شیخا اور جسرت گکھڑ: (اعتزاز احسن کی کتاب ’دی انڈس ساگا‘ سے ماخوذ)
پنڈی اور جہلم کے درمیان دو قدیم پنجابی جرنیلوں شیخا گکھڑ اور اس کے بیٹے جسرت رائے گکھڑ کا بڑا نام تھا۔ شیخا گکھڑ، پوٹھوہار کا ایک سردار تھا۔ تیمورلنگ دہلی جاتے ہوئے جب پنجاب سے گزرے تو شیخے نے اس کا مقابلہ کیا اور لڑتے ہوئے مارا گیا۔
شیخے کو قتل کر کے تیمور اس کے بیٹے جسرت کو اپنے ساتھ ثمرقند لے گیا۔ مگر جسرت بھی راجپوت کا بیٹا تھا۔ تیمور کی جیل توڑ کر ایشیائے کوچک کے پہاڑوں سے ہوتا ہوا پنجاب بھاگ آیا۔ اس نے سالٹ رینج کے گکھڑوں اور بھٹیوں کو متحد کر کے فوجی لشکر تیار کرائے اور مغل بادشاہ بابر کے مدمقابل آیا۔ لیکن بابر کی طاقتور توپوں کا سامنا نہ کر سکنے کی وجہ سے جسرت کشمیر بھاگ گیا۔ پھر اس کی لڑائی کا طریقہ یہ رہا کہ پنجاب میں داخل ہو کر مغل لشکر کے ساتھ لڑائیاں کر کے کشمیر بھاگ جاتا تھا۔
اس طرح چودھویں صدی میں پنجاب میں تین طاقتور گروہوں افغان، مغل حاکموں اور مقامی پنجابی جنگجوؤں کے درمیان تسلط حاصل کرنے کے لئے زبردست لڑائیاں ہوئیں۔ ان بغاوتوں کا سلسلہ برسوں پر محیط ہے۔ اس لئے سالٹ رینج میں گکھڑوں اور بھٹیوں کو تابع کرنے کے لئے شیرشاہ سوری نے پنڈی کے قریب روہتاس قلعہ تعمیر کروایا۔
ان حملوں اور قتل عام سے پنجابی سماج میں خوف و دربدری کا جو احساس پیدا ہوا۔ اس کی جھلک پندرہویں صدی کے قصے ہیر رانجھا میں نظر آتی ہے۔ کھیتی باڑی کے پیشے سے منسلک ہونے کی وجہ سے رانجھوں کو کمتر سمجھا جاتا تھا۔ دربدری، سماجی ذلت اور اس وقت کے پنجاب میں موجود سماجی تضاد اس داستان کے اہم موضوعات ہیں۔ سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں جنگ کے ستم زدہ عام پنجابی مرد اور عورت کے لئے جھنگ سیال ایسی آئیڈیل جگہ تھی جو کہ لڑائیوں اور قتل عام سے دور، نسل، زبان، عقیدے، جنس اور طبقاتی نظام سے آزاد لوگوں کا آستانہ تھا۔
لیکن آج کے پنجابی کی یادداشت میں ان موضوعات اور لوگوں کا کوئی نشان نہیں ملتا۔ اعتزاز احسن نے اپنی کتاب ’دی انڈس ساگا‘ میں لکھا ہے کہ پنجاب کے پڑھے لکھے لوگوں کو دلا بھٹی کے بارے میں بھی تب پتہ چلا جب 1956 میں لالا سدھیر کی دلا بھٹی پر بنی ہوئی فلم ریلیز ہوئی۔
لاہور، جئے پال جنجوعہ شہر تھا لیکن میں نے کبھی کسی پنجابی کے منہ سے اس بہادر شخص کا نام نہیں سنا۔ میں نے کسی پنجابی بچے کا نام وارث٬ باہو یا محمد بخش نہیں سنا۔
ایک پنجابی شعر کا مفہوم ہے کہ جو لوگ جنگ جیتنے کے عادی تھے وہ اپنی ہی اولاد کے ہاتھوں ہار گئے۔


