دل تھا کہ پھر بہل گیا
میلبورن میں اردو مشاعرہ، جیسے صحرا میں بارش، برف میں پھول یا چراغ تلے روشنی۔ دراصل امریکہ یا یورپ کے برعکس یہاں اردو بولنے اور سمجھنے والے کم ہیں اور اردو کے لیے وقت نکالنے والے ان سے بھی کم۔ راقم کو چند روز قبل میلبورن میں منعقدہ اردو مشاعرے میں بطور سامع شرکت کرنے کا موقع ملا۔ اب بھلا کون ایک مشاعرے کی روداد لکھے اور کون اسے پڑھے۔ لیکن لکھنا ضروری ہے کہ قریباً ایک سال قبل راقم کا خیال تھا کہ آسٹریلیا میں مقیم پاکستانیوں کی ایک بڑی شرح ”اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا“ کے مصداق غم روزگار میں الجھی ہوئی ہے۔
عموماً پردیس میں آ کر بسنے والوں کی پہلی نسل معاشی مسائل اور وسائل سے نبرد آزما رہتی ہے۔ مالی آسودگی پانے کے بعد جب کچھ حواس بحال ہوتے ہیں تو معاشرت اور تہذیب کو بچانے کی فکر لاحق ہوتی ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ میرا سات سالہ پوتا تو اردو میں دادا کے علاوہ کوئی اور لفظ تک نہیں بولتا۔ لیکن میلبورن میں گزشتہ دو دہائیوں سے مقیم ڈاکٹر مجوکہ، ان کے اہلخانہ اور مشاعرہ کے ناظم ملک عاطف مجوکہ نے راقم کی اس کوتاہ بینی کا ازالہ کر دیا۔ یہ اپنی طرز کا پہلا مشاعرہ یقیناً نہیں تھا لیکن راقم کا پہلا تجربہ تھا کہ میلبورن کی ایک خوبصورت شام کو اردو اور اس کے قدر دانوں نے یادگار بنا دیا۔ نا مال غنیمت نا کشور کشائی۔ اس مشاعرے کا مقصود تھا احباب کے ساتھ اردو سے وابستہ کچھ یاد گار پل۔ اور اب میں اردو شاعری کے مستقبل سے مایوس نہیں۔
خود تو راقم کو ایک بھی با وزن بات کرنی نہیں آتی لیکن شاعری کی پسندیدگی کا معیار اس قدر بلند ہے کہ لگتا تھا کہ ساحر، ساغر، فیض اور فراز کے بعد اردو شاعری کی زمین قحط سالی کا ایسا شکار ہوئی ہے کہ اب یہاں جو بھی فصل اگے گی ایک خاص قد سے بلند نا ہو پائے گی۔ اس محفل کا شکریہ کہ اس غلط فہمی کا ازالہ بھی ہو گیا۔ میں جو فیس بکی شعرا کی وجہ سے اردو کے مستقبل سے نا امید ہو چلا تھا۔ یہاں جناب ارشد سعید، ڈاکٹر وجیہہ الحسن بخاری، پنڈت عکس لکھنوی، مصدق لاکھانی اور محمد اظہار الحق صاحب کو سنا تو معلوم پڑا کہ کیا کیا گنج گراں مایہ ہیں کہ سوشل میڈیا سے اوجھل ہیں۔
نا تو فیس بک پر نظر آتے ہیں، نا ٹویٹر پر براجمان ہیں۔ نا تو لائک اور شیئر کے پیاسے ہیں، اور نا ہی سبسکرپشن کے متلاشی۔ نا یو ٹیوب سے پیسے کمانے کا لالچ اور نا ہی مشاعرے لوٹنے کی کوشش۔ بس عقل و دانش کو لفاظی دی، حالات حاضرہ کو الفاظ کا پیرہن بخشا، سرکار کی ستم ظریفی پر تنقید کی، عوام کی کوتاہیوں کا ذکر کیا لیکن کمال درجے کے شاعرانہ حسن کے ساتھ۔ ذرا ملاحظہ ہو کہ
کتنا سیدھا ہے چراغوں کی تجارت کا اصول
بیچنے والے سویرا نہیں ہونے دیتے۔
اور صدر مشاعرہ محمد اظہار الحق کا یہ شعر پاکستان کی موجودگی سیاسی صورتحال کی کیا خوب عکاسی کرتا ہے کہ
کھا جائیں گے گھر کے محافظ، تیرے گھر میں فقط نام خدا باقی رہے گا
گنوا دیں گے ایک دن آخری بارہ دری بھی، مگر ظل الہہ کا طنطنہ باقی رہے گا
اپنی مدد آپ کے تحت منعقد کردہ یہ محفل مشاعرہ اس امر کی دلیل ہے کہ اردو ہماری اور اردو کو ہماری ضرورت ہے۔ دور حاضر میں جب نسل نو سکرینوں پر نظریں جمائے بچپن سے جوانی تک کا سفر طے کر رہی ہے چند ساعتیں ایک دوسرے کو سن کر، سراہ کر گزارنا ایک خوبصورت یاد تھی۔

