جو رہی سو بے خبری رہی۔ بہاریوں کی پاکستان سے یک طرفہ محبت


انتساب :
سابقہ مشرقی پاکستان، موجودہ بنگلہ دیش، میں پاکستانی فوجیوں اور شہریوں کی بے گوروکفن لاشوں کے نام، ان بیٹیوں کے نام جن کی حرمت کی حفاظت نا کی گئی اور وہ کلکتہ کے چکلوں میں پہنچائی گئیں، میجر اکرم شہید 1971 نشان حیدر ہللی، راج شاہی کے ہیرو کے نام جو اب بھی دیناج پور بنگلہ دیش میں مدفون ہیں اور ان کی میّت کو پاکستان لانے کا خیال اب تک کسی کو نہیں آیا، اور ان کے نام جو اب بھی شناخت سے محروم ہیں اور ہم ان کو پاکستانی بہاری محصورین کے نام سے جانتے ہیں۔


پچیس نومبر سے دس دسمبر تک صنفی تشدد کے خلاف خاص طور پر خواتین کے خلاف تشدد پر دنیا بھر میں اقوام متحدہ کی چھتری تلے احتجاج ہوتا ہے اور اس کا اختتام انسانی حقوق کے عالمی دن یعنی دس دسمبر کو ہوتا ہے۔ سب ہی اس میں شریک ہوتے ہیں۔ بم بنانے والے، بم برسانے والے، اسلحہ بیچنے والے، اسلحہ خریدنے والے، جنگ سے پیسہ کمانے والے اور امن کا نوبل انعام حاصل کرنے والے، سرکار بھی اور غیر سرکاری ادارے بھی۔ منافقت کو مزاحمت کا نام دیا جاتا ہے اور کوریوگرافیڈ ایکٹوزم کے طلسمی حصار میں تھوڑی بہت سچائی پر مبنی حقوق کی جدوجہد اور سماجی فعالیت کو بھی جگہ مل جاتی ہے۔ نہیں جگہ ملتی تو غیر بنگالی اردو بولنے والے سابقہ پاکستانیوں کو جنہوں نے پاکستان کو متحد رکھنے اور پاکستانی فوج کا ساتھ دینے کی عملی اور نظریاتی جد و جہد میں ناقابلِ تصور نا انصافیاں، اذیتیں اور مظالم سہے۔ ان میں سے اکثریت کے بزرگ برٹش انڈیا کے صوبہ بہار سے تھے، جن کی چوتھی اور پانچویں نسل آج بھی ”پاکستان“ کے ساتھ وفاداری کے جرم میں بنگلہ دیش کے کیمپوں میں قید اور اپنی شناخت کی بربادی کا سامنا کر رہی ہے۔

کئی برسوں سے یہ سب کچھ دیکھ رہی ہوں کبھی کبھی تماشے کا حصّہ بھی بن جاتی ہوں۔ کئی سول اور ملٹری اشرافیہ اور انسانی حقوق کی نمائندہ آوازوں کو قریب سے دیکھنے کا بھی موقعہ ملا۔ ان ملاقاتوں کا سیاق و سبق کیا تھا اور میرا تجربہ کیا رہا یا کیسا رہا یہ داستان اگر آپ سننا چاہتے ہیں تو میرا انٹرویو کر لیں۔

آج تو میں آپ کو حسن کے تجربات کی ایک جھلک دکھاؤں گی جن سے میں نے 1971، مشرقی پاکستان، سقوط ڈھاکہ اور غیر بنگالی اردو سپیکنگ مسلمانوں کے حوالے سے اپنے پوڈکاسٹ میں گفتگو کی۔

حسن 1981 میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدین کا تعلق یو پی سے ہے اور وہ چھے سال کی عمر تک محمّد پور ڈھاکہ میں اپنے خاندان کے ساتھ رہائش پذیر رہے جہاں سے ان کو ان کے خاندان سمیت جبری طور پر بے دخل کر کے ”جنیوا کیمپ“ لے جایا گیا۔ ان تھک محنت، چند مخلص لوگوں کے تعاون اور اللہ پاک کی مدد کی بدولت حسن نے تعلیم حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ’کئی عالمی فیلو شپس حاصل کیے اور اب وہ اس دوزخی مقام جس کو جنیوا کیمپ کے نام سے جانا جاتا ہے میں نہیں ہیں بلکہ اس ملک بنگلہ دیش میں بھی نہیں ہیں۔ لیکن عمر عزیز کا جو بیش قیمت حصّہ انھوں نے دیگر بدنصیب انسانوں کی طرح اس جہنّم میں گزارا اس کا بیان اب بھی ان کی آنکھوں کو نم کر دیتا ہے۔ سولہ دسمبر 1971 کے پاکستانی فوج کے سرینڈر کے بعد ہمارے تقریباً تین لکھ لوگ کیسی زندگی گزر رہے ہیں اس کی روداد سن کر کسی بھی حساس انسان کے لیے آنسوؤں پر قابو پانا مشکل ہو گا۔

میں اس کی تفصیل میں نہیں جا رہی لیکن ذرا توجہ دیں کہ ان بے بس لوگوں کی جانب بنگلہ دیش میں پاکستانی ہائی کمیشن کا کیا رویہ رہا ہے اور افسران اور سفیران ان کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں تو شاید آپ کو تعجب ہو۔ عام بنگالی تو متعصب ہے ہی ہے لیکن فارن آفس کے پاکستانی اسٹاف کے انداز ہی نرالے ہیں۔ امید ہی کی جا سکتی ہے شیخ حسینہ واجد کے بعد کے بنگلہ دیش میں ان رویوں پر نظرثانی ہوگی۔ گو کہ یہ ایک معجزہ ہی ہو گا۔

حسن نے بتایا کہ ایک بار عاصمہ جہانگیر ڈھاکہ تشریف لائیں تو انھوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ کسی طرح ان کو اپروچ کیا اور ان کو ”جنیوا کیمپ“ آنے کی دعوت دی۔ جب عاصمہ نے پاکستانی ہائی کمیشن سے وہاں جانے کی اجازت مانگی تو ان کو بتایا گیا کہ ان کا وہاں جانا خطرے سے خالی نہیں کیونکہ وہ لوگ ( یعنی ہم بہاری اور غیر بنگالی اردو اسپیکنگ پاکستان کے لیے مٹ جانے والے، پاکستان سے آنے والی پرواز کا انتظار کر کر پتھرائی آنکھوں کے ساتھ عدم کو سدھارنے والے بزرگوں کی اولادیں ) درندے ہیں، مال چھین لین گے، وہ وہاں محفوظ نہیں ہیں وغیرہ وغیرہ۔ خیر حسن کی ذاتی ضمانت پر عاصمہ وہاں گئی تھیں مگر یہ سب بے نتیجہ ہی رہا۔ آفرین ہے حسن کی شائستگی پر کہ ان کا جواب یہ تھا کہ اب وہ خاتون اس دنیا میں نہیں ہیں تو کیا تبصرہ ہو اور پھر اس وقت پاکستان مشکل میں تھا کوئی کیا کر سکتا تھا؟ یہ ہے ہماری کمیونٹی کی اقدار اور جڑوں میں بسی ہوئی پاکستان سے محبّت کہ ہم بھرم رکھتے ہیں اور نفرت انگیز پروپیگنڈا نہیں کرتے اور جس پاکستان نے ہمیں لاوارثوں کی طرح چھوڑ دیا ڈمپ کر دیا دھتکار دیا اس پاکستان کا جھنڈا نہیں جلاتے۔ ہم ہر حال میں کہتے ہیں پاکستان زندہ باد۔

میں پچھلے دس بارہ سال سے بہاری کمیونٹی اور بنگلادیشی کیمپس کے محصورین کے مسائل پر آگاہی اور ایم پیتھی پھیلانے کی کوشش کر رہی ہوں۔ کیوں؟ شاید بچ جانے والے /والی کی ملامت، جسے انگریزی میں ”سروائیورز گلٹ“ کہتے ہیں، یا شاید فراز کے اس شعر کی گونج مرے دل میں رہتی ہے :

شکوۂ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

میری تگ و دو کا راستہ کٹھن ہے۔ مجھ سے کبھی کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ یہ سفر کیسا ہے، نہ ہی میں نے خود کو سراہنے کی کوشش کی۔ لیکن اگر کبھی میری باتوں سے خود ستائی کا تاثر گیا ہو تو معذرت خواہ ہوں، کیونکہ:

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں
روئیں گے ہم ہزار بار، کوئی ہمیں ستائے کیوں

حال ہی میں کچھ دوستوں نے میری پسندیدہ فیمنسٹ اور عالمی شہرت یافتہ ادیبہ محترمہ کشور ناہید کے ایک اردو کالم کا لنک بھیجا جو 01 نومبر، 2024 کو روزنامہ جنگ میں چھپا تھا۔ انھوں نے مجھ ناچیز کو ادب کی دہلیز پر خوش آمدید کہا ہے میری تازہ اردو تالیف ”بے وقت کی راگنی“ کے حوالے سے۔

میں ان کی جانب سے اس عزت افزائی اور پذیرائی پر ان کی بہت ممنون ہوں مگر مجھے ادب کے محل یا دربار میں داخل ہونے کی نہ چاہ ہے نہ چاہت۔ میں صرف انسانی حقوق کے حوالے سے اپنی اَدنیٰ کوششوں میں مصروف رہتی ہوں۔ بے منصب ہوں۔ بہت معتوب بھی رہی۔ نہ صرف انگلیاں بلکہ دل، روح اور دماغ تک فگار ہے۔ پھر بھی مقصد سے محبّت کے جنون میں بکتی اور لکھتی رہتی ہوں۔

کشور آپی کا خاص شکریہ کہ انھوں نے اس کتاب میں بے گھر، بے در، بے شناخت لوگوں کے حوالے سے مضامین پر بھی نظر ڈالی اور لکھا کہ ”رخشندہ نے بہاریوں کے مسائل پر فہمیدہ ریاض کی طرح، بہت دکھی انداز میں لکھا ہے۔ حسینہ واجد کے زمانے میں تو بہاریوں کے ساتھ یہ سلوک ہوتا رہا کہ 92 سالہ بزرگ کو پاکستان زندہ باد کہنے پر پھانسی چڑھا دیا گیا تھا۔ حسینہ واجد کے جانے کے بعد ، ماحول میں تبدیلی اس حد تک آئی ہے کہ یوم قائداعظم پہلی دفعہ منایا گیا ہے۔ رخشندہ بار بار ہم سب کو یاد دلاتی ہے کہ وہ جو گزشتہ پچاس برسوں سے خود کو پاکستانی کہنے پر ایک ڈربے میں بند رکھے گئے ہیں۔ کاش حکومت پاکستان ان پر محبت کی نظر کرے۔ مگر سچی بات ہے کہ پاکستان تو لاکھوں افغانیوں کو پناہ دینے کی قیمت معصوم فوجی نوجوانوں اور ملک میں دہشت گردی، ڈاکے اور قتل کی صورت میں گزشتہ چالیس سال سے ادا کر رہا ہے۔ “

بڑے طویل عرصے کے بعد عصر حاضر کی کسی بڑی پاکستانی خاتون فیمنسٹ یا کسی ادیب اور صحافی نے میرے اور میری کمیونٹی کے اس المیے کا تذکرہ تو کیا کچھ یک جہتی کا اظہار تو کیا۔ ورنہ بہاری خواتین کے ریپ، اس پوری کمیونٹی کی پامالی، اینٹی پاکستان بنگالیوں کے جرائم، ان کے قتل کے سفاکانہ انداز، ان کی دی گئی اذیتوں اور محبان پاکستان کی بے توقیری پر انسانی حقوق کے چیمپئنز کی خاموشی معنی خیز ہے۔ اور اس بھیانک ترین سانحہ اور یاداشت کی گمشدگی پر اب تک کوئی نہیں بولا کسی نے میرے بین اور نوحوں کا نوٹس نہیں لیا۔ اس ستم کا بھی کئی بار جہاں جہاں جگہ ملی وہاں تذکرہ کیا۔ مگر بے سود بے ثمر۔ بہت گنجلک منظر نامے ہیں۔

نوجوان ایلیٹ ایکٹوسٹ جیسے ایمان مزاری ہوں یا مقبول انگریزی ناول نگار، بی بی سی کے صحافی اور پاکستانی فضائیہ کے سابق افسر محمد حنیف ہوں، معروف ایکٹوسٹ جبران ناصر ہوں یا بلوچ، پشتون، اور بنگالیوں کے حقوق کا علم اٹھائے زیرک صحافی حامد میر ہوں۔ یا ایسے بہت سے دیگر نام سب ہی اچھے لوگ ہوں گے۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی تو ہمارے بارے میں نہیں بولتا بلکہ صرف اور صرف ایک خاص زاویہ اختیار کر کے 1971، بنگالیوں کی محرومی اور ان کی تضحیک ( جس میں کچھ غلط نہیں ) کا ذکر کر کے اپنے مشن کے ساتھ نتھی کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ہمارے قتل عام پر گہری خاموشی ہے۔ بحالی کی بات تو اب ایک بھولا ہوا افسانہ ہے۔ کوئی بھی تو نہیں بولتا۔

بہاری کباب سب کو پسند ہیں، بہاری پروین شاکر کی دلاویز تصویریں اور کلام سب کو پسند ہیں، یہ بکتے ہیں شاید اس لیے یا ان سے سیاست میں حصّے داری یا اس ملک میں حصّے داری کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ مگر برباد اور رنجیدہ چہروں والی اسٹیٹ لیس بہاری کمیونٹی کا ذکر آتے ہی یا تو صرف چپ اختیار کی جاتی ہے، یا پھر نفرت، توہین اور تذلیل کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیا جاتا یا بے سروپا دلیل سے ان کو غیر پاکستانی قرار دیا جاتا ہے اور انہی ”کیمپس“ میں رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

ظاہر ہے ”جرم“ بہت سنگین ہے شاید ناقابل معافی کیونکہ ہم نے پاکستانی فوج کا ساتھ دیا تھا۔ فوج پر تنقید، فوج سے نفرت اب مقبول بنا دیتی ہے اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کی توجہ حاصل ہوتی ہے۔

فوجی بھائیوں سے کیا کہیں؟ اردو زبان کا لفظ ”بھائی“ بھی عجیب ہے۔ روایتی گھرانوں میں اسے تعظیم کے خانے میں رکھا جاتا ہے، جبکہ فلموں میں ”بھائی“ کا مطلب کچھ اور ہی ہوتا ہے۔ قرآن پاک میں جہاں حضرت موسیٰ کے مخلص بھائی حضرت ہارون کا ذکر ہے، وہیں برادرانِ یوسف کا قصہ بھی موجود ہے۔

فوج کو اپنا محاسبہ کرنے کا مشورہ دینے کی ہمّت کون کرے؟ ہم جیسے تو بالکل نہیں کر سکتے جن کے ساتھ نا کوئی عالمی قوت ہے نا ہی کسی طاقتور سفارت خانے کی میلنگ لسٹ میں ہیں۔ یہاں یعنی اس دنیا میں صرف اشرافیہ کے لیے آواز اٹھائی جاتی ہے اور صرف وہی بے باک صحافت ’مزاحمت اور وکالت کر سکتے ہیں۔ اور صورت حال پاکستان میں بھی یہی ہے کہ پاکستان بھی دنیا کا حصّہ ہے۔

سیاست دانوں کی بھی بات کر لیں۔ بہت پڑھے لکھے اور دانشور نما یا مصدقہ دانشور سیاست دان بھی اس معاملے میں رواداری اور ایمانداری کی قوت سے محروم معلوم ہوتے ہیں۔ ایک ثبوت تو نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں چند سال قبل دیکھا جب ڈاکٹر جنید احمد اپنی کتاب Creation of Bangladesh Myths Exploded پر لیکچر دے رہے تھے اور ذکر آیا بھٹو صاحب کا تو پی پی پی کے جو ممبران پارلیمان وہاں موجود تھے نا صرف انہوں نے واک آؤٹ کیا بلکہ ایک دو خواتین اپنی پی ایم ایل (این ) کی سہیلیوں کو بھی ہال سے باہر لے گئیں۔ یہ اکادمیا کا ماحول ہے۔

لیکن خاموش رہنا بھی تو حل نہیں ہے شاید عقلمندی ضرور ہو مفاد پرست ٹولے کے لیے۔ کچھ تو کہنا ہو گا۔ جو ہو سو ہو۔ سو ایک مخلصانہ عرض ’اپیل‘ التجا ’گزارش پیش خدمت ہے خدارا! تغافل برخاست کریں اور تحمل سے بات سن لیں آپ کا بھلا ہے خلق خدا کا بھی بھلا ہے دونوں کا بھلا ضروری ہے۔

ہم تو شاید کبھی بھی پاکستان کے لیے قابل قبول نہیں ہوں گے اور ہم میں سے جو یہاں ہیں وہ بھی آپ کے برابر نہیں۔ مگر یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے مابین دوستی کا رشتہ تب ہی آرگینک طور پر پروان چڑھے گا جب ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کیا جائے سابق صدر جنرل مشرف کی آدھی پونی معافی کو مکمّل کیا جائے۔ ہماری کمیونٹی کا بھی ذکر کر کے اور تلافی جس حد تک بھی ممکن ہو کی جائے۔ کم از کم نہتے بہاریوں /غیر بنگالی سابقہ مشرقی پاکستان کے باسیوں پر گزری قیامتوں کا میڈیا میں ’کاکول اکیڈمی میں اور سول سروس اکیڈمی میں ذکر تو کیا جائے۔ بہاری جینو سائڈ پر المیہ 1971 پر سقوط ڈھاکہ پر یہ میڈیا بلیک آؤٹ تو ختم کیا جائے تریپن برس گزر گیے۔ محض قائد اور اقبال ڈے منانے سے مکتی باہنی کے بچوں کے ساتھ گانا گاتے ہوئے تصویریں اور فلمیں بنانے سے ہو سکتا ہے کوئی وقتی فائدہ حاصل ہو جائے مگر گھاؤ بہت گہرے ہیں۔ یہ سب میں کئی بار لکھ چکی ہوں۔

زخم مندمل تب ہوتا ہے جب زخم کے ہونے کا اقرار کیا جائے اس کو چھپایا نہ جائے۔ پیچیدہ اور تکلیف دہ مکالموں کا آغاز کیا جائے۔ اسی طرح بقیہ پاکستان کو بچایا جا سکتا ہے عزت اور وقار کے ساتھ۔ ہم سب کو ایک ایسے پاکستان میں بسنا ہے جہاں تاریخ کو مسخ نہ کیا جائے۔ جہاں شہیدوں کے لہو کا مذاق نہ بنایا جائے۔ جہاں اشرافیہ کی انسانی حقوق اور سیاست پر اجارہ داری نہ ہو۔ جہاں ریاست مشفق ماں ہو۔ جہاں نظام اور عوام یک جان دو قالب ہوں نہ کہ حاکمیت اور رعونت ہو۔
ہم تو اپنی یک طرفہ محبّت کو غیر مشروط محبت کہتے ہیں اور اپنا انجام بھگت چکے ہیں آپ سوچیں آپ کا کیا ہو گا؟

بکھر جائیں کیا جب ہم تماشا ختم ہو گا
میرے معبود آخر کب تماشا ختم ہو گا
کہانی میں نئے کردار شامل ہو گئے ہیں
نہیں معلوم اب کس ڈھب تماشا ختم ہو گا
کہانی آپ اُلجھی ہے یا اُلجھائی گئی ہے
یہ عقدہ تب کُھلے گا، جب تماشا ختم ہو گا
تماشا ختم کرنے والوں کو خبر دی جا چکی ہے
کہ پردہ کب گرے گا کب تماشا ختم ہو گا
(افتخار عارف)

 

 

 

Facebook Comments HS