چین کا دیہی احیاء کا پروگرام


چین کا دیہی احیاء پروگرام ایک جامع قدم ہے جس کا مقصد ملک کے دیہی علاقوں میں خوشحالی اور پائیداری کو فروغ دینا ہے۔ یہ پروگرام سب سے پہلے صدر شی جن پنگ نے انیسویں قومی کانگریس کی رپورٹ میں متعارف کروایا تھا اور بیسویں قومی کانگریس کی رپورٹ میں اسے مزید اہمیت حاصل ہوئی۔

در اصل یہ پروگرام زرعی سائنس، ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچے اور مالیاتی خدمات کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ دیہی علاقے ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے رہیں۔ کلیدی پالیسی کے نمایاں خد و خال میں ”زرعی اور دیہی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں سرمایہ کاری کو بڑھانے کے لیے ورک پلان“ شامل ہے، جس کا مقصد زرعی اور دیہی بنیادی ڈھانچے کو اپ گریڈ کرنا، موثر سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ پروگرام کا ایک اور اہم پہلو ”مہاجر مزدوروں کے روزگار اور صنعت کاری کی حمایت پر عمل درآمد“ ہے، جس کا مقصد دیہی علاقوں میں مہاجر مزدوروں کے روزگار اور صنعت کاری کی حمایت کرنا ہے۔

چین کے دیہی احیا کے پروگرام میں سبز زراعت اور دیہی ترقی کو فروغ دینے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔ مثال کے طور پر، عالمی بینک نے سبز زراعت کو فروغ دینے، گرین ہاؤس گیس کے اخراج کو کم کرنے اور دیہی حکمرانی کو بہتر بنانے پر توجہ دینے کے ساتھ، حوبی اور ہینان صوبوں میں چین کے دیہی احیا کے پروگرام میں تعاون کے لیے 345 ملین ڈالر کے قرض کی منظوری دی۔

حال ہی میں بین الاقوامی تنظیموں کے سینئر نمائندوں نے جنوب مغربی چین کی چونگ کنگ بلدیہ میں غربت سے پاک کاؤنٹی کا دورہ کیا، جس میں چین کی غربت کے خاتمے کی کامیابیوں کا جائزہ لیا گیا اور دیہی ترقی میں مستقبل کے تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

چائنا انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کوآپریشن ایجنسی کی دعوت پر ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) جیسی تنظیموں کے چین کے دفاتر کے اعلیٰ سطحی عہدیداروں نے پینگشوئی میاؤ۔ توجیا خود اختیار کاؤنٹی کا دورہ کیا، جو کبھی جنوب مغربی چونگ کنگ کا ایک غریب خطہ تھا جہاں اب غربت کے خاتمے کا پروگرام کامیابی سے ہمکنار ہوا ہے۔

دورہ کرنے والے غیر ملکی عہدیداروں نے مقامی اسپتالوں، اسکولوں اور کاروباروں کا دورہ کیا، اور اس علاقے کی دیرپا سماجی و اقتصادی ترقی سے بہت متاثر ہوئے، خاص طور پر یہ کہ کس طرح مقامی نسلی اقلیتی گروہوں نے غربت پر قابو پانے کے لیے مقامی وسائل کا استعمال کیا ہے۔ اس دورے کے دوران، وفد نے پینگشوئی کی مستقبل کی ترقی پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا، اور خطے کی منفرد ضروریات اور حالات کے مطابق سیاحت، جدید زراعت، تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال جیسے شعبوں میں تعاون کو تلاش کرنے کے لیے اپنے متعلقہ پیشہ ورانہ فوائد اور بین الاقوامی اثر و رسوخ کو استعمال کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو چین کا دیہی احیاء پروگرام مشترکہ خوشحالی اور متوازن سماجی ترقی کے حصول کے لیے ملک کی کوششوں کا ایک اہم جزو ہے۔ ایک بڑے رقبے اور آبادی کے حامل ملک کے طور پر چین کی یہ کوششیں کسی بھی طرح عام کوششیں نہیں ہیں وہ بھی اس صورت کے غربت کے خاتمے کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ایک بار کوشش کی جائے اور نتیجہ آنے پر اس علاقے کو چھوڑ کر اگلے ہدف کی جانب جایا جائے بلکہ یہ ایک مسلسل کوشش ہے جس میں غربت سے پاک علاقوں کو واپس غربت میں نہ جانے دینے کی حکمت عملی اور کوششیں بھی شامل ہیں۔ یہ یقیناً ایک ایسا اقدام ہے جو قابل تقلید ہے۔

Facebook Comments HS