پاکستانی میڈیا کی موجودہ صورتحال: دباؤ اور غیرجانبداری کا بحران
پاکستان میں میڈیا ایک سنگین بحران کا شکار ہے۔ اشتہارات اور حکومتی دباؤ کی وجہ سے میڈیا انڈسٹری شدید مشکلات کا سامنا کر رہی ہے، جس سے آزاد صحافت اور غیرجانبدار رپورٹنگ کا دائرہ محدود ہو چکا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف صحافت کی آزادی کو متاثر کیا ہے بلکہ جمہوریت کے اہم ستون کو بھی کمزور کر کے رکھ دیا ہے۔ پاکستانی میڈیا پر حکومتی اثر و رسوخ اور اشتہارات پر انحصار کی وجہ سے یک طرفہ رپورٹنگ عام ہو گئی ہے۔ جو کچھ حکومت یا طاقتور عناصر چاہتے ہیں، میڈیا کو وہی پیش کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ آزاد رپورٹنگ کے فقدان نے عوام کو اصل حقائق سے محروم کر دیا ہے۔
اسلام آباد میں حالیہ احتجاج اور مظاہروں کے دوران، پاکستانی میڈیا نے حکومت کے موقف کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جبکہ اپوزیشن کی بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کو یکسر نظرانداز کیا۔ احتجاج کے دوران جان بحق ہونے والے افراد اور زخمیوں کی تعداد پر کوئی موثر رپورٹنگ نہیں کی گئی۔ غیر ملکی میڈیا نے اگرچہ کچھ کوششیں کیں، لیکن مقامی میڈیا مکمل طور پر ناکام رہا۔ مطیع اللہ جان اور شاکر اعوان جیسے صحافیوں اور دیگر یوٹیوبرز نے سچائی سامنے لانے کی کوشش کی، لیکن انہیں شدید دباؤ اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مطیع اللہ جان اور شاکر اعوان اغوا کیے گئے، مطیع اللہ جان کو پھر گرفتار ظاہر کر کے جھوٹی ایف آئی آر درج کی گئی جبکہ شاکر اعوان تاحال لاپتہ ہیں۔ شاکر اعوان کی گمشدگی اور ان کے اہل خانہ کی تشویش ظاہر کرتی ہے کہ آزاد صحافت پر کس قدر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔
میڈیا کی موجودہ صورتحال کے باعث صحافیوں اور میڈیا دفاتر کو بھی سنگین خطرات کا سامنا ہے۔ جب متاثرین کی رپورٹنگ نہ کی جائے تو وہ کسی بھی وقت غصے یا مایوسی کے باعث نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ خاص طور پر ہجوم کی صورت میں کسی کو قابو میں رکھنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ صحافیوں کو خطرے سے دور رکھا جائے اور دونوں فریقین کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ نہ صرف صحافتی ذمہ داریاں ادا کی جا سکیں بلکہ صحافیوں کو خطرات سے بھی محفوظ رکھا جا سکے۔ یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ تحریک انصاف کے احتجاج کے دوران میڈیا ہاؤسز کے دفاتر کو بند کر دیا گیا تھا اور ان پر مبینہ طور پر حملوں کی بھی اطلاعات موصول ہوئیں۔ یہ صورتحال نہ صرف آزادی صحافت کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ میڈیا کے بنیادی کام کو بھی متاثر کرتی ہے۔
میڈیا مالکان نے اشتہارات اور حکومتی مالی معاونت پر انحصار کی وجہ سے اپنے صحافیوں کو مظاہروں اور عوامی مسائل پر کھل کر رپورٹنگ کرنے سے روک دیا ہے۔ کئی اخبارات اور چینلز کی رپورٹس حکومت کے بیانیے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی نظر آئیں، جو کہ صحافتی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ موجودہ صورتحال نے آزاد صحافت کے اصولوں کو نقصان پہنچایا ہے، جس سے عوام کی حقائق تک رسائی ممکن نہیں ہو رہی۔ جب عوام تک درست معلومات نہیں پہنچیں گی، تو وہ اپنے حقوق اور حقائق سے بے خبر رہیں گے، جس سے جمہوری عمل متاثر ہو گا۔ حکومت کے بیانیے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا میڈیا کی غیر جانبداری کو ختم کر رہا ہے، جس سے عوام کا اعتماد کم ہو رہا ہے۔ میڈیا اداروں کو حکومتی اشتہارات پر انحصار کم کرنے کے لیے مالی ماڈلز تیار کرنے کی ضرورت ہے۔
آزاد صحافت کے لیے صحافیوں کو قانونی اور جسمانی تحفظ فراہم کرنا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں عوام کو اس صورتحال سے آگاہ ہونا چاہیے تاکہ وہ میڈیا سے سچائی کے لیے مطالبہ کر سکیں۔ پاکستان میں میڈیا کی موجودہ حالت صحافت کے اصولوں اور جمہوریت کے مستقبل کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ ایسا شاید ہی کوئی سال گزرا ہو جس میں پاکستان میڈیا آزادی کے انڈکس کے ضمن میں پیچھے نہ گیا ہو۔ ملک میں صحافیوں پر تشدد کے واقعات میں بھی بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پہلے صحافیوں کو کالعدم تنظیموں سے خطرہ تھا لیکن اب بظاہر لگ رہا ہے کہ اخبار نویسوں کو کالعدم تنظیموں سے زیادہ دیگر گروپس سے خطرہ ہے۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں آزادی صحافت کو یقینی بنایا جائے تاہم میڈیا کی ساکھ کو بحال کرنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں اور افراد کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ یہ وقت ہے کہ صحافت کی اصل روح کو بحال کیا جائے تاکہ عوام کو حقائق تک رسائی حاصل ہو اور جمہوری اقدار محفوظ رہ سکیں۔


