فلموں کو دیکھنے کا ایک مختلف زاویہ : اینیمل اور کبیر سنگھ
”فلم وہ نہیں جو لوگوں کی تفریح کا باعث ہو بلکہ فلم وہ ہے جو لوگوں کو تدبر پر مجبور کرے۔“ یہ بات روسی لکھاری میکسم گورکی نے ایک فلم پریمیئر سے واپسی پر کہی۔ ویسے تو اب فلمیں محض تفریحی مقاصد کے لیے بنائی اور دیکھی جاتی ہیں لیکن فلم کے مزید کئی مقاصد ہوتے ہیں جس کی وجہ سے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ سینما کو میچور یا سنجیدہ شائقین درکار ہیں۔ یہاں سنجیدگی سے مراد فکر انگیز ہونا نہیں بلکہ سینما سے متعلق کچھ بنیادی نکات سے آشنائی ہے۔ مزاحیہ اور تفریحی فلموں والی جنتا کے سامنے جب ایسی فلمیں متعارف کرائی جائیں جن کے پس منظر کے حوالے سے بنیادی علم ہونا ضروری ہے تو پھر گردونواح میں ایسی باتیں عام طور پر سننے کو ملتی ہیں کہ فلانی فلم کا لوگوں پر غلط اثر ہو سکتا ہے یا فلانی فلم ماس مووی ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ جب کوئی ماس مووی بنائی جاتی ہے تو وہ لوگوں کی ذہنیت کو مد نظر رکھ کر بنائی جاتی ہے تاکہ فلم کے ذریعے وہ جذبات بیچے جا سکیں جو لوگوں میں پہلے سے عام ہوتے ہیں۔ چنانچہ کوئی عوامی رجحان کی حامل فلم لوگوں کی اخلاقیات میں بگاڑ کا سبب نہیں۔ یہ حقیقت کہ لوگوں کو ایک غیر مناسب انتشاری فلم پسند آئی اس سچائی کا ادراک ہے کہ لوگوں میں اس برائی کو سراہنے کا مادہ پہلے سے موجود تھا، ایک فلم نے محض آگ پھیلانے میں ماچس کی تیلی کا کردار ادا کیا۔ ہم یہ نہیں سمجھتے کہ فلم لکھنے والے کی ذہنیت اور اس کا نظریہ کیا ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر وہ فلم جس میں انتشار ہو، ہجوم کو مد نظر رکھتے ہوئے بنائی گئی ہو یا یہ بھی ممکن ہے کہ وہ بعد میں عوام کی توجہ کا مرکز بن جائے۔ کیونکہ اس بات سے ماورا کہ ایک لکھاری کی تصنیف کے پس منظر میں کون سے نظریات کار فرما تھے، اگر اس کے کام میں لوگوں کے جذبات ابھارنے کی صلاحیت موجود ہے تو وہ فلم بلا شبہ ایک بڑے درجے پر کامیابی کی حامل ہو سکتی ہے۔ ایک مصنف کے انتشار سے بھر پور فلم لکھنے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ایک لکھاری ہمیشہ اظہار کے لیے لکھتا ہے جیسا کہ لکھنا اظہار کے چند طریقوں میں سے ایک ہے۔ اسی طرح لکھاری کا اظہار مختلف ہو سکتا ہے۔
اگر ہم انتشار سے بھر پور کسی فلم کو ہی بنیاد بنا کر بات کریں تو ممکنات کی مختلف صورتیں واضح ہوتی ہیں۔ جیسے ایک لکھاری کسی ایسے جذبے یا محسوسات کا تجربہ کروانے کے لیے بھی لکھ سکتا ہے جو عام طور پر محسوس نہ کیے جاتے ہوں۔ مضمون کے شروع میں میکسم گورکی کا جو قول نقل کیا گیا، اس سے یہی بات مراد تھی۔ اور یہ کہنا بجا ہے کہ ایک اچھی فلم وہی کہلائی جا سکتی ہے جو اپنے دیکھنے والوں پر ایک چھاپ چھوڑ دے یعنی ایک لکھاری جو محسوس کرتا ہے وہی اپنے دیکھنے والوں کو بھی محسوس کروا سکے۔ چاہے وہ جذبہ اپنے محبوب سے جدائی کا ہو، اس کے چھوڑ جانے کا ہو، دھوکے کا ہو یا ایک انوکھی خوشی کا جذبہ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب انسان رنج و غم کے ناقابل بیان جذبات کا سامنا کرتا ہے تو وہ اپنے آس پاس ایسے لوگوں کی تلاش کرتا ہے جو اس دور سے گزرے یا گزر رہے ہوں تاکہ اس کو حوصلہ رہے کہ وہ اکیلا نہیں۔
کچھ ایسے جذبات ہوتے ہیں جن کے متعلق ہمیں علم ہوتا ہے کہ وہ معمولی ہیں لیکن کچھ بہت خاص ہوتے ہیں جن کا سامنا کر پانا سہل نہیں یا انسان ان جذبات کی تکلیف سے بچنے کے لیے ان کو نکارتا ہے۔ ایک طرح سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ جذبات انسان کے لاشعور میں گھر کر لیتے ہیں جن کا سامنا انسانی شعور سے نہیں ہو پاتا جیسے محبوب سے جدائی یا خونی لڑائی۔ فلم کا مقصد ایسے انسانی جذبات سے انسان کا مکالمہ کرانا ہوتا ہے جن کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی یا وہ غیر معمولی ہوتے ہیں۔ ایکشن فلمز اور خصوصی طور پر رومانوی فلموں کے ذریعے اس کو سمجھا جا سکتا ہے۔ کیونکہ ایسی فلموں میں اکثر لڑکا لڑکی کے تعلق کو کامیاب دکھایا جاتا ہے جب کہ عملی زندگی میں اکثر یہ دیکھا گیا کہ ایسے تجربات محض تجربات بن کر رہ جاتے ہیں اور انسان یہی سوچتا رہ جاتا ہے کہ اگر تعلق کامیاب ہو جاتا تو کیسا ہوتا، وہ ادھورے جذبات محسوس کرنے کے لیے فلم ایک بہترین ذریعہ ہے۔ اس ضمن میں کبیر سنگھ بہترین فلم ہے جبکہ اس میں پیار کے دو پنچھیوں کو کامیاب پیش کرنے والے اس فلم کے لکھاری سندیپ ریڈی وانگا خود کو ناکام عاشق بتاتے ہیں۔ ایسی فلموں کو دیکھنا بھی تبھی ممکن ہے جب انسان کے لاشعور میں مقیم وہ جذبات خارج ہو چکے ہوں یا ان سے اوپر اٹھ چکا ہو کیونکہ پھر اس کو کسی قسم کا ڈر نہیں رہتا۔ وہ آرام سے ان درد ناک لمحات کے بارے میں غور و فکر کر سکتا ہے اور ان کو آئینے کی صورت میں بذریعہ فلم ان کا تجربہ بھی کر سکتا ہے۔ چنانچہ جب کوئی ایسی فلم لکھی جائے جس میں رومانس یا بے پناہ انتشار ہو تو اس کی ایک یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ لکھاری صرف ان سے منسلک جذبات کو ایکسپلور کرنا چاہتا ہو۔
یہ بھی ضروری نہیں کہ فلم یا تو صرف پیغام دینے کے لیے بنائی جائے یا صرف تفریحی مقاصد کے لیے۔ کئی ایسے انسانی جذبات ہوتے ہیں جو ہمیں فلم کے ذریعے دکھائے جاتے ہیں لیکن ہمیں فوراً سمجھ نہیں آتے کیونکہ ہم زندگی کے ان مراحل سے گزرے نہیں ہوتے کہ ان بصری زاویوں کا جائزہ لے سکیں۔ اس وقت دیکھنے والوں کے لیے وہ مناظر فلم کے بھی کسی انٹرول کی طرح ہوتے ہیں۔ لیکن جب انسان کو ان جذبات کا تجربہ ہوتا ہے جیسے دل ٹوٹنے کا تو وہ بخوبی محسوس کر پاتا ہے جو فلم کا لکھاری اس کو محسوس کروانا چاہتا ہے، تمام ڈائلاگز تیر کی طرح لگتے ہیں۔ یہی تو ایک بہترین فلم کی نشانی ہے کہ وہ لوگوں کو زندگی کے ان تجربات سے گزے بغیر ان کی جھلک دکھا سکے، وہ احساسات بغیر لوگوں کے محسوس کیے انہیں محسوس کروا سکے۔ ایک اچھی فلم وہی ہے جو انسانی جذبات اور تجربات کی آئینہ دار ہو، جنہیں بذریعہ فلم سمجھنے کے لیے انسان کو پہلے ان تجربات کا سامنا نہ کرنا پڑے بلکہ اس کا ان جذبات و احساسات کا پہلا تجربہ بذریعہ فلم ہی ہو۔ چنانچہ، فلم کے تفریحی یا پیغام کے مقصد کے علاوہ وہ جذبات محسوس کروانا بھی ہے جو یا تو عملی طور پر محسوس کرنا مشکل ہو۔
اس ضمن میں میں ”اینیمل“ فلم کی بات کرنا چاہوں گا جو سینما کے معیار پر پورا اترتی ہے صرف سینیماٹوگرافی کے لحاظ سے ہی نہیں بلکہ بیان کردہ ایک اچھی فلم کے حوالے سے بھی کیونکہ اس فلم میں ان جذبات و احساسات کی ترجمانی ہوتی ہے جن کو محسوس کرنے سے ہم خوف و خطر محسوس کرتے ہیں اور کرنا بھی چاہیے۔ ساتھ ہی اس فلم نے اپنے دیکھنے والوں پر ایک چھاپ چھوڑی ہے، یعنی جو ہدایت کار و مصنف سندیپ ریڈی وانگا عوام کو جو خوف محسوس کروانا چاہتے تھے وہ بخوبی کروایا۔ یہی عنصر ایک فلم کی کامیابی کا ضامن ہے۔ لیکن اس فلم کو وہی لوگ دیکھ سکتے ہیں جو سینما کے ان بنیادی نکات سے واقف ہیں جن کا میں نے اس مضمون میں ذکر کیا۔ وگرنہ ایسی فلمیں تفریحی فلموں کے سامعین کی بدولت ماس موویز کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ اب یہ ایک الگ بحث ہے کہ حساس موضوعات پر مبنی فلموں کے لیے موضوع سامعین کا تعین کیسے کیا جائے۔


