فوج پر عدم اعتماد، قوم، ریاست کی بات کیوں نہیں مان رہی
خیر سے عاری ریاستوں کا وجود برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے، ریاست کی پہلی اینٹ انسان ہی بنتے ہیں انسانوں کے باہمی اتفاق رائے اور مقرر کردہ قواعد و ضوابط کے بعد کسی بھی معاشرے کی تشکیل کو ممکن بنایا جاتا ہے، معاشرے کو تشکیل دیتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ لوگوں کی زندگیوں کا تحفظ، انھیں بنیادی ضروریات کی فراہمی اور جن حقوق و فرائض سے انھیں جوڑا جا رہا ہے ان پر عمل یقینی بنایا جائے گا۔
معاشرتی نظم و نسق کو چلانے کے لیے انسانوں نے مختلف عمرانی معاہدوں کو جنم دیا، یونانی مفکرین کے نزدیک اس خوبصورت دنیا کا تحفظ ضروری ہے، دوسروں کی بھلائی پر مبنی نظام نافذ کر کے ہی اس کا حسن برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ افلاطون اپنی کتاب، دی ری پبلک، میں لکھتا ہے کہ خیر سے عاری ریاستوں کا وجود برقرار رکھنا مشکل ہے، ریاست کی پہلی اینٹ انسان ہی بنتے ہیں ورنہ تو معاشرے کا وجود ہی بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔ انسانی سوچ، فکر اور تقاضوں پر بحث مکمل کیے بغیر آگے بڑھنا محال ہے، ہمیں انصاف کا متلاشی رہنا چاہیے، یہی تمام اخلاقیات کا نچوڑ ہے، یہ سونے سے بھی قیمتی ہے۔
آج پاکستان کے حالات بھی بہت سی پیچیدگیوں کا شکار ہو چکے ہیں، ریاست کو ظالم اور تحفظ فراہم کرنے والوں کو قاتل گردانا جا رہا ہے، لوگ ریاست کو ہی تمام مسائل کی وجہ سمجھ رہے ہیں، جن کا جائزہ لیا جائے تو ریاست کی بہت سی کوتاہیاں سامنے نظر آتی ہیں لیکن ریاست پاکستان کو چلانے والے ان باتوں کا ادراک کرنے سے قاصر ہیں، حکومت ہو یا فوج سب لوگوں کی اس بے چینی کو سیاسی ماحول کی خرابی سمجھ بیٹھے ہیں، وہ یہ سوچ بھی نہیں رہے ہیں کہ ان کے گزشتہ سالوں کی اقدامات سے ریاست کے ساتھ ایک عمرانی معاہدہ اور آئین پاکستان پر بیت کرنے والے شہری اب اپنے فرائض کی ادائیگی کے ساتھ حقوق کو پورا کرنے کا بھی کہہ رہے ہیں۔
آئیے چند عوامل پر نظر ڈالیں کہ پاکستان میں ریاست اور عوام کا رشتہ کیوں اور کیسے کمزور ہوتا جا رہا ہے، حالیہ دنوں میں ہونے والے ہی واقعات جن میں چھبیس نومبر دو ہزار چوبیس کو پاکستان تحریک انصاف کے اسلام آباد احتجاج میں ہونے والی اموات کو ہی دیکھ لیں جہاں ایک طرف سیاسی جماعت، میڈیا، عالمی مبصرین کی جانب سے سیکورٹی فورسز اور پولیس پر مظاہرین پر براہ راست گولیاں چلانے کا الزام عائد کیا گیا تو وہیں حکومت اور سیکورٹی ادارے کا مظاہرین کی جانب سے اہلکاروں پر گولیاں چلا نے کا دعویٰ سامنے آیا اور کہا گیا کہ پولیس کے کریک ڈاؤن میں کسی کی بھی موت نہیں ہوئی، وہیں یہ معاملہ ایک سنگین رخ بھی اختیار کر چکا ہے۔
برطانوی میڈیا بی بی سی کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ پولی کلینک ہسپتال میں بی بی سی کے پاس موجود ہسپتال کے ریکارڈ کے مطابق وہاں 26 نومبر کی شام کم از کم ایسے تین افراد کی لاشیں موجود تھیں جنھیں گولیاں لگی تھیں اور ان میں سے دو کی موت بھی ہسپتال میں ہی ہوئی تھی۔ جبکہ پولی کلینک کے ہی طبی عملے کے دو اہلکاروں نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں ’پولیس نے لاشوں کا پوسٹ مارٹم کرنے سے روکا تھا۔‘ پمز ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے ریکارڈ تک رسائی نہیں دی گئی تاہم بی بی سی کی معلومات کے مطابق وہاں تحریکِ انصاف کے دو کارکنوں کی لاشیں لائی گئی تھیں جن کا تعلق شانگلہ اور مردان سے تھا۔ بی بی سی کو پولی کلینک میں کم از کم تین ڈاکٹروں نے بتایا کہ شام سے ہی درجنوں کارکنان ہسپتال لائے گئے جنھیں گولیاں لگی تھیں۔ ’ہمارے پاس کم از کم 45 اور 55 کے درمیان ایسے شہری لائے گئے جنھیں گولیاں لگی تھیں۔
مظاہرین پر کریک ڈاؤن کے بعد حکومت نے کہا پی ٹی آئی کی جانب سے لاشوں کی سیاست، ریاست اور سیکورٹی فورسز کے خلاف منفی پراپیگنڈا کیا گیا، تو وہیں عالمی دنیا میں بھی پاکستان کی اس صورتحال پر تشویش پائی جا رہی ہے، انسانی حقوق کے عالمی ادارے نے واقعے پر سوالات کھڑے کیے۔ پی ٹی آئی احتجاج میں اموات کے معاملے پر پوری قوم تقسیم کا شکار نظر آئی، ایک طبقہ نے اسے اسلام آباد قتل عام کہہ کر حکومت پر لاشوں کو چھپانے تک کا الزام لگایا۔ یہ تمام صورتحال ریاست پاکستان اور فوج پر عوامی عدم اعتماد کی نشاندہی کرتی ہیں۔
ریاست اور فوج پر ختم ہوتے اعتماد کی بڑی مثال خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کے معاملے میں بھی دیکھنے میں آئی، جہاں صوبے کے وزیر اعلیٰ سمیت تمام سیاسی، مذہبی اور پشتون قوم پرست جماعتوں نے فوجی آپریشن کی شدید مخالفت کی اور جرگے بلا کر فوج کو ہی علاقوں سے نکل جانے کا الٹی میٹم دیا، جبکہ معاملے میں فوج بھی بیک فٹ پر نظر آئی، ان کی جانب سے وضاحتیں دی گئیں کہ صوبے میں کوئی باقاعدہ فوجی آپریشن نہیں کیا جا رہا ہے، جہاں پر بدامنی زیادہ ہے وہاں پر ٹارگٹڈ کارروائیاں کی جائیں گی۔ ایسی ہی صورتحال بلوچستان میں پائی جاتی ہے جہاں لوگ سیکورٹی اداروں پر لوگوں کے لاپتہ کرنے کے الزامات عائد کر رہے ہیں، کئی سیاسی قائدین بلوچستان کے حقوق پر ریاست کو قابض قرار دے رہے ہیں۔
گزشتہ چند سالوں کی صورتحال کا جائزہ لیں تو معلوم ہو تا ہے کہ ریاست کی جانب سے شہریوں کو کس طرح ایک طرف کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے، جہاں لوگوں کے گھروں پر چھاپے مارے جاتے ہیں، کاروبار کو بند کر دیا جاتا ہے، انھیں روپوش ہونے پر مجبور کیا جاتا ہے، سیاسی قیدیوں کے فوجی عدالتوں میں کیسز چلائے جاتے ہیں، انٹرنیٹ کو بند کیا جاتا ہے، جبکہ شہریوں کی فون کالز کی ریکارڈنگ کر کے ان کے خلاف مقدمات بنائے جاتے ہیں وہیں میڈیا کو بھی خاموش کرنے کے کئی حربے استعمال کیے جاتے ہیں، عدالتوں کے حوالے سے نئی قانون سازی کر دی جاتی ہے۔ یہ سب اقدامات ریاست کو معمولی نظر آرہے ہیں لیکن عوام جو اس ریاست کے سب سے بڑے اور اہم فریق ہیں وہ اسے درست نہیں سمجھ رہے ہیں، شہری چاہتے ہیں جیسے وہ ایک معاہدے اور آئین کے تحت اس ریاست کا حصہ بنے تھے، اب انھیں نظر انداز کرنا صحیح نہیں، قانون سازی میں ان کی کوئی رائے شامل نہیں ہوتی نا ہی عوامی مفادات میں کوئی قانون سازی کی جا رہی ہے۔
ریاست پاکستان کی ساری صورتحال دیکھنے کے بعد یہ انداز لگانا مشکل نہیں کہ عوام، ریاست کی بات ماننے کو تیار نہیں ہیں، ریاست سے اپنے کیے گئے آئینی وعدوں کو اس کی اصل روح کے مطابق عمل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ ریاست عوام کی بات کو سمجھنے کی بجائے حل طاقت کو سمجھ رہی ہے اور سخت قوانین سے عوام کو مزید ورغلا رہی ہے، وہیں فوج اور عوام میں بھی اعتماد کا شدید فقدان ہے، عوام پیدا شدہ مسائل کو ان سے جوڑ رہے ہیں۔
آج اس بات کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے جو یونانی فلسفی افلاطون نے سالوں پہلے کہی تھی کہ خیر سے عاری ریاستوں کا وجود برقرار رکھنا مشکل ہے، ریاست کی پہلی اینٹ انسان ہی بنتے ہیں ورنہ تو معاشرے کا وجود ہی بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔ کسی بھی انسانی معاشرے کو اس وقت تک ایک اچھا معاشرہ نہیں کہا جاسکتا کہ جب تک اس کے ہر فرد کو مساوی انسان نا سمجھا جائے ایک کمزور کو بھی وہی انسانی حقوق حاصل ہوں جو ایک طاقتور کے پاس ہوں، خواہ یہ کمزوری طبعی ہو یا مالیاتی یا کسی اور قسم کی۔


