بندر، ٹائپ رائٹر اور فسانۂ عجائب
کبھی کبھی تو غیب سے ایسے نادر مضامین خیال میں آتے ہیں کہ ہم خود دنگ رہ جاتے ہیں۔ زبان و ادب کی حد تک تو یہ بات قابلِ فہم ہے کہ ہم اس میدان کے شہ سوار ہیں اور اس دشت کی سیاحی میں ایک عمر گزری ہے لیکن جب سائنس کے اسرار بھی ہم پر کھلنے لگتے ہیں اور لبوں پر سائنس کے ’ایجادِ بندہ‘ نظریات جاری ہو جاتے ہیں تو اپنے ذہنِ رسا پر رشک کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔
چند ماہ پہلے کا واقعہ ہے۔ گرمیوں کے دن تھے۔ ہم ایک باغ میں آم کے درخت کے نیچے بیٹھے فکرِ سخن میں مصروف تھے۔ اب ٹھیک طرح سے یاد نہیں کہ کسی مصرعے کی تحریف پر غور کر رہے تھے، دولت کمانے کا آسان طریقہ سوچ رہے تھے یا کسی رفیق کار کی ’سازشی تھیوری‘ کو ناکام بنانے کی فکر میں تھے کہ بلندی سے ایک آم ٹپک کر زور سے ہمارے سرِ بے غرور سے ٹکرایا۔ ایسے عالم میں گنتی کا ہوش کسے رہتا ہے لیکن محتاط اندازہ یہی ہے کہ چودہ کے چودہ طبق روشن ہو گئے۔ ہماری جگہ کوئی اور شخص ہوتا تو نالہ و زاری سے آسمان سر پر اٹھا لیتا لیکن ہمارے کاسۂ سر کی مضبوطی کی داد دیجیے کہ اف تک نہ کی بلکہ آم کو زمین سے اٹھا کر چوسنے لگے کہ کہیں اس کے معصوم دل میں یہ بدگمانی پیدا نہ ہو کہ ہم نے نعمتِ خداوندی کو بلائے آسمانی خیال کیا ہے۔
آم کی شیرینی کا طبیعت پر خوش گوار اثر پڑا۔ اوسان بحال ہو گئے۔ دل آم آم ہو گیا۔ روح لطیف ہو گئی اور دماغ میں رنگین خیالات جنم لینے لگے۔ ان میں سے اکثر خیالات کا تعلق ماہ جبیانِ رفتہ اور پری و شانِ حاضرہ سے تھا۔ ”دھول دھپا“ کے بھی چند واقعات یاد آئے مگر ان سے گریز کرتے ہوئے اور ’شعور کی رو‘ کو گم راہ ہونے سے بچاتے ہوئے ہم آگے بڑھ گئے۔ اس دوران میں ہماری نظر اچانک آم کی گٹھلی پر پڑی۔ لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر، کیا کیجیے۔ ایک خیال یہ آیا کہ آم تو نوشِ جان کر چکے، اب گٹھلی کے دام بھی وصول کریں تو برا کیا ہے۔ پھر ذہن میں یہ بات آئی کہ شہر میں اس جنسِ نایاب کا خریدار کون ہو گا۔ مال ہے نایاب اور گاہک ہیں اکثر بے خبر۔ ہم نے مایوس ہو کر ’گلشن کے کاروبار‘ کا ارادہ ترک کر دیا۔
اب ہم اس نکتے پر غور کرنے لگے کہ آم نے شاخ سے ٹوٹ کر ہمارے ہی سر کو نشانہ کیوں بنایا، آسمان کے کسی ستارے پر کمند کیوں نہ ڈالی؟ ہمارے فکرِ بلند کو یہ نتیجہ اخذ کرنے میں دیر نہ لگی کہ زمین میں ایسی نادیدہ کشش ہوتی ہے کہ اشیاء بلندی سے پستی کی جانب کچے دھاگے سے بندھی چلی آتی ہیں۔ ہم نے فوری طور پر ایک سائنسی نظریہ وضع کیا اور اسے ”کششِ ثقل کا قانون“ کا عنوان بھی دے دیا۔ بعد ازاں ہم نے جب اس نظریے کا تذکرہ اپنے ایک دوست طبیع الزماں سے کیا جو فزکس کے پروفیسر ہیں، تو انہوں نے یہ بتا کر مزا کرکرا کر دیا کہ انگلستان میں نیوٹن نام کے کوئی صاحب گزرے ہیں، ان کو چار سو سال قبل یہ قانون توارد ہو چکا ہے۔
یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ ہمارے ساتھ یہ اکثر ہوتا ہے کہ اگلے وقتوں کے لوگوں نے ہمارے افکار و نظریات پیشگی سرقہ کر لیے ہیں۔ ان دزدانِ رفتہ کے پاس یقیناً کوئی ایسا علم ہو گا کہ جس کے ذریعے وہ افکارِ آئندہ جان لیتے ہوں گے۔ بہرحال ہم نیوٹن کے متخیلہ کی داد دیتے ہیں کہ انہوں نے آم کو سیب میں مبدل کر کے واقعے میں ایک ذاتی رنگ پیدا کرنے کی سعی کی ہے۔
اس واقعے کے بعد طبیعت میں بے دلی کے آثار پیدا ہونے لگے۔ ایک جیسے دن، ایک جیسی راتیں، مزید یہ کہ ہر روز احباب کے ایک جیسے چہرے دیکھ دیکھ کر ہم اکتا سے گئے تھے، اس لیے ایک اتوار کی صبح ہم نے کثرتِ نظارہ کے لیے چڑیا گھر جانے کا ارادہ کیا۔ وہاں پہنچے تو عالم ہی کچھ اور تھا۔ بھانت بھانت کے جانور دیکھ کے دل کی کلی کھل اٹھی، خاص طور پر بندر کی شرارتوں سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا اور ہم جو مردم بیزار ہو چلے تھے، دوبارہ حلقۂ یاراں میں آنے جانے لگے۔ زندگی معمول پر آ گئی اور وہ بندر بھی لاشعور کی کسی شاخ شجر پر چھپ کر بیٹھ گیا لیکن ایک سہانی شام کو چھلانگ لگا کر وہ ظاہر ہو گیا۔ (جب دھم سے آ کہوں گا، صاحب سلام میرا) اس شام سائنس کا ایک سربستہ راز ہم پر منکشف ہوا اور ہم نے ”بندر کی لامحدودیت“ کا نظریہ بنی آدم کے سامنے پیش کیا۔
اس ریاضیاتی نظریے کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ دنیا امکانات کی نمائش گاہ ہے، اتفاقات کا کارخانہ ہے اور یہاں کسی بھی لمحے، کوئی امکان، حسنِ اتفاق کی صورت میں ظاہر ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی بندر کے دستِ شریر میں ماچس تھما دی جائے تو وہ پورے جنگل کو نذرِ آتش کر سکتا ہے تو یہ امر بھی عین ممکن ہے کہ اگر اسی بندر کو آبِ حیات پلا دیا جائے (سکندر نہ سہی، بندر سہی) اور اسے کرسی پر بٹھا کر سامنے ٹائپ رائٹر رکھ کر کھل کھیلنے کا موقع دیا جائے تو کوئی تعجب کی بات نہیں کہ ٹامک ٹوئیاں مارتے مارتے، مستقبل کی کسی صدی میں کسی روز وہ ”فسانۂ عجائب“ رقم کر دے۔ نکتہ بہ نکتہ، صفحہ بہ صفحہ، ہو بہ بہو!
ذرا تصور کیجیے، ایک بندر کرسی پر جلوہ افروز ہے، دم، زلفِ یار کی طرح ہوا میں لہرا رہی ہے، سامنے ٹائپ رائٹر رکھا ہے، مشقِ سخن جاری ہے، انگلیاں فگار ہو چکی ہیں مگر وہ ایک خاص ترتیبِ پریشاں سے، بے معنی غیر لفظی حروف ٹائپ کیے جا رہا ہے۔ بندر کے پاس لامحدود وقت ہے اور وہ مضامینِ لغو کے انبار لگا رہا ہے کہ اچانک امکان کا لمحۂ زریں ظہور پذیر ہوتا ہے اور بندر کی انگلیاں، خود بخود ”فسانۂ عجائب“ کا متن تحریر کرنے لگتی ہیں۔
ادھر عالمِ بالا میں رجب علی بیگ سرور کی روح تڑپ رہی ہے کہ جس تصنیف کو میں نے خونِ جگر سے تحریر کیا تھا، اسے ”جنگل کا روڑہ“ سوچے سمجھے بغیر، عین مین رقم کیے جا رہا ہے، یہاں تک کہ شہزادہ جانِ عالم کی وہ مسجع و مقفیٰ تقریر بھی جو قلبِ ماہیت کے بعد ، اس نے بندر کے روپ میں خلقتِ شہر کے سامنے کی تھی۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ بندر (مقرر) کا احوال بیان کرتے ہوئے بندر (محرر) کے چہرے پر کوئی تاثرات پیدا نہیں ہوتے اور وہ سپاٹ انداز میں، داستان نویسی میں مصروف رہتا ہے۔
ہم بندر کی لامحدودیت کے اس نظریے کی تشکیل پر بہت شاداں و نازاں تھے بلکہ ایک بار تو ہم اس بندر کا شکریہ ادا کرنے کے لیے خاص طور پر چڑیا گھر بھی گئے اور اس کی خدمت میں ایک کیلا اور مونگ پھلی کا پیکٹ نذرانے کے طور پر پیش کیا کہ وہ اس نظریے کا اولین محرک تھا۔ ابھی یہ جشنِ مسرت جاری تھا کہ ایک روز، وہی کرم فرما، وہی فزکس کے پروفیسر طبیع الزماں راستے میں مل گئے۔ عرضِ سلام اور مزاج پرسی کے بعد ، برسبیلِ تذکرہ ہم نے اپنے نئے نظریے سے مطلع کیا تو انہوں نے حسبِ سابق یہ بتا کر ارمانوں پر اوس ڈال دی کہ ایک صدی پیشتر، فرانس میں ایمائیل بورل نام کے کوئی ریاضی دان گزرے ہیں، ان کو یہ نظریہ توارد ہو چکا ہے۔
ہمارے ساتھ پہلی مرتبہ ایسا نہیں ہو رہا، یہ سانحہ ہم پر کئی بار گزر چکا ہے کہ پرانے لوگوں نے ہمارے تصورات و نظریات پیشگی چرا رکھے ہیں۔ ان سارقانِ رفتہ کے پاس یقیناً کوئی ایسا علم ہے کہ وہ افکارِ آئندہ سے آگاہ ہو جاتے ہیں۔ بہرحال ہم ایمائیل بورل کے تخیل کی پرواز کی داد دیتے ہیں کہ انہوں نے رجب علی بیگ سرور کے نام کو شیکسپیئر میں تبدیل کر کے نظریے کو ذاتی رنگ میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔


ماشاءاللہ ڈاکٹر صاحب، بہت عمدہ تحریر، بہت عمدہ اسلوب۔