ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے
گلگت بلتستان کی دھرتی بھی بڑی بے رحم ہے، اس کی بقاء کے لئے سوچنے والوں کو نگلنے میں دیر نہیں لگاتی۔ یاسر بالاورستانی جیسے درجنوں ایسے آزادی پسند رہنما ہوں گے جو وقت سے پہلے ہی اس دنیا سے کوچ کر گئے ہوں گے لیکن ایک بات واضح ہے کہ جو چلے گئے وہ وقت سے پہلے دھرتی ماں کی خاطر بہت زیادہ کام کر گئے۔ آپ یاسر بالاورستانی کی مثال لیں، طالب علمی کے زمانے سے ہی دیگر رہنماؤں کے ساتھ مل کر ایک ایسی تنظیم کی بنیاد رکھی جس نے سینکڑوں رہنما پیدا کیے اور گلگت بلتستان کی تاریخ، شناخت، بنیادی سیاسی حقوق، جغرافیائی اہمیت اور متنازعہ حیثیت کو گلی کوچوں تک پہنچایا۔ میری مراد ہے ”بالاورستان نیشنل سٹوڈنٹس آرگنائزیشن“ سے۔ جی ہاں یاسر بالاورستانی اس طلبہ تنظیم کے بانی رہنماؤں میں شامل تھے۔ کراچی جیسے شہر میں جب گلگت بلتستان کے طلبہ حصول تعلیم اور حصول روزگار جیسے مسائل سے باہر نہیں نکل پا رہے تھے ایسے میں یاسر بالاورستانی نے طلبہ سیاست کا آغاز کیا اور نظریہ آزادی کو مختلف جامعات کے طلبہ و طالبات تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کیا۔
یاسر بالاورستانی نے طالب علمی کے زمانے سے ہی صحافت کا شعبہ بھی اپنایا۔ یہ وہ دور تھا جب گلگت بلتستان کی آواز یہاں کے بلند و بالا پہاڑوں سے باہر نہیں نکل سکتی تھی ایسے دور میں یاسر بالاورستانی جیسے نوجوانوں نے کراچی جیسے شہر میں گلگت بلتستان کے سیاسی و جمہوری حقوق کی جنگ قلم کے ذریعے لڑی اور دنیا تک پہنچانے میں کردار ادا کیا۔ یقیناً میرا ان سے پہلا غائبانہ تعارف بھی ماہنامہ کرگل اور بانگ سحر جیسے رسالوں میں ان کے صحافتی کام کے ذریعے ہوا۔
ان دنوں میں اسلام آباد میں موجود تھا اور ایک رسالہ ”ماہنامہ وائس آف گلگت بلتستان“ کے لئے بطور بیورو چیف کام کرتا تھا غذر میں اس میگزین کا نمائندہ یاسر بالاورستانی تھے۔ میگزین کراچی سے پرنٹ ہو کر بذریعہ راولپنڈی گلگت پہنچتے تھے۔ ایک دفعہ رسالے پنڈی سے گلگت بھیجنے میں کسی وجہ سے تاخیر ہوئی تو یاسر بالاورستانی کی کال آئی اور کہا ”رسالے ابھی تک گلگت نہیں پہنچ سکے“ ، میں نے اپنی مصروفیت کی مجبوری بیان کی جس پر انہوں نے کہا ”یار نادر، دیکھو ہم نے 90، 95 کی دہائی میں کراچی سے راولپنڈی اخبارات پہنچانے میں اتنی دیر نہیں کی جتنا آپ 2013 میں لیٹ کر رہے“ ۔ بات یاسر بھائی کی درست تھی کیونکہ جو کام انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے 1990 کی دہائی میں مشکلات کے باوجود سرانجام دیا، وہ کام 2013 میں کیا 2024 میں بھی سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے باوجود ہم نہیں کرسکے۔
یاسر بالاورستانی طالب علمی کا زمانہ گزارنے کے بعد عملی طور پر بالاورستان نیشنل فرنٹ میں شامل ہو کر گلگت بلتستان کے عوام کے بنیادی، سیاسی، جمہوری و آئینی حقوق کے لئے جدوجہد کرتے رہے۔ انہوں نے پرامن انداز اپناتے ہوئے قلم کے ذریعے مظلوم و محکوم قوم کی بقا کی جنگ آخری حد تک لڑی اور جب تک لڑی دلیری سے لڑتے رہے۔
آخری دنوں میں غم معاش کے سلسلے میں نیٹکو میں ملازمت اختیار کی اور اس دوران بھی حق گوئی کا علم تھامے رکھا، انہوں نے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا اور مظلوم قوم کی آواز دورانِ ملازمت بھی بنتے رہے۔
یاسر بالاورستانی آج سے تین سال پہلے ہارٹ اٹیک کی وجہ سے انتقال کر گئے تھے لیکن ان کے نظریے سے جڑے ہر فرد کے لئے یاسر بالاورستانی مرے نہیں ہیں بلکہ امر ہو گئے ہیں۔ قوم اور وطن کی مٹی کے لئے ان کی طویل جدوجہد چیخ چیخ کر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ یاسر بالاورستانی کے نظریات زندہ ہیں اور زندہ رہیں گے۔
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے
تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہم
دار کی خُشک ٹہنی پے وارے گئے
تیرے ہاتھوں کی شمعوں کی حسرت میں ہم
نیم تاریک راہوں میں مارے گئے
سُولیوں پر ہمارے لبوں سے پرے
تیرے ہونٹوں کی لالی لپکتی رہی
تیری زلفوں کی مستی برستی رہی
تیرے ہاتھوں کی چاندی دمکتی رہی
جب گھُلی تیری راہوں میں شامِ ستم
ہم چلے آئے لائے جہان تک قدم
لب پہ حرفِ غزل دل میں قندیلِ غم
اپنا غم تھا گواہی تیرے حُسن کی
دیکھ قائم رہے اِس گواہی پہ ہم
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے
نارسائی اگر اپنی تقدیر تھی
تیری اُلفت تو اپنی ہی تدبیر تھی
کس کو شکوہ ہے گر شوق کے سلسلے
ہِجر کی قتل گاہوں سے سب جا مِلے
قتل گاہوں سے چُن کر ہمارے عَلم
اور نکلیں گے عُشّاق کے قافلے
جن کی راہِ طلب سے ہمارے قدم
مختصر کر چلے درد کے فاصلے
کر چلے جِن کی خاطر جہاں گیر ہم
جاں گنوا کر تری دلبری کا بھرم
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے
(فیض احمد فیض)


