اک گوشہ نشیں لکھاری پہ تحقیق
مجھے ہمیشہ سے نت نئے لکھاریوں کا کھوج لگانے کا شوق رہتا ہے۔ بالخصوص اردو ادب کے ایسے رائٹرز جو نمایاں لکھ رہے ہیں مگر ان پہ لکھا کم جا رہا ہے۔ یا ایسے تخلیق کار جن کے کام کو پڑھتے ہوئے جینوئن اردو ادیبوں کا سا احساس ملتا ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ صوفیہ کاشف کا ہے۔ جو خاموشی سے اپنے کام میں مگن معلوم ہوتی ہیں۔ وہ مختلف اخبارات و آن لائن پلیٹ فارمز پہ فکشن و نان فکشن لکھتی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔
اس بلاگ میں محترمہ صوفیہ کاشف کے اسلوب میں چھپے فکری و ادبی محاسن کا اعادہ کرنے کی سعی کی جا رہی ہے۔ بنیادی طور پہ صوفیہ صاحبہ کا تعلق اسلام آباد سے ہے۔ تقریباً گیارہ سال متحدہ عرب امارات میں گزارنے کے بعد انہوں نے پاکستان واپسی کا فیصلہ کیا۔ اسی ہجرت، وہاں گزرے وقت اور واپسی کے مشکل سفر پہ انہوں نے اک کتاب لکھی ’پردیس سے دیس اور سفرِ حجاز‘ جس میں مقدس مقامات پہ بھی تفصیلات موجود ہیں۔ دراصل ان کی مذکورہ کتاب کا پہلا حصہ ریورس مائیگریشن پہ مبنی ہے۔
امریکی مصنف ولیم سفائر لکھتے ہیں : ”ریورس مائیگریشن صرف اپنے گھر واپس جانے کا نام نہیں ہے۔ بلکہ یہ اسی کتاب کا اک نیا باب ہے۔“
پاکستان واپسی پہ انہیں جہاں گھر تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا وہیں گھریلو ملازمہ کے لیے بھی ہاتھ پاؤں مارنے پڑے اور چند تلخ تجربات سے گزرنا پڑا۔
”وہ نہ صرف کام سے بھاگ گئی بلکہ چار باتیں بھی سنا کر گئی جنہیں سن کر میرے چودہ طبق روشن ہو گئے۔ جو کچھ باہر سے خود کھاتے تھے اسے بھی برابر کھلاتے تھے۔ اس موقع پر ہمیں اپنی ملائشین ملازمہ نور یاد آئی جو ابوظہبی میں بغیر ہمارے کہے گھر کا ہر کونہ رگڑ رگڑ کر صاف کرتی تھی اور ایک منٹ کو بھی چائے پانی کے لیے بیٹھتی نہ تھی۔“
(بحوالہ: پردیس سے دیس، چوتھی قسط، ڈان نیوز)
اس کتاب میں صوفیہ کاشف نے Social Realism کا عَلم اٹھائے زیادہ سے زیادہ تلخیوں کو سامنے رکھا ہے۔ اور اس ضمن میں انہوں نے باریک بینی کا مظاہرہ کر کے قارئین تک اپنی آواز پہنچانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
اپنے ایک افسانچے میں انہوں نے جدید دنیا کے بدلتے تقاضوں اور خوابوں کے حصول میں کھو جانے والی اصل زندگی کی طرف خوبصورت اشارہ دیا ہے۔ افسانچہ کا ایک مختصر ٹکڑا پیشِ خدمت ہے :
” سارا دن سپر مارکیٹ کی مزدوری کر کے شام کو لوٹتی، تو دروازے پہ ویلکم اور بائے کا اک بوسہ، اور پھر وہی زندگی کی تنہائی۔“
(افسانچہ خواب: ریختہ ڈاٹ کام)
اک برطانوی نژاد امریکی شاعر و یسٹن اوڈن نے لکھا ہے :
”We would rather be ruined than changed; we would rather die in our dread than climb the cross of the moment and let our illusions die.“
The Age of Anxiety: 1947
موضوعاتی اعتبار سے صوفیہ کاشف کے ہاں بھی جدید رویوں میں چھپی ناراضگی، اکیلا پن، خوابوں کی تلاش میں تنہا سفر کرنا بارہا ملتا ہے۔ یہ وہی تنہائی اور کھوکھلا پن ہے جس کے بارے میں ایلیٹ نے The Hollow Men میں برملا اشارے دیے تھے۔ اور یہ تنہائی بڑھتی، پھیلتی پھولتی ہوئی اکیسویں صدی تک آن پہنچی ہے۔
ایک دوسری کتاب ’گہر ہونے تک‘ ان رائٹرز کی ہمت بڑھانے والی تحقیق ہے۔ ایسے بہت سے مشہور و معروف لکھاریوں کی زندگیوں کا اعادہ کیا گیا ہے جنہوں نے حالات کی سختیوں کا بھرپور مقابلہ کیا اور اتار چڑھاؤ کا سامنا کرتے ہوئے ادبی تاریخ میں اپنا مقام حاصل کیا۔ ان میں ساغر صدیقی، ممتاز مفتی، پاؤلو کوئیلو، اوپرا ونفرے، ولیم شیکسپیئر، سڈنی شیلڈن، اروحان پامک اور والٹ ڈزنی کا تفصیلی ذکر ملتا ہے۔ اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ موصوفہ نے Fiction versus Faction کے درمیان کمال امتیاز کیا ہے۔ فکشن لکھنے والوں کو صرف حقائق تک رہنا آسان نہیں ہوتا۔ وہیں حقائق بیان کرنے والوں کے لیے فکشن میں رہنا کہیں دوبھر ہوجاتا ہے۔ یہ کتاب ان کی ریسرچ اسکلز کی اک بہترین مثال ہے۔
محترمہ نے ”ممی کی ڈائری“ کے عنوان سے چودہ اقساط پہ محیط ایک سلسلہ بھی لکھا ہوا ہے۔ جس میں بطور والدہ پیش آنے والے مختلف چیلنجز کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اک ماں کے رویے میں تبدیلیوں کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس میں انہوں نے بچوں کی پڑھائی، بچوں کی تنہائیاں، پریوں کی داستاں، عیدین پہ کی گی تربیت اور دیگر موضوعات پہ خیال آفرینی کی ہے۔ اک باب پڑھتے ہوئے جس خوش کن پہلو کا سامنا ہوا تھا وہ ان کی ایک ہی نکتے کو کئی زاویوں سے دیکھنے کی صلاحیت ہے۔ یعنی اک ہی مسئلہ کو مختلف زاویوں سے دیکھ کر مسئلہ ختم بھی کیا جاسکتا ہے۔ عام طور پہ ہم Tunnel Vision کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ماؤں کو غصہ آنے کی وجوہات پہ چند نکات ان کے تحریر کردہ مضمون سے درج ذیل ہیں :
الف : مزاج دھیما کرنے والی سہیلی یا پڑوسن کی کمی۔
ب : جب گھر کا ہر فرد توجہ کا طالب ہو۔
ج : پردیس میں ممکنہ طور پہ سماجی تنہائی کا شکار ہونا۔
د : اپنے دل کی باتوں کو ہلکا کرنے اور ’می ٹائم‘ کی کمی کا احساس۔
ہ : کام کی زیادتی اور کام بٹانے والوں کی کمی۔
درج بالا و دیگر عناصر سے ہم ماؤں کی سائیکی کو بہتر سمجھ پاتے ہیں۔ یہی فکر عام قارئین کے لیے مشعل راہ ہے جس سے وہ خواتین کی نفسیات کو سمجھ سکیں گے اور بہتر اور ذمہ دار سرکل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ وہ اپنی یادداشت کے فولڈرز بھی اکثر و بیشتر آئی جی، اپنی آفیشل ویب سائٹ اور فیس بک پہ شیئر کرتی رہتی ہیں۔ جس سے ان کی اپ ٹو ڈیٹ رہنے، حالات حاضرہ پہ گہری نظر رکھنے اور کھرے رویوز دینے کی عادت بھی نظر آتی ہے۔
”پاکستان میں کوئی انٹرنیشل مینو ملے بھی تو وہ پاکستانی کک کے بنے ہوئے ہونے کی وجہ سے مکمل مختلف ذائقہ رکھتا ہے۔ یو اے ای کے تمام ہوٹلز اور ریسٹورنٹ میں ہر ملک کے کھانے کے لیے اسی ملک کا کک رکھا جاتا ہے۔ اسی لیے ہر کھانا بالکل سٹینڈرڈ ذائقہ کا ملتا ہے۔ پاکستان میں کتنے لوگ جانتے ہیں کہ چینی کہلائے جانے والے کھانے دراصل چائنہ کے نام پہ دھندا ہیں۔“
(بحوالہ: ذائقے کی یادیں : صوفیہ لوگ ڈاٹ بلاگ)
ابھی تک کے تحقیقی سفر میں جتنا بھی صوفیہ کاشف کے لکھے پہ جاننے کی کوشش کی گئی ہے۔ وہ پرو ایکٹو خاتون و ماں ہونے کے باوجود بھی سپاٹ لائیٹ سے الگ اپنے کام میں ہمہ تن مصروف معلوم ہوتی ہیں۔ جو پسند آئے لکھ دیتی ہیں یا کتاب کی صورت عام قارئین تک پہنچاتی ہیں۔


