تحریک انصاف پر پابندی


اسلام آباد میں حالیہ احتجاج کے بعد تحریک انصاف پر پابندی کے سوال نے وزیر اعظم شہباز شریف کے بیان کے بعد شدت اختیار کر لی اور سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا ہے۔ وزیر اعظم نے سول اور عسکری قیادت سے اپیل کی کہ وہ ملک میں امن و استحکام کو یقینی بنانے او بدامنی روکنے کی حکمت عملی بنائیں۔ ایسے احتجاج ملکی امن، سیاسی و معاشی استحکام، اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے خطرہ ہیں۔ مظاہروں کے نتیجے میں روزانہ تقریباً 190 ارب روپے کا معاشی نقصان ہوا جبکہ برآمدات، درآمدات، اور کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔ وزیر اعظم نے پی ٹی آئی پر 2014 کے 126 دن کے طویل دھرنے اور حالیہ مظاہروں کے دوران پولیس اور رینجرز اہلکاروں پر حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے پارٹی پر امن و امان خراب کرنے کا الزام لگایا۔ بلوچستان اسمبلی نے پی ٹی آئی پر پابندی کے حق میں قرارداد منظور کی جبکہ پنجاب اسمبلی میں بھی ایسی ہی قرارداد پیش کی گئی ہے جس میں پارٹی پر ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔ پی ٹی آئی پر پابندی کے حق میں دلائل کے باوجود تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسی پابندی جمہوریت کے لیے نقصان دہ اور سیاسی عمل کو محدود کرنے کا خطرہ پیدا کرے گی۔

حکومتی حلقوں کے مطابق پاکستان اور تحریک انصاف ایک ساتھ نہیں چل سکتے، ممنوعہ فنڈنگ، 9 مئی کے حملے، دہشت گردوں کو واپس لانا، امریکہ میں قراردادیں، سائفر کا کھیل، علیحدگی پسند تحریکوں کی حمایت اور بار بار وفاق پر چڑھائی جیسے ثبوتوں کے باعث پی ٹی آئی کو بین ہونا چاہیے۔

ماضی میں جن سیاسی جماعتوں پر پابندیاں لگیں ان کی وجوہات ریاست مخالف ایجنڈے کی پیروی، دشمن ممالک سے امن و امان کی خرابی کے لئے مالی تعاون کا حصول، مطلق العنان حکمرانوں کو چیلنج، جمہوری حکومتوں کے خلاف سازشیں اور انتخابی قوانین کی خلاف ورزی بیان کی گئیں۔ زیادہ تر جماعتوں پر دہشت گردی میں ملوث اور سیکورٹی خطرہ قرار دینے پر پابندیاں لگیں تا ہم کچھ جماعتوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بھی بنایا گیا، بہت سی جماعتیں دوبارہ منظر عام پر آئیں تو انہیں عوامی حمایت کے لیے زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا، ان میں نیشنل عوامی پارٹی شامل ہے۔ 1958 میں ایوب خان نے تمام سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کی تو مولانا عبد الحمید بھاشانی کی نیشنل عوامی پارٹی کو جسے کمیونسٹ نظریے کی حامی جماعت سمجھا جاتا تھا، سب سے پہلے مارشل لاء حکومت کا عتاب سہنا پڑا۔ 1962 ءمیں سیاسی جماعتوں سے پابندی ہٹائی گئی تو پارٹی دوبارہ بحال ہو گئی۔ مولانا بھاشانی کے صدارتی انتخابات میں فاطمہ جناح کے مقابلے میں ایوب خان کی حمایت کے فیصلے پر 1967 میں پارٹی منقسم اور اس کے رہنما بڑی تعداد میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی میں شامل ہو گئے۔ مغربی پاکستان میں عبدالولی خان کی جماعت پر یحییٰ خان نے 1971 میں پابندی عائد کی۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد اس جماعت کی سرحد (پختونخوا) اور بلوچستان میں مخلوط حکومتیں قائم ہوئیں، غوث بخش بزنجو بلوچستان کے گورنر اور سردار عطاء اللہ مینگل وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔ سرحد میں مولانا مفتی محمود وزیر اعلیٰ اور ارباب سکندر خلیل گورنر مقرر ہوئے 1973 میں بھٹو نے بلوچستان حکومت ختم کردی۔ قومی سلامتی کو لاحق خطرات، اسلام آباد میں عراقی سفارتخانے سے ہتھیاروں کی برآمدگی، اکبر بگٹی کی جانب سے مبینہ طور پر پاکستان کے مزید ٹکڑے کرنے کے لندن منصوبے اور دونوں حکومتوں پر ”پختونستان“ بنانے کے الزامات عائد کیے گئے۔ بلوچستان حکومت کے خاتمے کے بعد سرحد حکومت نے بھی احتجاجاً استعفا دے دیا۔ 8 فروری 1975 ءکو ولی خان کی پارٹی کو دوبارہ کام سے روک دیا گیا۔ بھٹو نے عطا اللہ مینگل، غوث بخش بزنجو، خیر بخش مری و دیگر رہنماؤں کو ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام پر جیل میں ڈال دیا اور اپنے قریبی ساتھی حیات شیرپاؤ کے قتل کا الزام بھی لگایا۔ بھٹو نے ولی خان کو 1976 میں حیدرآباد سازش کیس میں بھی ملوث کیا۔ یہ لیڈر حیات شیرپاؤ کے قتل سے بری ہو گئے۔ جماعت عدالتی پابندی کے باوجود، 1976 میں نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی بن گئی اور اختلافات کے باعث اے این پی بنی۔ آئین کے آرٹیکل 17 ( 2 ) کے تحت حکومت ایسی سیاسی جماعت پر پابندی لگا سکتی ہے جو ریاستی سالمیت اور خودمختاری کے خلاف کام کرے۔ قانونی طریقہ کار کے مطابق وزارت داخلہ سمری کابینہ کو بھیجتی اور منظوری کے بعد اس کا نوٹیفیکیشن جاری کرتی ہے۔ جس کے بعد پارٹی رجسٹریشن اور اسمبلی نمائندگی الیکشن کمیشن ختم کر دیتا ہے۔ نوٹیفیکیشن سے پہلے ارکان اسمبلی سپیکر کو پارٹی سے وابستگی ختم کرنے سے آگاہ کریں تو ان کی رکنیت برقرار رہتی ہے۔ جماعت کو پابندی کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کا حق ہے۔ سپریم کورٹ حکومتی فیصلے کو درست قرار دے تو پارٹی ختم، اس کے دفاتر، اثاثہ جات اور بینک اکاؤنٹس ضبط ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں نام بدل کر کام کرنے کا قانون موجود نہ ہونے پر سیاسی جماعتیں دوسرے ناموں سے کام جاری رکھتی ہیں۔

2001 ءسے 2015 ءتک 60 سے زائد مذہبی سیاسی جماعتوں اور ان کی ماتحت تنظیموں پر پابندی عائد کی گئی جن میں سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ، لشکر طیبہ اور جیش محمد شامل تھیں۔ 2015 ءمیں نیشنل ایکشن پلان کے تحت کئی جماعتوں اور تنظیموں کے اثاثہ جات قبضے میں لے کر بینک اکاؤنٹس منجمد کیے گئے۔ 2018 ءکے انتخابات سے پہلے ملی مسلم لیگ تشکیل دی گئی، لیکن امریکہ کی پابندی کے باعث اسے رجسٹریشن نہیں دی گئی تو اس کے امیدواروں نے اللہ اکبر تحریک کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لیا۔ تحریک لبیک پاکستان نے 2018 ء میں پہلی بار انتخابات میں حصہ لیا اور پنجاب کے کئی حلقوں میں تیسرے نمبر پر جبکہ سندھ اسمبلی کی دو نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ تحریک لبیک پر عمران خان کے دور حکومت میں پابندی لگی جو بعد میں ایک معاہدہ کے تحت ختم کردی گئی۔

سیاسی مبصرین اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پی ٹی آئی کا مستقبل خود خان کے ہاتھوں میں ہے۔ انہوں نے اپنی حکمت عملی درست کرلی اور غلطیوں سے سبق سیکھا تو وہ اور ان کی پارٹی سیاست میں کردار ادا کر سکیں گے ورنہ ان کی مشکلات میں بہت زیادہ اضافہ ہو گا۔ عدالتوں میں 9 مئی جیسے واقعات میں قیادت کا ملوث ہونا ثابت ہو گیا تو پارٹی کو مزید سنگین صورت حال کا سامنا ہو گا۔ عمران خان کو مقبولیت کو آزمائش میں ڈالنے کی بجائے اپنی توانائیاں جمہوری اقدار کی بہتری میں صرف کرنی چاہئیں۔ جمہوریت برداشت کا نام ہے، حکومت کو چاہیے کہ وہ پابندی لگانے کی کارروائیوں سے باز رہے اور عوام سے کیے گئے وعدے پورا کرے۔ تا کہ لوگ ہی ٹی آئی کو بھول جائیں۔ پاکستان کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ عوامی مقبولیت کی حامل سیاسی قوتیں غیر سیاسی انداز میں راستہ روکنے سے منظر سے ہٹتی نہیں۔ بہر حال دیکھیں اور انتظار کریں کہ فریقین سیاست کو کس انداز میں آگے بڑھاتے ہیں۔

آخری سطور لکھتے وقت خبر آئی ہے کہ پی ٹی آئی قیادت نے اسٹیبلشمنٹ سے رابطوں کی امید کے مکمل خاتمے کے بعد 8 فروری کا مینڈیٹ تسلیم کرنے اور بات چیت کا عندیہ دیتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے رجوع کیا ہے۔ خدا کرے کہ فریقین ملک کے لیے اپنی ”اناؤں“ کی قربانی دے کر سیاسی و معاشی استحکام کے لیے اپنی توانائیاں صرف کریں۔

Facebook Comments HS