نیلسن منڈیلا: نسلی عصبیت کے خلاف جدوجہد کرنے والا عظیم انسان
موت انسانی عظمت کو چار چاند لگا دیتی ہے۔ جو انسان اپنی زندگی میں جتنا مشہور ہوتا ہے، بعد از مرگ اس کی شہرت اس سے زیادہ ہو جاتی ہے۔ جو خوبیاں اس کی زندگی میں پنہاں ہوتی ہیں، اس کا ذاتی کردار اسے انمول اور انمٹ بنا دیتا ہے۔ یہ ساری باتیں جنوبی افریقہ کے سابق صدر، عظیم عالمی حریت پسند، مدبر،
مصالح اور عظیم انسان نیلسن مینڈیلا پر پوری طرح صادق آتی ہیں۔
5۔ دسمبر 2013 ء کو وفات پانے والے نیلسن مینڈیلا، 18 جولائی 1918 ء کو ترانسکی جنوبی افریقہ میں پیدا ہوئے، لاء گریجویٹ مینڈیلا نے اپنی ساری زندگی نسلی امتیاز کے خلاف جد و جہد کرتے ہوئے بسر کر دی، اپنے پیروکاروں اور دنیا کے لاکھوں انسانوں کو عدم تشدد، درگزر، بردباری
اور انسانی مساوات کا درس دے کر، خاتم النبیین کے لازوال خطبہ حجتہ الوداع کو دنیا کے سامنے عملی طور پر پیش کیا۔ اپنی چالیس سالہ سیاسی زندگی کے قیمتی ستائیس سال، جیل میں گزارے جن میں چھ برس کی قید تنہائی بھی شامل تھی۔ ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ انسانی مساوات کے علمبردار اور نسلی امتیاز کے خلاف تھے، دنیا کا کوئی خوف، لالچ اور دباؤ انہیں اپنی جدوجہد سے باز نہ رکھ سکا۔
1990 ء میں ان کے بے پناہ عزم و استقلال کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے سفید فام حکومت نے انہیں رہا کر دیا۔ 1994 ء میں عام انتخابات کے نتیجے میں وہ پانچ سال کے لئے اس ملک کے صدر بنے جہاں انہوں نے 27 برس تک سخت ترین قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ صدر بنتے ہی نیلسن نے جنوبی افریقہ میں پرامن انقلاب برپا کر دیا۔
انہوں نے صدر بنتے ہی رواداری اور درگزر کی حکمت عملی اختیار کی، اپنے تمام دشمنوں کو معاف کر کے فاتح عالم کی روایت پر عمل کیا، ملکی ترقی کا ایک نیا سفر شروع ہوا، جنوبی افریقہ کے کسی سفید فام ملازم یا شہری کو تنگ نہ کیا گیا، حتی کہ صدر کے ذاتی محافظوں کا دستہ بھی انہی گوروں پر مشتمل رہنے دیا جو ان سے پہلے کے صدر کا محافظ دستہ تھا، ان کے دور صدارت میں جنوبی افریقہ ایک مہذب ملک کے بطور دنیا کے نقشے پر ابھرا، جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم دنیا کی بہترین ٹیم بن گئی، منڈیلا نے ملک میں گورے کالے کی کوئی تمیز باقی نہ رہنے دی، وہ اگر چاہتے تو اپنے ملک کے تاحیات صدر رہ سکتے تھے، ان کے ہم وطن انہیں اوتار کی طرح پوجتے تھے، ان کی تاحیات حکمرانی میں ادنی سی رکاوٹ بھی نہ تھی، تاہم انہوں نے یہ کام نہ کیا جو ان کی عظمت انسانی کی ایک اور واضح دلیل ہے۔
منصب صدارت سے سبکدوش ہونے کے بعد نیلسن مینڈیلا نے اپنے آپ کو عملی سیاست سے الگ کر لیا، اپنی عملی سرگرمیوں کا محور غربت، بیماری، جہالت اور ایڈز کے خلاف جنگ کو بنایا۔ ان کی انسانی خدمات کے اعتراف میں انہیں امن کا نوبل انعام بھی ملا۔ اقوام متحدہ نے نیلسن منڈیلا کے یوم وفات 5 دسمبر کو عالمی دن قرار دیا۔
آنجہانی نیلسن مینڈیلا کی عظمت انسانی کا باعث نہ دولت اور نہ بینک بیلنس۔ وہ ایک چھوٹے سے گھر میں رہتے تھے، ان کے کمرے میں ایک معمولی سا، پلنگ ہوتا تھا، لوگ ان کے ہاتھ چومتے تھے، انہیں کسی محافظ کی ضرورت نہ تھی، کیونکہ لوگ خود ان کی زندگی کے ضامن تھے، جب باہر نکلتے تو لوگ دیوانہ وار ان کے گرد جمع ہو جاتے، کوئی ہٹو بچو کی صدا دینے والا نہ ہوتا، ان کی عظمت انسانی کی دلیل ان کا عزم پیہم، مساوات انسانی کی جدوجہد اور عدم تشدد کا فلسفہ ہے، کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی ان کے پاس سب کچھ تھا، ان کی وفات پر ساری دنیا کی حکومتوں اور کروڑوں انسانوں نے انہیں خراج عقیدت پیش کیا، نیلسن مینڈیلا کو اس فانی دنیا میں جتنی عزت ملی اس کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا، 27 سال کی لازوال جدوجہد اور قیدو بند نے ان کے نام کو اونچا کیا، اور بعد ازاں وفات ان کے فلسفہ زندگی نے ان کو امر کر دیا ہے،
ہے کوئی موجودہ دور میں ایسا حکمران جو نیلسن مینڈیلا کی راہ اپنا سکے۔
ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم


