ہماری جامعات کے در پر زوال کی دستک


جب اندلس کے علمی کتب خانوں کے اوراق دھوئیں کے مرغولے بن کر ہوا میں تحلیل ہو رہے تھے، اُس وقت بھی کئی احاطوں میں نام نہاد عالم و فاضل حضرات اپنی علمی فتوحات کے بارے میں بڑے طمطراق سے گفتگو کر رہے تھے۔ جب بغداد کی دانش گاہوں کو تاتاری یورشوں نے جلا کر راکھ کر دیا، وہاں بھی کچھ درباری علما روایتی مباحث میں مگن رہے، گویا علمی عظمت کا طلسم اب بھی برقرار ہے۔ یہ تاریخ کے وہ تاریک موڑ ہیں جن سے ہمیں سبق سیکھنا چاہیے تھا، مگر ہم نے کچھ نہ سیکھا۔ اس پسِ منظر میں آج پاکستان کی جامعات، کالجز اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کی زبوں حالی پر نگاہ ڈالیے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم بھی اسی ڈگر پر چل رہے ہیں جہاں کبھی اندلس کے تہذیبی کھنڈرات، بغداد کے جلتے مکاتبِ فکر، اور ماضی کی روشن درسگاہوں کے نشان مٹتے گئے۔

اندرونی طور پر ہم خانہ پری کے عادی ہو چکے ہیں۔ بیوروکریسی کی سفاک گرفت، سفارشی وائس چانسلرز، ”ویسے ہی“ فیکلٹی ممبران، بے مقصد نصاب اور بے جان تحقیق ہماری علمی دنیا کو لتاڑ رہے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب علمی اداروں کا کمال یہ تھا کہ وہاں سے نئے فلسفے، نئی سائنس، نئی ایجادات اور نیا فکری سرمایہ برآمد کرنے کی جستجو تھی۔ آج ہمارے ہاں رسمی ڈگریاں، جعلی تحقیقی مضامین، گھسی پٹی نصابی کتب، اور لایعنی نظریاتی مباحث کی بھرمار ہے۔ اگرچہ زمانہ بدل چکا ہے اور دنیا مصنوعی ذہانت کے انقلاب سے گزر رہی ہے، مگر ہم اب بھی زنگ آلود تقلید کے فکری ہتھیار اٹھائے ”قدیم“ طریقوں سے نئی دنیا کا مقابلہ کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں ادراک نہیں کہ ہم ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں فکری جمود ہماری اگلی نسلوں کو اُنہی خاکستر کتب خانوں، اُجاڑ مدرسوں اور بے نام دانش کدوں کی روش پر لے جائے گا، جن کی مثالیں تاریخ ہمیں درس عبرت کے طور پر سناتی آئی ہے؟ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ ماضی کے عظیم علمی مراکز اگر جدیدیت کے سیلاب کا مقابلہ نہ کر پائیں تو صرف کھنڈرات بچتے ہیں۔ اندلس میں ہزاروں کتابیں جلیں، بغداد میں دریائے دجلہ کی لہریں روشنائی کی سیاہی میں ڈوب گئیں، مگر یہ صرف جنگی طاقت کا نہیں، علمی جمود کا سانحہ بھی تھا۔ اگر عہدِ رفتہ کے یہ مراکز وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو جاتے، نئی سائنسی بنیادیں رکھتے، نئے علوم کی شاخیں اگاتے، تو شاید وہ تہذیبیں یوں راکھ کا ڈھیر نہ بنتیں۔

آج ہمارے تعلیمی اداروں میں بھی صورت حال کچھ مختلف نہیں۔ ہمارے وائس چانسلر کے چناؤ میں علمی قابلیت نہیں، سیاسی جوڑ توڑ اور سفارش کا پلڑا بھاری رہتا ہے۔ سربراہی جن ہاتھوں میں ہے، وہ جدیدیت کے تقاضوں، صنعتی ضروریات، عالمی منڈی کے بدلتے رنگ اور ٹیکنالوجی کے انقلاب سے بے خبر نظر آتے ہیں۔ ہمارے ہاں بڑی یونیورسٹیاں، جن سے ہم قومی ترقی کے لیے نئی اختراعات کی امید رکھتے ہیں، محض رسمی ڈگریاں بانٹنے والے کارخانے بن چکی ہیں۔ جس طرح بغداد کے دربار میں بہت سے علما اپنی مخصوص فقہی و کلامی بحثوں میں الجھے رہے، اسی طرح آج ہمارے پروفیسرز علمی افق کی بجائے بیوروکریٹک فائلوں میں گردن دبائے بیٹھے ہیں، اور علمی تجربہ گاہوں کی جگہ ہمیں بوسیدہ کاغذات، حاضری رجسٹر اور عقلی دلائل سے عاری رسومات کے انبار ملتے ہیں۔

یہ بے مقصدیت صرف اندرونی انتظامی ڈھانچے تک محدود نہیں، نصاب بھی اسی جمود کا شکار ہے۔ ہماری کتابوں میں دہائیوں پرانی تھیوریاں رٹی جاتی ہیں، جن کی عہد حاضر کی عالمی منڈی میں کوئی حیثیت نہیں۔ دنیا مصنوعی ذہانت، مشینی تعلیم، ڈیجیٹل معیشت، روبوٹس، نینو ٹیکنالوجی اور بائیو انجینئرنگ کی طرف جا رہی ہے، لیکن ہم اب بھی دقیانوسی مباحث کو ”علمی میراث“ سمجھتے ہوئے طالب علموں کے ذہنوں میں ٹھونس رہے ہیں۔ یوں ہمارے طالب علم اندلس کے آخری دنوں کے نام نہاد فاضلوں کی طرح بے خبری کی دنیا میں سانس لے رہے ہیں۔

تحقیق کے نام پر بھی ایک سرکس بپا ہے۔ بجٹ، سہولیات، فنڈنگ یہ سب کچھ کاغذات میں تو دکھائی دیتا ہے، لیکن حقیقی میدان میں تحقیق کے ثمرات کو صنعت، معیشت یا سماج تک پہنچانے کا کوئی نظام موجود نہیں۔ محققین چند مبہم موضوعات پر مقالے گھڑ لیتے ہیں، جنہیں نہ انڈسٹری پڑھتی ہے، نہ عالمی محققین، نہ پالیسی سازوں کو ان سے دلچسپی ہے۔ ان مقالوں کا مقصد محض سروس سٹرکچر میں ترقی، تعلیمی درجہ بندی میں مصنوعی برتری، یا فنڈز کے اجراء کا جواز فراہم کرنا رہ جاتا ہے۔ یہ سب کچھ ایک دکھاوے کا اہتمام ہے، جس کی بنیادوں میں دانش کی بجائے بے عملی، سستی اور بدعنوانی بھری پڑی ہے۔

استاد اور طالب علم کا رشتہ بھی اُسی ہولناک زوال کا منظر پیش کرتا ہے۔ یونیورسٹی کے طلبہ علم کے علاوہ ہر چیز کے طالب ہیں جو یونیورسٹی کی چار دیواری میں میسر آ سکتی ہے۔ کلاس روم میں ان کی حالت اس مظلوم سینما بین کی سی ہوتی ہے جو کسی رومانوی فلم کی آس میں ٹکٹ لے کر سینما حال میں بیٹھے اور اسے زبردستی مولانا طارق جمیل صاحب کا بیان سننا پڑ رہا ہو۔ اساتذہ کی اکثریت کی تدریسی مہارت برسوں پرانی اکسیر مگر ایکسپائر میڈیسن کی طرح ہے۔ وہ زمانے کی کروٹوں سے بے خبر اپنا پرانا نصاب، ازکارِ رفتہ کی مثالیں، اور رٹے رٹائے اصول دہراتے ہیں۔ کوئی انہیں بتائے کہ باہر دنیا میں کتنی بڑی تبدیلیاں آ چکی ہیں، مگر ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ طالب علم بھی اسی ماحول میں پروان چڑھتا ہے، کتاب کو حرف لعنت سمجھتا ہے، عملی مہارت اور ہنر کی بجائے محض ڈگری حاصل کرنے پر اکتفا کرتا ہے۔ جب وہ عملی مارکیٹ میں نکلتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ اُسے نہ تو جدید ٹیکنالوجی کی شد بد ہے، نہ صنعتی دنیا کی زبان سمجھ میں آتی ہے، نہ مارکیٹ کے بدلتے رجحانات سے واسطہ پڑا ہے۔ یوں وہ ایک فرسودہ عسکری لشکر کی مانند جدید ترین ہتھیاروں سے لیس دشمن کے سامنے ہتھیار ڈال دیتا ہے۔

صنعتی و معاشی نظم میں ہماری جامعات کا کوئی کردار نظر نہیں آتا۔ حالانکہ دنیا کی بہترین جامعات صنعت سے جڑ کر چلتی ہیں، وہاں نئے اختراعی منصوبے، اسٹارٹ اپس، عملی تحقیق اور ٹیکنالوجی کی ترسیل عام ہے۔ ہمارے ہاں انڈسٹری سے تعلق بس کسی سیمینار کی دھندلی سی یاد بن کر رہ جاتا ہے۔ صنعت کار تعلیمی اداروں کے فارغ التحصیل افراد کو دیکھ کر چکرا جاتے ہیں کہ یہ کون سی کاریگری ہے جو انہیں سکھائی گئی۔

یوں لگتا ہے کہ ہم تاریخ کو دہرا رہے ہیں۔ پھر سے وہی بے عملی، وہی خود فریبی، وہی رسمی ڈگریاں اور وہی اُس دور کے علما جیسا طرزِ عمل جنہیں علم کے بدلتے معیارات کی خبر نہ تھی۔ آج کا زمانہ مصنوعی ذہانت (AI) کا زمانہ ہے۔ یہ ”ٹیکنالوجیکل تاتاری“ ہمارے علمی قلعوں پر حملہ آور ہو چکا ہے۔ اگر ہم نے بروقت ہوش کے ناخن نہ لیے تو یہ ہمارے فکری سرمائے کو گھسیٹ کر ماضی کی بوسیدہ عمارتوں میں تبدیل کر دے گا، اور پھر ہم ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔ ہمارے پاس آج بھی موقع ہے کہ اپنی جامعات، کالجز اور تحقیقی اداروں کو حقیقی علم کے مراکز میں بدلیں۔ نصاب جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کریں، طالب علموں کو عملی تحقیق کی طرف راغب کریں، انہیں عالمی معیار کی لیبارٹریوں، صنعتی شراکت داریوں اور نئے علوم کے عملی اطلاق سے روشناس کروائیں۔

بالکل اسی طرح، ادارہ جاتی سربراہی بھی اہل، باصلاحیت اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ماہرین کے سپرد کی جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ سفارش اور اقربا پروری کی جگہ میرٹ اور شفافیت کو فروغ دیا جائے۔ یہ اقدامات صرف خوبصورت تقریروں یا پالیسی ڈاکومنٹس میں نہیں، بلکہ عملی میدان میں دکھائی دینے چاہئیں۔ گزشتہ تاریخی واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ جہاں قیادت کمزور، نالائق یا بے بصیرت ہو، وہاں تعلیمی، سماجی اور تہذیبی معمار زمین بوس ہو جاتے ہیں۔ اندلس کے کھنڈرات کی خاک تلے شاید بہت سے ایسے شاہکار دفن ہیں، جو اگر وقت پر دنیا کے سامنے آ جاتے تو تاریخ کا دھارا بدل دیتے۔ مگر بے سمتی اور قیادت کے فقدان نے انہیں دفن کر دیا۔

اس اندوہناک منظر نامے سے نکلنے کے لیے ہمیں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ نصاب کو جدید کرنا، تحقیق کو عملی ضروریات کے ساتھ جوڑنا، انڈسٹری کے ساتھ تعلق مضبوط کرنا، اور تعلیمی اداروں میں ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے وسائل مہیا کرنا، یہ سب اب اختیاری نہیں، ناگزیر معاملات ہیں۔

دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل اکانومی اور نئے علوم کی برق رفتار تبدیلیاں ہمارے دروازے پر دستک دے رہی ہیں۔ انتخاب ہمارا ہے : یا تو ہم اب بیدار ہو کر اپنی علمی کایا پلٹیں، یا پھر تاریخ کے اُس المیے کو دہرانے پر اکتفا کریں جس میں روشنی کے مراکز اندھیروں میں ڈوب گئے۔ یہ مہلت کا لمحہ ہے، اگر اسے بھی رسمی تقریروں اور محض کاغذی پالیسیوں میں ضائع کیا تو کل کوئی اس بوسیدہ نظام کو کندھا دینے والا بھی نہیں ملے گا۔ عالمگیر منظرنامے میں ہماری کوئی گنتی نہ رہے گی، اور ہم ایک بار پھر ماضی کے چراغ تلے نئے اندھیروں میں گم ہو چکے ہوں گے۔

Facebook Comments HS