بیٹی کا جنازہ


ہمارا ایک ہی بیٹا ہے حاجی صاحب، اس کے سارے ارمان پورے ہونے چاہیے۔ شیخ صاحب آپ فکر ہی نہ کریں، ہم اپنی بیٹی کی شادی بہت دھوم دھام سے کریں گے۔ حنا کے ابو نے سلامت کے باپ کو تسلی دی۔ اچھا تو پھر حق مہر کی بات ادھر ہی فائنل کر لیں، وہ نہ ہو ہم بارات لے کر آئیں اور آپ بھاری ڈیمانڈ رکھ دیں۔ سلامت کے باپ نے حق مہر کے قصے کو یہیں لپیٹنا چاہا۔ کیسی بات کرتے ہیں شیخ صاحب، ہم نے بیٹی بیاہنی ہے اس کا سودا تھوڑی کرنا ہے، جو آپ مناسب سمجھیں لکھ لیجیے گا۔ تو ٹھیک ہے پھر شرعی حق مہر ہو گا۔ سلامت کے باپ نے پانچ سو روپے کو شرعی حق مہر قرار دے کر یہ رقم طے کردی۔

حاجی صاحب کی کلاتھ مارکیٹ میں کپڑے کی بڑی دکان تھی۔ اسی دکان سے تینوں بیٹوں کو الگ الگ کاروبار شروع کر کے دیا تھا۔ روپے پیسے کی کمی نہیں تھی۔ ناک اونچی کرنے کے لیے حاجی صاحب نے بیٹی کی شادی پہ بے بہا پیسہ لگایا۔ حنا کی شادی کے دنوں چر چے رہے۔ پورے کلاتھ مارکیٹ میں حاجی صاحب کی واہ واہ تھی۔ حاجی صاحب کے بیٹوں کے رشتے اچھے اونچے گھرانوں سے آنے لگے۔ اسی مقصد کے لیے تو حاجی صاحب نے اتنا خرچا کیا تھا۔

ادھر شادی کے بعد حنا کے سسرال والوں نے اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا۔ میرے تو اللہ اللہ کرنے کے دن ہیں، یہ گھر اور چاروں نندیں اب تمھاری ذمہ داری ہیں۔ حنا کے ہاتھوں کی مہندی بھی نہیں اتری تھی کہ اسے کچن میں بھیج دیا گیا۔ وہ سارا دن کولہو کا بیل بنی رہتی۔ سلامت سارا دن گھر میں پڑا سویا رہتا، شام ڈھلے گھر سے نکلتا اور رات دو تین بجے واپس آتا۔ گھر واپسی پہ اگر حنا سوئی ہوتی تو اس کی شامت آجاتی۔ اس کا کہنا تھا میرے آنے سے پہلے تم سوئی کیوں۔ صبح کی تھکی حنا رات بھی آرام کو ترستی۔ پہلے شوہر کے انتظار میں جاگتی۔ پھر شوہر کے حق کے لیے جاگنا پڑتا۔ چند ہی دنوں میں حنا مرجھا کے رہ گئی۔ وہ کہیں سے بھی نئی نویلی دلہن نہ لگتی۔ اس نے ماں کو بتایا تو ماں نے کہا صبر کرو، آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔

سلامت ابھی بچے نہیں چاہتا تھا یہ بات اس نے حنا کو پہلے ہی دن بتا دی، لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ حنا امید سے تھی لیکن اس نے ڈر کے مارے کسی سے ذکر نہ کیا۔ یہ بات آخر کب تک چھپا سکتی تھی۔ سلامت کو پتہ چلا تو اس نے خوب زد و کوب کیا۔ سلامت کی ماں نے صاف کہہ دیا تھا کہ ہمیں بیٹی نہیں بیٹا چاہیے، حالانکہ بیٹا یا بیٹی پیدا کرنا حنا کے اختیار میں تو نہیں تھا۔ جوں جوں دن گزرتے حنا کی پریشانی بڑھتی جا رہی تھی۔ ماں باپ تو جیسے اسے بھول ہی گئے تھے۔ مہینوں اس کی خبر نہ لیتے۔

باپ کے سامنے اپنا دکھ رکھا تو باپ نے کہا، تو میری سمجھدار بیٹی ہے۔ اور نیک بیٹیاں ماں باپ کا سر نہیں جھکنے دیتیں۔ سلامت جیسا بھی ہے تیرا شوہر ہے۔ تجھے اب اسی کے ساتھ رہنا ہے۔ یہاں سے تیری ڈولی بھیجی تھی، اب وہاں سے تیرا جنازہ نکلنا چاہیے۔ حاجی صاحب سمجھا بجھا کر حنا کو واپس سسرال چھوڑ آئے۔ اس کے سسرال والوں نے بہت باتیں سنائیں، یہ بنا بتائے گئی ہے ہم نہیں اسے رکھنے والے۔
بچی ہے گھبرا گئی تھی اب ایسا نہیں ہو گا، حاجی صاحب نے تسلی دی۔

حنا کی بیٹی پیدا ہوئی تھی۔ سلامت نے دیکھنا گوارا نہ کیا۔ ساس بھی منہ پھلا کر بیٹھ گئی۔ اگلی بار پھر بیٹی ہوئی۔ اب کی بار سلامت نے لحاظ نہ کیا اور مار مار کر ادھ موا کر دیا۔ نہیں چاہیے مجھے بیٹی، دفع ہو جاؤ اسے لے کر۔ اس نے دونوں بیٹیوں سمیت حنا کو گھر سے نکال دیا۔ جائے تو کہاں جائے، حنا کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔ وہ بیٹیاں پکڑے ایک بار پھر ماں باپ کی دہلیز پہ تھی۔ باپ اور بھائی دیکھتے ہی بھڑک اٹھے۔ تمھیں کہا تھا ہنسی خوشی آنا لڑ جھگڑ کر نہیں۔

حاجی صاحب ایک بار پھر حنا کے سسرال موجود تھے۔ دیکھیں جی حنا اب آپ کے گھر کی عزت ہے، اور یہ دونوں بچیاں آپ کا خون، ہم پرائی اولاد نہیں پالنے والے۔ لہذا دوبارہ انھیں ہماری طرف مت بھیجیئے گا۔

سلامت رات گئے گھر لوٹا تو کمرے میں حنا اور اس کی بیٹیوں کو دیکھ کر بھڑک اٹھا۔ تم پھر آ گئی ہو۔ لگتا ایسے جان نہیں چھوڑو گی۔ سلامت نے حنا کے منہ پہ تکیہ رکھ کے اس کا گلا دبا دیا۔ وہ کمزور عورت کتنی دیر مزاحمت کر سکتی تھی، ہار گئی۔ حاجی صاحب کا شملہ اونچا رہا۔ حنا کا جنازہ شوہر کے گھر سے ہی نکلا تھا۔

Facebook Comments HS