عوامی طاقت کے سامنے بے بسی


3 دسمبر کو جنوبی کوریا کے صدر نے اپوزیشن کے احتجاج سے تنگ آ کر مارشل لاء لگایا، مارشل لاء لگتے ہی فوجی جیپوں اور ٹینکوں کے سامنے جنوبی کوریا کے عوام نکل آئے۔ ایک 35 سالہ خاتون نے پارلیمنٹ آنے والے فوجی سے بندوق چھیننے کی کوشش کی، اب کورین عوام اس خاتون کو قومی ہیرو قرار دے رہے ہیں، جونہی کورین عوام باہر نکلے تو کورین پارلیمنٹیرینز نے پارلیمنٹ کا اجلاس بلایا، اراکین رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے پارلیمنٹ پہنچے اور تین سو میں سے ایک سو نوے اراکین نے مارشل لاء کے خلاف قرارداد منظور کی، قرارداد کی اس منظوری میں حکومتی اراکین کا ووٹ بھی شامل تھا، پارلیمنٹ نے عوام کی طاقت سے مارشل لاء کو چھ گھنٹوں میں رخصت کر دیا، مارشل لاء لگانے والے صدر کو خود مارشل لاء کی واپسی کا اعلان کرنا پڑا، یہ کورین اسٹیبلشمنٹ کی عوامی طاقت کے سامنے بے بسی تھی اور اب بے بسی کا یہ عالم ہے کہ صدر کا مواخذہ ہونے جا رہا ہے، اگلے نتائج کیا ہوں گے، مارشل لائی قوتوں کو کیا کچھ بھگتنا پڑے گا، یہ تو کوریا کے آئندہ حالات بتائیں گے۔

مگر ہمارے ہاں فی الحال اسٹیبلشمنٹ اداکارہ نرگس سے کام لینا چاہتی ہے، اداکارہ نے شہرت کو نقصان پہنچانے پر لاہور کے چار صحافیوں سمیت متعدد سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کے خلاف ایف آئی اے میں مقدمہ درج کروا دیا ہے جبکہ میاں جاوید لطیف اسٹیبلشمنٹ کی کمزوری کا ٹی وی پروگرام میں رونا رو رہے تھے، ان کے بقول ”اسٹیبلشمنٹ کمزور ہو چکی تھی، آئین پر عمل مجبوری بن چکا تھا، 9 مئی کی وجہ سے لاٹھی، بندوق اور طاقت مل گئی“ ۔ ہمارے ہاں عوامی طاقت کو کچلنے کے لئے انٹرنیٹ کا سلسلہ سست کیے جانے کا عمل جاری ہے، اس عمل کی وجہ سے سوشل میڈیا ایپس کام نہیں کر رہیں، نوجوانوں کے کاروبار کا بھی ستیا ناس ہو گیا ہے، ہمارے دشمن ملک بھارت کے نوجوان آئی ٹی سیکٹر سے دو سو ارب ڈالر کما رہے ہیں اور ہم آئی ٹی کے ذریعے عوامی طاقت کو کچل رہے ہیں۔ آپ اندازہ لگائیں، ہمارے وزیر اطلاعات ایک شخص کو کنٹینر سے گرائے جانے والے واقعہ سے متعلق کہتے ہیں کہ وہ نماز کی ادائیگی کے وقت ٹک ٹاک بنا رہا تھا۔ نماز کی ادائیگی تو ثواب کا کام ہے مگر کیا ٹک ٹاک بنانا جرم ہے؟ اور اگر ٹک ٹاک جرم ہے تو وزیر اطلاعات اپنی پارٹی پر غور کریں، وہ تو حکومت ہی ٹک ٹاک کے ذریعے چلا رہے ہیں۔ سنا ہے فیک نیوز کے حوالے سے سخت قوانین بنائے جا رہے ہیں، بہت اچھی بات ہے، فیک نیوز پر واقعی سزا ملنی چاہیے لیکن جو فیک نیوز حکومت چلاتی ہے، اس پر کیا سزا ہونی چاہیے۔ مثلاً 22 نومبر کو حکومت کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری ہوتا ہے کہ ملک کی چھ موٹر ویز مرمت کی غرض سے بند کی جار رہی ہیں، مرمت تو کہیں ہوئی نہیں۔ اسی طرح لوگوں کے گھروں اور گلیوں کے سامنے کنٹینرز لگا کر، تمام داخلی اور خارجی راستے بند کر کے یہ کہنا کہ کوئی نکلا نہیں، تو کیا یہ فیک نہیں ہے؟ 26 اور 27 نومبر کی رات سانحہ ڈی چوک برپا ہوا، عوامی طاقت کچلنے کے لئے شب خون مارا گیا، کئی لوگ شہید ہو گئے اور بہت سے زخمی ہوئے، ہسپتالوں سے ریکارڈ غائب ہونے سے پہلے کئی لوگوں کو ڈیتھ سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے اور موت کی وجہ گولی بتایا گیا، اس ظلم پہ بعض لوگوں نے مظلومین کا تمسخر اڑانے کی کوشش کی اور یہ بھی کہا کہ گولی چلی نہیں۔ انٹرنیشنل میڈیا میں ثبوت آ گئے، ہمارے الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر ثبوتوں کے انبار لگ گئے تو پوری دنیا سے آواز آنے لگی، ”گولی کیوں چلائی؟“ پھر ایک نئی کوشش کا آغاز ہوا، اس کوشش میں حکومت سارا ملبہ اسٹیبلشمنٹ پر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے اور اسٹیبلشمنٹ سب کچھ حکومت پر ڈالنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔

اس وقت سانحہ ڈی چوک کے معاملے پر حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں گہری دراڑ آ چکی ہے۔ اسلام آباد میں حکومت ایک خطرناک کھیل، کھیل رہی ہے، عام پختونوں کو اٹھایا جا رہا ہے، ایسا لگتا ہے کہ حکمران صوبائی تعصب کے شعلے بھڑکانا چاہتے ہیں، شاید ان حکمرانوں کا پرانا وتیرہ یہی ہے، آپ کو 1988 ء کے انتخابات یاد ہوں گے، اس زمانے میں قومی اسمبلی کے انتخاب کے تین روز بعد صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن ہوتے تھے۔ جب محترمہ بینظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی قومی اسمبلی کا الیکشن بھاری اکثریت سے جیت گئی تو آئی جے آئی والوں کو صوبائی اسمبلیوں میں بھی سیاسی شکست نظر آنے لگی کیونکہ صوبائی اسمبلیوں کے انتخاب تین روز بعد تھے، اس لئے اس دوران صوبائی تعصب کا کارڈ کھیلا گیا اور اخبارات میں بڑے بڑے اشتہار دیے گئے، ”جاگ پنجابی جاگ، تیری پگ نوں لگ گیا داغ“ ۔ آج 36 سال بعد بھی ان لوگوں کی روش نہیں بدلی، وہ پھر سے صوبائی تعصب کی بدبو پھیلا رہے ہیں۔ سینیئر سیاستدان جاوید ہاشمی نے عسکری اور عوامی طاقتوں کے بہت سے مظاہرے دیکھ رکھے ہیں، ان کا تازہ بیان آیا ہے کہ ”ہم جیل چلے جاتے تھے اور ہمارے لیڈر اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کر کے لندن چلے جاتے تھے، عمران خان نظریے پر کھڑا ہے اور یہی جیت ہوتی ہے“ ۔ سمجھنے والوں کے لئے جاوید ہاشمی کی اس بات میں بہت بڑا اشارہ ہے۔ موجودہ حالات میں وصی شاہ کے اشعار یاد آرہے ہیں کہ

فقط برون نہیں، حشر ہو درون میں بھی
ملیں گی پھر تمہیں سرشاریاں جنون میں بھی
نئے زمانے کے ہیں لوگ، رنجشیں، باتیں
یہ اپنے دل میں بھی رکھتے ہیں اپنے فون میں بھی

Facebook Comments HS