نیند کیوں رات بھر نہیں آتی


سب کچھ اتنا سادہ نہیں ہے جتنا بتایا جاتا ہے۔ غالب جیسا عالی دماغ پریشاں ہے کہ جب موت کا ایک دن معین ہے تو نیند کا نہ آنا چہ معنی۔ دو سوال ہیں کہ سوچنے والوں کو پریشان رکھا کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ ہم یہاں کیوں ہیں؟ کیا کرنے آئے ہیں؟ دوسرا سوال کہ کہاں جائیں گے؟ یہاں جب آنکھ بند ہوگی تو کہاں کھلے گی؟ علت و معلول کے روز مرہ کا عادی دماغ وجہ تو پوچھتا ہے نا۔

پچھلے چند برسوں سے سردیاں اور ان کی طویل راتوں کا پچھلا پہر میرے ذہن کو ’کیوں‘ سے بھر دیتا ہے۔ اب جوانی کے دن تو ہیں نہیں کہ کوئی سیم تن ہمارے اسپِ خیال کا سوار ہو اور تصورِ جاناں یوں تھپک تھپک کر سلائے کہ سویرے بھی اٹھنا محال ہو۔ اب تو وہ دن ہیں کہ اول شب میں کوئی کتاب پڑھتے ہوئے یا فلم دیکھتے ہوئے نیند کی وادی میں اترتے ہیں تو بڑی نرم گرم نیند آتی ہے۔ تاہم میری عمر کے مَردوں کو مثانے کے غدود برہنے پر یا ذیابیطس کی شکایت پر رات کو ایک آدھ دفعہ مثانہ خالی کرنے کو اٹھنا پڑتا ہے۔

میرا یہ وقت فجر کی اذانوں سے گھنٹہ پون گھنٹہ پہلے کا ہوتا ہے۔ بس پھر نیند نہیں آتی۔ گزر چکے اتنے سارے وقت کے زیاں کا احساس دل کو بوجھل کرنے لگتا ہے۔ ابھی کی تو بات ہے میں بچہ تھا، جوانی آئی، اب ادھیڑ عمری ہے اور اگر میرے حصے کا کچھ وقت باقی ہے تو کوئی دن جاتا ہے بڑھاپے کی چاپ سماعتوں پر دستک دینے لگے گی۔ بغلوں میں ہاتھ دابے اترتی صبحِ کاذب میں گزری عمر کا گوشوارہ کھل جاتا ہے۔ میں ایک ایک ورق پر نظر ڈالتا اور سوچتا ہوں کہ کوئی ایسا کارِ نمایاں نہیں جسے عمر کا حاصل کہا جا سکے۔ سکول کالج میں کتابیں رٹیں، ان کی بنیاد پر ایک نوکری پائی، شادی کی، بچے ہوئے، گھر بنایا، بچوں کو پالا، کھایا پیا اور بس۔ اس کُرہ زمین پر لاکھوں قسم کی جو حیاتِ حیوانی ہے، وہ سبھی یہی کچھ کرتے ہیں، میں نے کیا الگ کیا؟ حیات کا خلاصہ دو سطروں میں یہی ہے

آسماں سے اتارا گیا
زندگی دے کے مارا گیا

پھر سوچتا ہوں کہ مجھے بتایا بھی تو نہیں گیا تھا کہ کس مقصد کے لیے زمین پر بھیجا جا رہا ہے۔ یہ ’کیوں‘ بہت تنگ کرتا ہے۔ کب سے تلاش میں ہوں۔ مذاہبِ عالم ایک سا سٹیریو ٹائپ جواب دیتے ہیں کہ امتحان گاہ ہے، اچھے برے کا معاوضہ اگلی دنیا میں پاؤ گے۔ میں دماغ پر بہت زور ڈالتا ہوں مگر مجھے قطعی یاد نہیں آتا کہ میں نے کسی امتحان میں اترنے کی درخواست گزاری ہو، کسی بنک میں داخلہ فیس جمع کروائی ہو۔ میں تو دائیں یا بائیں ہاتھ میں تھمائی جانے والی کسی سند کا طلب گار نہیں تھا۔

پڑوس کے ملک میں ایک صاحب ہیں ڈاکٹر وکاس دیویا کرتی، بہت پڑھے لکھے۔ یونان، ہندوستان اور دیگر دنیا کا فلسفہ انہوں نے گھول کے پی رکھا ہے۔ کبھی فرصت ہو تو یوٹیوب پر سنئے گا۔ ان سے پوچھا گیا کہ ’ہم یہاں کیوں ہیں؟‘ انہوں نے کہا ”یہ فلسفے کا بنیادی سوال ہے، میں نے اس سوال کا جواب بہت تلاش کیا، بڑے بڑے فلاسفہ کے ہاں جھانک آیا۔ میری ابھی تک کی تلاش کا حاصل یہ ہے کہ ہم نہیں جانتے کہ ہم یہاں کیوں ہیں۔ شاید آنے والے وقتوں میں اس کا جواب مل جائے۔ انسانی فکر کی عمر فقط سات ہزار برس ہے۔ اتنے سے وقت میں چودہ ارب سال پرانی کائنات کو اور اس میں اپنے کردار کو سمجھنا کیوں کر ممکن ہے۔ سو فکر چھوڑیے جب تک یہاں ہیں بس انجوائے کیجئے“

درست کہتے ہیں ڈاکٹر وکاس مگر ان کا آخری مشورہ کچھ صائب نہیں۔ یہی ’فکر‘ تو انسان کو درختوں سے اتار کر اور غاروں سے نکال کر یہاں تک لائی ہے، اگر فکر چھوڑ دی جائے تو تلاش کا سفر رک جائے گا۔ خیر! یہ تو فلسفے کی بات تھی کبھی مجھے یہ بھی خیال آتا ہے کہ سو ارب کہکشاؤں والی اس کائنات کی ایک کہکشاں ملکی وے کے سو ارب سیاروں میں سے ایک سیارے ’زمین‘ پر کوئی دو ملین (بیس لاکھ) قسم کی حیات ہے اور ان میں سے ایک میں ہوں۔ میری ہی جیسی زندگی رکھنے والی یہ لاکھوں انواع کی حیات بھی روز مرتی ہے۔ آخر میں ہی اپنے تئیں اس قدر اہم کیوں سمجھتا ہوں کہ اگلی دنیائیں میرے انتظار میں ہیں اور میرے ہی استقبال کو وضع کی گئی ہیں؟ مجھے اپنے ہی بارے میں یہ زعم کیوں ہے کہ

موت کو سمجھے ہیں غافل اختتامِ زندگی
ہے یہ شامِ زندگی، صبحِ دوامِ زندگی

قراقرم کے پہاڑی سلسلے سے پرے ہمارا جو پڑوسی چین ہے، وہاں کے کنفیوشس کو تو آپ یقیناً جانتے ہوں گے۔ شاید لاؤتزو کو بھی جانتے ہوں۔ دونوں ہم عصر تھے، فرق تھا تو یہ کہ کنفیوشس سرکاری درباری مفکر تھا اور لاؤتزو درویش منش۔ لاؤتزو کو لاؤزے بھی کہا جاتا ہے جس کے معنی ہیں بوڑھا مفکر۔

لاؤتزو ایک غار میں رہائش پذیر تھا جب کنفیوشس جو بادشاہ کا اہم ترین وزیر تھا، اسے ملنے گیا۔ لاؤتزو نے کنفیوشس کی آمد کو درخور اعتنا نہ سمجھا اور آنکھ اٹھا کر اس کی طرف دیکھا تک نہیں۔ کنفیوشس کو یہ بے نیازی بری لگی، بولا ”آپ مہمانوں کی تعظیم نہیں کرتے، مجھے بیٹھنے تک نہیں کہا“ ۔ لاؤتزو بولا ”یہ غار کسی کے باپ کا نہیں ہے، میں بھی یہاں آ کر بیٹھ گیا تھا تم بھی اگر بیٹھنا چاہتے ہو تو بیٹھ جاؤ، اس میں اجازت دینے لینے کا کیا سوال؟“

کنفیوشس اس شان بے نیازی پر ششدرہ رہ گیا۔ تھوڑی ہمت کر کے پھر بولا ”اچھا یہ بتائیے کہ مرنے کے بعد کیا ہو گا؟“

لاؤتزو اس سوال پر تپ گیا، بولا ”تم یہ بتاؤ مرنے سے پہلے کیا ہوتا ہے؟ تم ابھی زندہ ہو تم بتا سکتے ہو زندگی کیا ہے؟“ کنفیوشس بغلیں جھانکنے لگا۔ لاؤتزو بولا ”جب تمہیں زندہ رہتے ہوئے زندگی کا نہیں پتہ تو زندہ رہتے ہوئے مرنے کے بعد کا حال کیسے جان سکتے ہو؟“

کنفیوشس نے ڈرتے ڈرتے ایک اور سوال پوچھا کہ لوگوں کو اخلاقیات کی تعلیم کیسے دی جائے؟ انہیں اچھا برا کیسے بتایا جائے؟

اب لاؤتزو کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا، چنگھاڑتے ہوئے بولا ”تم کتنے فضول سوال کرتے ہو۔ تم ہوتے کون ہو لوگوں کو اخلاقیات کا درس دینے والے، انہیں اچھا اور برا کی تمیز کرانے والے؟ ہر آدمی کو اپنے اچھے یا برے کا پتہ ہے، تم لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دو اور اب میری جان بھی چھوڑ دو“

درویش تو پھر ایسے ہی ہوتے ہیں صاحب

لاؤتزو کے پاس ایک کھردرے کپڑے کا کوٹ تھا جسے وہ کمر کے ساتھ رسی سے باندھے رکھتا اور بانسری بجاتا یہاں وہاں گھوما کرتا۔ ایک دن کسی نے پوچھا تم ہمیشہ خوش کیسے رہتے ہو؟

لاؤتزو نے کہا ”میری خوشی کے چار اسباب ہیں۔ پہلا یہ کہ میں انسان ہوں اور ان تمام خوشیوں سے لطف اندوز ہو سکتا ہوں جن کی صلاحیت انسانی جسم رکھتا ہے۔ دوسرے میں مَرد ہوں اور عورت کے حسن کی تعریف کر سکتا ہوں۔ تیسرے یہ کہ اب میں بوڑھا ہو گیا ہوں چنانچہ ان لوگوں کی نسبت جو جوانی میں مر جاتے ہیں، میرے پاس زیادہ خوشیاں ہیں۔ چوتھے یہ کہ اب میں مرنے کے لئے تیار ہوں، مجھے کسی قسم کی پریشانی اور خوف نہیں“

کاش مجھے اور غالب کو بھی لاؤتزو جیسا یقین میسر آ جائے۔ جہاں تو یہ عالم ہے کہ قبلہ مولوی صاحب نے موت کا منظر اور مرنے کے بعد کیا ہو گا کے مناظر سنا سنا کر ہماری روح فق کر رکھی ہے۔ سو جوں جوں عمر بڑھتی ہے تو نیند اڑتی چلی جاتی ہے۔

Facebook Comments HS