سائبر قوانین میں ترامیم اور پھولوں کے ہار پہنے ہوئے سائبر کرمنلز
انٹرنیٹ کے سامنے بند باندھنے، فائر وال کا انتظام کرنے اور وی پی این کی رجسٹریشن لازمی قرار دینے کے بعد بھی ریاستی حفاظتی ادارے اور حکومت وقت ”کی بورڈ“ جنگجوؤں کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔ لاہور کے نجی تعلیمی ادارے میں لڑکی کے ساتھ زیادتی کی جھوٹی خبر ہو یا ہر آئے دن ”گنڈاپوری انقلاب“ کی پیدا کردہ خبریں ہوں، انہوں نے حکومت کو سائبر قوانین مزید سخت کرنے کا راستہ دکھایا ہے۔ انصافیوں کے اسلام آباد آئے آخری ”انقلابی مارچ“ میں شریک فرد کو نماز کے دوران دھکا دینے اور انقلاب کا راستہ روکنے کے دوران 250 لوگوں کی شہادت کی سوشل میڈیائی خبروں کے بعد وفاقی حکومت سائبر قانون 2016 میں ترمیم کے لیے مسودا تیار کیے بیٹھی ہے۔ بتایا یہ جا رہا ہے کے جھوٹی خبروں اور پروپیگنڈا روکنے کے لیے یہ اقدام کرنے پڑ رہے ہیں۔ گلا گھوٹنے اور زبان بندی کی پرانی روایت کو مزید زندگی بخشنے کی یہ تیاریاں ہیں۔
ملک کے حفاظتی ادارے اور قانون ساز ادارے سختیاں بڑھا سکتے ہیں، زبان بندی کروا سکتا ہیں مگر دور حاضر میں کی بورڈ جنگجوؤں سے نپٹنا ان کے بس کی بات نہیں۔ خبر سے خواہش، جھوٹ اور مشکوک حوالے جدا کرنے کے لیے جس چھاننی کی ضرورت ہے وطن عزیز کے میڈیائی اداروں میں اس چھاننی کو مطلوب جگہ نہیں مل سکی تو سوشل میڈیا کے جنگل میں تو ابھی دہلی دور است ہے۔
پروپیگنڈا تو دنیا میں آخری دو مختلف انسانوں اور دو مختلف خیالات تک رہنا ہے اس کے خاتمے کا تصور انسانی شعور کے خاتمے جیسا ہے۔ اس دلیل کو دیکھنے کے لیے آسمانی کتابوں کی مثالیں کافی ہیں۔
موجود سائبر قوانین اور ان پر عمل درآمد کروانے کا جو کمزور نظام ہے اس کو بہتر کرنے کی طرف توجہ نہیں دی جاتی۔ ملک میں سائبر کرائم کے قوانین پر عملدرآمد کروانے والے ادارے ایف آئی اے سائبر کرائم کا کیا حشر ہے۔ ملک بھر میں کتنی فارنزک لیبارٹریز ہیں، موجود لیبارٹریز کی فارنزک رپورٹس کا معیار کیا ہے، ملزمان کی گرفتاری کے وقت ان سے ملنے والی ٹیکنالوجی کے آلات کو کیسے محفوظ کرنا ہے، مختلف کمپنیز کے موبائل فونز، لیپ ٹاپس، ٹیبلیٹس اور کمپیوٹرز وغیرہ کے سافٹ ویئرز اور پاس ورڈس تک رسائی کیسے ممکن ہے؟ ایف آئی ای کے پاس ایسی سہولیات، وسائل اور ذرائع موجود ہی نہیں جو ان تمام چیزوں کو احتیاط اور گہرائی سے دیکھ سکیں۔ سب سے بڑی بات درکار اہلکاروں کی تعداد ہے جو ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کی آبادی کے سامنے نہ ہونے کے برابر ہے۔
انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے استعمال کرنے والوں کی جتنی آبادی ہے اتنا ہی سائبر کرائم بھی ہے۔ اس جرم کا ایک بڑا مسئلہ کسی جیوگرافکل سرحد کا متعین نہ ہونا بھی ہے۔ وطن عزیز میں پرچے کے بعد عدالت میں ملزم کے وکیل کا عدالت کے سامنے پہلا اور آسان سوال ہی یہ ہوتا ہے کے ملزم کے خلاف جہاں پرچہ کاٹا گیا ہے وہ حد نہیں لگتی، یہ پرچہ غلط کاٹا گیا ہے۔ فرض کریں جامشورو کے کسی اعلیٰ تعلیمی ادارے میں کام کرنے والا فرد کسی سوشل میڈیا ہینڈل پر اپنی نازیبا تصاویر راولپنڈی میں دس دنوں کے قیام کے دوران دیکھے گا تو وہ اس جرم کو رپورٹ پنڈی میں ہی کرے گا۔ جب ملزم بھی جامشورو کا نکلے گا اور شکایتی بھی جامشورو کا تو ملزم کا وکیل روایتی فوجداری مقدمے کی عدالت میں دلائل دے کر ملزم کو بری کروا لے گا۔ ایف آئی ای کے پاس ایسے بہت سے پرچے اور مثالیں موجود ہیں۔
سب سے پہلے سائبر کرائم کے قوانین اور ان پر عملدرآمد کے طریقے کار کو روایتی فوجداری مقدموں کے قوانین سے الگ کروایا جائے۔ قانون شہادت فوجداری مقدموں کا لاگو نہ کیا جائے۔ اگر نہیں تو سائبر کرائم کے ملزمان عدالتوں سے رہا ہو کر معاشرے میں باقی کی بورڈ جنگجوؤں کے ہیرو بن کر پھرتے رہیں گے، ان کو سرخرو سمجھا جائے گا اور عدالتوں سے بری ہونے پر گلے میں پھولوں کے ہار بھی ڈالے جاتے رہیں گے۔ عدالتی فیصلوں کے اثرات سے معاشرے جڑتے ہیں معاشروں میں رجحانات پیدا ہوتے ہیں۔
سائبر کرائم کے مقدمات چلانے والے سرکاری وکلا ٹیکنالوجی کے آلات، سافٹ ویئرز اور ان کے ناموں اور اصطلاحات سے اتنے ہی بے خبر ہیں جتنے جناب عزت ماب جج صاحبان ہیں۔ سائبر کرائم کیسز چلانے کے لیے عدالتیں مخصوص ہیں مگر اکثریتی جج صاحبان سات دن میں بھی یہ بات نہیں سمجھ سکتے کے یہ آئی پی (انٹرنیٹ پروٹوکول) ایڈریس کس بلا کا نام ہے اور یہ انسانی ڈی این ای کی طرح کیسے یونیک ہوتی ہے۔ انسٹاگرام، ایکس (سابق ٹویٹر) ، فیس بک اور واٹس ایپ وغیرہ کے اکاؤنٹ کیسے بنتے ہیں اور ان کے چلانے کا نظام کیسے ہوتا ہے۔ یہ سمجھنے والے وکلا کی تعداد بہت کم ہے اور جناب عزت ماب جج صاحبان میں سے کم ہی ہوں گے جو سائبر کرائم کے مقدمے کو روایتی فوجداری کے مقدمے کے انداز اور شہادت کے معیار سے نہ پرکھتے ہوں۔ ٹیکنالوجی کی شہادتوں کو انسانی شہادت کے معیار سے اول درجے پر رکھتے ہوں۔ روایتی فوجداری کے مقدمات میں شک کیا ہوتا ہے، ملزم کو شک کا فائدہ کیسے دینا ہے سائبر کرائم کے مقدمات کا فیصلہ کرنے والے جج اس ہی زاویہ سے مقدمات کو دیکھتے ہیں۔ ٹیکنالوجی اور فارنزک کے ٹھوس شواہد ہونے کے باوجود سائبر کرائم کے مقدمات کے ملزمان عدالتوں سے رہا ہو جاتے ہیں۔
اگر حکومت ایف آئی ای سائبر کو مطلوب سہولیات مہیا کرے، سرکاری وکلا اچھے رکھے اور ججز کی ٹریننگ کروائے تو کافی بہتری آ سکتی ہے، باقی گلا گھونٹنے اور زبان بندی کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا ہے تو یا بسم اللہ۔


