پختونوں کے ساتھ تحقیر آمیز سلوک کیوں؟


چاروں صوبوں کی زنجیر، بے نظیر بے نظیر۔ ماضی کا یہ مقبول نعرہ ہمیں اب کیوں نہیں سننے کو ملتا؟ پیپلز پارٹی جیسی وفاقی جماعت کیوں ایک صوبائی سطح کی پارٹی بن کر رہ گئی ہے۔

کیونکہ ہماری اسٹیبلشمنٹ کو قومی اتحاد سوٹ ہی نہیں کرتا، نہ ہی قومی سطح کا لیڈر۔ چاہے وہ ذوالفقار علی بھٹو ہو، بے نظیر شہید ہو، نواز شریف ہو یا عمران خان۔ جو بھی لیڈر ذرا قد کاٹھ نکالے گا، دو تہائی اکثریت کی طرف جائے گا تو اسے کسی بھی صورت چلنے نہیں دیا جائے گا۔ بدقسمتی سے طاقتور حلقوں کو لولی لنگڑی حکومت چاہیے ہوتی ہے جسے کنٹرول کرنا آسان رہتا ہے، اور کبھی اگر کوئی وزیراعظم مرضی کے فیصلے کرنے کی جسارت کرے تو اسے ”اتحادیوں“ سے محروم کر کے چلتا کر دیا جاتا ہے۔

اسی طرح قومی اتحاد، صوبوں کی عوام میں پیار اور بھائی چارہ بھی ایک مخصوص طبقے کو سوٹ نہیں کرتا۔ ان کا مفاد علاقائی جماعتوں، لسانی جھگڑوں اور صوبائی تعصب میں چھپا ہے۔ تاکہ عوام ان معاملات میں پڑ کر پنجابی، پٹھان، مہاجر وغیرہ کے نظریے پر ووٹ دیں نا کہ قومی اور عوامی مفاد پر۔ اس سب میں طاقتوروں کو بڑی حد تک کامیابی ملی بھی ہے۔ جیسا کہ ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی جو کبھی وفاق کی علامت تھی اور اس جماعت کا ایک مقبول نعرہ تھا کہ ”چاروں صوبوں کی زنجیر بے نظیر، بے نظیر“ لیکن اب اس قومی سطح کی جماعت کو اندرون سندھ تک محدود کر کے رکھ دیا گیا ہے۔

نواز شریف جو 97 میں دو تہائی اکثریت لے کر آنے کے بعد اسٹیبلشمنٹ کو آنکھیں دکھانے لگا تھا، اسے بھی رفتہ رفتہ وسطی پنجاب کے بعض علاقوں تک محدود کر دیا گیا ہے۔ اب ایسی صورت میں تحریک انصاف ہی واحد ایسی جماعت بچی ہے جو چاروں صوبوں، کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت ملک کی تمام اکائیوں میں جڑیں رکھتی ہے، اور یہ بات کچھ حلقوں کو گوارا نہیں، لہذا وفاق کی اس آخری جماعت اور اپنی سب سے بڑی رکاوٹ کو راستے سے ہٹانے کے مشن کا آغاز ہو چکا ہے، اور ان کی نظر میں اس کا بظاہر آسان حل یہ ہے کہ اس جماعت پر پختون قوم پرستی کا لیبل لگا کر اسے پختونخوا تک محدود کر دیا جائے، ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے باسیوں کو یہ بات باور کروائی جائے کہ تحریک انصاف پختون نمائندہ جماعت ہے اور اقتدار میں آ کر انہیں کے مفادات کا تحفظ کرے گی۔

لہذا خوب پنجابی پٹھان کی سیاست کی جائے، اور اس کا آغاز حالیہ واقعات سے ہو گیا ہے۔ جس کی ایک چھوٹی سی مثال اسلام آباد میں پختونوں کی ٹارگیٹڈ گرفتاریاں ہیں۔ انسانی حقوق کی ایک توانا آواز ایڈوکیٹ ایمان مزاری کے بقول آپ کا تحریک انصاف سے تعلق ہو نہ ہو، آپ احتجاج میں شامل تھے یا نہیں لیکن اگر آپ غریب پختون ہیں تو آپ کی گرفتاری یقینی ہے۔ ستم یہ ہے کہ اگر خاندان کا ایک فرد گرفتار ہے تو اس کی پیشی پر جانے والے دیگر افراد کو بھی گرفتار کیا جا رہا ہے۔ یہ اور کچھ نہیں بس گورے کی باقیات کا اپنے آقاوں کے نظریے (divide & rule) ”تقسیم کرو اور حکومت کرو“ پر عمل ہے۔

Facebook Comments HS