یوسف خالد کے شعری مجموعہ ”درِ امکاں پہ دستک“ کی نظموں کا تجزیاتی مطالعہ


یوسف خالد 1954 ء میں سرگودھا کے قریب چک نمبر 47 ء شمالی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے پنجابی اور ایم اے اردو کی ڈگری حاصل کی۔ یوسف خالد صاحب گزشتہ 32 سال سے ایک ادبی تنظیم چلا رہے ہیں جس کا نام سرگودھا رائٹرز کلب ہے۔ یہ ایک ادبی مجلہ ”نردبان“ کے چیف ایڈیٹر بھی رہے لیکن وہ مجلہ اب کسی وجہ سے بند ہو چکا ہے۔

ان کے شعری مجموعوں میں زرد موسم کا عذاب، ابھی آنکھیں سلامت ہیں، ہوا کو بات کرنے دیں، خواب سفر کا رستہ، اسے تصویر کرنا ہے، خیال، رنگ خوشبو مرا حوالہ ہے، سمے کا دھارا اور درِ امکاں پہ دستک شامل ہیں۔ ان کا شعری مجموعہ ”درِ امکاں پہ دستک“ ستمبر 2024 میں شائع ہوا۔

یوسف خالد کے شعری مجموعہ ”درِ امکاں پہ دستک“ کی نظموں میں قدرتی مناظر اور ماحول کو بڑی خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔ ان کی شاعری میں فطرت کی تصاویر بہت واضح اور زندگی سے بھرپور ہوتی ہیں۔ مثلاً ان کی نظم ”میں نے جینے کا ہنر سیکھ لیا ہے“ سے اقتباس ملاحظہ ہوں :

”فطرت اپنی تمام تر رعنائیوں کے سنگ
صبح اٹھنے والوں کا استقبال کرتی تھی
پھولوں، کلیوں اور سبزے کی پلکوں پر
اوس قطروں کی جھلملاہٹ
پرندوں کی چہکاریں،
بادِ صبا کا خرام اور نیم روشن ماحول
صبحِ نو کی قدم بوسی کے لیے
صف بندی کرتے نظر آتے تھے ” ( 1 )

یوسف خالد کے ہاں وقت کے فلسفیانہ اور جذباتی پہلو کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے مثلاً ان کی نظم ”نئی شروعات“ سے اقتباس ملاحظہ ہوں :

”میں اس سے پہلو تہی نہیں کر سکتا
وہ میرے ساتھ ساتھ چلتا ہے
میں اس کے سرد گرم رویوں کو جھیلتا ہوں
میں شکوہ تو کرتا ہوں
مگر اس سے الگ نہیں ہو سکتا
میری سانسوں کا دار و مدار
اس کی سبک خرامی پر ہے
میں رفتار کم کر لوں تو وہ میرے لیے رکتا نہیں
اس کی یہ عادت مجھے
رائیگانی کے احساس سے دوچار کر دیتی ہے
وہ مجھے مسلسل آوازیں دیتا ہے
آگے بڑھنے کا کہتا ہے
مگر میں بار بار پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں
بہت سی یادیں میرے پاؤں پکڑ لیتی ہیں
میری رفتار مزید کم ہو جاتی ہے ” ( 2 )

اسی طرح ان کی اک اور نظم ”خود فراموش“ دیکھیے :

”وقت ریل گاڑی کی طرح
مناظر کے ہجوم کو چیرتا آگے بڑھتا جاتا ہے
نہ رفتار کم کرتا ہے نہ رکتا ہے
میرا احساس اس منہ زور وقت کی یلغار کو کم کر سکتا ہے
میں اس کے ایک ایک لمحے سے
اپنے ہونے کا خراج وصول کر سکتا ہوں ” ( 3 )

یوسف خالد کے کلام میں ماضی کی یاد کا پہلو بھی ملتا ہے۔ وہ اپنے گزرے ہوئے وقت کی خوبصورت یا تکلیف دہ یادوں کو زندہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ ماضی کے حسین لمحات کا حال کی تلخی سے موازنہ کرتے ہوئے ایک جذباتی کیفیت پیدا کرتے ہیں۔ مثلاً ان کی نظم مراجعت سے اقتباس ملاحظہ ہوں :

”بڑی مدت کے بعد آئے ہو
مجھے یاد ہے جب تم رخصت ہو رہے تھے
چاندنی نے پورے ماحول کو اپنے حصار میں لیا ہوا تھا
رات کی رانی کے ننھے ننھے پھولوں میں پلتی خوشبو
تسلسل سے ہوا کی سانسوں میں اتر رہی تھی
ہوا سرشار تھی
میری کیفیت عجیب تھی
تمہارے جانے کا کسک آمیز احساس
مجھے بے کل کر رہا تھا
اب تم آئے ہو
چاندنی شب ساتھ لائے ہو نہ رات کی رانی کی مہک
تم ایسے تو نہیں تھے
تم کتنے بدل گئے ہو ” ( 4 )

یوسف خالد کی نظموں میں ہم دیکھتے ہیں کہ تمثال کاری بہت خوبصورتی سے کی گئی ہے۔ انہوں نے جذبات اور مناظر کو الفاظ کے ذریعے جاندار اور محسوسات سے بھر پور بنا دیا ہے مثلاً ان کی اک نظم ”دوسرے کنارے“ سے اقتباس ملاحظہ ہوں :

”طویل ہجر اور انتظار کے بعد
یہ وصل کے لمحات ہیں
شام کی آنکھوں میں کاجل ہے
چہرہ گلنار ہے
پلکوں پہ شکر گزاری کی نمی
اوس قطروں کی سی تازگی لیے
روح میں اترتی جاتی ہے ” ( 5 )

یوسف خالد معاشرتی حالات کو اپنی شاعری میں بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہماری زندگی میں شور، دھول، اور ہنگامہ عام ہو گیا ہے۔ لوگ خود غرضی اور مادہ پرستی میں گم ہیں۔ بازاروں میں خواہشیں انسانوں کو اپنی طرف کھینچ رہی ہیں۔ اور دفاتر و عدالتوں میں انصاف بک رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک دھماکہ ہوا ہے جس نے نہ صرف لوگوں کے دماغ متاثر کیے بلکہ ان کے خواب، ارمان، اور سماجی اقدار کو بھی تباہ و برباد کر دیا ہے۔ مثلاً ان کی نظم ”ٹیڑھ“ دیکھیے :

”سب کچھ معمول کے مطابق تھا
سڑکوں پر شور مچاتی دھول اڑاتی گاڑیاں
تجارتی مراکز میں بڑی بڑی توندوں والے سیٹھ
سودے طے کرنے میں مصروف تھے
دفاتر میں فرعون بنے افسر
سائلوں کی فائلوں سے کھیل رہے تھے
عدالتوں کے چکر لگاتی زندگیاں
ذلت اور رسوائی سمیٹ رہی تھیں
دھماکہ ہوا
سب کچھ تہہ و بالا ہو گیا
ڈاکٹر کہہ رہے تھے اسے لے جائیں
اس کا دماغ شدید متاثر ہوا ہے
اسے مسلسل آرام اور اچھی خوراک کی ضرورت ہے
اسے نارمل ہونے میں کافی عرصہ لگے گا
یہ ذہنی و فکری انتشار
یہ کج بحثی، یہ تکرار
یہ بے سمتی اور پیہم ٹکراؤ
کہیں یہ بھی کسی عظیم دھماکے کے سبب تو نہیں
کیا ہم ابھی تک
اس عظیم دھماکے کے آفٹر شاکس کی
زد میں ہیں
دھماکے کی زد میں ہمارے دماغ ہی نہیں آئے
ہمارے خواب، ہماری آرزوئیں
ہماری سماجی قدریں
سب کچھ خلط ملط ہو گیا ہے
ہمارا اجتماعی شعور بری طرح متاثر ہوا ہے
ہم کب نارمل ہوں گے
کیا کبھی ہو بھی پائیں گے؟ ” ( 6 )

اس نظم میں ”دھماکہ“ ایک علامتی استعارہ ہے۔ یوسف خالد اس سے مراد معاشرے میں ہونے والی وہ بڑی تبدیلی یا حادثہ لیتے ہیں جس نے ہماری زندگیوں کو تہ و بالا کر دیا ہے۔ یہ دھماکہ کسی جسمانی واقعے کا ذکر نہیں، بلکہ فکری، اخلاقی، اور سماجی زوال کی طرف اشارہ ہے۔ اس سے مراد وہ انتشار، بے سکونی، اور مسائل ہیں جنہوں نے ہمارے خواب، آرزوئیں، اور اقدار کو برباد کر دیا ہے۔

Facebook Comments HS