ایس ڈی برمن اور شمشاد بیگم: کومیلا اور لاہور کیوں اتنے دور ہو گئے؟
بنگالی جادوگر بابا کی دھن کو دوام بخشتی پنجابی مٹیار کی الہڑ آواز۔ سیاں دل میں آنا رے، آ کے پھر نہ جانا رے۔ موسیقار اور گلوکار کو ایسا ایک گانا بھی نصیب ہو جائے تو سمجھو دونوں گنگا نہا لیے۔ یہاں دھن اور گائیکی کا تکنیکی پوسٹ مارٹم ہر گز مقصد نہیں ہے۔ مقصد اس دوام کو کھنگالنا ہے جو اس اور اس دور کے کئی دوسرے گانوں کو حاصل ہے جس کے پیچھے رنگ و نسل سے مبرا محنت ہوتی تھی۔ فریحہ پرویز، نیرہ نور اور مہناز نے بھی اس گیت کو نبھایا اور ہندوستان میں بولڈ ڈانس نمبر کے طور پر بھی اس پر طبع آزمائی کی گئی۔
ایس۔ ڈی برمن کومیلا ( موجودہ بنگلہ دیش) اور شمشاد بیگم لاہور ( موجودہ الباکستان) میں پیدا ہوئے۔ ابھی گوروں کی عارضی ظاہری غلامی کو دائمی پوشیدہ غلامی میں بدلنے کی سازش مکمل نہ ہوئی تھی۔ سیاسیوں کے ٹولے کے ہاتھ بھی ابھی مذہب کے استرے پر پوری طرح صاف نہ ہوئے تھے۔ ماسٹر غلام حیدر اور نوشاد صاحب کو لتا منگیشکر سا ہیرا تراشنے سے اس کا خدا کا مختلف تصور ہرگز نہ روکتا تھا۔
شمشاد بیگم کو بھی ابتدا میں روایتی مذہبی گھرانے سے سازگار ماحول نہ ملا۔ مگر انہوں نے دہائیاں پہلے ہماری وہ بات سن لی تھی کہ حالات سازگار نہیں بھی ہوں گے اور پھر بھی ہم آگے بڑھیں گے۔ اس وقت کون جانتا تھا کہ بنگال اور پنجاب میں اتنی دوری آئے گی۔ اس وقت میٹھے مدہم سروں میں بارود اور برچھیوں کی آواز شاید کچھ دب جاتی تھی۔ بنگال جا کر وہاں کی فضاؤں کی موسیقی اور جادو کو تو ہم نے اکیسویں صدی میں بھی محسوس کیا ہے۔ بابا برمن پھر جادوگر کیسے نہ ہوتے۔ پر جادوگر کو بھی اوزار چاہیے ہوتے جادو دکھانے کو۔
مہاراشٹر سے جو دو اوزار ملے ہندوستان کے جادوگروں کو، ان سے تو سب واقف پر پنجاب بھی کم ہر گز نہ تھا۔ موسیقی کے مؤرخ قصور سے لاہور تک نہیں آتے اور شمشاد بیگم کو کم کم یاد کرتے ہیں۔ ہندوستان دو اور پھر تین ملکوں میں بری طرح بٹ گیا۔ خطہ دو میں بٹنے کے بعد بنگال اور پنجاب مل کر ممبئی میں جادو دوبالا کرنے لگے۔ بنگالی باوا کے لئے کیا ٹریٹ ہوتی اگر اس کو قصور کا اوزار بھی مل پاتا۔ سروں اور ان کو استعمال کر کے شاہکار تخلیق کرنے والوں کو صوبوں اور زبانوں میں بانٹنا ضروری کیوں ہے؟ جب جنگ لگتی بلکہ جب نہیں بھی لگتی تو فوج میں سب صوبوں اور زبانوں والے مل کر کام کرتے ہیں۔ امن میں پھر کیوں نہیں ہو سکتا ۔ ہوتا رہا ہے بھائی۔ کومیلا اور لاہور کا فاصلہ کیسے خوش اسلوبی سے ساز اور آواز میں ڈھل کر سمٹ گیا۔ چھم چھما چھم چھم۔
مہدی حسن اور لتا منگیشکر ساتھ نغمہ سرا نہ ہو پائے۔ راجھستان اور مہاراشٹر کا ملاپ اگر مدراسی لڑکے اے۔ آر رحمان کی دھن پر ہوتا تو کیا ہوتا۔ یوں ہوتا تو کیا ہوتا پہ کام نہیں چلتا ہے۔ جو واقعی ہوا ہے اس کو بنیاد بنا کر آگے چلنا کتنا ضروری ہے۔ ماضی بلاوجہ ہی اپنی طرف کھینچتا یا گزرا ہوا وقت واقعی اک فسوں رکھتا؟
تم میرے پاس ہو گے، غم بڑی دور ہو گا
کہتا ہے جیا میرا ہو گا ضرور ہو گا
اب کیوں ایسے معجزے برپا نہیں ہوتے ہیں۔ کومیلا اور لاہور اتنے دور کیوں ہو گئے ہیں؟


