زوالِ صبح: دفتر جاتے ہوئے صبح کا منظر


khawar jamal

گلی کے نکڑ پر کوڑے کے ڈھیر کو ٹائروں تلے روندتی وین اب سیدھے ہاتھ مڑنا چاہتی ہے لیکن سرعت انزال سے جنم لینے والی مخلوق مین گلی میں اتنی سرعت سے گزر رہی ہے کہ ڈرائیور کو کمانڈو ایکشن کر کے وین کو ایک دم آگے بڑھانا پڑ رہا ہے۔ لیکن آگے کھمبا ہے جس پر ایک نیلے پوسٹر میں ”زبر ناف“ تک برہنہ مرد اپنے پیٹ پر ابھری ہوئی چھ عدد بوٹیوں سمیت کسرتی جسم کی نمائش کرتے ہوئے ہم دونوں کو اس وقت تک نگاہ غلط انداز سے دیکھتا رہا ہے کہ جب تک ہم اس کھمبے، جو کہ بجلی کا تھا، سے بچ کر سیدھے ہاتھ مڑنے میں کامیاب نہ ہو گئے۔

اب ایک اور سیدھی گلی ہے۔ چاند پر جتنے کھڈے ہیں وہ تمام ہی اس گلی میں اکٹھے نظر آ رہے ہیں۔ میں ذرا سنبھل کر بیٹھ گیا ہوں۔ امید ہے اس گلی کے اختتام تک ناشتہ ہضم ہو جائے گا۔ وین کی رفتار اتنی آہستہ ہے کہ بکریوں کا ایک ریوڑ بھی ساتھ ساتھ برابر سپیڈ سے چل رہا ہے۔ انھوں نے ہماری وین کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے جیسے پروٹوکول دے رہی ہوں۔

شیطان کی زخمی آنت جیسی گلی ختم ہو گئی ہے اور اب بائیں ہاتھ مڑنا ہے، مین روڈ پر۔ لیکن کتے کے بچے راستہ ہی نہیں دے رہے بلکہ اسی گلی میں گھسے آ رہے ہیں۔ شاید لڑتے ہوئے آپس میں ایک دوسرے کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ ارے! آپ کیا سمجھے، میں لوگوں کو ایسا کہہ رہا ہوں؟ نہیں نہیں صرف کتا کہہ دینا غلط بات ہوتی ہے۔ ایسا بالکل نہیں کہنا چاہیے۔

مین روڈ پر آ گئے ہیں۔ یہ سڑک تقریباً چار سال بعد دوبارہ بنی ہے۔ مجبوراً یہاں رہنے والے لوگوں کو اپنے گھروں میں رہنا پڑتا تھا۔ مگر اب نئی صبح تمام پرانی روایات کی امین بن کر آئی ہے۔ ریڑھیاں، رکشے، چائے کے ڈھابے، دکانوں کے بورڈ اور برف کے ٹھیلے سب سڑک پر واپس آ گئے ہیں۔ لوگ کرسیاں سڑک کنارے بچھا کر ٹریفک میں پڑنے والے خلل سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ اب پھر سے کوئی بھی بچہ ایک دم کسی گلی سے نکل کر سڑک پر آ جاتا ہے اور فلموں میں سٹنٹ مین بننے کی تربیت کا آغاز کم عمری سے ہی شروع کر دیتا ہے۔

اچانک ایک لوڈر رکشہ، جس پر اتنی سبزیاں لدی ہوئی ہیں جیسے تقسیم کے وقت لوگ ٹرینوں پر لدے ہوتے تھے، آلو کی بوری پھسل جانے کی وجہ سے بیچ سڑک میں رک گیا ہے۔ آتشی گلابی رنگ کے بے ہودہ نائٹ سوٹ میں ملبوس ایک موٹر سائیکل سوار اور اس کے ہینڈل پر ٹکی چھولوں کی پتلی سی تھیلی سے بیک وقت ”ہائے میں مر گئی“ کی غیر مرئی آواز سنائی دی ہے اور بریکیں لگ گئی ہیں۔ سب ایک دوسرے کو خونخوار نظروں سے دیکھتے ہوئے اپنے اپنے راستے چل پڑے ہیں کہ شاید اس وقت لڑنے کی ہمت نہیں کسی میں۔

آگے کچھ اور ناشتے کی ریڑھیاں سج رہی ہیں۔ دیگچوں کے سرکے ہوئے ڈھکنوں سے بھاپ جھانک رہی ہے۔ ایک ڈھکن ناشتہ خرید کر غلط رخ سے موٹر سائیکل موڑ کر واپس اپنے گھر کی طرف جا رہا ہے۔ اب ہم سیدھے ہاتھ پر مڑ گئے ہیں۔ ایک انکل موٹر سائیکل کی ٹینکی پر لوٹا نما لمبا سا پانی کا کنستر سامنے نظر آنے والے عوامی فلٹر سے بھر کر واپس جا رہے ہیں ان کا بیلنس کمال کا ہے۔

ایک ریڑھی پر ”آلو بھی چھولے“ لکھا ہوا ہے۔ پاس ایک چھوٹا سا بچہ خاموشی سے کھڑا ہے جیسے سوچ رہا ہو کہ آلو بھی چھولے کے آگے ”بھی“ کیوں نہیں لکھا۔ یہ میں بھی سوچتا تھا بچپن میں۔ پھر معلوم ہوا ”بھی“ بھی کوئی شے ہوتی ہے۔ ابھی ڈرائیور صاحب کا فون بجا ہے۔ ہم ایک اور صاحب کے انتظار میں کھڑے ہیں۔ ڈرائیور صاحب اپنے پرانے دوست سے محو گفتگو ہیں اور اس کو سمجھا رہے ہیں کہ ”کچہریاں تے قتلاں دے مسلے اچ بندا برباد تھی ویندے یار۔“

بات تو ٹھیک ہے مگر دوست ابھی سمجھنے کے موڈ میں نہیں ہے شاید۔ خیر ہم پھر چل پڑے ہیں۔ اب ایک لمبی سڑک ہے۔ چرسی بریانی نامی ریڑھی پر ایک دیگ زنجیروں سے جکڑی ہوئی ہے۔ آس پاس کوئی مالک نہیں ہے۔ شاید چرس ڈھونڈنے نکلا ہو گا۔ دیسی مرغ کی جسامت کا حامل ایک لڑکا برائلر گوشت کی دکان کے پھٹے پر اکڑوں بیٹھا ہوش میں آنے کی کوشش کر رہا ہے۔ شاید نیند پوری نہیں ہوئی اور ابھی استاد بھی نہیں آیا۔

اب ائرپورٹ کی طرف جانے والی سڑک شروع ہو گئی ہے۔ ایک چوک ہے جس پر بڑا سا ٹینک نصب ہے۔ اس کے پیچھے فیضان بھیا کا سگریٹ کا کھوکھا ہے جو خوب چل رہا ہے۔ نوجوان پیپسی کی بوتل کے ساتھ سوٹے لگا کر کھوئی ہوئی طاقت بحال کر رہے ہیں اور آج کے دن کے لیے اپنے آپ کو تر و تازہ رکھنے کا سامان کر رہے ہیں۔ رنگ برنگے نوکیلے سرکنڈوں جیسے ہار بیچنے والا پاس ہی کھڑا ہے۔ ابھی ایک حاجی کو لینے پورا گاؤں آتا ہی ہو گا۔ سب ہار بک جائیں گے۔

مسیحی قبرستان ختم ہوتے ہی ہوائی اڈے کی حد شروع ہو گئی ہے۔ داخلی دروازے پر انتظار کرنا پڑ رہا ہے کیوں کہ ایک حاجی کو لینے پورا گاؤں ہم سے پہلے پہنچ چکا ہے۔ خواتین اپنے شادی بیاہ کے لباس خصوصی طور پر پہن کر آئی ہیں کہ یہی موقع ہے پھر کب باہر نکلنا نصیب میں ہو گا۔ اندر داخل ہوتے ہی ڈرائیور صاحب کے دوست کا فون پھر آ گیا ہے۔ شاید اب ان کا دوست مان جائے۔ مجھے مشین کو چہرہ دکھا کر حاضری لگوانی ہے ورنہ کوئی مانے گا نہیں کہ میں دفتر آیا تھا۔ مجھے اجازت دیں۔

Facebook Comments HS

خاور جمال

خاور جمال 15 سال فضائی میزبانی سے منسلک رہنے کے بعد ایک اردو سوانح ”ہوائی روزی“ کے مصنف ہیں۔ اب زمین پر اوقات سوسائٹی میں فکشن کے ساتھ رہتے ہیں۔ بہترین انگریزی فلموں، سیزن اور کتابوں کا نشہ کرتے ہیں۔

khawar-jamal has 54 posts and counting.See all posts by khawar-jamal