بیانیات کے دو تَصَوُّرات کے تحت ایک مطالعہ


 

یہاں، اس مضمون میں، یہ دِکھانا مطلوب ہے کہ کیا غزلیہ اشعار اور افراد پر بیانیات/نیراٹالوجی کے دو تصورات: دِکھانا (Showing) اور بتانا (Telling) ، مُنطبِق ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ تو سب سے پہلے ہم کہانی بیان کرنے کے دو فنی حربوں، دِکھانا اور بتانا کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں؟

”ان بابا جی کی عمر چار سو برس تھی۔ ستّر برس میں کایا پلٹ کرتے تھے۔ اس طرح کہ چھ مہینے تک ایک کوٹھڑی میں بیٹھ کر جہاں ہوا کا گزر نہ ہو، ایک دوا کھاتے تھے۔ پہلا جسم پھٹ کر اس کے اندر سے بارہ برس کی عمر کا ایک جسم نکل آتا تھا۔“

(سید غوث علی شاہ قلندر پانی پتی، تذکرۂ غوثیہ، ص 67 )

”کسی وجہ سے اس دن دریا میں پانی بہت کم تھا اور جگہ جگہ سے ریت کے تَودے اس طرح ابھرے ہوئے تھے، جیسے دریا میں سینکڑوں گھڑیال آرام کر رہے ہوں۔ کبھی کبھار سفید بادلوں کو چیر کر چاند نکل اتا تو ریت کے گھڑیالوں کی آنکھیں روشن ہو جاتیں۔“

(صدیق عالم، نادِر سِکّوں کا بکس، ص 116 )

دکھا نا اور بتانا، کہانی بیان کرنے کے دو مختلف فنی حربے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ مختلف ہیں، متضاد اور متصادم نہیں۔ فکشن میں دونوں کی اپنی اپنی جگہ ہے، تاہم اس وقت گڑبڑ ہو سکتی ہے جہاں بتانے کی ضرورت ہو، اور مصنف دِکھانے کی کوشش کرے یا جہاں دِکھانے کی ضرورت ہو وہاں بتانے لگے۔

حکایتوں اور داستانوں میں بتانے کا عمل حاوی ہوتا ہے۔ جیسے کہ ’ایک تھا بادشاہ۔ اس کی کوئی نرینہ اولاد نہ تھی۔‘ تذکرۂ غوثیہ سے مندرجہ بالا اقتباس بتانے کے ذیل میں آتا ہے جبکہ صدیق عالم کے افسانے ’رود خنزیر‘ کا اقتباس دِکھانے کے ذیل میں ہے۔ دونوں میں ایک فرق یہ ہے کہ بتانا کسی خاص مقرر وقت سے تعلق نہیں رکھتا جبکہ دِکھانا ایک خاص لمحے سے متعلق ہوتا ہے۔ جب فِکشن نگار دِکھانے کی تکنیک استعمال کرتا ہے تو وہ ہمیں ایک خاص لمحے میں ایک خاص منظر، خاص صورتِ حال، خاص بات کو مَحسوس کرانا چاہتا ہے ؛ وہ ہمارے حواس کو انگیخت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ حواس کیسے انگیخت ہوتے ہیں؟ کسی منظر یا صورتِ حال کو اگر ایک مانوس اُسلوب میں پیش کرنے سے حواس بیدار نہیں ہوتے، کُند ہو جاتے ہیں ؛ روزمرّہ کی معلوم زبان سے ایک طرح کے غفلت ذہن پر طاری ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر نامانوس زبان استعمال کی جائے، اسم صفات اور متعلقہ فعل استعمال کرنے سے گریز کیا جائے تو ہماری سماعت، شامّہ، ذائقہ، لامسہ، باصِرہ کی حِسّیات جاگ پڑتی ہیں۔ واضح رہے کہ مَحسوس کرانا، زبان کا خاص استعمال ہے۔ کوئی تخلیق کار شے کو پیش نہیں کر سکتا، شَے کی تصویر ہمارے ذہن میں اُبھارنے کے لیے لسانی حربہ استعمال کر سکتا ہے۔

چونکہ دِکھانے کا تعلق ایک خاص لمحے سے ہے، اس لیے یہ لمحہ ایک منظر بھی ہو سکتا ہے، جگہ بھی، واقعہ بھی اور کوئی خاص کیفیت یا حالت بھی۔ یعنی دِکھانے کا تعلق خارج سے بھی ہے اور داخل سے بھی۔

دِکھانے اور بتانے کے تَصَوُّرات کی جڑیں افلاطون کی نقل نگاری (Mimesis) اور واقعہ نگاری (Diegesis) میں ہیں۔ نِیز دِکھانے پر ڈرامے اور فلم کی تکنیک کا اثر ہے۔ بعض فکشن نگار جہاں دِکھانے کی ضرورت ہوتی ہے، وہاں بتانے کا حربہ استعمال کرتے ہیں۔ مَثَلاً خواجہ احمد عباس کے افسانے ’ابابیل‘ کا جملہ ہے کہ: ’وہ ایک ظالم شخص تھا۔ اس نے پچاس قتل کیے تھے‘ ۔ یہ ایک جاروبی قسم کا بیانیہ ہے، جس کی گنجائش ایک پند نامے میں تو ہو سکتی ہے، فکشن میں نہیں ؛ نِیز اس میں مصنف کا تاثر ظاہر ہوا ہے۔ اگر مصنف ابتدا میں ہی کسی کردار کے بارے میں اپنا تَعَصُّب ظاہر کر دے تو وہ قاری کی تفہیم کی صلاحیت پر ایک طرح سے عدمِ اعتماد ظاہر کرتا ہے ؛ نِیز قاری کو اس حق سے محروم کرتا ہے کہ وہ فکشنی بیانی سے سچائی اخذ کرے۔ واضح رہے کہ فکشن کا بیان کنندہ اپنا تاثر ظاہر کر سکتا ہے، شرط یہ ہے کہ وہ تاثر ہمیں کہانی کے کسی کردار یا واقعات و نفسی صورتِ حال کی ’سچائی‘ تک پہنچنے میں مدد دے۔ خالد جاوید کے افسانے ”آخِری دعوت“ کا یہ ٹکڑا دیکھیے، جس میں بیان کنندہ اپنا تاثر پیش کرتا ہے۔ یہ تاثر افسانے کی بنیادی سچائی (جو لایعنیت سے عبارت ہے ) تک پہنچنے میں مدد دیتا ہے۔ خالد جاوید کا بیان دِکھانے اور بتانے کا فنکارانہ اِمتِزاج ہے۔ ”اور یہ سطریں نہ تو دیوانی ہیں نہ ہی انھیں مَیں نے حواس باختہ ہو کر لکھا ہے۔ یہ تمام تحریر بہرحال بالکل ہی ناقابل اعتبار نہیں ہے، اور یہاں سے میری ذہانت کا شر انگیز پَہلُو شروع ہوتا ہے۔ اپنی اور اُن کی لایعنی گفتگو کے بارے میں بیان کرتے وقت مائن خاص سُفلے پن سے کام لیا ہے، مگر لطف کی بات یہ ہے کہ یہ سُفلہ پن بھی لایعنی ہے۔ سرسری نظر سے دیکھیں تو بالکل اس کائنات کی طرح ہی لایعنی، مگر اس کی طرح اندر سے بے حد چالاکی اور فنکاری سے رچا گیا سنسار۔“ (خالد جاوید، تفریح کی ایک دو پَہر، ص 20 ) ( 1 )

تاریخی تناظر میں دیکھیں تو دِکھانے اور بتانے کے فنی حربوں کے بارے میں افلاطون نے بات کی تھی: ”افلاطون نے کہانی بیان کرنے کے دو طریقوں میں فرق کیا تھا۔ ایک کو نقل نگاری یا میمسس کہا اور دوسرے کو واقعہ نگاری یا ڈایاجیسس کا نام دیا۔ نقل نگاری میں کسی واقعے یا عمل کو پیش کیا جاتا ہے جیسے ڈرامے اور فلم میں، جب کہ واقعہ نگاری میں واقعے یا عمل کو بیان کیا جاتا ہے۔ افلاطون کی وضاحت سامنے رکھیں تو فِکشن میں کسی کردار کی تقریر نقل نگاری کہلائے گی۔ ہینری جیمس کی اصطلاح ہے شوئنگ اور ٹیلنگ بالترتیب نقل نگاری اور واقعہ نگاری کو پیش کرتی ہیں۔ نِیز یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ نقل نگاری میں بیان کنندہ کہانی میں خود شامل رہتا ہے ؛ گو وہ خود گویا کسی واقعے، کسی کردار کی نقل کرتا ہے، جب کہ واقعہ نگاری میں بیان کنندہ کہانی سے خود کو الگ رکھتا ہے ؛ وہ ایک غیر جانبدار ناظر اور گواہ ہوتا ہے۔ بعد ازاں نقل نگاری اور واقعہ نگاری کے لیے نقطۂ نظر یا پوائنٹ آؤ ویو کی اصطلاح وضع ہوئی۔“ ( 2 )

اس طرح بعد میں ایک اور نقاد ”بولو“ (Boileau) عظیم یونانی شاعر ہومر کے بارے میں لکھتے ہیں : ”جب ہومر جونو کا رتھ ہمیں دکھاتا ہے تو وہ ہیبی سے اس کے تمام حصے ہماری آنکھوں کے سامنے جڑواتا ہے۔ ہمیں پَہیّے، دُھرے، گدیاں، ڈنڈے، راسیں اور تسمے ایک اکائی بن کر دکھائی نہیں دیتے بلکہ ہیبی انھیں اپنے ہاتھ سے ایک ایک کر کے جوڑتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ صرف پہیوں کے سلسلے میں شاعر ایک سے زیادہ امتیازی صفات کا استعمال کرتا ہے۔ وہ ہمارے سامنے کانسی کی آٹھ بلیاں (Spokes) ، سنہرے گھیرے، کانسی کے ٹائر، چاندی کے حلقے ہر چیز الگ الگ دکھاتا ہے۔ اگر ہومر ہمیں یہ دکھانا چاہتا ہے کہ اگاممن کیسا لباس پہنے ہوئے تھا تو بادشاہ اپنا سارا لباس ایک ایک کر کے ہماری آنکھوں کے سامنے پہنتا ہے۔ نرم زیر جامہ، بڑا چوغہ، خوبصورت جوتی، تلوار اور اس کے بعد تیار ہو کر عصا اٹھاتا ہے۔ یہاں ہم وہ کپڑے دیکھتے ہیں جن سے لباس پہننے کے عمل کی تصویر بنتی ہے۔“ ( 3 )
یعنی یہاں فاضل نقاد ہومر کی شاعری میں ’دِکھانے‘ کے بارے میں بیان کر رہے ہیں۔

مختصراً کہا جائے تو ”دِکھانا“ وہ انداز ہے جس میں واقعات، کرداروں اور ماحول کو براہِ راست عمل کرتے پیش کیا جاتا ہے تاکہ قاری خود کہانی کے اندر موجود ہونے یا گواہ ہونے کا تجربہ کرے (رود خنزیر کا اقتباس اور بولو کی نکتہ آفرینی)

اِسی طرح ”بتانا“ یا وہ فنی حربہ ہے جس میں راوی (کہانی کا بیان کُنندہ) ہی کہانی کا پس منظر اور واقعات کے متعلق معلومات فراہم کرتا ہے اور پھر خود ہی اِن واقعات (ایونٹس) یا اعمال (ایکشنز) کے متعلق اپنی آرا، تَعَصُّبات یا تعبیرات قاری کے سامنے پیش کرتا ہے۔ جیسا کہ افسانہ ’ابابیل‘ کا جملہ۔

امید ہے کہ ہم اس بات کو سمجھ چکے ہوں گے۔ اب ہم ”دِکھانا اور بتانا“ کے حوالے سے چند غزلیہ (اور فرد) اشعار کا جائزہ لیتے ہیں :

شعر# 1
کاروبارِ زندگی سے جی چُراتے ہیں سبھی
جیسے درویشی سے تم، مَثَلاً جہاں بانی سے ہم
(احمد جاوید)

مُوازنہ کرتا یہ شعر براہِ راست بیان پر مبنی ہے۔ اس میں ”کسی خاص وقت یا لمحے پر فوکس“ نہیں کیا گیا اور ”اگر مصنف ابتدا میں ہی کسی کردار کے بارے میں اپنا تَعَصُّب ظاہر کر دے۔“ والی بات دماغ میں رہے تو یہاں تَعَصُّب تو نہیں البتہ اپنی رائے پیش کی گئی ہے، لہٰذا یہ اپنی مُوازنے پر مبنی رائے کا یہ شعری عمل ”بتانے“ کے ذیل میں آتا ہے۔

شعر# 2
اَیسی عُجلَت میں اُتاری گئی ہِجرَت ہم پر!
گَھر کا سامان تو لے آئے ہیں، گَھر بُھول گئے
(ذکی عاطف)

اِس شعر کا راوی/نیریٹر ہمیں ”عُجلَت“ کے لفظ کے بارے میں بتاتا ہے، عُجلَت جس عمل یا سلسلۂ اعمال و افراتفری سے سمجھ آتی ہے، وہ ندارد ہے۔ سامان کے ساتھ گھر لے جانا بھولنا مَحض راوی کا جذباتی و شاعرانہ بیان ہے۔ شعر کا راوی ہمیں ”گھر کا سامان لے آنے“ اور خود ”گھر ہی کو بھولنے“ کا بھی بتا دیتا ہے۔ مختصراً عُجلَت دِکھانے کے بجائے عُجلَت ”بتائی“ گئی ہے۔

شعر# 3
اُس نے کہا کہ ساتھ مِرے کَون جائے گا؟
چِیزیں اِدھر اُدھر ہوئیں اپنے مقام سے
(ندیم راجا)

اس شعر کا پہلا مصرع تو مکمل طور پر ”بتانے“ پر مشتمل ہے، جب کہ دوسرا مصرع چیزوں کے اپنے مقام سے اِدھر اُدھر ہونے کو ”دِکھانے“ کے عمل کا اِبہام پیدا کر رہا ہے کیوں کہ کچھ واضح نہیں کہ یہ ”اِدھر اُدھر ہونے کی افراتفری“ کس نوعیت کی ہے؟ آیا یہ ساتھ جانے کے لیے تیاری یا جانے سے بچنے کے لیے کھسکنے پر مشتمل ہے؟ یوں، یہی اِبہام ہی دوسرے مصرع کو ”دِکھانے“ کے بجائے ”بتانے“ تک محدود رکھتا ہے کیوں کہ دِکھانے کے لیے واضح تصویر یا تفصیلی تَحرُّک چاہیے ہوتا ہے، جیسا کہ ہم اوپر ہومر کے بارے میں پڑھ کر آئے ہیں۔ اِبہام کے مُتعلق شاعری کے اہم نقاد یاسر اقبال کہتے ہیں : ”عدمِ تَعَیُّنِ معنی کا نام اِبہام ہے۔“

شعر# 4
صبح نکلے تھے فکرِ دنیا میں
خانہ برباد دن ڈھلے آئے
(ناصر کاظمی)

اِس شعر کا راوی ”بتاتا“ ہے کہ ( ”چند“ یا پھر ”ہم بمعنی مَیں“ ! ) خانہ برباد صبح فکر دنیا میں گھر سے نکلے اور دن ڈَھلے واپس آئے۔ یہ واقعات؛ صبح نکلنا اور دن ڈھلے آنا، کے سلسلے کا بیان ہے، جس میں ”خانہ برباد“ کی ترکیب ”دِکھانے“ کا شائبہ پیدا کرتی ہے لیکن جو غیر واضح ہو کر ”بتانے“ ہی کے ذیل میں آ جاتی ہے۔

شعر# 5
مَیں تو اُن کو ولی سمجھتا ہوں
جتنے کَھمبے ہیں روشنی والے
(ندیم راجا)

اِس شعر میں ”روشنی والے کَھمبوں کو ولی سمجھے جانے“ کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ شعر کے مزاج میں خاص وقت یا مقام سے زیادہ ایک ذاتی تاثر کو پیش کیا گیا ہے۔ اِس میں ”روشنی والے کَھمبے“ اِستعاراتی بیان ہو کر غیر واضح ہے کہ یہ مُقّدس مذہبی ہستیوں کے بارے میں ہے یا کسی غیر مذہبی شخصیت یا پھر واقعی یہ لیمپ پوسٹس ہی کے بارے میں ہے، جن کو کسی مُقدسات کے مقابلے میں لا کھڑا کر کے مُخاطَب (نیریٹی) پر شاعرانہ طَعن، طنز یا پھر تَمَسْخُر کیا گیا ہے۔ یہ اِبہام ”دِکھانے“ کے عمل کو مُلتوی رکھتے ہوئے ”بتانے“ ہی تک مَحدود رہتا ہے۔

شعر# 6
سبز جنگل میں، پرندوں کے ٹِھکانوں میں کہیں
وقت چھوڑ آیا ہمیں گزرے زمانوں میں کہیں
(فہیم شناس کاظمی)

شعر میں ”سبز جنگل“ اور ”پرندوں کے ٹھکانے“ واضح بصری پیکر ہیں، جب کہ ”وقت ہمیں کہیں گزرے زمانوں میں چھوڑ آیا“ کا بیانیہ (نیریٹیو: واقعات کا بیان) پہلے کے سلسلہ ہائے مناظر اور اُن کے آپسی تعلق، کی قَدامت پر دال ہے : قدیم دور کے (کہیں بڑے، کہیں گھنے ) سبز جنگل اور اُن جنگلوں میں پرندوں کے ٹِھکانوں کا (تغیر: آج کی نسبت بے حد و حساب) وفور۔ لفظ ’کہیں‘ شعر کے دونوں مصارع میں اِبہام پیدا کر رہا ہے کہ درحقیقت زمان و مکان کے کس نقطے پر؟ یعنی دوسرا مصرع ”بتانے“ کے بجائے ”دِکھانے“ ہی کی دلیل کو مضبوط کر رہا ہے۔

شعر# 7
کُھل گئے شہرِ غم کے دروازے
اک ذرا سی ہوا کے چلتے ہی
(منیر نیازی)
شعر میں ”شَہرِ غم کے دروازوں کو اِک ذرا سی ہوا کے ساتھ کُھلتے ہوئے“ دکھایا گیا ہے۔

شعر# 8
ایک طرف پُرشور گلیاں، ایک طرف مَلبے کے ڈھیر
دل کو مت پوچھو کہ ہے آباد بھی، برباد بھی!
(ظفر اقبال)

پہلے مصرعے میں ”پُرشور گلیاں“ اور ”مَلبے کے ڈھیر“ کے متضاد بصری پَیکر مقابل رکھ کر مُجَسَّم تناؤ کی حالت تخلیق کی گئی ہے۔ دوسرے مصرعے میں ”بتانے“ کا شائبہ ہو رہا ہے لیکن یہ واضح طور پر پہلے مصرعے کے متضاد پیکروں کو مزید صاف کرنے والے تبصرے کی حیثیت رکھتا ہے۔

شعر# 9
ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصر!
اداسی بال کھولے سو رہی ہے
(ناصر کاظمی)

شعر میں اپنے ”گھر کی دیوار پر اُداسی کو بال کھولے سوتے دِکھایا گیا ہے“ ۔ اس شعر میں خود کو اُداس کہے بغیر مَحض اُداسی: وہ بھی شور شرابے کے بغیر سوتی ہوئی اُداسی، کی تَجسیم (پرسونیفیکیشن) کرنے ہی سے دِکھانے کا عمل مکمل ہوتا ہے۔

شعر# 10
اِک پرندہ ہے بند پِنجرے میں
جانے کِس کو پُکارتا ہو گا؟
(صُہیب رومی)

شعر میں پہلا مصرع ایک واضح بصری پَیکر تخلیق کرتا ہے۔ دوسرے مصرعے میں پرندے کی آواز سُن کر اُسے پُکار سمجھا گیا ہے اور سوال اُٹھایا گیا ہے کہ جانے پِنجرے میں بند یہ پرندہ کسے پُکارتا ہو گا؟

Facebook Comments HS