بنگلہ دیش کا خونی آغاز 1971۔ 1981
16 دسمبر 1971 کو پاکستانی فوج کے سرنڈر کے بعد مشرقی پاکستان کی تاریخ تو رک گئی لیکن بہت سوں کے لئے بنگلہ دیش کے حالات میں بھی دلچسپی نا رہی، جیسے نئے بنے ملک میں گورننس کا تجربہ اور ان بنگالیوں کے حالات سے واقفیت جو اس وقت پاکستان میں محصور ہو گئے تھے وغیرہ۔ آج کل پاکستان میں 71 کے حالات میں ایک دفعہ پھر دلچسپی یہاں کے موجودہ حالات کے کیے گئے موازنہ کی وجہ سے ہے لیکن کچھ مہینہ پہلے خود بنگلہ دیش میں ہوئے واقعات نے وہاں آزادی کے بارے میں رویہ میں (دوبارہ) تبدیلی پیدا کر دی ہے۔
یہ دلچسپ ہے کہ بنگلہ دیش بننے کے پہلے ہی دس سال میں وہاں آزادی حاصل کرنے کی بے پناہ خوشی سے لے کر اس کے متعلق رویوں میں ایک تبدیلی آ گئی تھی۔ اس تبدیلی کے پیچھے ایک تو کسی داخلی انقلاب کے بعد عام طور پر ایک استبداد کے طاقت سے ہٹائے جانے کے بعد دوسرے ایسے ہی کے اقتدار میں آ جانے کی بدقسمت حقیقت ہے۔ لیکن اس کے علاوہ وجوہات میں نئے بنے بنگلہ دیش میں مجیب کی حکومت کا جنگ آزادی لڑنے اور نا لڑ سکنے والوں سے سلوک، انڈیا سے تعلقات اور مذہب کے متعلق رویہ بھی شامل تھا۔ اس کے علاوہ بنگلہ دیش میں شروع سے ہی امن امان کا مسئلہ بن گیا جو سول وار کے نتیجہ میں بڑی تعداد میں متروکہ ہتھیار اور بائیں بازو کی انتہا پسند نظریات کی بھرمار کے باعث بھی تھا۔
غیر جانبدار سکالرز کی نظر مجیب الرحمان کا بحیثیت پاکستانی سیاستدان 70 کے الیکشن سے کچھ پہلے، ان کے دوران اور اس کے بعد اقتدار کی منتقلی کے لئے ہوئے مذاکرات میں کردار متنازعہ تھا۔ اس نے اپنی شخصیت کے کرشمہ اور شعلہ بیانی سے بنگالیوں کو ان کے حقوق دلوانے کی مہم تو چلائی لیکن وہ بنگلہ دیش بننے کے بعد بطور وزیراعظم انتظامی اور اقتصادی امور میں مکمل ناکام ثابت ہوا۔ اسے آزادی کے فوراً بعد آئین بنوانے میں بھی کامیابی ہوئی لیکن عوامی لیگ دوسرے سال ہی میں ہوئے عام انتخابات میں مقبولیت کھونے لگی اور تین سال کے اندر ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ ملک میں ایمرجنسی لگانی پڑ گئی۔ مجیب نے مسلسل بے قابو ہوتے حالات میں آئین میں زبردستی سے کی گئی ترامیم کے مدد سے ملک میں صدارتی نظام اور سنگل پارٹی کی حکومت کا آغاز کر دیا جو دراصل ایک شخصی آمریت کا قیام تھا۔
مجیب کی نیشنلائزیشن پالیسی نے جہاں حکومتی ذمہ داریوں کو مزید بڑھا دیا تھا وہیں سویلین عہدوں پر ان وفادار سمجھے گئے مگر نا تجربہ کار بنگالیوں کو ترقی کے لئے فوقیت دی گئی جنہوں نے 71 میں پاکستانی ایڈمنسٹریشن کو آزادی کی جنگ سے پہلے ہی چھوڑ دیا تھا۔ ملک کی فوج میں ترقیوں کے بارے میں بھی یہی پالیسی روا رکھی گئی اور مزید ازاں مجیب نے اپنے وفاداروں پر مشتمل ایک پیرا ملٹری نیشنل سکیورٹی فورس کا قیام بھی کر دیا تھا۔ اس سب کے علاوہ انڈیا سے قربت اور نتیجتاً سیکولر پالیسیوں نے ایسی غیر مقبولیت پیدا کر دی کہ 15 اگست 1975 کو جب دو میجروں کی قیادت میں ایک فوجی دستہ نے مجیب اور اس کی فیملی کے زیادہ تر افراد کو اس کے اپنے ہی گھر میں قتل کر دیا تو اس پر پورے ملک میں کہیں بھی کوئی خاص ردعمل نہیں تھا۔
مجیب کی پالیسیوں سے البتہ اب تک بنگلہ دیشی فوج (اور معاشرے ) میں ایسی تقسیم ہو چکی تھی جو نومبر تک دو مزید بغاوتوں کی صورت میں سامنے آئی۔ پہلی میں فوج کے اعلی افسران نے مجیب کے قتل کے بعد قائم ہوئے نظام کو الٹایا لیکن تین دن بعد ہی فوجی سپاہیوں نے ایک اور کامیاب بغاوت کر دی۔ اس تازہ بغاوت کے نتیجہ میں جنرل ضیا الرحمن چیف آف آرمی سٹاف کے عہدہ پر بحال ہو گیا تھا۔ یہ ایک طرح سے ضیا دور کا آغاز تھا جس کی پالیسیاں دور رس ثابت ہوئیں اور بنگلہ دیش میں جمہوریت، معاشی اور معاشرتی ترقی کا پیش خیمہ بنیں۔
جمہوریت کی بحالی کی طرف اٹھائے گئے اقدامات اور عوام میں بے پناہ مقبولیت کے باوجود جنرل ضیا خود بھی آخرکار فوج میں اسی تقسیم کا شکار بن گیا جس سے بنگلہ دیش کسی صورت جان چھڑانے کے قابل نہیں ہو رہا تھا۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد ضیا کو قتل کر دینے کی بیسیوں کوششیں ہوئیں جن میں سے ایک ناکام کوشش فوج کے سگنل کور اور ائر فورس کے جوانوں کی بغاوت بھی تھی۔ یہ دلچسپ ہے کہ اس بغاوت میں ضیا کی جان مصر کے صدر انور سادات کی وارننگ کے باعث بچی جس نے اسے مصر کے دورہ میں بنگلہ دیش ائر فورس ڈے کی تقریبات کے دوران قاتلانہ حملے کی پلاننگ سے آگاہ کر دیا تھا اور ضیا نے واپس آ کر ان تقریبات میں شرکت سے معذرت کر لی۔ لیکن 29 مئی 1981 کو بالآخر ضیا کو چٹاگانگ کے سٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں ایک میجرجنرل کی بنائی سازش میں فوجی افسروں اور جوانوں کے ایک گروپ نے قتل کر دیا۔
ان سب بغاوتوں، حکومت اور فوجی قیادت کی تبدیلیوں میں موجود عوامل وقت کے ساتھ ساتھ سامنے آتے رہے۔ سب سے پہلے تو حکومتی پالیسیوں کے باعث پیدا ہوئی وہ کشمکش تھی جو بنگلہ دیش کے لئے لڑی گئی جنگ میں شامل ہوئے لوگوں جنہیں فریڈم فائٹرز کہا گیا اور ایسے بنگالیوں کے درمیان تھی جنہوں نے انتظامی وجوہات یا ڈسپلن کے تحت پاکستان کی سول سروس یا فوج سے فوری کھلی بغاوت نہیں کی تھی۔ اس کے علاوہ وہ معاشرتی دراڑیں تھیں جو مجیب کی انڈیا نواز پالیسی اور پین بنگالی نیشنلزم کے فروغ، سیکولرزم پر مبنی آئین اور آخر میں مجیب ازم کے تحت شخصی آمریت کے قائم کرنے کے باعث پیدا ہوئیں۔ پھر وہ ردعمل بھی تھا جو مجیب کی پالیسیوں میں سے کچھ کو جنرل ضیا کے دور میں ریورس کرنے سے پیدا ہوا جیسے بنگالی کی بجائے بنگلہ دیشی نیشنلزم کا فروغ، سیکولر کی بجائے آئین کو اسلامی رنگ دینا اور فریڈم فائٹرز کے علاوہ دوسرے بنگالیوں کو بھی سول سروس اور فوج میں ترقی کے لئے شامل کرنا تھا۔
اسی دہائی میں ان بنگالیوں کا تجربہ بھی قابل ذکر ہے جو بنگلہ دیش کے قیام کے وقت پاکستان میں موجود تھے، ایسے لوگوں میں سویلین اور فوج سے تعلق رکھنے والے شامل تھے۔ یہ عام طور پر بھلا دیا جاتا ہے کہ جہاں ترانوے ہزار فوجی اور سویلین پاکستانی 71 میں انڈیا کی قید میں چلے گئے وہاں تقریباً اتنے ہی بنگالی سروس مین ایسے بھی تھے جنہیں مغربی پاکستان میں کیمپوں میں رکھا گیا جب تک انڈیا نے 73 میں پاکستانی جنگی قیدی چھوڑ نہیں دیے تھے۔ ان میں سے چند بنگالی فوجی مغربی پاکستانی سرحد پار کر کے انڈیا میں داخل ہوئے اور بنگلہ دیش کی جنگ آزادی میں شامل بھی ہو سکے۔
بنگلہ دیش اپنی پہلی دہائی میں شدید معاشی مشکلات اور معاشرتی تقسیم کے باوجود لسانی اور ثقافتی اعتبار سے بڑی حد تک یکسانیت رکھنے والا ملک تھا۔ یہ سوچا جا سکتا ہے کہ کوئی دوسرا ملک جس میں ایسی یکسانیت نا ہوتی وہ ایسے معاشی اور معاشرتی مسائل اور پے در پے ہوئی فوجی بغاوتوں سے پیدا ہوئی بدانتظامی کے دباؤ میں ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا۔ بنگالیوں کو اس خطہ کے لوگوں پر ایک اور فوقیت ان کا پچھلے ستر سال سے اپنے مطالبات کو منوانے کے لئے متعدد تحریکیں چلانے کا تجربہ بھی تھا جس نے ان کو ان تمام مشکلات کے باوجود جمہوریت کے لئے بے چین اور پرعزم رکھا تھا۔
میں نے یہ مضمون لکھنے کے لئے ان کتابوں کا مطالعہ کیا ہے ؛
بنگلہ دیش اینڈ پاکستان، فلرٹنگ ود فیلیؤر ان ساؤتھ ایشیا؛ ولیم بی میلام
آ ہسٹری آف بنگلہ دیش؛ ولیم وین شنیڈل
بنگلہ دیش، لیگیسی آف بلڈ؛ انتھونی ماسکیرنہاس


