فیصل آباد، کج روی، آوارگی، لائل پور


گزشتہ دنوں سرکاری فرض کی بجا آوری کے لیے تعلیمی بورڈ، فیصل آباد پہلی دفعہ جانا ہوا۔ جھنگ روڈ، ہوائی اڈے کے پاس شہر کے ایک کونے میں جانا ایسے ہی ہے، جیسے ایک شہر سے دوسرے شہر کا سفر۔ دفتر داخل ہوتے ہی بلند و بالا عمارت کی پیشانی پر جلی حروف میں لکھے بورڈ کے نام میں کج روی دیکھ کر ذہن کو عجیب سا جھٹکا لگا۔ ہر ڈویژن کے تعلیمی بورڈ پر دُرست عبارت ایسے لکھی ہوئی ہے :

”ثانوی و اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ۔“
مگر یہاں درج ہے :
”اعلیٰ و ثانوی تعلیمی بورڈ، فیصل آباد“

جس دانشور نے بھی اس طرح لکھنا تجویز کیا ہے، لگتا ہے وہ ثانوی کے معنی سے واقف نہیں اور اسے ’و‘ اور ’اور‘ سے بننے والے مرکب عطفی کی ساخت کے تقاضوں اور اس کے درست استعمال کا علم بھی نہیں ہے۔ اسے قطعاً یہ بھی علم نہیں کہ اس مرکب میں بیان اور مبین کی حیثیت کا کیسے دھیان رکھنا ہے۔ اس مرکب کا ایک بنیادی اُصول یہ ہے کہ مرکبِ عطفی کسی جملے میں استعمال ہوا ہو تو عطف اور معطوف الیہ کو اگر الگ الگ اس جُملے سے منسلک کر کے پڑھا جائے تو بھی عطف یا معطوف الیہ کی حیثیت میں ابہام نہ رہے۔ اس اُصول کی روشنی میں یہ ترکیب وضع کرنے والے سے پوچھا جانا چاہیے کہ صرف اعلیٰ کس تعلیم کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ اس ترکیب سے معطوف الیہ کو ہٹا لیا جائے تو یہ نام اس طرح ہو گا:

” اعلیٰ تعلیمی بورڈ فیصل آباد“ اس طرح اعلیٰ، بورڈ کی صفت بن جائے گا نہ کہ یہ کسی درجہ تعلیم کا نمائندہ ہو گا۔

ثانوی کا مطلب ہوتا ہے :

”ابتدائی تعلیم کے بعد اور اعلیٰ تعلیم سے قبل درجات کی تعلیم“ اور اعلیٰ ثانوی کا مطلب ہوا اعلیٰ تعلیم یعنی انٹرمیڈیٹ۔ خیال آتا ہے کہ شاید اس طرح لکھنے والے نے ترتیب میں فوقیت تعلیم کے درجات کو دی ہے جیسا کہ انگریزی میں نام اس طرح لکھا جاتا ہے :

”Board of Intermediate & Secondary Education ………“

یہاں کوئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ انٹرمیڈیٹ اور سیکنڈری اپنی اپنی جگہ مکمل اور واضح معانی دے رہے ہیں۔ اگر ترتیب اس کے مطابق رکھنی ہو تو پھر لکھنا چاہیے تھا: ”اعلیٰ ثانوی و ثانوی تعلیمی بورڈ، فیصل آباد“ مگر اس بکھیڑے کی بھلا ضرورت ہی کیا ہے، زیادہ رواں نام وہی مناسب ہے :

”ثانوی و اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ، فیصل آباد“ ۔ اربابِ اختیار کو اس کی فوری تصحیح کر لینی چاہیے۔ میں نے ایک دن سوچا، کنٹرولر صاحب سے مل کر ان کی توجہ اس جانب مبذول کرواتا ہوں مگر پتا چلا کہ جعفر صاحب نامی کنٹرولر امتحانات چند دن پہلے سیکریٹری صاحب کو چارج دے کر رخصت ہو چکے۔ کسی نے بتایا کہ سیکریٹری صاحب بھی ڈنگ ٹپاؤ ہی ہیں یعنی ان کے پاس یہ اضافی چارج ہے، بنیادی طور پر وہ ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز ہیں۔ اس لیے سوچا کہ لفظوں کے ضیاع سے کیا حاصل، خاموشی ہی بھلی!

فیصل آباد میں چونکہ چار پانچ روز کا قیام تھا۔ مختلف مضامین کے دوسری ڈویژنوں سے آئے، پہیوں والے بڑے بڑے سوٹ کیس گھماتے کئی پروفیسروں کا پہلے دن موضوعِ گفتگو تھا کہ قیام کہاں کرنا ہے؟ زیادہ تر تو ”اسلام میں سادگی کی اہمیت“ والے مضمون کے جُملے بول کر نتیجہ نکال رہے تھے کہ ہوٹل ہو تو سستا، بورڈ آفس سے قریب ہو، کمرے ساتھ ساتھ۔ کچھ عاقبت اندیش اخوت کے موضوع پر بات کر کے کہیں ایک دڑبے میں سینگ سمانے کے لیے مستعد تھے۔ اگلے روز میل ملاقاتوں کی باتیں اور پروگرام موضوع سُخن تھے۔ کچھ ادب کے جوش اور کھلاؤ میں یونیورسٹی کے پروفیسروں سے ملاقات کے خواہاں تھے، میرا دل اُردو کے ایک دو نامی پروفیسروں کو ملنے کے لیے آمادہ تو ہوا مگر بچپن کی ایک بات نے ملاقات سے روکے رکھا۔ بہت پرانی بات ہے کہ لاہور کے سینماؤں میں انڈین فلم ”مغلِ اعظم“ کی نمائش جاری تھی۔ شائقین دور دراز شہروں سے خصوصی بسوں پر فلم دیکھنے آتے اور انھی بسوں پر واپس لوٹ جاتے۔ ایسے ہی ہمارے گاؤں کے ایک ادھیڑ عمر صاحب ایک جتھے کے ساتھ بس پر ”مغلِ اعظم“ دیکھنے گئے لیکن واپس تاخیر سے کسی اور بس میں آئے۔ ان سے سکسی نے پوچھا کہ ”آپ پیچھے کیسے رہ گئے؟“ بولے، پیچھے نہیں رہا، فلم دیکھ کر میں نے سوچا کہ لاہور تو آیا ہی ہوں، چلو داتا صاحب بھی ہوتا چلوں۔ اس جُملے سے داتا صاحب کے حضور اس طرح کی رسمی سی حاضری کا ناخوشگوار تاثر ایسا ذہن میں بیٹھا کہ ساری زندگی کسی بھی معتبر بالخصوص کسی عالم فاضل شخص سے ضمناً ملتے ہوئے ہچکچاہٹ سی ہوتی رہی۔ حالانکہ جی سی یونیورسٹی، رفاہ یونیورسٹی رستے میں آتی رہیں مگر کسی شریف آدمی کو ناحق تنگ کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔ سچ کہوں تو مجھے ایسے دوستوں کی بے باکی بلکہ سماجی دلیری پر بڑا رشک آتا ہے جو کسی شہر میں اپنے ذاتی کام کی غرض سے جانے سے پہلے اپنے ورود کی منادی کروا دیتے ہیں تاکہ احباب تکلّف و اہتمام کے لیے ذہن سازی کر لیں۔

میرے بہت ہی قریبی عزیز مدینہ ٹاؤن میں ہیں، ان ایّام میں وہیں قیام رہا، گپ شپ، ہنسی مذاق میں بڑا لُطف آیا۔ مزید یہ کہ میری بیگم نے میزبانوں کو بار بار فون کر کے میرے کھانے پینے، سونے جاگنے کے بارے میں سب کو غیر معمولی طور پر الرٹ رکھا، جس کے لُطف کے ساتھ خفت کا بار بھی تو آخر مجھے ہی اٹھانا تھا۔

پہلے دن ہی معلوم ہو گیا تھا کہ بورڈ آفس ائر پورٹ کے قریب ہے، فیصل آباد شہر کے رستوں سے میری واقفیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ سو گوگل میپ پر لوکیشن لگائی، رستے میں جگہ جگہ مختلف شہروں، مقامات کے نام پر سڑکوں کے نام سے پتا چلا کہ یہ سب مقامات فیصل آباد کے ارد گرد قریباً اسّی سے سو کلو میٹر کے کُرًے میں واقع ہیں۔ سانگلہ ہل، چنیوٹ، جھمرہ، گوجرہ، جڑانوالہ، کھرڑیانوالہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، سمندری، کمالیہ، شاہ کوٹ، ستیانہ وغیرہ۔ راجباہ روڈ پر گاڑی ہچکولے کھاتے گزرتی تو مجھے یوں محسوس ہوتا جیسے میں کسی بحری جہاز میں سفر کر رہا ہوں اور میرے چاروں طرف یہ سب مذکورہ مقامات جزیروں کی طرح مجھے نظارے کی دعوت دے رہے ہیں۔ ان سب مقامات کو دیکھنے کے لیے دل تو مچلتا مگر میں سعد اللہ شاہ کے شعر میں تصرًف کر کے لطف لیتا:

اگرچہ سعد رستے میں کئی دلکش جزیرے ’ہیں‘
مجھے ہر حال میں لیکن ’ائر پورسٹ جانا ہے‘

عین اسی وقت وقت ریڈیو ایف ایم 93، فیصل آباد پر پروگرام ”راوی تے چناں“ بھی لُطف دیتا۔ خواتین کمپیئرز کی فیصل آبادی لہجے میں ہلکی پھلکی گفتگو مزیدار ہوتی اور گانوں کا انتخاب بھی بہت عمدہ!

واپسی پر دانستہ کبھی نا دانستہ راستہ بُھولنا میری عادت سی ہو گئی تھی، جدھر ذرا سڑک بہتر لگی، سٹیئرنگ گھما دیا، اس آوارگی سے شہر کا کچھ اندازہ ہو گیا۔ عبداللہ پور، جھال، راجباہ روڈ، سوساں روڈ، کینال ایمپریس روڈ، سلیمی چوک، حبیب جالب روڈ، منروا سینما، چناب کلب، سول ہسپتال ایسی بہت سی جگہوں سے گزر ہوا۔ مگر ایک دن ٹریفک میں ایسا پھنسا، اللہ اللہ، مگر تجربہ اچھا رہا، یہ سرکلر روڈ تھی، گویا میں لائل پور کے آٹھ تاریخی بازاروں کے ارد گرد گھوم رہا تھا۔ جہاں ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس اور کچہریاں بھی آئیں، یہاں گزرتے ہوئے بار بار خیال آتا تھا کہ سر جیمز لائل اپنے مُلک و ملّت کا کتنا لائل تھا کہ اس نے ساندل بار کے مرکز میں واقع وسیع و عریض دیہی آبادی کو شہر میں بدلنا چاہا تو اس نے اسے برطانوی پرچم یونین جیک کی طرز پر تعمیر کرنے کا تصوّر پسند کیا، جس کا نقشہ اس دور کے ماہر تعمیرات ڈیسمنڈ ینگ نے ڈیزائن کیا جو اصل میں سر گنگا رام کی تخلیق تھا۔ لائل پور سے ہم جیسے قدامت پسندوں کا سارا رومانس صدر ضیاء نے اس شہر کو ستّر کی دہائی میں سعودی فرمانروا شاہ فیصل سے منسوب کر کے نکال دیا تھا۔

باقی ماندہ رومانس کی تسکین کے لیے ریڈیو اسٹیشن جانا ضروری تھا۔ ابھی پروگرام بنا رہا تھا کہ اسی شام ریڈیو سے پیارے عبدالماجد کا فون آیا کہ فوری چکر لگائیں، اس وقت تو جانا ممکن نہ تھا۔ اگل دن دفتر سے واپسی پر شام کو ادھر جانا ہوا۔ یہاں بھی دوسرے محکموں کی طرح زبوں حالی کے نوحے ہیں، اور عوام کا یہ سوال اپنی جگہ قائم کہ ریڈیو کو اب سُنتا کون ہے۔ تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ ریڈیو سے چپکے ہم جیسے لوگوں کو یہ سوال اس لیے تکلیف نہیں دیتا کہ ریڈیو ایک طرف، اس ملک میں بھلا کس کی کون سنتا ہے؟ البتہ یہ سوال گاؤں کے مُلّا سے کوئی نہیں پوچھتا کہ اڑھائی ہزار نفوس کے گاؤں سے صرف چار پانچ بابے تیری صدائے اذاں پر ادائے سجدہ کے لیے آتے ہیں، تیری صدائے بے اثر کا کیا علاج! مگر حقیقت یہ ہے کہ ریڈیو سچ مچ ہمیں ماں کی گود ہی لگتا ہے، جس نے ہمیں بولنا سکھایا۔ اسٹیشن ڈائریکٹر ناگرہ صاحب سے تو ملاقات نہ ہو سکی۔ شاید وہ رخصت پہ جا چکے یا کہیں اور تعیناتی کے مرحلے میں ہیں، البتہ قائم مقام اسٹیشن ڈائریکٹر سیًد عبدالماجد نے پرتپاک استقبال کیا اور رات کی ٹھنڈ میں تازہ، لذیذ، گرم دُودھ سے تواضع کی، یہ دُودھ گوجرہ کی بھینسوں کا تھا!

شہر کے رستوں کی کچھ سمجھ آنے لگی تو سرکاری کام اختتام پذیر ہو چکا تھا۔ اس کام کی احسن طریقے سے تکمیل میں عزیز دوست پروفیسر سید مجتبیٰ شاہ کی نرم خُو، صُلح جُو طبیعت اور معاملہ فہم مزاج نے بڑی معاونت کی، جس کی بدولت بر وقت رہائی ممکن ہو سکی۔

بقول غالب بعد رہائی کے تو آدمی سوائے اپنے گھر کے اور کہیں نہیں جاتا۔ لہٰذا ہم نے بھی بعد نجات سیدھا اپنے گھر کی راہ لی۔

Facebook Comments HS