اگر دیسی لبرل نہ ہوتے تو پنجاب یونیورسٹی کا واقعہ پیش نہ آتا۔۔۔


 اگر پاکستان میں دیسی لبرل نہ ہوتے تو پنجاب یونیورسٹی والا واقعہ بھی نہ ہوتا – بس ثابت ہوا کہ لبرل ہی اصل مجرم ہیں-

بھائی دیکھو جب لبرل اس طرح کھلے عام شلوار قمیض میں رقص کریں گے تو ہمارے بے چارے کارکنوں سے کیسے کنٹرول ہو گا؟ شیطان تو اس موقع سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ وہ دیسی لبرلز سے کہتا ہے کہ وہ بن سنور کر، مونجھوں کو تیل لگا کر، مسکرا مسکرا کر، تھوڑا مٹک مٹک کر رقص کریں تاکہ ان معصوم بے چارے گناہ گاروں کو ترغیب ملے اور وہ حملہ کر بیٹھیں –

لیاقت بلوچ نے ایویں تو نہیں کہہ دیا کہ جہاں رقص ہو گا وہاں حملے تو ہوں گے۔ یہ حمکت کی باتیں غیر شرعی، بدیسی، مغربی، جدت زدہ، بندر  نما نقال۔۔۔ انگریزی تعلیمی اداروں کے دیسی سٹوڈنٹ کیسے سمجھ سکتے ہیں بھلا؟

دیکھیں اس میں ان بے چاروں کا کیا قصور کہ انہوں نے گھونسوں لاٹھیوں ، بندوقوں یا خود کش جیکٹوں سے حملہ کیا …جو ان کو میسر ہو گا اسی سے حملہ کریں گے ناں۔

اور آپ دیکھیں دجالی میڈیا نے ان کے دماغ میں کیسا شر بھر دیا ہے کہ دھمال ڈالتے ہوئے مرتے ہیں اور پھر دھمال شروع کر دیتے ہیں- جب ہمارے ان بے چاروں سے کنٹرول نہیں ہوتا تو ایسا کیوں کرتے ہیں؟ ہاں ذرا بتائیں تو ….. ابھی جب ہمارے بے چارے کارکنوں نے ، چلو مان لیا ان سے غلطی ہو گئی، ان پختونوں کو رقص کرنے پر مارا پیٹا تو کیا ضرورت تھی دوبارہ رقص کرنے کی؟ …. یہ دیسی لبرل بھی شدت پسند ہیں، مار بھی کھاتے ہیں ، روتے چلاتے بھی ہیں اور رقص بھی کرتے ہیں … پرسوں ایک بندہ مجھے بتا رہا تھا کہ یہ فاشسٹ ہیں، ہاں تو یہ کون ہیں؟ فاشسٹ…. کون ہیں؟  فاشسٹ ۔۔۔۔ اونچا بولو۔۔۔ فاشسٹ۔۔۔ زور سے بولو، فاشسٹ، کھل کے بولو۔۔۔ فاشسٹ۔ ڈٹ کے بولو۔۔۔ فاشسٹ۔

یہ دجالی میڈیا پر بیٹھے بلیک واٹر کے دیسی لبرل ایجنٹوں نے عوام کو گمراہ کر رکھا ہے کہ پوری بات نہیں بتاتے- اصل قصور ان معصوموں کا نہیں جنہیں اس فحش مردانہ شلوار قمیض والے رقص نے مجبور کیا، انہیں ترغیب دی کہ وہ ایسا جھگڑا کریں … بھائی ایمانی غیرت بھی کوئی چیز ہے … کیا ہے کہ ہم انگریزوں کی طرح بے غیرت ہو جائیں؟

سنو تمہیں ایک مثال سے سمجھاتا ہوں۔ جب لڑکی اچھی طرح سے منہ ہاتھ دھو کر، اچھے سے بال بنا کر، خوبصورت سے کپڑے پہن کر گھر سے باہر نکلتی ہے تو پتا ہے کیا ہوتا ہے؟ وہ مردوں کو ترغیب دیتی ہے کہ آؤ مجھ پر حملہ کرو، مجھے لوٹ لو- اب جو حملہ آور یا لٹیرے ہیں- اب جو مرد اس پر حملہ کرتے ہیں اسے لوٹ لیتے ہیں… مان لیا کچھ قصور ان کا بھی ہوتا ہے… مگر اصل قصور وار تو عورت ہوتی ہے ناں …آخر وہ گھر سے کیوں نکلی جب اسے معلوم ہے کہ شیطان اس کے ساتھ ہوتا ہے اور مردوں کو ورغلاتا ہے ….؟؟؟

 بالکل اسی طرح دیسی لبرلز کو بھی چاہئے کہ گھر پر رہیں – اور اگر گھر سے باہر نکلیں تو ایسی کوئی حرکت نہ کریں نہ ایسے کوئی بول بولیں جس سے ہمارے معصوموں اور بے چاروں کو حملے کی ترغیب ملے اور وہ شیطان کے بہکاوے میں آ کر کوئی ایسا کام کر بیٹھیں جس کے لئے بعد میں انہیں تھوڑی بہت توبہ کر کے بخشش طلب کرنی پڑے یا لبرل پھر چلاتے پھریں، دنیا کو دکھاتے پھریں دیکھیں ہم مظلوم ہیں – جیسے ان کا تو کوئی قصور نہیں تھا جیسے ان کے نزدیک مردانہ شلوار قمیض والے رقص میں کوئی برائی نہیں ….یہ مغربی تہذیب کے ایجنٹ ہمارے خاندانی نظام کو تباہ کرنا چاہتے ہیں …. ورنہ تو لبرلز کے لئے جو حقوق ہمارے منشور میں ہیں، وہ تو مغرب میں بھی نہیں …. پتا ہے ، وہاں ایک بار ایک گھنٹے کے لئے لائٹ چلی گئی تھی پتا ہے کیا ہوا تھا ؟ توبہ توبہ ….جتنا اظہار رائے کی آزادی پاکستان میں ہے کہیں اور ہے ؟ …… سارے مجمع نے بیک زبان ہو کر کہا۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ کہیں نہیں ہے ۔

مگر جناب اس کی کیا گارنٹی ہے کہ دیسی لبرلز اگر رقص نہ کریں تو محفوظ رہیں گے اور لاٹھی، گھونسوں والے حملے رک جائیں گے ؟ …. مجمع میں ایک شخص نے مؤدبانہ لہجے میں سوال کیا –

یہ شدت پسند دیسی لبرل ہے، یہ دریائی گھوڑا ہے … یہ جولاہا ہے، یہ اندھیر نگری کا راجہ ہے، اسے پکڑو مارو … یا تو اسے جسٹس صاحب کی عدالت میں لے چلو ورنہ کوئی صاحب کردار اسی وقت فیصلہ سنا کر کروڑوں روپے کا مزار اور غازی شہید کا خطاب اپنے نام کروا لے ….. خطیب چلایا

یوں سوال کرنے والا دیسی لبرل اپنی شدت پسندی اور فاشزم کے انجام کو پہنچا اور قصہ تمام ہوا –

Facebook Comments HS

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 167 posts and counting.See all posts by zeeshan