جدید لسانیاتی اور اسلوبیاتی تصورات: ایک مطالعہ
جنہوں نے خوش گفتار اور خوش شکل ڈاکٹر عامر سہیل کو صرف پڑھا ہے، سنا نہیں، وہ احباب تاحال آپ کی کثیر الجہت شخصیت کے بارے میں جزوی علم رکھتے ہیں۔ بیک وقت ایک اچھے لکھاری اور مقرر کی صفات سے متصف ڈاکٹر عامر بولنے پر آ جائے، تو وہ بولے اور سنا کرے کوئی۔ قلم ہاتھ میں لیں، تو سحر بیانی سے چھٹکارا ممکن ہی نہیں۔ موصوف کا ہزارہ یونیورسٹی سے ڈاکٹر محمد الطاف یوسف زئی کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کا تحقیقی مقالہ ’جدید لسانیاتی اور اسلوبیاتی تصورات‘ قرۃ العین حیدر کی ناول نگاری پر صوتی، نحوی، معنیاتی اطلاق ’ایک منفرد علمی کام ہے۔ تحقیق کے حوالے سے بہ استثنائے چند، سطحیت کے اس دور میں، ڈاکٹر عامر کی یہ کوشش اس عمومی علمی زوال کی نفی کرتی ہے۔
’ لسانیات اور اسلوبیات کا تاریخی اور فنی پس منظر‘ ، ’قرۃ العین حیدر کی ناول نگاری اور صوتیاتی نظام کا اشاریہ‘ ، ’صرفیات، تشکیلات، فکشن اور تخلیقی متن‘ ، ’نحوی تناظرات اور اسلوبیاتی مطالعات اور معنیات میں لغوی، مجازی اور تعبیراتی تفاعل‘ ، جیسے موضوعات پر لب کشائی اور ان کا حق ادا کرنے جیسے کٹھن کام میں موصوف ایک کہنہ مشق دانشور کے ناتے نئے چشم کشا فنی مباحث، تحقیقات، اور توجیہات سامنے لاتے ہیں۔
لسانیاتی مباحث میں صوتیات پر کثرت سے لکھنے کے باوجود صرفی، نحوی اور معنیاتی اطلاق سے متعلق مصدقہ اور مستند بحثیں قدیم اساتذہ کے بعد کم ہی نظر آتی ہیں۔ تاہم انطباقی طور پر ڈاکٹر صاحب کے بطور استناد لائے گئے حوالوں میں قدیم و جدید کا معتدل امتزاج ہے۔ بالواسطہ طور پر عربی ادب کے رجالِ ادب سیبویہ، ابوالاسود الدولی، خلیل بن احمد الفراہیدی اور مغربی ادب کے حوالے سے ڈبلیو ایچ گیرڈنر کے اجمالی اشارات بھی ملتے ہیں۔ مگر موضوع کے لحاظ سے متعلق براہ راست حوالوں کی ایک حد تک ناکافی عدم موجودگی کچھ تشنگی کا احساس پیدا کرتی ہے۔
آپا کے اسلوب کی سادگی، معقولیت ایجاز نگاری کے حوالے سے بھی ان کے ناولوں ’آخرِ شب کے ہم سفر‘ ، اور ’گردش رنگ ِ چمن‘ سے نظائر لاتے ہیں۔ جبکہ متن شناسی کے حوالے سے قابل قدر فنی اور علمی مندرجات پر مشتمل تیسرے باب کے صرفی بحثوں میں۔ ’میرے بھی صنم خانے‘ او سفینۂ غم دل۔ ’اور‘ چاندنی بیگم ’کو موضوع بحث بناتے ہیں۔ نحو کے تعریف میں اردو کے محققین کی عبارات تو لاتے ہیں مگر براہ راست عرب نحاۃ کے حوالے نہیں ملتے، شاید یہ ایک پیشہ ورانہ مجبوری ہو۔
ڈاکٹر احمد سہیل کے خیال میں ’ڈاکٹر عامر کے اسلوب تحریر اور فکریات میں ایک درویش کی سی سادگی اور عمیق فکریات پوشیدہ ہیں۔ ‘ ۔ جبکہ قاسم یعقوب لکھتے ہیں کہ ’ان کی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے تنقیدی سوالات پر غور و خوض کے بعد اپنا موقف پیش کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی‘ ۔ پروفیسر ڈاکٹر مرزا خلیل بیگ رقمطراز ہیں کہ ’انہوں نے نہ صرف زبان کی ماہیت پر غور کیا ہے بلکہ وہ مطالعہ زبان کی صوتی، صرفی، نحوی اور معنیاتی سطحوں سے بھی واقفیت رکھتے ہیں‘ ۔


