ڈرنا مبارک ہو پاکستانیو!
پاکستان، جہاں ”میرے عزیز ہم وطنو“ کا دل جمہوری بے چینی اور سیاسی اضطرار کی کیفیت میں کسی بُوٹ کی آہٹ کے مدہم سروں پر دھڑکتا تھا، وہاں آج ہم سب ”بڑے بھائی“ کی شفقت بھری قیادت کے سائے میں امن و آشتی سے جی رہے ہیں۔ اس سکون میں کوئی بے ترتیبی نہیں، کوئی آزادی کا دھوکا نہیں، کوئی اختلاف کا نعرہ نہیں۔ یہ وہ مثالی کیفیت ہے جس کی خواہش تاریخ میں گزرے ہر آمر نے کی مگر اسے شرمندہٗ تعبیر کرنے کا سہرا ہمارے عظیم ”بڑے بھائی“ کے سر ہے جنہوں نے اپنی بے پناہ ذہانت اور ”باوردی حکمت“ سے اسے عملی جامہ پہنایا ہے۔
آج ہمارا ہر وہ سر جو کٹنے سے محفوظ رہا ”فخرِ ڈرنا“ سے اتنا بلند ہو چکا ہے کہ اقبال کا ”خودی“ کا فلسفہ بھی اس کے سامنے ہیچ ہے۔ آئیے ان کامیابیوں پر نظر ڈالیں، جو ہمیں ”بڑے بھائی“ کی قیادت میں حاصل ہوئیں، اور ان حقائق کو خراجِ تحسین پیش کریں جنہوں نے ہمارے اندر ”ڈرنے“ کا ایسا جذبہ پیدا کیا ہے کہ آج دنیا کی ہر آزاد قوم ہم پر رشک کر رہی ہے۔
آزادی اظہار، جو کبھی پاکستانی جمہوریت کے اشاروں پر ناچنے کی کوشش کرتی تھی، آج بڑے بھائی کی بصیرت میں ”انتشار“ قرار دی گئی ہے۔ آپ کو شاید وہ دن یاد ہوں جب سڑکوں پر مظاہرے ہوتے تھے، لوگ کھلے عام حکمرانوں پر تنقید کرتے تھے، اور سوشل میڈیا پر مختلف خیالات کی بھرمار ہوتی تھی۔ یہ سب کتنا پریشان کن تھا، ہے نا؟
اب، ہم شکر گزار ہیں کہ ٹویٹر اور فیس بک جیسے غیر مہذب پلیٹ فارمز کو بند کر دیا جاتا ہے۔ کیونکہ ان سے صرف گمراہ کن خیالات جنم لیتے ہیں۔ اب ہم صرف وہی دیکھتے ہیں جو ”قومی مفاد“ میں ہو۔ ہر ”انتشار پسند“ صحافی جو عوام کے ”ذاتی“ مفادات کے تحفظ کے نام پر آزادیِ اظہار کا ”واہیات“ استعمال کر رہا تھا، اب زیرِ حراست ہے۔ ان کی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ سوالات اٹھانا آپ کے اُٹھنے یا ”اُٹھ جانے“ کا سبب بن سکتا ہے۔ لہذاٰ ڈرنا ضروری ہے۔
جب انٹرنیٹ پر ”انتشاری ٹولے“ کی آوازیں بلند ہوئیں، تو ”بڑے بھائی“ نے آپ کے تحفظ کے لئے فوری طور پر ایک دیوار تعمیر کی۔ یہ فائر وال، جس پر اربوں خرچ کیے گئے، اب ہمیں ان تمام خطرناک مواد سے محفوظ رکھتی ہے جو آزادی اظہار کے نام پر ہمیں گمراہ کر سکتے تھے۔ اب ہم صرف قومی خبریں پڑھتے ہیں، جہاں سب اچھا ہے۔
VPN کے استعمال پر پابندی کا فیصلہ بھی ایک سنگِ میل ہے۔ جو لوگ ”بڑے بھائی“ کے فیصلوں سے فرار چاہتے ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ اس دیوار کو عبور کرنا نا صرف ایک سنگین جرم ہے بلکہ گناہِ عظیم بھی ہے۔ ہمارے علما نے فتویٰ جاری کیا ہے کہ VPN کا استعمال غیر اسلامی ہے۔ یہ ایسے ہی غیر اسلامی ہے جیسا کہ کنٹینر پر چڑھ کے نماز پڑھنا۔ لہذاٰ خبردار ہو جائیں کہ اس کے استعمال کا انجام بھی وہی ہو سکتا ہے جو کنٹینر کے غیر اسلامی استعمال کا ہوا۔ کیا ہم ایسی ترقی پسند رہنمائی کے بغیر ترقی کر سکتے ہیں؟
کسی بھی جمہوری ریاست میں، مظاہرے اور جلسے جلوس ایک عام بات ہیں۔ لیکن ہمارے ”بڑے بھائی“ نے دکھایا کہ یہ سب وقت اور پیسے کا ضیاع ہیں۔ جب سیاسی جماعتوں کے کارکنان نے اپنے قائدین کی گرفتاری کے خلاف آواز اٹھائی، تو ان کو گولی، آنسو گیس اور لاٹھی چارج کے ذریعے ”پرامن رہنے“ کا درس دیا گیا۔ اب ہمارا ہر شہر ایک مثالی معاشرہ بن چکا ہے، جہاں صرف خاموشی گونجتی ہے۔
”بڑے بھائی“ کی محبت بھری نگرانی نے ہمارے دلوں کی دھڑکنوں کو بھی منظم کر دیا ہے۔ اب ہمارے دل بھی اس خاموشی سے دھڑکتے ہیں جیسے موبائل فونز کو وائبریشن پر رکھا جاتا ہے۔ یہ ان کی عظیم قیادت کا ہی کمال ہے کہ ہم نے اپنی انفرادی خواہشات اور جذبات کو ترک کر کے ”قومی مفاد“ کو ترجیح دی ہے۔
اس خوف کا کمال یہ ہے کہ ہماری اگلی نسلیں بھی، جنہوں نے ابھی دنیا میں قدم نہیں رکھا، پاکستان میں داخل ہونے سے پہلے اپنے جنم کا درخواست فارم ضلع مجسٹریٹ کے دفتر جمع کرائیں گی۔ اس درخواست میں نہ صرف والدین کے شناختی کارڈ کی کاپیاں ہوں گی، بلکہ بچے کے ”ممکنہ خیالات“ اور ”اندیشوں“ کی وضاحت بھی کی جائے گی، تاکہ کہیں یہ آنے والے مہمان غلطی سے آزادیٔ اظہار کی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ ظاہر ہے، ضلع مجسٹریٹ یہ درخواست صرف اسی صورت میں منظور کرے گا اگر پیدائش کے عمل سے کم از کم سات دن پہلے باقاعدہ فارم جمع کرایا گیا ہو، اور اگر بچے کے والدین اپنی دیر سے درخواست کے لیے معقول وجہ فراہم نہ کر سکے تو اُن کا مستقبل کا بچہ بھی شاید ”غیر قانونی“ قرار پائے گا۔
”بڑے بھائی“ کے اقدامات کی روشنی میں، جھوٹ بولنے والوں اور ”منفی سوچنے والوں“ کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ ایک معروف صحافی، جو سرکاری اداروں کے معاملات پر روشنی ڈال کر سیاہی ملنے کی کوشش کر رہے تھے، کو اغوا کر کے ”تعلیمی دورے“ پر لے جایا گیا۔ جب وہ واپس آئے، تو انہوں نے سچائی کی تعریف میں ایک نئی زندگی کا آغاز کیا۔
آج ہم اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں ”بڑے بھائی“ نے ہماری زندگی کے ہر پہلو کو ”سنبھال“ لیا ہے۔ یہ ”جادو کی جپھی“ صرف ہماری حرکات و سکنات تک محدود نہیں، بلکہ ہمارے خیالات، خوابوں، اور خواہشات پر بھی محیط ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ”بڑے بھائی“ نے وہ کامیابی حاصل کر لی ہے جو تاریخ میں کسی بھی آمریت نے نہیں کی۔ ہم سب ان کی عظمت کے سامنے جھک گئے ہیں، اور دعا کرتے ہیں کہ ان کا سایہ ہمیشہ ہمارے سروں پر قائم رہے۔
یہ تحریر ان تمام لوگوں کے لیے ایک یاد دہانی ہے جو ”آزادی“ کا ڈراونا خواب دیکھتے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ حقیقی آزادی، ”اطاعت“ میں ہے۔ ہمارے ”بڑے بھائی“ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جب ہر چیز قابو میں ہو، تو سکون اور امن کا راستہ کھلتا ہے۔ ”بڑے بھائی“ کی قیادت میں، ہم سب ایک نئی دنیا کا حصہ بن چکے ہیں، جہاں اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں، اور صرف سکون کا راج ہے۔ ہمیں اس ”ڈر“ کے لیے ان کا شکر گزار ہونا چاہیے۔


