انسانی حقوق کا عالمی دن اور عالمی منشور کا تاریخی پس منظر
10 دسمبر کو انسانی حقوق کے عالمی منشور یعنی یونیورسل ڈیکلریشنUDHR کے منظور کیے جانے کے 76 سال پورے ہو رہے ہیں۔ اس عظیم اعلامیہ کی اہمیت آج بھی نہ صرف برقرار ہے بلکہ اس پر عمل داری کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ دنیا بھر میں رہنے والے انسانوں کے سماجی، سیاسی، مذہبی، معاشی، ثقافتی اور شہری حقوق پر مشتمل یہ منفرد دستاویز آج بھی اقوام عالم کی توجہ کی منتظر ہے۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے انسانی حقوق کا ایک اور چارٹرڈ ”خطبہ حجتہ الوداع“ کی شکل میں پہلے سے موجود ہے۔
گویا مسلمانوں کو یہ سبقت حاصل ہے کہ وہ انسانی حقوق کے 2 چارٹرڈ رکھتے ہیں۔ ایک مذہبی طور پر انہیں دیا گیا تھا کہ وہ انسان اور انسانی اقدار کا احترام کریں اور دوسرا انہیں اقوام متحدہ کا ممبر ملک کی حیثیت سے سیاسی طور پر ملا۔ یونیورسل ڈیکلریشن Universal Declaration of Human Rights اقوام متحدہ کی وہ قرارداد ہے جو پیرس میں 10 دسمبر 1948 کو بذریعہ قرار داد نمبرA 217 منظور کی گئی تھی۔ جنرل اسمبلی کے 317 ویں اجلاس میں قرار داد نمبر V 423 پیش کی گئی جس کے تحت تمام رکن ممالک کو ہر سال دس دسمبر کو انسانی حقوق کا دن منانے کی دعوت دی گئی تھی۔
دس دسمبر کو انسانی حقوق کا عالمی دن منانے کے موقع پر دنیا بھر میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں کی بھرپور مذمت کی جاتی ہے اور انسانی حقوق کے تحفظ و اس کی اہمیت پر سیمینارز منعقد کیے جاتے ہیں۔ اس ڈیکلریشن میں بنیادی انسانی حقوق اور آزادیوں کی واضح نشاندہی کی گئی ہے اور یہ تیس آرٹیکلز پر مشتمل ہے یہ اس وقت دنیا کی سب سے غیر معمولی اور اہم ترین دستاویزات ہیں تادم تحریر انسانی حقوق کے عالمی منشور کا 500 سے زائد زبانوں میں اس کا ترجمہ ہو چکا ہے اور 1999 سب سے زیادہ زبانوں میں ترجمے کا ورلڈ ریکارڈ قائم کیا تھا جب کہ 2009 میں دنیا کی سب سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ کے ساتھ پڑھی جانے والی دستاویزات کے طور پر اس کا اندراج گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں کیا گیا اور اس کو عالمی ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔
انسانی حقوق کے عالمی منشور کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ یہ انگریزی، سپینش اور پرتگالی زبانوں میں اشاروں کی زبان میں بھی یوٹیوب پر دستیاب ہے۔ او ایچ سی ایچ آر OHCHRکا دفتر سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں موجود ہے جہاں انسانی حقوق کی پاسداری کے لئے الفاظوں، اور تقریروں کے ذریعے جنگ لڑی جاتی ہے۔ اس بارے مزید تفصیلات ادائے کی ویب سائٹ www۔ ohchr۔ org سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔ انسانی حقوق کے عالمی منشور کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس کے اندر تین اہم باتوں پر زور دیا گیا ہے ان میں ایک فرد کی آزادی اور اس کی حفاظت، دوسرا عدل و انصاف اور تیسرا مساوات۔
اقوام متحدہ کے ہر رکن ملک کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس عالمی منشور کا احترام کرے اور اس کی روشنی میں اپنے ملک کے شہریوں کو حقوق کی فراہمی کو یقینی بنائے ان حقوق میں جینے کا حق، امتیاز سے پاک مساوات اور برابری کا حق، اظہار رائے کی آزادی، معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق شامل ہیں۔ اس کو ماننا اور اس پر عمل کرنا ہر اس ملک کے لئے لازمی ہے جو اقوام متحدہ کا ممبر بن چکا ہے۔ اس کی تخلیق و تیاری کے پس منظر میں بھی انسانی تباہی و بربادی کی ہولناک داستان پوشیدہ ہے۔
دوسری جنگ عظیم نے کروڑوں انسانوں سے آباد شہروں اور ملکوں کو قبرستانوں اور کھنڈرات میں تبدیل کر دیا تھا اور ان ہولناکیوں نے انسانی ذہن اور سوچ پر گہرے اثرات مرتب کیے تھے۔ اپنے ہی ہاتھوں ہنستے کھیلتے شہروں کی آبادیوں کو جس طرح تباہ و برباد کیا گیا، انسان ہی انسان کے لئے درندہ بن چکا تھا اس کی مثال تاریخ انسانی میں ملنی مشکل ہے انسانی تاریخ کی سب سے زیادہ ہولناک جنگ کے بعد بالآخر انسان یہ حقیقت تسلیم کرنے پر مجبور ہوا کہ جنگ کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں ہوا کرتی بلکہ جنگ مزید مسائل کو جنم دیتی ہے۔
جنگ عظیم اور اور دوم دونوں ہی اس کی بدترین مثالیں ہیں اور بالآخر انسان کو امن کے جھنڈے تلے ہی پناہ لینی پڑی اور ایک پرامن اور مستحکم اور خوشحال دنیا کے لئے مشترکہ جدوجہد کے لئے ایک عالمی ادارے کی ضرورت کو محسوس کیا گیا اور اسی کے نتیجہ میں اقوام متحدہ کا ادارہ معرض وجود میں آیا تھا اس ادارہ کے قیام کے بنیادی مقاصد میں ایک انسانی حقوق کا تحفظ اور اس کا فروغ بھی ہے۔ اب اس ادارہ کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان لگ چکے ہیں۔
یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ انسانی حقوق آزادی اور حقوق کا وہ نظریہ ہے جس کے تمام انسان مساوی طور پر حقدار ہوتے ہیں اور اس میں کسی رنگ، نسل، قوم، زبان، عقیدے کا امتیاز نہیں ہوتا۔ اس عالمگیر اصول کے تحت کرہ ارض پر بسنے والے تمام انسان یکساں طور پر بنیادی ضروریات اور سہولیات کے حقدار ہوتے ہیں۔ یہ ہر معاشرے کی ضرورت رہے ہیں اور ہر دور میں ان کے لئے آوازیں بلند ہوتی رہی ہیں ان حقوق کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ وہ خطہ یا معاشرہ اخلاقیات، انصاف مثبت روایات اور دیگر سماجی عوامل کے ساتھ مضبوط بنیادوں پر استوار ہو۔
انسانی حقوق کے عالمی منشور کی پہلی دفعہ ہی انسانی حقوق کی تعریف کرتی ہے جس کے مطابق۔ ”تمام انسان آزادی اور حقوق و عزت کے اعتبار سے برابر پیدا ہوئے ہیں انہیں ضمیر اور عقل ودیعت ہوئی ہے اس لئے انہیں ایک دوسرے کے ساتھ بھائی چارے کا سلوک کرنا چاہیے“ ۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ان انسانی حقوق میں شہری حقوق کی بھی شامل ہیں جن کی درج ذیل شکلیں ہیں، زندگی کے حقوق، آزادی کے حقوق، جائیداد کے حقوق، بحث و مباحثہ کے حقوق کام کرنے کے حقوق وغیرہ۔
اسی طرح سیاسی حقوق کا بھی تعین کیا گیا ہے جن میں کچھ یہ ہیں۔ ووٹ کا حق، الیکشن کا حق، پبلک افیئر کے حقوق، سیاسی افیئرز کے حقوق وغیرہ۔ 1966 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اتفاق رائے سے انسانی حقوق کے عالمی بل کے موخر الذکر دو معاہدوں کو منظور کیا جس کے بعد سے یہ بل انسانی حقوق کی ایک مکمل دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان بھی آزادی کے سال یعنی تیس ستمبر 1947 سے اقوام متحدہ کا رکن ہے عالمی منشور کا پہلا ڈرافٹ سیکریٹریٹ نے تیار کیا تھا اس کو انٹر نیشنل بل آف رائٹس کا نام دیا گیا تھا اور اس میں 48 آرٹیکلز شامل تھے۔
کمیٹی کا پہلا سیشن 9 جون سے 25 جون تک نیو یارک میں منعقد ہوا تھا جب کہ دوسرا اور آخری سیشن 3 مئی سے 21 مئی تک نیویارک میں منعقد ہوا جس میں فائنل ڈرافٹ بھی تیار کیا گیا تھا ان دو بڑے سیشنوں کے درمیان انیس اجلاسات منعقد ہوئے جن میں ضروری تبدیلیاں کی جاتی رہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے فوراً بعد انسانی حقوق کی اہمیت اور ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے اس پر پہلی بار اتفاق رائے پیدا کیا گیا اور یہ تسلیم کیا گیا کہ انسانی حقوق ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور بلا امتیاز ہر انسان کو ملنے چاہیے۔
اس قرارداد میں کل تیس شقیں موجود ہیں جو بین الاقوامی معاہدوں، علاقائی انسانی حقوق کے آلات، قومی و عالمی دستوروں اور قوانین سے اخذ کی گئیں تھیں ان میں بنیادی انسانی حقوق اور انسانی آزادیوں کا تعین کیا گیا ہے۔ مسودے میں یہ بات واضح الفاظ میں لکھے ہوئے ہیں کہ اقوام متحدہ کے ہر رکن ملک کو اس عالمی منشور انسانی حقوق کا احترام کرنا ہو گا اور اپنے اپنے ملک کے شہریوں کو ان کے تمام حقوق بلا امتیاز دینا ہوں گے ۔
اس کی منظوری کے وقت اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی تعداد 58 تھی جبکہ کسی ملک نے اس کی مخالفت نہیں کی تھی 48 ممالک نے اس منشور کی حمایت کی تھی اور دستخط کیے تھے ان میں پاکستان بھارت اور افغانستان بھی شامل تھے۔ دو ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا تھا جبکہ آٹھ ممالک نے لاتعلقی اختیار کی تھی ان میں سعودی عرب بھی شامل تھا جب کہ دیگر ممالک میں جنوبی افریقہ، یوکرائن، یو ایس ایس آر، یوگوسلاویہ اور چیکو سلواکیہ شامل تھے۔
انسانی حقوق کا ابتدائی ڈرافٹ 1947 اور اختتام 1948 کے دوران ایک اقوام متحدہ کی ایک کمیٹی نے تیار کیا تھا اس کے بعد اس میں مزید بحث و مباحثہ اور ترامیم جنرل اسمبلی اور اکنامک اینڈ سوشل کونسل کی طرف سے کی گئیں جو کہ اقوام متحدہ ہی کے اہم ذیلی ادارے ہیں۔ انسانی حقوق کے آفاقی منشور کو تیار کرنے والی کمیٹی 9 ممالک کے قابل ترین افراد پر مشتمل تھی جس میں امریکہ، چین، لبنان، آسٹریلیا، چلی، فرانس، یو ایس ایس آر، برطانیہ اور کینیڈا شامل تھے۔
امریکہ سے تعلق رکھنے والیEleanor Rooseveltاس کمیٹی کی صدر تھیں۔ جنرل اسمبلی نے جب اس تاریخی بل کی منظوری دی تو ساتھ ہی اس کا اعلان عام کیا اور اس وقت کے تمام ممبر رکن ممالک کو تاکید کی گئی کہ وہ بھی اپنے اپنے ملک میں اس کا اعلان عام کریں اور اس کی نشرو اشاعت میں حصہ لیں مثلاً یہ کہ اسے نمایاں مقامات پر آویزاں کیا جائے اور خاص طور پر اسکولوں اور تعلیمی اداروں میں اسے پڑھ کر سنایا جائے اور اس کی تفصیلات واضح کی جائیں اور اس ضمن میں کسی ملک یا علاقے کی سیاسی حیثیت کے لحاظ سے کوئی امتیاز نہ برتا جائے۔
پاکستان، ایران اور سعودی عرب اسلامی دنیا کے اہم ترین ممالک میں شمار ہوتے ہیں ان میں سعودی عرب واحد اسلامی ملک ہے جس نے انسانی حقوق کے عالمی منشور کو ماننے سے انکار کیا ہوا ہے جب کہ باقی ممالک میں انسانی حقوق کی صورتحال تسلی بخش نہیں ہے جن معاشروں میں طبقاتی تقسیم، مذہبی منافرت، عدم رواداری، عدم مساوات اور نا انصافی اپنے عروج پر ہو وہاں ہر قسم کی ترقی اور امن ایک خواب بن کر رہ جاتا ہے۔ 2015 سے لے کر 2030 تک اقوام متحدہ نے پائیدار ترقی کے سترہ 17 اہداف مقرر کیے ہوئے ہیں جن میں بھوک کا خاتمہ، انسداد غربت، معیاری تعلیم، معیاری صحت کی سہولیات، صنفی مساوات، صنعتی ترقی، صاف پانی اور صفائی، سستی اور آلودگی سے پاک بجلی، معقول روزگار، امن اور تعاون جیسے اہداف شامل ہیں۔ دیکھا جائے تو یہ سبھی پاکستان کی اہم اور بنیادی ضروریات ہیں اور پاکستان ان سبھی اہداف میں بہت پیچھے ہے۔


