میں عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے ہوا، جس کے بعد ملک میں سیاسی کشمکش اور بحران شدت اختیار کر گیا۔ تحریک انصاف نے اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھی۔ 24 نومبر 2024 ء کو ہونے والی ریلی میں ایک بار پھر یہ ثابت ہوا کہ پاکستان کی قوم صرف عمران خان کو ہی اپنا لیڈر تسلیم کرتی ہے۔ پوری دنیا نے دیکھ لیا کہ اس ریلی میں پاکستانی عوام کی شرکت حسب سابق تھی۔ بدون تردید ریلی میں موجود عوام کے سمندر کو دیکھ کر طاقتور جماعتوں پر خوف کا شدید لرزہ طاری ہوا، ان کی آنکھوں کے سامنے بنگلہ دیش کا منظر نمودار ہوا، وہ اپنے حواس کھو بیٹھے۔ نہتے شہریوں پر طاقت کا استعمال ایک جمہوری معاشرے میں برداشت کے قابل نہیں ہوتا۔ عالمی سطح پر بھی اس نے پاکستان کی ساکھ کو متاثر کیا اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ سیاسی جماعتوں کے علاوہ عوام نے بھی اس واقعے کی مذمت کی۔ سوشل میڈیا نے اس واقعے کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ پاکستانی میڈیا اس واقعے کی تفصیلات کو عوام کے سامنے لانے سے ابھی تک کترا رہا ہے۔ پاکستان میں جمہوریت اور قانون کی بالادستی کا سوال ہمیشہ سے اہم رہا ہے۔


