اخبار بینی اور ہم
نوٹ: یہ میری دو عشروں سے زیادہ پرانی تحریر ہے۔ دیکھ لیں جب میں اور اب میں کیا فرق ہے۔
وطنِ عزیز میں اخبار بینی ایک عوامی عادت ہی سمجھیں۔ پڑھے لکھوں کی تو بات الگ ہے لیکن جومعمولی پڑھے لکھے ہیں اور انہیں بھی اگر کہیں سے پڑھنے کے لئے اخبار مل جائے تو وہ بھی اس موقع سے پورا فائدہ اٹھاتے ہیں۔
گزشتہ دنوں ہم نے یہاں کچھ پاکستانی کینیڈینز سے اخبار بینی کے بارے میں بات کی اور ان کی رائے جاننا چاہی۔ کچھ لوگوں کی رائے ہم یہاں نوٹ کر رہے ہیں۔ لیکن کسی کا نام اور پیشہ وغیرہ شائع نہیں کر رہے۔
اخبار بینی؟ بھائی صاحب یہ تو فرصت کے مشغلے ہیں۔ یہاں روزی روزگار اور دال روٹی کے چکر سے نکلیں تو اخبار پڑھیں۔ پاکستان میں روزانہ اخبارپڑھتے تھے بلکہ پڑھے بغیر تو کھانا ہی ہضم نہیں ہوتا تھا۔ وہاں بہت فالتو وقت تھا۔ یہاں فرصت نہیں ہے۔
میں انگلش کے مقامی اخبار تو نہیں پڑھتا۔ ہفتہ کے ہفتہ اپنے دیسی گروسری سٹور سے اردو اخبار لے آتا ہوں۔ ان اخباروں میں کینیڈا کی خبر تو کم ہی ہوتی ہے۔ لیکن پاکستان کا سارا حال پتہ چل جاتا ہے۔
میں ٹورنٹو ڈاؤن ٹاؤن میں کام کرتا ہوں۔ روزانہ کام پر جاتے ہوئے سب وے سٹیشن سے میٹرو اخبار اٹھا لیتا ہوں۔ یہ اخبار مفت بھی ہے اور اچھی خاصی خبریں دیتا ہے۔
یہاں کے اخبار ہمارے لئے کافی مہنگے پڑتے ہیں۔ کبھی کبھار گروسری کے ساتھ ہفتے کے دن انگلش اخبار خرید لیتا ہوں۔ بس اسی پر گزارا ہے۔
سب گوروں کا گورکھ دھندا ہے۔ ہمیں یہاں کی خبروں اور سیاست سے کیا لینا دینا۔ جو اہم خبر ہوتی ہے، ٹی وی پر آہی جاتی ہے۔ باقی اور کچھ ہمارے کام کا نہیں
پاکستان میں اخبار باقاعدگی سے پڑھتی تھی، لیکن یہاں نہیں۔ یہاں کے اخباروں میں میرا دل نہیں لگتا۔ ہاں میرے شوہر روزانہ انگلش اخبار لے کر آتے ہیں۔ یہاں کے اخبار اچھے خاصے موٹے ہوتے ہیں، کافی کچرا جمع ہو جاتا ہے۔ اسکوٹھکانے لگانا بھی کافی مشکل کام ہے۔
میری جیب اخبار خریدنے کی اجازت نہیں دیتی۔ لیکن میں انٹرنیٹ پر بڑی باقاعدگی سے یہاں کے اخبار پڑھتا ہوں۔ یہ اخبار ہر طرح کی خبریں چھاپتے ہیں۔ اخبارات پڑھتے رہنے سے کینیڈا کے بارے میں میری معلومات میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں اگر کینیڈا میں رہنا ہے تو یہاں کے اخبار کا باقاعدگی سے مطالعہ کرنا چاہیے۔
کینیڈا میں میرے ابتدائی سال کافی مشکل تھے۔ اس زمانے میں نہ تو وقت تھا نہ وسائل تھے۔ الحمدللہ اب میں کافی اچھی حالت میں ہوں۔ میں نے ایک انگلش اخبار لگوایا ہوا ہے جو روزانہ صبح سویرے گھر کی سیڑھیوں پر مل جاتا ہے۔ اس میں سارے کینیڈا کی خبریں ہوتی ہیں۔
جب سے میں نے ایک مقامی انگلش اخبار لگوایا ہے، میں اور میری فیملی سب ہی اخبار کے رسیا ہو گئے ہیں۔ مجھے اب احساس ہو رہا ہے کہ اتنے دنوں اخبارسے دور رہنے سے ہم نے یہاں کے حالت سے واقفیت حاصل کرنے میں کافی دیر کی۔ بہرحال دیر آئد درست آئد۔
جب میں کینیڈا آیا تھا تو نوکری ڈھونڈنے کی خاطر روزانہ لائبریری جا کر تمام مشہور اخبار دیکھتا تھا اور نوکریوں پر نظر رکھتا تھا۔ روزانہ اخبار پڑھنے سے مجھے کینیڈاکے بارے میں جاننے میں بہت مدد ملی۔ کچھ عرصے کے بعد نوکری کی تلاش تو ختم ہو گئی لیکن اخبار بینی کی عادت پختہ ہو گی۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہم سب لوگوں کو یہاں کے اخبار پڑھنا چاہیے، بلکہ گھر میں اخبار روزانہ آنا چاہیے تاکہ بچے بڑے سب اپنے نئے ملک کے بارے میں جان سکیں۔ اگر ہمیں یہاں رہنا ہے تو یہ بات بہت ضروری ہے۔
میں صرف ویک اینڈ کا اخبار خریدتا ہوں۔ اخبار موٹا ہوتا ہے اور میری چھٹی بھی ہوتی ہے ِ اس لیے تقریباً تمام اخبار چاٹ جاتا ہوں۔ مجھے یہ اخبار پڑھنے سے اس بات کا بھی اندازہ ہوا کے مغربی میڈیا مسلمانوں کے بارے میں کس طرح رپورٹنگ کرتا ہے۔ کینیڈین حکومت اور پبلک ہمارے بارے میں کیا رائے رکھتی ہے اور ہمیں اس سلسلہ میں کیا کرنا چاہیے؟ صرف اپنے اخبار پڑھتے رہنے سے ہمیں دوسروں کے نقطہ نظر کا اندازہ نہیں ہو سکتا۔
اخبار میں صرف خبریں اور اشتہار ہی نہیں ہوتے بلکہ اداریہ، کالم، مضامین اور قارئین وغیرہ کی رائے اور بہت کچھ ہوتا ہے اور یہ سب کچھ بہت ہی اہم ہوتا ہے۔ ٹیلیویژن پر خبریں ہی دیکھ سکتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں کینیڈا کے بارے میں زیادہ سے زیادہ واقفیت ہونی چاہیے اور اس سلسلہ میں اخبار کا کردار بہت اہم ہے۔ اورہمیں اس سے پورا فائدہ اٹھانا چاہیے
میں جب کینیڈا آیا ہوں تو گریڈ نائن میں پڑھ رہا تھا۔ کچھ دنوں تک میں اردو کے اخبار بڑے شوق سے پڑھتا رہا لیکن آہستہ آہستہ مجھے لگا کہ جو کچھ مجھے یہاں پیش آ رہا ہے اس کا اردو اخباروں میں کوئی تذکرہ نہیں ہوتا، اور اس کے لئے مجھے مقامی انگلش اخبار ہی پڑھنے ہوں گے۔ اب میں کالج می ہوں اور وہاں کی لائبریری میں مجھے سب اخبار مل جاتے ہیں۔
ہم نے یہاں ایک مختصر سا سروے پیش کیا ہے۔ آپ اپنے نتائج خود اخذ کر سکتے ہیں، اور ان کی روشنی میں فیصلہ کر سکتے ہیں۔

