ہمدرد بنیں، انسانیت کو فروغ دیں


آج کے دور میں انسانی جان کی قدر، جو کبھی سب سے بڑی اہمیت رکھتی تھی، جیسے قصہ پارینہ بن چکی ہے روزانہ خبروں میں قتل و غارت، لوٹ مار، اور دہشت گردی کے واقعات دل دہلا دیتے ہیں بازار جانا ہو یا دفتر، ہر لمحہ یہ خوف دل میں بسا رہتا ہے کہ کہیں کچھ انہونا نہ ہو جائے کوئی اچانک گلی کے موڑ سے آ کر لوٹ نہ لے یا کسی خودکش حملے کا شکار نہ ہو جائیں یہ خوف اور بے یقینی آج ہماری زندگیوں کا حصہ بن چکی ہے، اور ہم نے اسے معمول سمجھ کر قبول کر لیا ہے جب ایک مرد گھر سے نکلتا ہے تو پیچھے ماں، بیوی اور بیٹی کی نظریں دروازے پر ہی جمی رہتی ہیں۔

ان کے دل میں بس یہی دعا ہوتی ہے کہ وہ خیریت سے واپس لوٹ آئے۔ اسلام نے انسانی جان کی حرمت کو بہت اہمیت دی ہے قرآن پاک میں ارشاد ہے : ”جس نے ایک جان بچائی، گویا اس نے پوری انسانیت کو بچا لیا۔“ یہ تعلیم ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ زندگی اللہ کی دی ہوئی سب سے بڑی نعمت ہے اور اس کی حفاظت ہمارا فرض ہے۔ لیکن آج ہماری زندگیوں سے یہ سبق کہیں کھو چکا ہے لوگ ذاتی مفادات، غصے، اور نفرت کے تحت نہ صرف دوسروں کی زندگیوں سے کھیلتے ہیں بلکہ اپنی آخرت بھی تباہ کر رہے ہیں۔

بچپن کے وہ دن یاد آتے ہیں جب ہماری مائیں ہمیں چھوٹے جانداروں کو نقصان پہنچانے سے سختی سے روکتی تھیں اگر کبھی غلطی سے کسی چڑیا کو پتھر مار بیٹھتے اور وہ زمین پر تڑپنے لگتی تو دل میں ایک خوف سا بیٹھ جاتا ماں فوراً ہمیں ڈانٹ کر سمجھاتی، ”بیٹا، یہ بھی اللہ کی مخلوق ہے، اس کا بھی درد محسوس کرو۔“ شرمندگی کے مارے ہم دونوں ہاتھوں کی مٹھی بنا کر اس چڑیا پر زور زور سے پھونک مارتے، جیسے اس کے زخم بھرنے کی کوشش کر رہے ہوں۔

حیرت کی بات یہ تھی کہ اکثر وہ چڑیا دوبارہ اڑ جاتی، اور ہم خوش ہو جاتے کہ شاید ہماری ”ڈاکٹری“ کام آ گئی۔ آج جب معاشرے میں بے حسی اور ظلم کے مناظر دیکھتے ہیں تو دل سوچتا ہے کیا ان قاتلوں کی ماؤں نے انہیں یہ نہیں سکھایا؟ کیا انہیں یہ احساس نہیں دلایا کہ زندگی کی قیمت کیا ہے؟ یہ وقت ہے کہ ہم اپنے رویوں کو بدلیں اور اپنی اصلاح کا آغاز کریں۔ ہمیں اپنے گھروں سے وہی تربیت دینی ہوگی جو کبھی ہماری مائیں دیا کرتی تھیں اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہو گا کہ ہر جان کی قدر کریں، چاہے وہ انسان ہو یا جانور۔

انہیں یہ سمجھائیں کہ دوسروں کو تکلیف دینے سے بڑی کوئی بدترین عادت نہیں ہو سکتی یہ سبق صرف نصیحتوں سے نہیں بلکہ عملی نمونہ بن کر دیا جا سکتا ہے اگر ہم خود دوسروں کا احترام کریں گے دوسروں کی مدد کریں گے اور ان کے دکھ کو سمجھیں گے تو بچے بھی وہی سیکھیں گے۔ ہم سب کو اپنی ذمہ داری کو سمجھنا ہو گا اپنی نفرت، غصے، اور تشدد کو ختم کرنے کے لیے اپنے دلوں کو صاف کرنا ہو گا۔ اپنے اردگرد کے لوگوں کی مدد کریں، ان کے دکھ درد میں شریک ہوں، اور ان کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔

یاد رکھیں، ایک چھوٹا سا عمل کسی کی زندگی بدل سکتا ہے اگر آج ہم نے اپنی روش نہ بدلی تو آنے والی نسلیں ایک ایسے معاشرے میں پروان چڑھیں گی جہاں انسانیت کا مفہوم محض ایک قصہ بن جائے گا، اور نفرت، تشدد اور بے حسی کے درخت بے تحاشا پھیل جائیں گے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ معاشرتی بہتری کا آغاز فرد سے ہوتا ہے، اور فرد کی اصلاح کے لیے ہمیں اپنے اندر تبدیلی لانی ہوگی۔ یہ تبدیلی صرف الفاظ تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ ہمیں عملی طور پر اس کی عکاسی کرنی ہوگی۔ اگر ہم اپنے عمل سے دوسروں کے حقوق کا احترام کریں گے، ان کے دکھ درد میں شریک ہوں گے اور اپنے دلوں میں محبت و ہمدردی کا جذبہ پیدا کریں گے، تو ہم ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں جہاں ہر انسان کی زندگی کو قدر دی جائے۔

Facebook Comments HS