سہیل پرواز اور ڈھاکہ کے دکھ


سہیل پرواز کا شمار اردو ادب کے نمایاں اور معروف ادیبوں میں ہوتا ہے۔ جن کی اب تک تین کتب ”ڈھاکہ! میں آؤں گا، جو تنہا کر گئی مجھ کو“ اور ”ادھر ڈوبے ادھر نکلے“ سامنے آ چکی ہیں۔ سہیل پرواز آغا جی کے نام سے بھی مشہور ہیں۔ وہ ایک ریٹائرڈ آرمی افسر ہیں۔ لیکن وہ ایک آرمی افسر کی بجائے ایک ادیب کی حیثیت سے بھی جانے جاتے ہیں۔

سہیل پرواز کا ناول ڈھاکہ! میں آؤں گا، ایک دلچسپ اور حیرت انگیز ناول ہے جو قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے۔ اس میں بے شمار اتار چڑھاؤ آتے ہیں اور قاری اس تجسس میں رہتا ہے کہ نجانے اب کیا ہو گا یا اب کہانی کا رخ کس دھارے کی طرف مڑ جائے گا۔ سہیل پرواز چونکہ خود آرمی سے وابستہ رہے اس لیے وہ آرمی افسر کے فرائض سے بخوبی واقف تھے اور آرمی افسر کے کردار کے ذریعے ہی انہوں نے اپنے ناول کی کہانی کا تانا بانا بنا ہے۔

ناول کا مرکزی کردار ”مشفق الاسلام“ ہے۔ جو بنگلہ دیش سے پاکستان آ کر آرمی میں شمولیت اختیار کرتا ہے۔ اس کے آبا و اجداد کو چونکہ پاکستان سے بہت لگاؤ تھا اس لیے وہ بھی بنگلہ دیش کی بجائے پاکستان کا محب وطن ہے اور اس کے لیے اپنی جان تک قربان کرنے کو تیار ہے۔ یہ کردار بہت ہی مضبوط کردار ہے۔ اس کردار کے ذریعے ہمیں آرمی افسر کی ذمہ داریوں کا پتہ چلتا ہے۔ اس میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ ایک آرمی افسر کو کس طرح اپنے پیاروں سے دور رہنا پڑتا ہے اور کبھی کبھی ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں کہ وہ اپنے پیاروں کو نہ ہی اپنے حالات و واقعات سے آگاہ کر سکتے ہیں اور نہ ہی ان کی خیریت معلوم کر سکتے ہیں۔ مشفق کے کردار کے ذریعے ایسا محب وطن سپاہی دکھایا گیا ہے جو ہتھیار ڈالنے کی بجائے راہ فرار اختیار کرتا ہے۔

جنگلوں سے گزرتا ہوا اپنی زندگی کے دو سے تین سال مشکلات اور تکالیف میں گزار دیتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اپنے دو پیارے ساتھیوں کو بھی ادھر جنگلات میں ہی دفن کرتا ہے۔ اپنے ساتھیوں کی وفات کے بعد اس کے ارادے پست بھی ہوتے ہیں لیکن اسے جب اپنے بیٹے اور بیوی کی یاد آتی ہے تو وہ پھر اپنا سفر شروع کر دیتا ہے۔ آخر کار وہ برما پہنچ جاتا ہے اور وہاں اس کو قید کر لیا جاتا ہے۔ برما میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر کے وہ 17 سال بعد اپنے گھر والوں کے پاس پہنچ جاتا ہے۔

ناول میں ہمیں مائرہ اور اس کے والدین کے ذریعے پاکستانی محب وطن کردار دکھائے گئے ہیں۔ ربابہ جو مشفق الاسلام کی بہن ہے اور اسے وہ پیار سے دھکچے (بلی) کہتا ہے۔ وہ بہت ہی خوبصورت اور انوکھی اداؤں والی ایک خوبصورت لڑکی ہے جو ہمیشہ چہکتی رہتی ہے۔ وہ اپنے بھائی سے بے تحاشا پیار کرتی ہے۔ اپنے باپ بدر الاسلام کی وفات اور بھائی سے دوری کے بعد ویسی نہیں رہتی جیسے وہ پہلے تھی۔ وہ اپنے پیارے بھائی سے جدائی کا غم برداشت کرتی ہے۔ پھر اس کی والدہ بھی بیٹے کے غم کو برداشت نہ کر سکیں اور اس دنیا سے چلی گئیں۔

اس کے علاوہ ناول کے نمایاں موضوعات میں مکتی باہنی کی تحریک، پاکستان اور بنگلہ دیش کی علیحدگی، سقوط ڈھاکہ، مغربی پاکستان کی نا انصافیاں، سیاسی چالبازیاں، محب الوطن لوگ وغیرہ شامل ہیں۔

ناول کا اسلوب بہت شاندار ہے۔ زبان و بیان سلیس اور رواں ہے۔ کوئی بھی انسان اسے باآسانی پڑھ سکتا ہے۔ اور اس میں موجود فنی عناصر کو سہل انداز سے سمجھ سکتا ہے۔ ناول کے اسلوب میں جو تجسس کا پہلو ہے وہ قاری کو یہ باور ہی نہیں ہونے دیتا ہے کہ اس میں کوئی مشکل الفاظ بھی استعمال ہوئے ہیں یا ہو سکتے ہیں۔ سہیل پرواز کا ناول ڈھاکہ! میں آؤں گا ایک عمدہ اور اہم ناول ہے جو اس موضوع پر لکھے جانے والے کئی ناولوں میں اپنا ممتاز مقام رکھتا ہے۔

Facebook Comments HS