اقوام کی بدحالی کے ذمہ دار نوآبادیاتی ادارے
ادارے سسٹم یا نظام کو جنم دیتے ہیں۔ یہ سِسٹم ہی ایسا ہے، ہمارا سِسٹم ہی خراب ہے۔ موجودہ دور میں ادارے کی اصطلاح نے بھی دنیا بھر میں داد سمیٹی۔ نظام اور ادارے کے بیانئیے سنتے اور دہراتے ہوئے کئی نسلیں گزر گئیں۔ لیکن یہ نظر نا آنے والا سِسٹم جو انسانی زندگی اور انسانی اقدار و منزلت کو کسی خاطر میں نہیں لاتا
اور خود کو
(institutions are larger than life)
کہلواتا ہے
ہمارے پورے معاشرے پر کیوں اور کس طرح غالب آ چکا ہے یہی سب سے بڑا سوال ہے۔
ادارے اور سِسٹم/ نظام کیا ہے
حقیقتا ابتدائی ادارہ، خاندان اور اس کے افراد کے ساتھ ہی وجود رکھتا ہے۔ ایک خاندان آپس میں قلبی و جذباتی تعلق و کشِش رکھتا ہے جو خاندان کے یکجا و برقرار رہنے کے لئے ناگزیر ہے۔
ایک خاندان میں کچھ قواعد و ضوابط، اصول و اقدار یا ویلیو سِسٹم نافذ ہوتے ہیں۔ اس ابتدائی اکائی (خاندان) میں ہر فرد کے کچھ حقوق، ذمہ داریوں، وسائل، انعام و سزا طے ہوتے تاکہ زندگی آگے بڑھتی رہے۔ یہی ایک خاندانی نظام کی مثال ہے۔
ایک سِسٹم یا نظام انسانی معاشرے کے لئے وجود میں آتا ہے۔ ہم انسان گروہوں کی شکل میں رہتے ہیں اور ایک معاشرہ تشکیل دیتے ہیں اور یہیں سے نظام کی ضرورت کا آغاز ہوتا ہے۔
لاکھوں کروڑوں افراد کے معاشرے میں امُور و ذمہ داریوں، وسائل، تحفظ، نظم و ضبط اور ایک باعِزت زندگی کو قائم کرنے بلکہ اسے رواں دواں رکھنے کے لئے مختلف ادارے وجود میں لانے کی ضرورت ہوتی ہے اور ان تمام اداروں کا اپنے اپنے دائرہ کار میں کام کرنے کا اپنا ایک نظام و طریقہ کار ہوتا ہے۔
نظام و ادارے ملک و ملت کی ترقی و تنزلی کے اصل ذمہ دار
معاشیات کا نوبِل انعام 2024 جیتنے والے تین معاشی ماہرین کی تحقیق سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ ہر قابض نوآبادیاتی طاقت اپنے زیرِ قبضہ و مفتوحہ ملک پر اپنے قبضے کو مسلسل برقرار رکھنے کے لئے معاشرے کو ہر اعتبار سے تقسیم کرتی اور استحصالی ادارے قائم کرتی ہے۔
ہر نوآبادیاتی طاقت (جیسے برصغیر میں انگریزوں نے ) زمینوں کی بندر بانٹ، زراعت، محصولات، پولیس، فوج اور دیگر ادارے قائم کیے جن کا اصل مقصد معاشرے میں معاشی، سیاسی اور سماجی نظام کو تہہ و بالا کرنا تھا تاکہ سامراجی تسلط کو کوئی خطرہ نا رہے۔ برطانیہ نے برصغیر میں رائج تعلیمی نظام، قانون و املاک، عدالتی نظام کو بدل کر پورے خطے کو ایک بیرونی نظام سے تبدیل کر دیا۔
درحقیقت ریاستی ادارے، حکومتی ادارے، سیاسی ادارے یعنی (سیاسی قوتیں /سیاسی و مذہبی جماعتیں۔ سیاسی و مذہبی خاندان، با اثر افراد ) معاشی ادارے ہی کسی بھی قوم کی وقعت و حیثیت اور معاشی خوشحالی اور آزادی کے اصل ذمہ دار ہوتے ہیں کیونکہ مندرجہ بالا ادارے ہی اصل نظام ہوتے ہیں جبکہ باقی ماندہ افراد و قوم ان کے پیچھے چلنے پر مجبور ہوتی ہے۔
اقوام کیوں خوشحال و بدحال ہیں
نوبِل انعام یافتہ محققین مزید بیان کرتے ہیں کہ قوموں کی خوشحالی و بدحالی کی وجہ وہ (سماجی/انتظامی/سیاسی) ادارے ہیں جو نوآبادیاتی ادوار میں استحصال و لوٹ مار کے لئے متعارف کرائے گئے تھے۔
لہذا وہ ممالک جنہوں نے نوآبادیاتی نظام سے چھٹکارا پانے کے بعد حقیقی طور پر اِنکلوسِو ( پورے سماج کی شمولیت والے ادارے ) / جامع ادارے (یعنی ایسے حکومتی / سماجی /سیاسی ادارے جہاں تمام افراد کے جائز مفادات کا تحفظ کیا جائے ) قائم کیے ، اور معاشرے میں سیاسی و معاشی آزادی کو پنپنے دیا اور قانون کی حکمرانی اور جائیداد و ملکیتی امور کی ذمہ داری نبھائی وہ آہستہ آہستہ خوشحال ہو گئے۔
جبکہ جن ممالک نے نوآبادیاتی طاقتوں سے آزادی کے حصول کے بعد بھی استحصالی ادارے برقرار رکھے اور چلائے جو وسیع تر آبادی کے وسائل کو ”نچوڑنے“ کے لیے اشرافیہ کو فائدہ پہنچاتے ہیں وہاں معاشی صورتحال مسلسل ابتری کا شکار ہو رہی ہے۔
اداروں کی حمایت یافتہ اشرافیہ، اقتدار پر قابض رہنے کے لیے جِدَّت، تبدیلی اور ترقی کے خلاف مسلسل مزاحمت کرتی ہے، تاکہ معاشرے میں طاقت کا توازن یا اسٹیٹس کُو ہمیشہ اشرافیائی طبقات کے موافق رہے جس کی وجہ سے اقوام بدحالی اور تنزلی کا شکار رہتی ہیں۔
ادارے قائم کرنا ناگزیر کیوں ہے
اداروں کا قائم ہونا یا اداروں کی بنیاد خالصتاً عُمومی انسانی مفاد کو قائم و برقرار رکھنے اور آفاقی و انسانی حقوق کے عملی نفاذ کی ضمانت پر ہوتا ہے، ادارے بلند و بالا عمارتوں، خوف و دہشت کی علامت یا بے لگام طاقت کا نام نہیں، کم از کم انسان دوست معاشرے اس کی عملی تفسیر ہیں، ایسا نا ہونے کی صورت میں معاشرے سے کسَب شُدہ یہ ادارہ جاتی طاقت بذاتِ خود ایک ایسے نظام کو جنم دیتی اور ایسا نظام چلاتی ہے کہ جس کا ایندھن انسانی خون ہے اداروں اور نظام کی ناکامی اقوام کی مکمل تباہی کی صورت میں سامنے آتی ہے۔


